Pages

Raiwind Ijtema 2016 Live Bayan Update رائے ونڈ تبلیغی اجتماع


Raiwind Ijtema Part 1 bayanat
3rd Nov 2016
After Asar : Ustad e Muhtram Maulana Naz ur Rehman sahab
After MAgrib : Maulana Ibrahim Sahab
4th Nov 2016:
After Fajar : Muhtram Haji Abdul Wahab Sahab
After Juma : Ustad e Muhtram Maulana Tariq jameel sahab
After Asar : Maulana Yaqoob sahab
After Magrib : Maulana Ahmed Laat Sahab
5th Nov 2016
After Fajar : Ustad e Muhtram Maulana Abdul Rehman sahab
After Zohar : Bhai Farooq sahab
After Asar : Maulana Zuhair ul hasan sahab
After Magrib : Maulana Ibrahim Sahab
6th Nov 2016
Hidaayaat : Ustad e Muhtram Maulana Khursheed sahab
Dua : Muhtram Haji Abdul wahab sahab



2nd Part 13 Nov
فجر نماز کے بعد 1 گهنٹہ وقفہ دے کر...
مولانہ عبیداللہ خورشید صاحب نے 1: 1/2 تک ہدایات بیان فرمائ...
پهر حضرت جی حاجی محمد عبدالوہاب صاحب کا لائوڈسپیکر کهلا...
اور 
حاجی صاحب کے کہنے پر مولانا فہیم صاحب نے
حضرت جی مولانا شاہ محمد یوسف صاحب رحمت اللہ علیہ کا 1964 کا بیان سنایا...
پهر حاجی صاحب نے 15 منٹ بات کی... پهر فرمایا کہ میں زیادہ نہیں بول سکتا...
اور فرمایا کہ دعا حضرت مولانا یعقوب صاحب کرائیں گے...
مولانا یعقوب صاحب حضرت مولانا شیخ العرب و لعجم سید حسین مدنی صاحب کے شاگردے خاص تهے...
اور حضرت مولانا شاہ محمد یوسف صاحب کاندهلوی کے رفیق خاص تهے...
پهر قریبن 20 منٹ دعا فرمائ...
اور مجمع کو اور جماعتوں کو رخصت کیا...
اللہ اجتماع میں آنے والوں کو بہت ہی قبول فرمائے...
اور اللہ سارے امت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محنت کے لیے قبول فرمائے.......

PART 2 PROGRAMME

Raiwind Ijtema Update :
Taleeem Amal going on over the pindal (Ijtema Ground)
Bhai Farooq sahab in Shura Halka
Maulana Ibrahim & Maulana Younis in Arab Halka
Maulana Ismaeel in Farsi Halka
Maulana Abdul Rehman in Khawas.
Maulana Abdul Rehman & Maulana Laat in Madarsee Talba
Prof Sana Ullah in School & colleges Teachers Halka
Dr Zakriya Sahab in English Halka
Bhai Kaleem Sahab in Bangali Halka
Prof Naveed sahab in Malaai, Halka
May ALLAH accept this ijtema and spread hidaya & Peace all over the world.

Maulana saad Kandhalvi Damat Barkatuhum

 یہ اپیل رائونڈ مشورہ کے عمل درامد کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔
اللہ تعالی امت کے حال پر رحم فرمائے۔ 

۔ یہ امت کی امانت ہے ۔ یہ "تبلیغ جماعت " نہیں 

حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ ایک موقعہ پر فرماتے ہیں ”یہ امت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی زبان کا حامی نہ تھا، مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی نہ تھا بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھتا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کیا فرماتے ہیں؟


مولانا ابراہیم مرکز نظام الدین نصیحت اردو


دینی اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں میں اختلافات اسباب اور حل 

