Pages

Showing posts with label SOCIAL Life Mannaers/Etiquettes. Show all posts
Showing posts with label SOCIAL Life Mannaers/Etiquettes. Show all posts

Muslims Marriage and Traditions

Simple Nikaah - Leading by Example

 

Many, who saw this, followed Hazrat’s (rahmatullahi ‘alaih) example when their daughters got married. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) received numerous letters saying that if marriages continued in this way many useless customs and innovations would be abolished. At the same time the Ummah’s financial resources will be saved. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) desired that all Muslims follow this simple manner in their weddings. (Hazrat Mufti Mahmood Hasan Gangohi (rahmatullahi ‘alaih) – His life and works, pg. 118)

Jazakallah o khair Taken from and for more visit http://alhaadi.org.za/

مسجد امام ائمۂ نمازکا مقام فضیلت کی حدیث الامام ضامن کی بےتوقیری

اماموں کی بےتوقیری ایک لمحۂ فکریہ

از:حضرت مولانا  فضیل احمدناصری القاسمی دامت برکاتھم
استاذحدیث جامعہ امام محمدانورشاہ، دیوبند

اس حقیقت سےتقریباًسبھی مذھبی مسلمان آشناھیں کہ "نماز "دین کااھم ستون ھے، جس نےنمازقائم کی، اس نےدین کاستون تھامےرکھااورجس نےنمازترک کردی، اس دین کی بنیادڈھادی-جب نمازدین کااھم ترین ستون ھےتواسی سےسمجھ لیناچاھیےکہ ائمۂ نمازکاکیامقام ھے؟ امام صاحب کی فضیلت سےمتعلق متعدداحادیث مروی ھیں، ترمذی شریف کی حدیث ھےکہ سب سےبھتروہ امام ھے جس سےمقتدی خوش ھوں، ایساامام حضورعلیہ السلام کی بارگاہ سےبڑی فضیلتوں کامستحق ھے-ایک جگہ ارشادھے: الامام ضامن-یعنی امام مقتدیوں کاذمہ دارھوتاھے، باجماعت نمازکےدوران مقتدیوں سےکتنی ھی بھول چوک ھو، امام صاحب ٹھیک ھیں توسب کی نمازٹھیک ٹھاک اداھوجاتی ھے، اس کےعلی الرغم مقتدیان اصول وآداب کی پوری رعایت کریں مگرامام صاحب بھول چوک کےباوجودسجدۂ سھونہ کرسکیں توسارےاصول وآداب بےقیمت ھوجائیں گے-احادیث میں امام کےپڑھنےکومقتدی کاپڑھنابتایاگیاھے، حدیث کےالفاظ ھیں: من کان لہ امام فقراءۃ الامام لہ قراءۃ-یعنی نمازمیں امام کاقرآن پڑھنامقتدی کاپڑھناھے، مقتدی کوالگ سےپڑھنےکی ضرورت نھیں-امام نمازیوں کاوکیل اورترجمان ھوتاھے،