Taken with Jazakallah o khair from http://baseeratonline.com/26700
مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
تعمیر مشکل ہوتی ہے اور تخریب آسان ، گھر بنانے اور بسانے میں مدت لگ جاتی ہے ؛ لیکن گرانے اور اُجاڑنے میں وقت نہیں لگتا ، اُن کاشتکاروں کا درد دل پوچھئے ، جو موسم سرما کی ٹھنڈک ، موسم گرما کی شعلہ ریز دھوپ اور برسات کی رم جھم بارش کے درمیان دن رات ایک کرکے کھیت بوتے ہیں ، درخت لگاتے ہیں ، اسے سیراب کرتے ہیں اور اس کی حفاظت و نگرانی کے لئے ہر طرح کی مشقت گوارہ کرتے ہیں ؛ لیکن سیلاب کی موج بلا خیز چند گھنٹوں میں ان سب کو روند ڈالتی ہے اور ساری محنت چند لمحوں میں تخت و تاراج ہوکر رہ جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اسی نظام پر بنایا ہے ؛ کہ کسی چیز کے اوج کمال پر پہنچ نے میں دیر لگتی ہے ؛ لیکن اس کے بکھرنے اور ٹوٹنے پھوٹنے میں دیر نہیں لگتی ، انسان کے اپنی پیدائش سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک پہنچنے میں کتنا سارا وقت لگ جاتا ہے ؛ لیکن جب موت کا فرشتہ آدھمکتا ہے تو دنیا سے آخرت کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے ۔
قدرت کا یہ نظام جیسے کائنات میں پھیلی ہوئی چیزوں اور انسانوں کے بارے میں ہے ، اسی طرح قوموں ، جماعتوں اور گروہوں کے سلسلہ میں بھی ہے ، کوئی بھی گروہ اپنا اجتماعی ڈھانچہ برسوں میں تیار کر پاتا ہے ، جیسے پرندے تنکے چن چن کر آشیانے بناتے ہیں ، ایسے ہی اس اجتماعیت سے جوڑنے کے لئے ایک ایک فرد پر محنت کی جاتی ہے ، تب جاکر کہیں ایک آشیانہ تیار ہوتا ہے ؛ لیکن پھر بھی وہ طوفانوں کی زد میں رہتا ہے ، اگر اس کے بنانے والوں اور بسنے والوں نے اس کو بچاکر نہ رکھا اور اس کے تنکے نوچنے شروع کردیئے تو بکھرنے میں دیر نہیں لگتی ، اس اجتماعیت کو وجود میں لانے کے لئے شروع میں ایک طویل اور پرمشقت راستہ طے کیا جاتا ہے ، مخالفتوں سے گذرنا پڑتا ہے ، جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دینی پڑتی ہے ، لوگوں کی خوشا مد کی جاتی ہے ، پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس سے تعلق وجہ اعزاز بن جاتا ہے اور اس کا اکرام ہوتا ہے ، یا تو کانٹوں کے بستر تھے ، یا اب پھولوں کی سیج بچھائی جاتی ہے ، اس وقت وہ لوگ گذرچکے ہوتے ہیں ، جنھوںنے اس کو سینچا تھا ، اب یہ سرمایہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں آتا ہے ، اگر انھوںنے اپنے سلف کے راستہ کو بھلا دیا ، قربانی کے بجائے آسانی کا اور اتحاد و یکجہتی کے بجائے اپنی رائے پر اصرار اوراپنے رفقاء سے بے نیازی کا طریقہ اختیار کرلیا تو اللہ کی مدد اُٹھ جاتی ہے ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اجتماعیت کے ساتھ ہے ، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : ’’ ید اﷲ علی الجماعۃ‘‘ ( سنن نسائی ، حدیث نمبر : ۴۰۲۰) آپ انے اس حقیقت کو ایک مثال دے کر واضح فرمایا کہ بکریوں کا ریور اگر ایک ساتھ چلتا رہے تو کمزور و نازک اندام جانور ہونے کے باوجود اس کی حفاظت ہوتی ہے ، اور اگر کوئی بکری ریوڑ سے بچھڑ جائے تو بھیڑیا اس کو اپنا شکار بنالیتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر : ۵۴۷)
بھیڑیا ایک تشبیہ ہے ، یعنی ایک باہری طاقت ، جو اسلام کا دشمن ہو ، وہ افراد ملت کو اپنا شکار بنالیتا ہے ، افراد کو شکار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو آلۂ کار بنالیا جائے ، اُمت محمدیہ کی تاریخ پر نظر ڈالئے تو اُمت کے کھلے ہوئے دشمنوں سے اس درجہ نقصان نہیں پہنچا ، جتنا نقصان ان دشمنوں سے پہنچا ، جو حقیقت میں بھیڑیئے تھے ؛ لیکن انھوںنے بکریوں کی کھال پہن رکھی تھی ، یہ ایک سازش پر مبنی عمل ہوتا ہے ، کچھ لوگ تو واقعی اپنے مفادات کے لئے سوچ سمجھ کر دشمن کے آلۂ کار بنتے ہیں اور بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے ، جو سادہ لوحی اور بے شعوری میں اس سازش کے آلۂ کار بن جاتے ہیں ؛ حالاںکہ وہ مخلص ہوتے ہیں ، ان کو غلط راستہ پر ڈالنے کے لئے ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا جاتا ہے ، انھیں باور کرایا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کررہے ہو ، وہ حق کو نافذ کرنے اور باطل کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؛ لیکن حقیقت میں ان کا یہ عمل باطل کو تقویت پہنچاتا ہے اور حق و سچائی کو کمزور کر دیتا ہے ، اس کی ایک واضح مثال ’داعش ‘ ہے ، جن کا خون بہایا جارہا ہے ، وہ بھی مسلمان ہیں اور جو لوگ خون بہارہے ہیں یا بہانے میں شامل ہیں ، وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور بمقابلہ دوسرے مسلمانوں کے بہ ظاہر اسلام پر زیادہ کاربند نظر آتے ہیں ؛ لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ وہ ان دشمنانِ اسلام کے آلہ کار ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ مسلمان برادرکشی میں مبتلا ہوجائیں ؛ تاکہ اختلاف وانتشار ان کو کمزور سے کمزور تر کردے اور اسلام کی شبیہ کو خراب کرنا آسان ہوجائے ۔
غور کیا جائے تو یہ سلسلہ محمد رسول اللہ اکی حیات ِطیبہ سے ہی شروع ہوچکا تھا ، مدینہ منورہ میں ایک عمارت مسجد کے نام سے بنائی گئی ؛ تاکہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جائیں ، اگر قرآن مجید نے اس سازش سے پردہ نہ اُٹھادیا ہوتا تو یقینا سیدھے سادھے مسلمان اس کو دین کی ایک خدمت ہی تصور کرتے اور وہاں ان کی آمد و رفت شروع ہوجاتی ؛ لیکن قرآن نے اس کو ’ مسجد ضرار ‘ قرار دے کر منہدم کرنے کا حکم دیا ، ( تفسیر ابن کثیر : ۴؍۲۱۲) اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین نے بے بنیاد تہمت لگائی اور انھوںنے اس جھوٹ کو ٹھیک اسی طرح پھیلایا جیسے آج کل میڈیا جھوٹ کو سچ بنانے کی فکر کرتا ہے ، آخر کچھ سادہ لوح سیدھے سادے مسلمان بھی اس سازش کا شکار ہوگئے ، یہاں تک کہ جب بعض مخلص مسلمانوں نے اس فتنہ کے سرچشمہ عبد اللہ بن اُبی کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تو اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں اوس و خزرج کی لڑائی نہ بھڑک اُٹھے ، ( صحیح بخاری ، حدیث نمبر : ۲۶۶۱) اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی برأت کا صاف صاف اعلان نہ ہوجاتا تو یہ اسلام کی دعوتی کوششوں کے لئے ایک زبردست دھکا ثابت ہوتا ۔
پھر عہد صحابہ میں دیکھئے ! سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں ، خود رسول اللہ انے اس کی مدح فرمائی ہے، آپ ا کی دو دو صاحبزادیاں ان کے نکاح میں رہیں ، حضرت عثمانؓ کے قبیلہ کی غالب اکثریت فتح مکہ تک اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہی اور غزوۂ اُحد اورغزوۂ خندق کی قیادت کی ؛ لیکن حضرت عثمانؓ نے اپنے قبیلہ کے فکری رجحان اور عملی رویہ کے برخلاف بالکل ابتداء میں اسلام قبول کرلیا اوراسلام کے راستہ میں مشقتیں اُٹھائیں ، اپنے عہد خلافت میں جمع قرآن مجید کی خدمت انجام دی ، ان سب کے باوجود ایک یہودی ’ عبد اللہ ابن سبا ‘ نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایسی سازش رچی ، جو خلیفہ مظلوم کی شہادت کا باعث بن گئی ، اور بہت سے سیدھے سادے مسلمان اور اکابر صحابہ کی اولاد بھی اس سازش کا شکار ہوگئے ، اور انھوںنے سب کچھ یہ سمجھ کر کیا کہ نعوذ باللہ یہ ظالم حکمراں کے خلاف جدوجہد ہے ، حضرت عثمان غنیؓ نے اس وقت ایک تاریخی بات ارشاد فرمائی :
فو اﷲ لئن قتلتمونی لا تتحابون بعدی أبدا ، ولا تصلون بعدی جمیعا أبدا ، ولا تقاتلون بعدی عدوا جمیعا أبدا ۔ (الطبقات الکبریٰ : ۳؍۷۱)
خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کیا تو میرے بعد کبھی تم میں محبت باقی نہیں رہے گی ، میرے بعد ایک ساتھ نماز نہیں پڑھوگے ، میرے بعد ایک ساتھ دشمن سے جنگ نہیں کروگے ۔
آہ ، اور سوبار آہ ، کہ آج حضرت عثمان غنیؓ کی اس بددُعا کو سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ، مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ جو لوگ اسٹیج پر اتحاد و اتفاق کی باتیں کرتے ہیں ، وہی اسٹیج سے نیچے اُترنے کے بعد اپنے متبعین کو نفرت پر اُکساتے ہیں ، ہماری نمازیں ایک مسجد میں نہیں ہوتیں ، ہر فرقہ کی الگ الگ مسجدیں ہیں ، جن میں ان کے سوا دوسرے لوگ نماز نہیں پڑسکتے ، دشمن سامنے کھڑا ہے ، لیکن ہمارا اختلاف ہے کہ کم ہی نہیں ہوتا ؛ چہ جائیکہ ہم مل جل کر ان کا مقابلہ کریں — یہ ایک ایسی سازش تھی ، جس نے مستقبل کی تاریخ پر نہایت افسوس ناک اثر ڈالا ، مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور نہ صرف یہ واقعہ بالآخر خلافت راشدہ کے ختم ہونے کا سبب بنا ؛ بلکہ مستقبل میں مذہبی قیادت اور سیاسی قیادت بھی الگ الگ ہوگئی اور صدیوں ایک ایسا بادشاہی نظام پروان چڑھتا رہا ، جو زیادہ تر دینی اقدار سے خالی ہی رہتا تھا ، پھر عہد صحابہ میں ہی ایک وقت ایسا آیا کہ توقع قائم ہوگئی تھی کہ خلیفہ راشد حضرت علیؓ اور شام کے فرمانروا حضرت معاویہؓ کے درمیان صلح ہوجائے گی ؛ لیکن کچھ عجمی نزاد لوگوں کی سازشوں سے یہ صلح بکھر کر رہ گئی اور ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا ، جو ایک مستقل اعتقادی مکتب ِفکر بن گیا اور ہمیشہ کے لئے اُمت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ، دشمنانِ اسلام نے ہمیشہ اس تقسیم سے فائدہ اُٹھایا ، اور آج بھی اُٹھارہے ہیں ۔
پھر تاریخ کے ہر موڑ پر مسلمانوں کے زوال اور ہزیمت کا بنیادی سبب یہی بنا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ، تاتاریوں کے ہاتھ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور خلافت عباسی کا محل زمین بوس ہوگیا ، پھر عثمانی ترکوں نے پانچ سو سال سے زیادہ اسلامی مقدسات اور عالم اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کی ؛ لیکن بعض عرب اور ترک ضمیر فروشوں نے وطنی تعصب کے جھنڈے بلند کئے اور سادہ لوح عرب اورترک مسلمانوں کا جم غفیر ان کے ساتھ ہوگیا ، آخر خلافت عثمانیہ کا چراغ بجھ گیا اور مسلمانوں کی وحدت کی ایک علامت — جو اعداء اسلام کی آنکھوں میں چبھتی تھی — ختم ہوگئی ، خود ہمارے ملک ہندوستان کی تاریخ بھی یہی رہی ہے کہ قریب قریب ساری مسلم حکومتیں مسلمانوں میں پائے جانے واے ایک منافق گروہ اور عام مسلمانوں کے ان کے جھنڈے نیچے جمع ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوئیں اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اشارہ پر ہوا ، جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے ، اس لئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس اُمت کو نقصان پہنچانے کی سازش ہمیشہ دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہوتی رہی ہے ، انھوںنے ہمیشہ اس کے لئے مسلمانوں ہی کی صفوں میں گھسے ہوئے لوگوں کا استعمال کیا ہے اور اس صفائی سے کیا ہے کہ کچھ لوگوںنے ایک کارِثواب اور دینی خدمت سمجھ کر وہ حرکتیں کیں ، جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی اور اسلام کو کمزور کرنے والی تھیں ۔
جو لوگ دینی کاموں کو انجام دیتے ہیں اور اچھے جذبہ سے انجام دیتے ہیں ، انھیں مطمئن نہ ہوجانا چاہئے کہ انھیں ان کی دین داری کی وجہ سے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا ؛ کیوںکہ ڈاکو اسی گھر میں ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ، جس میں دولت ہو ، اسی طرح دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہمیشہ اسی گروہ کو شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، جو اسلام سے گہری وابستگی رکھتا ہو ، دوسرے لوگوں کے بارے میں شیطان سوچتا ہے کہ یہ تو پہلے ہی سے ہمارا کام کررہا ہے ؛ اس لئے ان کے کام میں خلل ڈالنے کی ضرورت نہیں ، دینی اداروں ، درسگاہوں اور جماعتوں کو ہمیشہ اس پہلو سے اپنا جائزہ لیتے رہنا اور چوکنا رہنا چاہئے ، برصغیر میں اگر پچھلے تین دہوں کی تاریخ دیکھی جائے تو بعض بڑی بڑی درسگاہوں کے ٹکڑے ہوگئے ، بعض بہت ہی فعال تنظیمیں تقسیم درتقسیم کا شکار ہوگئیں ، اس کے نتیجہ میں ان کا وقار و اعتبار متاثر ہوا ، مسلمانوں کی معتبر ترین شخصیتیں جن کو مسلمانوں کی وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا ، بے وزن ہوگئیں ، اس بکھراؤ نے کام کو متاثر کیا ، مسلمانوں کی آپسی محبت نفرت میں تبدیل ہوگئی ، مسلم مخالف طاقتوں پر جو بھرم قائم تھا ، وہ ختم ہوگیا اور انھیں اس اختلاف سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا ، اس لئے ہمیں ضرور اپنے زوال و نقصان کی اس تاریخ سے سبق لینا چاہئے ، جو مریض اپنی بیماری کو جاننے اور اس کا علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو ، وہ کبھی صحت یاب نہیں ہوسکتا ، اس بیمار سے بڑھ کر کوئی کم نصیب نہیں ، جو خود اپنی بیماری کا احساس نہ کرسکے ۔
اداروں ، تنظیموں اور اجتماعی کاموں میں اختلافات کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ — ان پر گہرائی کے ساتھ غور کرنے اور آپ اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے ، سیاست سے وابستہ تنظیموں میں زیادہ تر سیاسی مفادات اختلافات کی بنیاد بنتے ہیں ، جو ادارے تجارتی نوعیت کے ہیں ، ان میں معاشی مفادات کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ؛ لیکن مذہبی اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں میں بنیادی طورپر دو باتیں اختلاف کا سبب بنتی ہیں ، ایک : عہدہ و جاہ کی طلب ، دوسرے : اپنی رائے پر اصرار ، کتنی ہی دینی درسگاہیں ہیں ، جہاں صدر ، سکریٹری یہاں تک کہ شیخ الحدیث کے لئے بھی جھگڑے ہوتے ہیں اور بڑے بڑے اصحاب علم و فضل کھلے طورپر مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے بخاری شریف پڑھانے کا موقع دیا جائے ؛ حالاںکہ ایسا نہیں ہے کہ بخاری شریف پڑھانے ہی سے نجات متعلق ہو ، اگر کوئی شخص نورانی قاعدہ اور قاعدۂ بغدادی اخلاص کے ساتھ پڑھائے تو عجب نہیں کہ قیامت کے دن جنت میں جانے والے خوش نصیب قافلہ میں وہ آگے آگے ہو اور بخاری پڑھانے والے اضطراب و بے چینی کے ساتھ اپنی باری کے منتظر ہوں ۔
یہی بات دینی تنظیموں کی قیادت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی تنظیم یا جماعت کے سربراہ بننے یا اس کی منتظمہ کے رکن بننے میں خصوصی اجر و ثواب ہو ، اجر و ثواب کے زیادہ مستحق تو وہ گمنام لوگ ہیں ، جو گرد کارواں کی طرح پیچھے پیچھے رہتے ہیں ؛ لیکن اللہ کی رضا کے جذبہ سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں ، نہ شہرت و نام وری کے طلب گار ہیں اور نہ کسی صلہ کے خواستگار ، دینی کاموں سے وابستہ لوگوں میں اس جذبہ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، انھیں سمجھنا چاہئے کہ عمارت کی اساس ان گنبدوں اور میناروں پر نہیں ہوتی ، جو دُور سے نظر آتے ہیں ؛ بلکہ ان بنیادوں پر ہوتی ہے ، جو زمین میں دفن ہوتی ہیں اور جن کو کوئی دیکھ نہیں پاتا ، دینی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو بنیاد کا پتھر بنانے کی کوشش کریں ۔
اس جذبہ پر قابو پانے کے لئے رسول اللہ ا نے عہدہ کی طلب سے منع فرمایا ، یہاں تک کہ ارشاد ہوا کہ جو شخص کسی عہدہ کا طالب ہو ، اسے وہ عہدہ نہ دیا جائے ، خلفاء راشدین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی عہدہ طلب نہیں کیا ؛ بلکہ مسلمانوں نے ان کو اپنا سربراہ منتخب کیا ؛ اسی لئے اللہ کی نصرت ان کے ہم رکاب رہی ، بعد کو پوری اُمت میں فتنہ کا دور شروع ہوا ، خاندانی بادشاہتیں قائم ہوئیں ، لوگ عہدے طلب کرنے لگے ، یہاں تک کہ اس کے لئے قتل و قتال تک کی نوبت آنے لگی ، تو پھر مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کی مدد روٹھ گئی اور آہستہ آہستہ وہ عزت و سربلندی کی چوٹی سے ذلت و نکبت کی پستی میں جاگرے ۔
اسلام کا تصور یہ ہے کہ عہدہ و منصب اعزاز کی چیز نہیں ہے ؛ بلکہ یہ ذمہ داری ہے ، آپ ا نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں ذمہ دار ہے ، اور اپنی ذمہ داری میں آنے والے لوگوں کے بارے میں جواب دہ بھی ہے : ’’ کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ‘‘ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر : ۸۵۳) یہ احساس ذمہ داری جتنا بڑھے گا ، عہدوں کی طلب کم ہوگی ، اور اگر اسے اعزاز سمجھا جائے گا تو عہدوں کی پیاس بڑھے گی اور چوںکہ عہدے محدود ہیں ؛ اس لئے ٹکڑاؤ پیدا ہوگا ، اور اگر نظر کام پر رہے گی تو چوںکہ کام کا میدان وسیع ہے ؛ اس لئے اس میں شامل ہونے والوں کی کثرت تقویت کا باعث ہوگی نہ کہ ٹکڑاؤ کا ۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ عام طورپر لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ قربانی کے دو ہی محل ہیں ، ایک : جان ، دوسرے : مال ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قربانی کی ایک اور قسم ہے ، اور وہ ہے رائے کی قربانی ، اکثر ملی اختلافات کو حل کرنے میں اس قربانی کا بہت اہم رول ہوتا ہے ، بعض لوگ اپنے نقطۂ نظر پر اس درجہ اصرار کرنے لگتے ہیں کہ دوسرے نقطۂ نظر کو سننا ہی نہیں چاہتے ، وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ ہماری ہی رائے پر ہونا چاہئے ، یہ انداز فکر دین کے مزاج کے خلاف ہے ، رسول اللہ انے بعض مواقع پر اپنی رائے کے مقابلہ اپنے رفقاء کے مشورہ کو ترجیح دی ہے ، اس سلسلہ میں غزوۂ اُحد کا واقعہ مشہور ہے ، آپ اکی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے ، کچھ نوجوان صحابہ — جو جذبۂ جہاد سے سرشار تھے — نے اس کو بزدلی خیال کرتے ہوئے رائے دی کہ باہر نکل کر دشمنوں کے حملہ کا جواب دیا جائے ، انھوںنے کسی حد تک اس پر اصرار بھی کیا ؛ چنانچہ آپ انے ان کی رائے قبول کرلی ، بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ رسول اللہ ا اور اکابر صحابہ کی رائے ہی درست تھی ؛ لیکن آپ ا کبھی اس بات کو اپنی زبان پر نہیں لائے اور نہیں فرمایا کہ فلاں حضرات کی رائے پر عمل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو اس قدر جانی نقصان اُٹھانا پڑا ، خلفاء راشدین اوربالخصوص حضرت عمرؓ نے کئی مواقع پر اپنے رفقاء کی رائے سن کر ان فیصلوں کو بدل دیا ، جو وہ کرچکے تھے ؛ اس لئے کبھی بھی اپنی رائے پر ایسا اصرار کہ گویا اسی میں خیر و بہتری ہے ، نہ گھریلو معاملات میں درست ہے اور نہ اجتماعی معاملات میں ، اکثر و بیشتر اپنی رائے پر اصرار ہی کی وجہ سے اجتماعی کاموں میں ٹوٹ پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور 
یہی انتشار کا سبب بنتا ہے
مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اجتماعی کاموں میں دو باتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے : امارت اور شورائیت — امارت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو ادارہ یا تنظیم کا سربراہ اعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہو ، امیر ادارۂ و تنظیم کا امین ہوتا ہے نہ کہ مالک ، وہ گویا گاڑی کا انجن ہوتا ہے ، پہئے کتنے ہی مضبوط ہوں ؛ جب تک کوئی کھینچنے والا انجن نہ ہو ، گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی ، اور انجن کتنا ہی طاقتور ہو ، اگر اس کو پہیوں کا ساتھ حاصل نہ ہو تو اس کی طاقت اس کو فائدہ نہیں پہنچاسکتی ؛ اسی لئے دونوں کی اہمیت ہے ، سربراہ کی بھی اور اس کے شرکاء کار کی بھی ، سربراہ سے تو لوگوں کا تعلق اطاعت و فرمانبرداری کا ہونا چاہئے ، سربراہ کا حکم چاہے طبیعت کے خلاف ہو ؛ لیکن عمل اسی پر کیا جائے گا ؛ بشرطیکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو ، اور عام مسلمانوں کی کامیابی سربراہ کی اطاعت میں ہے ؛ اسی لئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پورا پورا اسلام اسی وقت معاشرہ میں آسکتا ہے ، جب کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام ہو اور یہ جماعتی نظام امیر کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا ، کسی سربراہ کے بغیر لوگوں کا اکٹھا ہوجانا بھیڑ تو کہلا سکتا ہے ، اسے جماعت نہیں کہا جاسکتا ، اور امیر کی امارت لوگوں کی اطاعت وفرمانبرداری ہی سے قائم ہوسکتی ہے نہ کہ طاقت و قوت سے : ’’ لا إسلام إلا بجماعۃ ولا جماعۃ إلا بإمارہ ولا إمارۃ إلا بطاعۃ‘‘ (سنن دارمی، حدیث نمبر :۲۵۳) — نظم امارت کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ انے فرمایا : اگر سفر میں تین اشخاص جارہے ہوں توان میں بھی کسی کو امیر بنالو ، (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر :۲۶۰۹) خود آپ ا کا معمول مبارک تھا کہ جب بھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو مدینہ میں کسی کو والی یعنی عارضی امیر بناکر جاتے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ معیاری طریقہ تو یہی ہے کہ ایک شخص مستقل امیر ہو ؛ لیکن امارت کی مدت یا اس کے دائرہ کار کو محدود کیا جاسکتا ہے ، فقہی اعتبار سے اس کی اصل یہ ہے کہ امیر عام لوگوں کی طرف سے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے اور وکیل بنانے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وکیل کے کام یا اس کے اختیارات کو محدود کردے ، پھر یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ’ اصلح ‘ یعنی جماعت کا سب سے بہتر شخص ہی امیر ہو ، اس پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے ، رسول اللہ ا نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام بھی امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت کرو : ’’ ولو کان عبداً حبشیاً مجدعا‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۲۸۶۲) اسی طرح آپ انے فرمایا کہ ظالم سربراہ کی اقتداء میں بھی جمعہ قائم کرتے رہو ، ( سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۱۰۸۱) نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ جب تک کسی امیر سے کفر کا ارتکاب نہ ہو ، اس کی اطاعت واجب ہے : ’’ وأجمع اھل السنۃ والجماعۃ علی أن السلطان لا ینعزل بالفسق … فلو طرأ علیہ کفر … سقطت طاعتہ ‘‘ (شرح طیبی علی المشکوٰۃ : ۸؍۲۵۶۰) بلکہ اگر کوئی شخص زبردستی امیر بن جائے اور غلبہ حاصل کرلے تو اس کی بھی اطاعت واجب ہے : ’’ وقد اجمع الفقہاء علی وجوب طاعۃ السلطان المتغلب والجھاد معہ ‘‘ (نیل الاوطار : ۷؍۲۰۸) امیر کی اطاعت کا یہ حکم ظالموں کی مدد کی تلقین نہیں ہے ؛ بلکہ اس کا مقصد اُمت کی اجتماعیت کی حفاظت ہے ؛ اس لئے جو لوگ کسی ادارہ ، جماعت یا تنظیم سے وابستہ ہوں ، ان کو جائز باتوں میں بہر حال اپنے امیر و سربراہ کی اطاعت کرنی چاہئے ، چاہے وہ اس کے فیصلہ کو نتائج کے اعتبار سے غلط سمجھتے ہوں ۔