 امامت  بہت نازک ذمہ داری ھے، جب تک پیغمبرعلیہ السلام کائنات فانی میں موجودرھے، خودنمازپڑھائی-جہاں صحابہ امام تھےتوانھیں تاکیدتھی: یسراولاتعسرا، بشراولاتنفرا-امام صاحب نمازاس طرح پڑھائیں کہ لوگوں میں نمازکی رغبت پیداھو، نہ کہ نفرت-نمازمیں مقتدیوں کی سہولت پیش نظررکھی جاے، امامت ایسامنصب ھےجس کےلیےباقاعدہ ترتیب بھی مقررکردی گئی، ارشادھوا: کہ جوصاحب قرآن کے بھترین عالم ھوں، انھیں آگےبڑھایاجاے، وہ نہ ھوں توان سےکم ترکو-وغیرہ-امامت انتہاسےزیادہ نازک ذمہ داری ھے، شیطان کاسارازورامام کوبھول چوک دلانےپررھتاھے، اسی لیےمسجدکی وہ جگہ "محراب "کہلاتی ھے، جہاں امام کھڑاھوتاھے، یعنی جھگڑے کی جگہ-امام کااتنابڑامقام ھےمگرصدافسوس کہ وھی نمازکامقیم جسےاحادیث میں بلندرتبےسےنوازاگیا،  معاشرےمیں اسی مقیم الصلوٰۃ کی کوئی اھمیت نھیں -مقتدیوں میں اس قدربےزاری ھےکہ امام سےشایدوبایدھی ملاقات کرتےھیں -ان کی حیثیت اتنی گری ھوئی ھےکہ گھرمیں ناچاقی ھوئی توسارانزلہ غریب امام پرگرادیا-امام کس نمی پرسدکی ایسی تصویرکہ جوچاھتاھے اسےگری ھوئی نظروں سےدیکھتاھے-پھرتن خواہ حددرجہ کم-اتنی کم کہ اس سےگزارےکی کوئی صورت نھیں، مھنگائی عروج پرھے، لازمی اشیاءکی قیمتیں آسمان سےباتیں کررھی ھیں مگرامام بےچاراوھی تین چارھزارروپیوں کےپھیرمیں ھے-مقتدیوں کےاندازسےمعلوم ھوتاھےکہ وہ ایک روپیہ دینےکےبھی روادارنھیں،امام کی تنخواہ ایک بھیک منگےکی روزانہ آمدنی کابھی مقابلہ نھیں کرسکتی-نتیجہ ظاھرھے: امام کسب معاش کےدیگرذرائع ڈھونڈتاھے، امامت کےدوران وہ خشوع وخضوع نھیں پایاجاتاجس کانمازسےمطالبہ کیاجاتاھے، امام نمازسےکچھ لمحےپہلےمسجدمیں آتاھےاورنمازسےفارغ ھوتےھی سائیکل تھام لیتاھے، ٹیوشن اوردوسرےراستےکی طرف یہ جاوہ جاھوجاتاھے-یہ خطرناک رجحان ھے، 

حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ امام اورمؤذن کاحددرجہ خیال کیاکرتےتھے-بڑی بڑی خدمتیں ان کی طرف سےھوتی تھیں-ھم سنت صحابہ کواپنانےکی بات توکرتےھیں لیکن امام صاحب کی ضروریات کی طرف کوئی دھیان نھیں دیتے-اتنی معمولی تنخواہ امام کودینااس کااعزازنھیں، مذاق ھے-

موجودہ دورکےحساب سےامام کاوظیفہ کم ازکم پندرہ ھزارروپےھونےچاھییں اوراگرامام صاحب کثیرالعیال ھوں توبیس ھزارروپے-امام خوش ھوں گےتونمازبھی دلجمعی کےساتھ پڑھائیں گے، ورنہ جیسی روح ویسافرشتہ والامعاملہ ھوگا، نہ حضورقلب، نہ رجوع وانابت-بالکل بےنمک، بےذائقہ نماز-صفیں کج، دل پریشاں، سجدہ بےذوق ھوگاکیوں کہ جذب اندروں کوباقی رھنےنھیں دیاگیا-میں ٹرسٹیان مساجدسےدرخواست کرتاھوں کہ آپ مسجدکی رقمیں جہاں دیگرضروریات میں صرف کرتےھیں، امام کی ضروریات میں بھی ذوق وشوق سےصرف کریں-تن خواہ کےعلاوہ ذاتی ملاقات میں بھی ھدیہ تحفہ کاسلسلہ جاری رھے، یہ بےچارہ آپ کےلیےاتنابڑارسک لیتاھے، آپ اس کےلیےاتنابھی نھیں کرسکتے؟

Eid al-Adha Bakr-Id Qurbani Philosphy behind The Festival of Sacrifice Udhiya Worship