اجتماعی کاموں کے لئے دوسری اہم ضرورت ’ شورائیت ‘ ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود کو صلاحیت کے اعتبار سے ایک ناقص وجود رکھا ہے ، اس لئے جب ایک فرد کسی کام کو نہیں کرپاتا ہے تو بہت سے افراد مل کر اس کو انجام دیتے ہیں اور اجتماعی قوت سے وہ کام ہوجاتا ہے ، ایک شخص ایک چٹان کو اپنی جگہ سے کھسکا نہیں سکتا ؛ لیکن جب لوگوں کا جم غفیر اپنا ہاتھ لگاتا ہے تو چٹان اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے ، یہ اجتماعی کاموں کی ایک مثال ہے ، انسان جیسے اپنی جسمانی قوت کے اعتبار سے عاجز و نامکمل ہے ، اسے دُور تک دیکھنے کے لئے چشمہ کی ، آواز پہنچانے کے لئے مائیک کی اور فاصلہ طے کرنے کے لئے سواری کی ضرورت پڑتی ہے ، اسی طرح وہ عقل و فہم کے اعتبار سے بھی عاجز ہے ، اس کو کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے بہت سے لوگوں کی مدد درکار رہتی ہے ؛ اس لئے اجتماعی کاموں میں خاص کر شورائیت ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے اہم کام مشورہ ہی سے انجام پانے چاہئیں : ’’ وأمرھم شوریٰ بینھم‘‘ (شوریٰ : ۳۶) رسول اللہ ا کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اہم مسائل میں اپنے رفقاء سے مشورہ کیا کیجئے : ’’ وشاورھم فی الأمر‘‘ (آل عمران : ۱۵۹) ؛ حالاںکہ رسول اللہ ا کو وحی جیسا ذریعہ علم حاصل تھا اور آپ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی ؛ لیکن پھر بھی آپ کو مشورہ کی تلقین فرمائی گئی ؛ تاکہ اُمت اس کو اپنے لئے اُسوہ بنائے ، خلفاء راشدین کے عہد میں بھی امیر کے ساتھ شوریٰ ہوا کرتی تھیں ، اور اس کو اس درجہ اہمیت حاصل تھی کہ جب عراق کی زمینیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں اور ان زمینوں کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا کہ ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے یا بیت المال کی ملکیت بنالیا جائے تو تقریباً ایک ماہ تک مباحثہ و مناقشہ کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد فیصلہ ہوا ۔
رسول اللہ انے نئے پیش آنے والے شرعی مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ جب کوئی اہم اور نیا مسئلہ پیش آئے تو اہل علم و فضل کو جمع کرو ، ان سے مشورہ کرو اور تنہا اپنی رائے پر فیصلہ نہ کرو : ’’ تشاورون الفقھاء والعابدین ولا تمضوا فیہ رأی خاصۃ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث نمبر : ۱۶۱۸) اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ انے یہ ہدایت سیدنا حضرت علیؓ کو دی ، جن کا تفقہ صحابہ کے درمیان بھی مسلّم ہے اور جن کو رسول اللہ انے اپنے رفقاء میں سب سے بڑھ کر قوتِ فیصلہ کا حامل قرار دیا : ’’ و أقضاھم علی بن ابی طالب‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۵۴) ایک موقع پر آپ انے ارشاد فرمایا کہ جو مشورہ سے کام کرے گا ، اسے شرمندگی سے دوچار نہ ہونا پڑے گا : ’’ولا ندم من استشار‘‘ (المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۶۶۲) ایک اور روایت میں ہے کہ جو کسی مسلمان سے مشورہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بہتر پہلو کی توفیق عطا فرمائیں گے : ’’ وفقہ اﷲ لأرشد أمورہ‘‘ ۔( المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۸۳۳۳) 
لیکن مشورہ کے سلسلہ میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں : ایک یہ کہ مشورہ اہم اُمور میں ہو نہ کہ معمول کے کاموں میں ، دوسرے : یہ ضروری نہیں ہے کہ مشورہ دینے والوں کا ہر مشورہ مان لیا جائے ، مشورہ دینے والوں کو چاہئے کہ زیر مشورہ مسئلہ سے متعلق اللہ نے جو بات اس کے دل میں ڈالی ہے ، اس کو پیش کردے اور حسب ِضرورت اس کے اسباب ووجوہ کو واضح کردے ، پھر اگر مشورہ مان لیا جائے تو یہ احساس پیدا نہ ہوکہ میں بہت صائب الرائے شخصیت ہوں ؛ اسی لئے میری رائے مان لی گئی ہے ؛ بلکہ خیال کرے کہ اب یہ سبھوں کی مشترکہ رائے ہے اور دُعا کرے کہ اس کی رائے کسی نقصان کا باعث نہ بن جائے ، اور اگر رائے قبول نہ کی جائے تو برا نہ مانے اور اجتماعی رائے سے جو فیصلہ ہو ، اس پر ایسی خوش دلی کے ساتھ عمل کرے کہ گویا یہ اسی کی رائے تھی ، اجتماعی کاموں میں بعض دفعہ لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زبان سے تو اپنی رائے کو مشورہ کہتے ہیں ؛ لیکن انداز ایسا اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی فیصلہ ہے ، یہ طریقہ درست نہیں ہے ، — امارت و شورائیت کے اسی متوازن امتزاج سے اسلام کے اجتماعی نظام کی تشکیل ہوتی ہے ، امارت ہو اور شورائیت نہ ہو تو انسان امیر کے بجائے آمر و ڈکٹیٹر بن جاتا ہے ، شورائیت ہو ؛ لیکن کوئی سربراہ نہ ہو تو اس کی مثال اس گاڑی کی ہے جس کو بیک وقت کئی ڈرائیور چلانے کی کوشش کریں ، اس سے قدم قدم پر اختلاف اور تضاد پیدا ہوگا اور کام میں ترقی نہیں ہوگی ۔
مذہبی گروہوں اور جماعتوں کے اختلافات کو حل کرنے کے لئے دو راستے ہیں ، ایک : صلح ، اور یہ سب سے بہتر راستہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ الصلح خیر‘‘ (نساء : ۱۲۸) صلح میں تین پہلو اختیار کئے جاسکتے ہیں : ایک پہلو ایثار کا ، کہ کوئی ایک فریق اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے ، صلح نام ہی اسی کا ہے کہ نزاع کو ختم کرنے اور اختلاف کو دُور کرنے کے لئے کوئی فریق اپنا حق چھوڑنے یا اپنے حق کا کچھ حصہ چھوڑنے پر آمادہ ہوجائے ، اس کی بہترین مثال حضرت حسن بن علیؓ کا عمل ہے کہ رسول اللہ اکی پیشین گوئی کے اشارہ کے مطابق ان کی خلافت جائز تھی ، ان کو اکابر صحابہ کی تائید حاصل تھی ، اس کے باوجود انھوںنے خلافت سے دستبرداری کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو ختم کردیا ، رسول اللہ انے بطور پیشین گوئی حضرت حسن ؓکے اس اعلیٰ کردار کی تعریف فرمائی تھی اور ان کی تحسین کی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ ایثار سے آدمی چھوٹا نہیں ہوجاتا ؛ بلکہ بڑا بن جاتا ہے ، وہ عہدہ و منصب کو ہار جاتا ہے ؛ لیکن دلوں کو جیت لیتا ہے ۔
دوسرا پہلو انتظامی ڈھانچہ کی توسیع کا ہے ، عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگ انتظامی ڈھانچہ سے الگ کردیئے گئے اور نظم و نسق میں شامل نہیں رکھے گئے تو ان کو ناگواری ہوتی ہے ، اسی سے انتشار پیدا ہوتا ہے ، اگر ایسے لوگوں کو نظم کا حصہ بنا دیا جائے تو ان کی زبان بند ہوجاتی ہے اوراتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہوجاتی ہے ۔
تیسرا پہلو اختیارات کی تحدید کا ہے ، شریعت میں واضح طورپر امیر و شوریٰ کے دائرہ کار کی تحدید نہیں کی گئی ہے ، صحابہ کے دور میں اس کی بالکل حاجت نہیں تھی ؛ کیوںکہ ورع و تقویٰ کا غلبہ تھا ، مشورہ دینے والے اخلاص کے ساتھ اور خیر خواہی کے جذبہ سے مشورہ دیتے تھے ، انھیں اپنے مشورہ پر اصرار نہیں تھا اور امیر بھی فراخ دلی سے مشورہ کو قبول کرتا تھا ، اس کے سامنے اُمت کی بھلائی اور اللہ کی رضا جوئی کے سوا کوئی اورجذبہ نہیں ہوتا تھا ، اختلاف کو دُور کرنے کے لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیر کو کچھ حدود کا پابند بنا دیا جائے ، مثلاً یہ کہ فیصلہ میں کچھ لوگ اس کے ساتھ شامل کر دیئے جائیں ، یافیصلہ کو تنہا اس پر چھوڑنے کے بجائے غلبۂ آراء کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے ، جیساکہ بڑے بڑے دینی اداروں اور مذہبی تنظیموں کا عرف ہے ، پڑوسی ملک میں اکابر علماء نے سربراہ ملک کے لئے اس اُصول کو قبول کیا تھا کہ ان کی مدت محدود ہوگی اور وہ پارلیمنٹ کی اکثریتی رائے کو قبول کرنے کے پابند ہوں گے ، اس کی نظیر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کی ہے ، حضرت عمرؓ نے چھ آدمیوں کے بارے میں وصیت فرمادی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو خلیفہ بنادیا جائے اور اگر ایک نام پر اتفاق نہ ہوپائے تو غلبہ آراء پر فیصلہ کیا جائے ، اسی بنیاد پر حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب ہوا ؛ البتہ غلبہ آراء پر اتفاق کا فیصلہ ایسے انتظامی اُمور میں کیا جائے گا ، جن میں دونوں پہلو مباح ہوں ، جو بات شرعاً واجب یا ممنوع ہو ، اس میں غلبۂ آراء کا اعتبار نہیں ہوگا ، ان کے سلسلے میں تو قرآن وحدیث اور فقہاء کے اجتہاد کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا ، خواہ اس رائے کے حاملین کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو ، غرض کہ صلح کی یہ تین بنیادیں ہوسکتی ہیں ، ایک یہ کہ کوئی ایک فریق پیچھے ہٹ جائے اور ایثار سے کام لے ، دوسرے : انتظامی ڈھانچہ جیسے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ ہر فریق مطمئن ہوجائے ، تیسرے : امیر و سربراہ کے اختیارات کو محدود کردیا جائے اور وہ شوریٰ کی رائے کا پابند ہوکر کام کرے ۔
اختلافات کو حل کرنے کی دوسری صورت ’ تحکیم ‘ ہے ، قرآن مجید نے نزاعات کو حَکَم کے ذریعہ حل کرنے کی تلقین کی ہے ، (نساء : ۳۵) رسول اللہ ا نے نبی ہونے کے باوجود غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان حضرت سعد ابن معاذؓ کو حکم بنایا ، اسی طرح حضرت علیؓ اورحضرت معاویہؓ نے اختلافات کو حل کرنے کے لئے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور حضرت عمر وبن عاصؓ کو اپنا حکم تسلیم کیا ، نیز فقہاء نے نزاعات کے حل کے سلسلہ میں تحکیم کو ایک مستقل طریقہ مانتے ہوئے اس کے اُصول و ضوابط اور حدود و شرائط مقرر کئے ، اس لئے اختلاف کو دُور کرنے کا یہ ایک بہترین حل ہے کہ چند معتبر ، معروف ، احکام شریعت سے واقف اور غیر جانبدار اہل علم کی کمیٹی دی جائے ، جو مختلف حضرات کے نقطۂ نظر کو سنیں ، اس ادارہ یا تنظیم یا جماعت کی مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے اور فریقین اس فیصلہ کو تسلیم کرلیں ۔
بہر حال جو لوگ ملت کے اجتماعی کاموں سے مربوط ہوں ، ان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ فرد سے زیادہ اہمیت اس ادارہ ، تنظیم اورجماعت کی ہے ، جس سے وہ وابستہ ہے ، اگر افراد کے مفادات مجروح ہوں تو اس کا نقصان انفرادی ہوگا ، اور اگر کسی ادارہ یا جماعت کا نقصان ہو تو اس کا نقصان ملی اور اجتماعی ہوگا ۔
ان سطورمیں جوکچھ عرض کیا گیاہے، اس کاخلاصہ یہ ہے کہ دینی اداروں اورجماعتوں میں اگراختلاف پیداہوجائے توان کوان امورپرتوجہ دینی چاہئے:
(۱) ذمہ داروں کواپنے گردوپیش کاجائزہ لینا چاہئے،کہیں ان کی صف میں ایسے لوگ توشامل نہیں ہیں،جودانستہ یانادانستہ دین سے یااس ادارہ یاجماعت سے بغض رکھنے والوں کے آلۂ کارہوں اوران کے لئے کام کررہے ہوں،ایسے لوگوں کوجلدسے جلدوہاں سے ہٹادیناچاہئے۔
(۲) ذمہ داروں کوخوداپنا احتساب کرنا چاہئے کہ عہدہ کوانہوں نے ایک اعزاز سمجھ رکھاہے یاذمہ داری؟اوران کواپنے دل کوٹٹولنا چاہئے کہ ان کے کام میں اخلاص کی قوت موجود ہے یانہیں؟اگرظاہری وسائل مہیاہوں؛لیکن جذبۂ اخلاص مفقود ہوتواس کی مثال اس گاڑی کی ہے جودیکھنے میں توبہت عمدہ اورسجی سجائی ہو؛لیکن اس کاانجن کام نہ کرتاہو،یہ دینی کاموں میں کامیابی اورفتنوں سے حفاظت کی کلیدہے۔
(۳) اجتماعی نظام کے قیام کی بنیادامارت پرہے،یعنی سب لوگ مل کرکسی کوامیرتسلیم کرلیں،خواہ وہ صلاحیت کے اعتبارسے ،عمرکے اعتبارسے اورمطلوبہ اوصاف کے اعتبارسے کم ہی درجہ کے ہوں؛کیوں کہ امیرکے لئے سب سے افضل ہونا ضروی نہیں ۔
(۴) انفرادی کمیوں کواجتماعی عمل کے ذریعہ دورکیاجاسکتاہے؛اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیرکے ساتھ ایک دوحضرات کومعاون کے طورپرشامل کرلیاجائے،کہ امیران کواعتمادمیں لے کر ہی فیصلہ کیاکرے،تنہافیصلہ نہ کرے۔
(۵) جوامورشوریٰ سے متعلق ہیں،ان میں امیرکوپابندکیاجائے کہ اختلاف رائے کی صورت میں وہ اس رائے پرفیصلہ اورعمل کرنے کاپابندہوگا،جواکثریت کی ہوگی۔
(۶) کام سے جڑے ہوئے مختلف حلقوں کی تشفی کے لئے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ مختلف حلقوں اورعلاقوں کی نمانئدگی ہوجائے۔
(۷) اگرادارہ اورجماعت کےدائرہ میں موجودلوگوں کے ذریعہ اتفاق رائے نہ ہوسکے توتین ایسے بزرگ علماء کوحکم بنایاجائے، جومؤقراداروں اورتنظیموں کی نسبت سے امت میں معتمدسمجھے جاتے ہوں۔
خداکرے نقارخانہ میں طوطی کی یہ آواز سنی جائے اورمسئلہ کوحل کرنے میں معاون ثابت ہو،وباللہ التوفیق وھو المستعان


Masturat Ladies Bayan Arabic English Translation

Masturat (Ladies) Bayan - Shaikh Muhammad al-Mulla from Kuwait

(Translated from Arabic)

All praise is for Allah only. We praise Him and seek His help and guidance and forgiveness. And we seek refuge in Allah from the evil of our own selves and our bad actions. Whosoever Allah guides, no one can lead astray. And whosoever He leads astray, then no one can guide. And I bear witness there is none worthy of worship but Allah alone and without any partner. And I bear witness that Muhammad is His slave and messenger, Sallallahu 'alaihi wa sallam. He was sent with the true Deen so that it will become dominant over all other ways of life. 

After that... 

Allah Tabaraka wa Ta'ala says, after A'udhu billahi minash Shaitanir rajim: 

"As for the male and female who does good and is a Mu'min, We will certainly grant them a good(peaceful and contentedlife (in this world) and most surely reward them (in the Akhirah as well) for the good they used to do." 

Nahl: 97
 

And Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam said: He who revives my Sunnah, has indeed loved me. And he who loves me will be with me in Jannah.(Tirmidhi) 

Respected brothers, 

Allah Subhanahu wa Ta'ala has honored this ummah with the greatest miracle. The greatest miracle and greatest favor is Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam. And this a favor and miracle from Allah 'Azza wa Jall to this ummah. And this favor and miracle is a right to each and everyone from this ummah, men and women. And Allah 'Azza wa Jall has put isti'dad (capability) in the ummah; in men and women, so that they establish this favor and miracle. Allah has put great isti'dad in the ummah in relationship with this niyabah (being a deputy of Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam). There is isti'dad in men and isti'dad in women. Because everyone from among them is part of one occupation. The occupation of goodness...because everyone from among them is part of the occupation of responsibility. And Allah 'Azza wa Jall does not exclude anyone from this goodness. And He does not exclude anyone from this responsibility. Allah has put the greatest goodness in this ummah. And Allah has put the greatest responsibility upon this ummah. 

Allah Subhanahu wa Ta'ala did not send a woman as a Nabi. However, every woman is a na'ibah (deputy) of the Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam. So how great is this honor? Allah has made men and women deputies of the Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam. There is no prophet to come after Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam but, being a deputy of Nabi is for men and women. Every person has a right in this deputization. And Allah addressed every one (from the believing ummah) with Iman. As Allah addressed the men with Iman, He also addressed the women with Iman. "And the believing men and women." [at-Taubah:71]. So the addressing of Iman is to both women and men. That means that women and men have a right in the effort of connecting to Al-Khaliq (Allah). The responsibility of this effort is not on the men only, without women. No...as there is a right to being a deputy of Nabi for the men in the effort of connecting to Allah 'Azza wa Jall, similarly, the women have a right to be deputies of Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam and to the effort of connecting to Allah Jalla Jalaluhu. Allah Subhanahu wa Ta'ala has made the life of the Qur'an a constitution for the ummah. Allah explains for us (through the Qur'an) what is Haqq (truth) and what is Batil (falsehood). 

What are the means of Haqq and what are the means of Batil? The means of Haqq is Mujahadah (making effort for Deen) and the means of Batil is Mushahadah (perception of material things). Fir'aun had the means of Batil. He said,"Does not the land (kingdomof Egypt and these rivers flowing beneath belong to me? Do you not see?" [Zukhruf: 51]. All the means of Mushahadah were with him. But Musa 'Alaihis salatu was salam and his mother, and his wife, and his sister and Asiya bint Muzahim (the wife of Fir'aun) - those women around Musa 'Alaihis salam...those women had Mujahadah. How great was Fir'aun's kingdom? And his means were great. But how many weaknesses are in women? Their isti'dad is weak...but their mujahadah is great. That is why Allah mentions in the Qur'an that means manifest Haqq and means abolish Batil. The Banu (children of) Isra'il were the children of Ambiya 'Alaihimus salatu was salam. But the Iman that came in the hearts of Banu Isra'il was mixed with disobedience. And what was the means of the spread of this disobedience? One thing..."They never prevented each other (did not abstainfrom the evil that they used to carry out." [al-Ma'idah:79]. When they left Da'wah, disobedience came. So the Iman was mixed with disobedience, even though they were the children of Ambiya. 