The Essence of Eid-ul-Adha (What really is Sacrifice Qurbani) By Maulana Saad [damath baraka tuhum]



http://nmusba.wordpress.com

My dear friends and elders! That work which is not made into a worship will become a
mere ritual. Really, this is the difference between worshiping and performing mere rituals.
Rituals and festivals are for the non-Muslims and worship and sacrifice are for the Muslims.
But, because of ignorance...because we do not believe in the rewards that Allah subhanahu wa ta’ala
has promised us nor have knowledge of the rewards that we’d gain through worship, the worship of
Muslims has become like that of the festivals of the non-Muslims. People think that the eid of the Muslims
are festivals, if such things are said by the non-Muslims, its fine, what do they know what worship is...but
if Muslims think Eid’s are festivals?
If Muslims think of eid’s as festivals...before Islam when the non-Muslims wanted to celebrate, such days
were fixed.
Didn’t the Companions [ra] say to the Prophet [peace be upon him] “O Prophet of Allah! On this day
during the age of ignorance, we used to celebrate, make merry”. 
The Prophet [peace be upon him] replied:
“No! Allah has given you something much better in return, Allah has given you 2 days in return for that 1
day, one is Eid ul Fitr and the other is Eid ul Adha”.

Remember, that night is a night of worship whose [following] day is also a day of worship [meaning the
night before the eid and day of eid]. People spend the night before eid doing shopping instead of in ibaadah! And that too in wasteful expenditure instead on giving in charity!...................


WITH THANKS FROM nmusba.wordpress.com

Will of Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar R.A. Wasiyyat.

One of the Wali of Allah  Hazrat , Shaikh ul arab wal Ajam, Arif billah Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (sadly now r.a.) has passed away on 23 Rajab (2nd june 2013).

Below is the Wasiaat (Will of Hazrat)

It is being produced here for our education that apart from his Akhirat he aslo cared about all the financial and social obligation as well.

Rather these financial and Social Matter are part of our deen but we remain neglected.

May Allah give the sheikh Jannatul Fidaus and special reward for showing us the path of Rasulullah sallallahu alaihi wasallam in all aspect even related with our death.


According to will (wasiyyat) it is requested to do eesal e sawab by sura ilhlas 3 times and by other amal. One should do it regularly as per capacity, and do dua e maghfirat.

(Insha Allah English translation will be done shortly. If you are free do it and put in comment it will be published)



السبب الأساسي للنزاعات بين الزوج والزوجة disputes between husband and wife




میاں بیوی کی لڑائ کی وجہ دین نہ ہونا ہے زندگی میں...... جب یہ دین زندگی میں آئے گا تودونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا پتہ چلے گا - اس لئے کہا جارہا ہے کہ اللہ کے راستے میں نکل کر دین سیکھو-


 مولانا احسان الحق

The basic reason for disputes between husband and wife is absence of deen-e- Islam in our daily life...... As & when we adopt it, both pairs will understand their obligations– That is why we urge you to spent some time in the way of Allah to understand deen-e-Islam - Maulana Ehsan-ul-Haq

السبب الأساسي للنزاعات بين الزوج والزوجة هو غياب الدين الإسلام في حياتنا...... عندما نعتمد عليه، سوف كلا الزوجين فهم التزاماتها، وهذا هو السبب في أننا نحثكم على أمضى بعض الوقت في سبيل الله لفهم الدين الإسلام -

 مولانا احسان الحق


JAZAKALLAH FOR SHEIKH WHO REMINDED US AND BROTHER WHO NOTED AND TYPED.