But the Iman that came in the lives of the Sahabah was complete Iman with obedience to Allah and His messenger Sallallahu 'alaihi wa sallam. Who were the fathers of the Sahabah? Worshipers of idols. And who were the fathers of Bani Isra'il? Ambiya. However, there is no relation between Allah and His creation. The relation between slaves and their Al-Khaliq is one relation; "Verily, the most honored of you in Allah's sight is the one with the most Taqwa." [al-Hujurat: 13]. So Banu Isra'il (became like that) because of disobedience and leaving the command of Da'wah. The command of Da'wah was fardh (obligatory) amongst themselves. But they left this obligation, so disobedience spread. So Allah imposed on them the worst of creation. The worst of creation was who? His enemy...the biggest disobedience on the face of creation...that a human being claims (for himself, like Fir'aun) oneness of lordship and worship. Allah Subhanahu wa Ta'ala imposed on Bani Isra'il the worst of creation because of (their) evil deeds. So the worst punishment began on them. "We shall now kill (all) their sons and allow their daughters to live. We still have power over them." [al-A'raf:127] . 

Punishment...what was the cause? What was the cause of punishment? The cause of punishment was the leaving of Da'wah. Okay, what is the solution? Lifting of punishment because of Da'wah. That is why Allah explains in His book (the Qur'an) the life of Musa 'Alaihis salatu was salam, from the beginning, until the end of the life of Musa 'Alaihis salatu was salam. All of Musa's life is a methodology for this ummah (that means his whole life is an example of Mujahadah). That is why Allah says about Musa, "...And We tried you with many trials." [Taha:40]. What is the meaning? That is, all of Musa's life was from one tribulation to another tribulation...from one to another. However, after every trial comes bestowal (of rewards). When does bestowal come from Allah? It comes after tribulations. And awards come after tests. So all of Musa's life was with tribulations but, after (each of) these tribulations was bestowal from Allah. That is why Allah 'Azza wa Jall loves Mujahadah...from everyone. So the problem is big but the solution is small. The solution is small. The problem is big but the solution is in Mujahadah. Allah Subhanahu wa Ta'ala explains for us what is the problem and what is its solution. 

What was the problem of Fir'aun? The problem of Fir'aun was a baby that had not been born. Fir'aun saw in a dream that a baby was born from the Bani Isra'il who would be the cause of demise of his kingdom. So Fir'aun became fearful of a baby that was not (yet) born. How much power is in Haqq? Musa is in the stomach of his mother and fear is in the heart of Fir'aun. How much power is in Haqq? So now, Fir'aun issued (the order) to slaughter the babies. However, Allah Subhanahu wa Ta'ala made the lives of the Ambiya a cause of lifting punishment. Babies were slaughtered during the time Musa spent in the stomach of his mother. But when Musa was born, mercy was also born with him. After the birth of Musa it was impossible that a single baby be slaughtered...impossible. But when Musa was in the stomach of his mother, how many babies were slaughtered? Nabi (Muhammad) Sallallahu 'alaihi wa sallam was born in which year? Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam was born in the year if the elephant. Abrahah wanted to destroy the Ka'bah. And Muhammad Rasulullah was in the stomach of his mother. Is it possible that punishment will come?...impossible. So long as Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam was present, even if he is in the stomach of his mother, it will be impossible that punishment will come. "Allah shall not punish them while you are among them." [Anfal:31]. He was there...but in the stomach of his mother. 

It was impossible that punishment come. Musa was in the stomach of his mother...did punishment come? How many babies were slaughtered while Musa was in the stomach of his mother? When did the slaughtering stop?...when Musa was born. However, Abrahah could not even touch the Ka'bah, because Nabi was there in the stomach of his mother. How much is the barakah (blessing) of Nabi on this ummah? It is impossible that punishment come....impossible. Similarly, with the effort of Nabi, so long as the effort of Nabi is there, it will be impossible for punishment to come...impossible. Allah 'Azza wa Jall chose sacrifice, and chose the sacrifice of the mother. The sacrifice of the mother is her son. If the mother, at the time of childbirth were to choose the life of her son or her own life, if one them may die, who will she choose? Her death, so that he may live. How much trust is in the mother? Sympathy, mercy and affection on the baby. If she were to choose between her life and his life, she would choose his life. So Allah 'Azza wa Jall chose sacrifice. From whom? From the mother of Musa. So that Allah lift the punishment from Bani Isra'il. (She was) a perfect mother and a descendant of Ambiya. Allah did not choose sacrifice of the men but chose the sacrifice of a woman. And the woman, when will she be in a weak condition? At the time of childbirth. She will be the weakest (at that time). Weakness upon weakness. Because Allah wants Ikhlas (sincerity) in Mujahadah...Ikhlas. 

Sumayyah Radhiyallahu 'anha was weak from three aspects. Firstly, she was a woman. And a woman is weak. The second aspect was that she was a slave, she would move and sit by (mere) indication. And the third aspect was that she was old in age. However, Allah chose sacrifice from this women. (She) was the first to offer herself for the Ma'rifah (spiritual knowledge) of Allah. She was the first shaheedah (martyr) in Islam. What is martyrdom? It is terminating your remembrance to revive Allah's remembrance. So then, Allah will revive your remembrance forever. So Allah revived her remembrance. Did Sumayyah pray the five Salahs? Fast? Give Zakat? Make Hajj? All martyrs until they reach rank of Shahadah, must pray their five Salahs. It is a must...a must. So that they can reach this high rank. This is a bestowal from Al-Khaliq. They must have Deen in them. There must be Deen in them along with complete Ikhlas. So all Martyrs prayed Salah, fasted, gave Zakat, made Hajj...all of the A'mal ...except for Sumayyah. She did not pray, fast, give Zakat or make Hajj. And she did not listen to the Qur'an. Did Abu Jahl give her a chance to listen to the Qur'an? That is why out of all the ummahs, Allah chose the highest sacrifices for the women...the highest sacrifices. And after that comes the men. The men come based on the amount of sacrifices of women...based on the amount. That is why the sacrifices of women are a requirement...a requirement. 

Allah Subhanahu wa Ta'ala desired Mujahadah from this weak women. That is, Allah explains, "We inspired Musa's 'Alaihis salam mother (instructing her), '(Continue toNurse him. When you fear for his life, then place him in the river and neither fear nor grieve. We shall certainly return him to you and have made him from among the Ambiya." [al-Qasas:7]. Allah makes clear to the mother of Musa what is the solution. The solution is there in the arms of the woman. The solution is in what petrified the mother of Musa. The solution is with whom? The solution is with her...the solution is with Musa. That you sacrifice this beloved (of yours). Allah has a customary practice; you sacrifice the things you love, Allah will give you benefit from the things you love. The most beloved to the mother of Musa was whom?...Musa...Musa. 

And what was the most beloved in the heart of Nabi?... The most beloved creation in the heart of Nabi...the creation, the creation not Al-Khaliq. The most beloved creation in the heart of Nabi was Makkah. "Certainly you (O Makkah) are the most beloved place to me." Allah said to Nabi, "O Muhammad, do you love Makkah? So then sacrifice Makkah...and I will guarantee for you (return to it) as I returned Musa to his mother and he spoke to Me." And now, I am taking you out of Makkah. "Verily the One Who has made the Qur'an obligatory on you shall return you to your place of return (to Makkah[al-Qasas:85]..."We shall certainly return him to you (to suckle) and have made him from among the Ambiya." [al-Qasas:7]...this is a customary practice. Did he sacrifice Makkah or not? Is the purpose the Ka'bah? The purpose is not (just) the Rabb of the Ka'bah...(but) you sacrifice the Ka'bah to connect to the Rabb of the Ka'bah. That is why this Surah, this story that Allah mentioned in al-Qasas, (is there) to teach whom?...to teach whom? To teach Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam and to teach the ummah what is the solution. Anything that your heart increases in love for, sacrifice it. So, when she sacrificed (being with) him, after tribulations come bestowal from Allah. All of Makkah drove out Nabi..."...The Kuffar schemed against you to imprison you, kill you or exile you." [al-Anfal:30]. All of them were consulting against whom? So he left in fear...he left, Sallallahu 'alaihi wa sallam. But, how did he enter into Makkah? He said, "Today is a day of compassion." What kind of day? All of the people of Makkah gathered in front of Nabi, two thousand. All of them offended the honor of Nabi. From among them were those who divorced the daughters of Nabi...'Utbah and Rabi'ah ripped the thawb of Nabi inside the Haram...and they divorced the daughters of Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam...all of them. Now mercy entered the heart of Nabi...and he spoke words if mercy. He asked, "What do you think I should do with all of you?" They replied, "You are a noble person, son of a noble man." He said, "Go! For all of you are free." Because of this pardon, two thousand from the people of Makkah entered into Islam. How did Allah return Nabi to Makkah? And how did Nabi enter into Makkah? His head bowed (in humility). (Saying the du'a:) "There is no one worthy of worship but Allah alone. He helped His slave. He strengthened His army. And He destroyed the parties alone." He entered with mercy. 

That is why Allah explains to Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam the life of the mother of Musa...how much she forbore...how much she forbore...with Mujahadah. This is a customary practice of Allah. That is why it is desired that women make more Mujahadah. What is the reason? Maybe the men will ask what is the reason, correct? And the women now ask what is the reason (why it is desired that women make more Mujahadah). What is the reason. The reason is Adam and Hawwa. Adam 'Alaihis salam ate one morsel from the tree. And Hawwa ate more from the tree than Adam. Therefore the love of Dunya (worldly things) is more in the hearts of women than in men. So it is desired that women make more Mujahadah then the men...more. Is this justice from Allah? Yes, this is just. That is why the woman will enter Jannah (Paradise) before the man. Women will enter Jannah five hundred years before men. This is justice, right? You sacrifice more here and you will enter first there...justice. That is why Allah explains the sacrifices of women in the Qur'an. After the sacrifices of women effort comes...ummahs come...goodness comes...mercy comes. After that comes the cycle of men. But the ones who laid down the foundation were whom?...Women. They laid down the foundation. 

That is why the mother of Musa 'Alaihis salam did not look at 'aql (logic/human intellect) but looked at Wahiy (revelation). In this effort (of Da'wah) we don't look at 'aql. In 'aql there is darkness so it will give darkness. In Wahiy there is Nur (spiritual light) so it will give you Nur. The one who is brought up in this effort according to his 'aql, he always goes with his darkness and whims. How does he go? Darkness and whims. The one who goes in this effort according to his 'aql, he always has "Ana" (me/myself/I). He has "Ana." I am better...I have more understanding...I am more senior (in this effort). This type of person goes with his 'aql. And this is darkness. And the Nafs (the base self) is the biggest Ilah (deity) that is worshipped besides Allah. The biggest Ilah?...your Nafs. And who from among us does not have a Nafs? ...Who? That is why in this effort we do not go with 'aql. We go with naql (what has been transmitted), that is Qur'an and Hadith. In it (the naql) is the intent of Allah and Nur...yes. Allah wanted this Mujahadah. So the mother of Musa 'Alaihis salam did not look at 'aql...but looked at the command of Wahiy. But what is the isti'dad of a woman? The isti'dad of a woman is "Nurse him" [al-Qasas:7] (these words come in command form). What is her isti'dad? And the rest is upon whom? The rest is upon Allah. What is our isti'dad in (the effort of) Da'wah? What is our isti'dad in Da'wah?...The people say, 'Ahlud Da'wah' (the people of Da'wah or Tablighi Jamat)...yes. Our isti'dad in Da'wah is (also) "Nurse him" (alluding to obeying the commands of Allah above anything else). What is nursing? It is mercy, sympathy, affection, love. (All) These qualities are our isti'dad in Da'wah...only. All the A'mal (in the syllabus of Da'wah) are a comfort for us...four months...forty days...going out on foot...going out of the ladies...tashkeel...five A'mal (activities of the masjid). The purpose of all these A'mal is mercy...sympathy...affection...love. These are our isti'dad in Da'wah. 

Our work in Da'wah is "Nurse him." And the rest is upon whom?...the rest is upon Him. Therefore the human being should not look at his sacrifices. Shaikh Yusuf (Kandhlawi) Rahmatullahi 'alaih used to say, "The one who looks at his sacrifices will get delayed and the one who looks at his shortcomings will advance." That is why our isti'dad in this effort is "Nurse him" only. If this is our mentality in this effort, now the mercy will come. But, sometimes the baby has bad Adab (manners) during nursing...so the nursing changed (because) he bit the breast. So will milk come out or blood? What do you all think?...milk or blood? So the mother stops nursing. Now, she is not pleased. Will the mother deceive her son? Will she give him blood? Similarly, a person goes in this effort...and he wants to have bad Adab with the mother; with the (effort of) Da'wah. So now, will he take mercy? He will be deprived of mercy. Now, he does not want mercy...he wants blood. What is the hukm (legal ruling) of blood? Blood is najis (filth). The hukm of blood is what? But milk is...what is its hukm? Tahir (pure). So when he shows bad Adab with the mother, now he can not take mercy, but takes najasah (filth). But the mercy of the mother...it is impossible that she give him najasah. These are (the principles of) Da'wah. The one who wants to go in this effort...woman or man until death, our only objective is for the ummah of Nabi, our effort is for the ummah of Nabi, we bear with mercy...we bear with sympathy...we bear with love...we bear the Deen only. But sometimes Shaitan...makes the senior (worker in this effort) have bad Adab with the mother...have bad Adab?...with the mother. So now, he will not bear with mercy. 

Now, the mother of Musa obeyed the command. So she threw him. And Allah explains to her, "My enemy and his(Musa'senemy (Fir'awnwill take possession of him." [Taha:39]. So now, because of this strong sacrifice, Allah immediately strengthened her heart (with Iman). The highest levels of Iman is strength (Rabat) on the heart...the highest. The people of Kahf (cave), what did Allah say about them? "They were a few youths who believed in their Rabb and We increased them in guidance." After that, "We strengthened their hearts (their Iman and resolve)." [al-Kahf:13-14]. Progression...progression. That is why for the senior (worker), after a long time of making effort and before his death, comes the prize from Allah. What is it? Allah strengthens his heart (with Iman) so he passes away on this effort. Allah said about this, "...and We will most surely reward them for the good that they do." [an-Nahl:97]. That is, during the time of your death, Allah ends it with (doing) the best of actions. He will make you pass away in the best way. And he will lift away from you a bad ending..."We shall definitely cancel (forgivetheir sins from them and reward them (with blessings that arebetter than what (actionsthey did." [al-'Ankabut:7]. So, He will give special sanctity. The Ambiya 'Alaihimus salam were innocent before (the responsibility of) Da'wah and after Da'wah. But, we are not not innocent...we are not what? But with the barakah (blessing) of this effort, Allah will lift the bad (ending) from you and give you the best and make you pass away on the best (condition). So the mother of Musa arrived at the highest levels of Iman, so Allah strengthened her heart (with Iman)...the highest levels of Iman. Therefore, the acquisition of the highest levels of Iman is with Mujahadah. 

So now, Allah immediately directed the command to the river. In the heart of every living thing in the river, there was protection and mercy for Musa...more than the mercy of Musa's mother had for him. Musa's mother is one mother. How many living creatures are in the ocean? In Egypt, their ocean used to have (like) horses of the sea. What did they have? Large animals. All of these animals (in the river) had mercy in their hearts for this baby (Musa). Who is The Protector?...He is Allah. He commands and that is His work. Whose work is it? Allah. So now, the basket went against the current of the water. 'Aql (logic) says anything that is thrown with the current goes with it. But now, everything is against the 'aql. This basket is going against the current of the water. When the basket came to Fir'aun, he opened the basket. And there was a baby with Nur on his face. (Addressing Musa, Allah said,) "I have chosen you for Myself."..."...so that you may grow up under My supervision." [Taha:41-39]. Is this a small matter?...no. This is who? This is Musa Kalimullah, but Muhammad Rasulullah, what did Allah say regarding his right? "...for you are under Our protection." [at-Tur:48]. Which one of the two is greater? The greatest pronoun in rhetoric (in Arabic grammar) for love and protection is, "For you are under Our protection." This speech is for whom? This speech is for Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam and his ummah. We are included (in being addressed) in this speech...yes. 

Every thing that Allah mentioned in the Qur'an for Musa, He mentioned it in perfection for Muhammad Sallallahu 'alaihi wa sallam...in perfection. That is why Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam said, "If Musa bin Imran was alive, he would not be able to follow anyone except me." So Allah did not mention in the Qur'an for Musa except that He mentioned in perfection for Muhammad Sallallahu 'alaihi wa sallam. So now, the basket was opened and Nur came out. Fir'aun looked and Asiya bint Muzahim looked. Both of them looked at the same time. The queen of Egypt looked and the king of Egypt looked. So, both if them issued a command. ...both of them. Fir'aun said, "This is he. He is (the baby from the dream). He gave the order; "Kill him." And Asiya bint Muzahim said, "Do not kill him." King and queen. The command goes with whom? Goes with the king or queen? Allah has a customary practice...Allah's customary practice is that the one who has disobedience in his heart, Allah imposes the wife over him. So the one who leaves going out yearly...going out monthly...two and a half hours (in the masjid)...the first row for Salah...the first takbir (for Salah)...the first to be imposed on you will be whom?...yes? You are senior and she is senior (in Da'wah). All of disobedience was in the heart of Fir'aun. So Allah imposed on him Asiya bint Muzahim. 

But, Asiya bint Muzahim spoke words of talab (request). "(This child will beA (greatcoolness (delightfor my eyes and yours." [al-Qasas:9]. She wanted to seek sympathy for him..."Perchance he may benefit us or we may adopt him as a son." [al-Qasas:9]. And Fir'aun the wretched said, "As for you, yes. As for me, then no." Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam said, "Had Fir'aun said 'For me' Allah would have surely decreed hidayah (guidance) for him." She (Asiya bint Muzahim) said words of talab, "For me." She said, "For me." So Allah gave her the highest levels (of Iman). "For (the benefit ofthe Mu'mineen, Allah gives the example of the wife of Fir'aun." [at-Tahrim:11].The wife of Fir'aun took Siddiqiyyah (the quality of those who testify immediately to the Haqq) from the shortcomings of Fir'aun...his shortcomings. What was the reason? The reason was talab...talab. The queen of Saba...the queen of? Saba, had the biggest kingdom in that time...it met the kingdom of Sulaiman ('Alaihis salam). Sulaiman was a king and she was a queen...she was?...a queen. But, she spoke words of talab. "An honorable letter has been thrown (given) to me." [an-Naml:29]. When she said these words of talab, Allah honored her with hidayah. Every woman who humbled herself for Allah in the Qur'an, Allah raised her rank. So, Asiya bint Muzahim made herself humble...and presented talab. So, Allah gave her...she acquired the real kingdom. "If you look (around) there (in Jannah) you will see(tremendousbounties and an enormous kingdom."! [al-Insan:20]. What did Allah give her? Allah gave her a palace in Jannah so she has an enormous kingdom. And Bilqis (the queen if Saba), said words of humility. (She said)"Honorable." So (Al-Karim) the Most Honorable (Allah) honored her (with hidayah). 

Every woman who became humble, Allah raised her. Although, all those women...were they living in the streets? No! They were living in kingdoms! But, they surrendered their temporary kingdoms for everlasting kingdoms...yes. So, she became muslim...and succeeded. She succeeded and her people also succeeded...yes. How much isti'dad did Allah put in women? But, what is the condition? Humility...the condition is humility...with sacrifice. Now, It is the season of Hajj. All of the world's hearts are focused on Makkah. Allah accepted the sacrifice of a queen. Hajar...who was Hajar? She was a queen. Hajar, she was a queen...her origins (were royalty). Her father was a king. However, this queen put forth sacrifice. She left the kingdom for the desert...she left the kingdom. With this sacrifice, Allah explains in the du'a of Ibrahim, "...So cause the hearts of some people to be inclined towards them." [Ibrahim:37]. All the hearts of the world are inclined towards whom? What is the reason? The sacrifice of whom?...Hajar. "And announce the Hajj among the people; they will come to you." [al-Hajj:27]. They will not come to Makkah. Where will they come to? The Hujjaj (people who make Hajj) where are they going now? Going to Makkah or going to Ibrahim?...no. The condition"they will come" is not that they will come to Makkah or to Ibrahim. No...(but it is that) they will come to the place of sacrifice. All the hearts of humankind are inclined towards Makkah, they do not know why they are inclined towards Makkah. They are inclined towards Makkah because of sacrifice. But the people...did not understand what the story is (about). 

This queen sacrificed, Allah allowed her remembrance (to continue) in the Arabian peninsula...in a dry desert. And the queen of Saba sacrificed, so Allah allowed her remembrance (to continue - in Surah an-Naml). And the queen of Egypt (Asiya bint Muzahim) sacrificed, so Allah allowed her remembrance (to continue) in His Qur'an. The women who stood up on sacrifice, Allah allowed their remembrance (to continue) in the Qur'an. What is the reason? To teach whom? To teach us. Any woman who makes sacrifice, Allah will allow her remembrance (to continue). "And We have elevated your mention (O Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam)." [al-Inshirah:4]. Allah Subhanahu wa Ta'ala explains these principles to the ummah to show how Allah 'Azza wa Jall lifts punishment and sends down mercy. The lifting of punishment and descent of mercy is because of the sacrifices of women. Therefore, the sacrifice of women is desired in this time and age. She sacrificed her small kingdom, Allah gave her an enormous kingdom (in return, in Jannah). Is there any king from among kings who tells a thief that waylays highways, "Come to me, I will give you from my kingdom."? Is there any king (like that)?...any? Allah, The Owner of all kingdoms, said in His book, "Say, 'O My bondsmen who have wronged their souls! Never lose hope of Allah's mercy. Verily, Allah forgives all sins." [az-Zumar:53]. 

Allah says, "If all of you return to Me...I am a King in Jannah and all of you will be kings with Me in Jannah." So the women surrenders her small kingdom, Allah will give her a great kingdom. Because of this effort, how much goodness comes? How much mercy spreads? This effort is a door to connect to Al-Khaliq...for men and women. The mentality of the Sahabah was that they used to race to connect to His honor. So, in Madinah, the women gathered. They consulted among themselves. The men have superseded us...in (making) Salatul Jumu'ah, Salah in congregation and spending in the path of Allah. And we are confined to our homes. So they sent Asma bint Yazid al-Ansariyyah. When she came she said, "O Rasulullah. I am an envoy of the women to you. The men supersede us in Jumu'ah, in congregation and spending in the path of Allah. And we are confined to our homes." Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam said, "O Asma bint Yazid. Return and inform the ladies who have sent you that when a woman follows her husband in the best way, and obeys him, and establishes with him his purpose"...(that means (she helps him in) making effort for Deen"..."then she will get the reward of all his good deeds." What is desired from the woman? Three things. The first thing: following her husband in the best way. Because a woman will not enter into Jannah unless her husband is pleased with her. When...? So, when we please Allah, He will be pleased with us. So, how do we please Al-Khaliq, Allah? So, how does a woman strive to please Al-Khaliq and her husband? How To please her Rabb..? So Allah's pleasure is in following her husband in the best way. That is, to have good conduct...with him (her husband). With complete obedience...except in the disobedience of Allah and His Rasul. The third condition is her establishing the effort (of Deen) with him. 

Sometimes, the wife has good conduct with obedience...but she did not establish the effort of Deen with him. They will be together in Dunya but will be separate on Yawmul Qiyamah. Although obedience is there and good conduct is there but between them on Yaumul Qiyamah will be levels of Iman. With the effort (of Deen) comes the highest levels of Iman. Therefore these conditions, three are desired. So that the men and women establish this effort...with the intention to connect to Al-Khaliq. 


To get the reality of this intention, effort is desired from the women and men. From the women, "Every one of you is responsible and every one of you is accountable for those under you." So, the responsibility is on everyone. For that, my brothers and sister all of us should make intention (that) we take this effort with the intention of mercy...with the intention of sympathy...and with the intention of softness on the ummah of Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam. So, the one who has mercy on the ummah of Nabi, he will be written with Allah as one who will be given mercy (from Allah). For the ummah of Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam...how much (effort) did Nabi put forth for it? And how much did the mothers of the believers put forth for the ummah? All of the mothers of the believers put forth sacrifice for the ummah of Nabi. All the the good that was in the life of Nabi was for his ummah. Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam did live a moment of his life for himself...not a moment. All his life was for the ummah. And the mothers of the believers, all of their lives were for the ummah...all of their lives. That is why the same condition that Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam faced, was also the condition that was faced by the mothers of the believers. Is it possible that Nabi go hungry and A'ishah would not go hungry? Nabi would become tired and A'ishah would not become tired? Any condition that came on Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam also came on his wives. That is why the person who has the biggest Mujahadah here will have the biggest desires in Jannah. The biggest Jannah according to Allah is the Jannah of whom? Muhammad Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam. And the mothers of the believers will be with whom? It is desired like this...the senior worker, male and female. According to the amount of effort a man puts forth, his wife should put forth the same amount with him...on the same level. Therefore, effort is desired from everyone. This effort is the inheritance of Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam. And for this inheritance, the mothers of the believers put forth their lives to protect this inheritance. 

A'ishah Radhiyallahu 'anha lived with Nabi Sallallahu 'alaihi wa sallam for nine and a half years. And her right to Nabi was three days out of every month...three days. What is the average amount of time that she spent with Nabi? If we calculate, it will be less than a year. However, how much goodness did she bear for the ummah of Nabi? She narrated 2,220 Ahadith from Nabi. She was a Hafithah of the Qur'an...and a Muhaddithah...and a Faqihah. One Tabi'i (from the generation after the Sahabah) used to say, "I heard the speech of Abu Bakr, Umar, Uthman and Ali. But, I did not hear a person speak better than A'ishah. And she lived fifty years after Nabi. Allah used her to benefit the ummah of Nabi. And the mentality of A'ishah was the protection of Nabi's ummah. When the fitnah (tribulations) came in the ummah...and the great inheritance of Nabi almost disappeared. So, the mothers of the believers consulted among themselves. They said, "O A'ishah. Just as people presented themselves to Rasulullah and they knew their status...everyone of them knew your status also. The status of A'ishah. So, our opinion is that you go. Perhaps Allah may use you to reform the ummah of Nabi. So, she left from Makkah...with the intention to unite the ummah. When she left from Makkah, all of Makkah left along with her. And that day was called the day of Nahib (weeping)....(because of) their fear for A'ishah. She put forth the greatest sacrifice. (For) The protection of Nabi's ummah. So Allah 'Azza wa Jall used the lives of A'ishah and the mothers of the believers for the protection of Nabi's ummah. Even at the cost of their own lives. Even though she was almost killed in the (battle of the) camel...the day of the camel. And the intent of the people of fitnah was that they kill her. So, the mothers of the believers stood up on sacrifice for the protection of the ummah...until the end of their lives. 

In the life of A'ishah Radhiyallahu 'Radhiyallahu 'anha...when she was about to die, Ibn 'Abbas took permission to speak with her. He said, "O my mother. Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam passed away while he was pleased with you. And Allah revealed your innocence (from the false allegations) from above the seven heavens. And Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam did not marry a virgin except you. And he used to receive Wahiy while staying in your sleeping quarters. And Rasulullah Sallallahu 'alaihi wa sallam passed away in your house, and on your day, in your room, in front of you. And Allah made you two come together in your prime." She replied, "O son of 'Abbas, leave me. 'Oh! If only I had died before this and had been completely forgotten.' [Maryam:23]." So, the mothers of the believers put forth sacrifice until the last day of their lives. That is why the Deen is the inheritance of Nabi. And this inheritance is a trust on the necks of women and men. So, how can every woman protect this inheritance? So that this goodness does not discontinue...and it (should be (considered) a necessity for all of you until the Last Day. Allah revealed a complete Surah, Surah Maryam. This is a Surah of inheritance. The inheritance of effort. And it starts with the intention of women...the wife of Imran. So, Allah put the inheritance of prophethood in their progeny, in Isa 'Alaihis salam. And the inheritance of Zakariyya was in Yahya...and the inheritance of Ibrahim was in Isma'il. Therefore, we should all ask Allah...that this inheritance does not discontinue from your progeny until the Last Day. That is why Mujahadah is desired from us. So that Allah protects this goodness. And that He blesses this goodness in this country. And how much rewards will all of you have on Yaumul Qiyamah? How much for all of you? By Allah, we do not know. Therefore, we should all make intention...men and women. This gathering is one of Taubah (repentance) and istighfar (seeking forgiveness). From Allah's mercy, if His slaves return to Him within the blinking if an eye, He will forgive their sins quicker than the blinking of an eye. "It is He who should be feared and He Who forgives." [al-Muddathir:56]. We make intention...whatever is left from our life, until the Last Day...women and men...everyone of us should have a purpose. Time, wealth, one's self...concern...everyone should have a purpose. So now, inshaAllah will be tashkeel....


(Taken with Jazakallah o Khair. Mau Allah give best reward o sheikh and the English Translator.)

from http://www.muftisays.com/forums/14-peoples-say/8219-masturat-bayan--shaikh-muhammad-almulla-from-kuwait.html?p=62748#62748