Dadhi Ka Wajoob Fazeelat Ki Hadees Miqdar Ka Masla Hukam Masail Ahmiat Sharaee Haisiat


داڑھی کا وجوب  

تحریر

 حضرت مولانا محمد زکریاصاحب رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث مظاہرعلوم سہارنپور

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

نحْمَدُہ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہ الْکَرِیْم
اس سال یعنی ۱۳۹۵ھ میں سفر ہند کے موقع پر ایک نئی بات پیش آئی اس ناکارہ کی روانگی جدہ سے ہندوستان کے لیے ۶/اگست ۱۹۷۵/ مطابق ۲۸/رجب ۱۳۹۵ھ چہارشنبہ کو ہوئی اور اسی روز بمبئی پہنچنا ہوا۔ خیال بمبئی میں دو تین روز قیام کا تھا۔ مگر بمبئی جاکر معلوم ہوا کہ مولانا انعام الحسن صاحب کو مالیرکوٹلہ کا تبلیغی سفر درپیش ہے۔ انھوں نے بمبئی کے احباب کو لکھ رکھا تھا کہ بمبئی میں زکریّا کا قیام زیادہ نہ کرایا جائے۔

اس لیے یہ ناکارہ ایک دن بمبئی ٹھہرکر جمعہ کو بمبئی سے دہلی روانہ ہوگیا۔اور ایک شب قیام کے بعد مولانا انعام الحسن صاحب مالیرکوٹلہ کے لیے اور یہ ناکارہ سہارنپور کے لیے روانہ ہوگیا۔ سہارنپور سے امسال واپسی بجائے طیارہ کے بارڈر کے راستے ہوئی،اور ۲/ذیقعدہ جمعہ کے دن صبح کو پاکستانی بارڈر پر پہنچنا ہوا۔ پاکستان کا تبلیغی اجتماع جو شنبہ سے شروع ہورہا تھا سہ روزہ تھا۔ پاکستان میں چند مواقع پر ٹھہرنے کے بعد ۲۱/نومبر ۱۶/ذیقعدہ ہندی کو مکّہ مکرّمہ واپس پہنچا۔

وہ نئی بات سہارنپور کے زمانہٴ قیام میں اس مرتبہ خلاف معمول ڈاڑھی کے مسئلہ پر مجھے بہت ہی اشتعال رہا۔ مجھے خود بھی خیال آتا رہا،اور دوستوں نے بھی کہا کہ اس شدت کی نکیر تو میرے مزاج میں پہلے نہیں تھی ہر موقع پر مقطوع اللحیہ کو دیکھ کر طبیعت میں جوش پیدا ہوتا تھا، اور ہر مجمع میں اس پر نکیر کرتا۔ بیعت میں بھی قطع لحیہ سے بچنے کی تاکیدکرتا تھا۔ اس شدت کی کوئی خاص وجہ تو میرے ذہن میں نہیںآ ئی بجز اس کے کہ یہ مرض بہت بڑھتا جارہا ہے، اور موجودہ دور میں اس پرنکیر بالکل متروک ہوگئی ہے۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی نوراللہ مرقدہ کے آخری تین چار سال بھی اس پر بہت ہی شدتِ نکیر کے گزرے۔ مجھے ایسے لوگوں کو دیکھ کر جو حضور اقدس صلى الله عليه وسلم کی صورت کے خلاف اپنی صورت بناتے اور ڈاڑھی منڈاتے ہیں یہ خیال ہوتا تھا کہ موت کا مقرروقت کسی کو معلوم نہیں اور اس حالت میں اگرموت واقع ہوئی تو قبر میں سب سے پہلے سیّدالرسل صلی اللہ وآلہ وسلم کے چہرئہ انور کی زیارت ہوگی تو کس منہ سے چہرئہ انور صلى الله عليه وسلم کا سامنا کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی بار بار یہ خیال آتا تھا کہ گناہِ کبیرہ زنا، لواطت، شراب نوشی، سودخوری وغیرہ تو بہت سے ہیں۔ مگر وہ سب وقتی ہیں کہ ہر وقت ان کا ظہور اور صدور نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔

لاَیَزْنِی الّزَانِی حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُوٴمِنٌ (الحدیث) یعنی زناکار جب زنا کرتا ہے تو وہ اس وقت موٴمن نہیں ہوتا۔ مطلب اس حدیث کا مشائخ نے یہ لکھا ہے کہ زناکے وقت ایمان کا نور اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ لیکن زنا کے بعد وہ نور ایمانی پھر مسلمان کے پاس آجاتا ہے۔ مگر قطع لحیہ ایسا گناہ ہے جس کا اثر اور ظہور ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے نماز پڑھتا ہے تو بھی یہ گناہ ساتھ ہے۔ روزہ کی حالت میں، حج کی حالت میں، غرض ہرفرض ہر عبادت کے وقت یہ گناہ اس کے ساتھ لگارہتا ہے۔ اس وقت بار بار یہ خیال آیا کہ ایک رسالہ ڈاڑھی کے متعلق مختصر سا لکھوں۔

مگر ہندوستان کے قیام میں اس کا بالکل وقت نہ ملا۔ ہندوستان سے واپسی پر وہ جوش تو اگرچہ باقی نہیں رہا۔ مگر رسالہ لکھنے کا خیال بدستور دامن گیر ہے۔ اس لیے آج ۲۹/ذی الحجہ ۱۳۹۵ھ یومِ چہارشنبہ بوقت ظہر مسجدِ نبوی میں اس کی بسم اللہ تو کرادی اللہ تعالیٰ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ اس وقت حجاجِ کرام کی رخصت، اور ملاقات کی وجہ سے احباب کا ہجوم رہتا ہے۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ لِمَا یُحِبُّ وَیَرْضٰی.

اس رسالہ میں دو فصلیں لکھوانے کا خیال ہے۔ فصل اوّل میں حضور پاک صلى الله عليه وسلم کے ارشادات اور حضرات صحابہ کے آثار مذکور ہیں۔ اور دوسری فصل میں مشائخ اور علماء کے اقوال نقل کیے گئے ہیں۔

فصل اوّل

(۱) عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَاعفَاءُ للّحِیَةِ الحَدِیْث رَوَاہُ اَبُودَاوٴدَ وعَزاہ فِیْ رِسَالَةِ حُکُمُ اللّحْیَةِ فِیْ الْاِسْلاَمِ لِلّشَیْخ مُحَمَّدِ الحَامِدِ الشَّامِیْ اِلٰی مُسْلِمٍ وَاَحْمَدَ وَالتِرمِذِیْ وَاِبْنِ مَاجَةَ.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ جن میں مونچھوں کا کٹوانا اور ڈاڑھی کا بڑھانا ذکر فرمایاہے۔

ف: بذل المجہود میں لکھا ہے کہ فطرت کے معنی سنن انبیاء ہیں یعنی یہ دس چیزیں جن میں مونچھوں کا کٹوانا اور ڈاڑھی کا بڑھانا بھی ہے جملہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کی سنتوں سے ہیں جن کی اقتداء کا ہمیں حکم دیاگیا ہے (یہ اشارہ ہے قرآن پاک کی آیة شریفہ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ ہُدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقتَدِہ کی طرف) یہ آیت شریفہ ساتویں پارہ کی ہے۔

جس میں اوپر سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے اسمائے گرامی ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرمایا ہے کہ یہ حضرات ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی سو آپ بھی ان ہی کے طریقہ پر چلئے۔ (بیان القرآن)

بذل میں لکھا ہے کہ فطرت کے یہ معنی اکثر علماء سے نقل کیے گئے ہیں۔ اور بعض نے فطرت کے معنی سنتِ ابراہیمی بیان کیے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کی سنت اور بعض علماء نے فطرت کے معنی یہ کیے ہیں کہ طبائع سلیمہ ان کو طبعاً قبول کرتی ہیں۔ یعنی جو طبیعتیں ٹیڑھی نہ ہوں ان کو یہ سب چیزیں پسند ہیں۔ اور مراد فطرت سے دین ہے جس کی طرف قرآن پاک کی دوسری آیت فِطْرَةَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا میں اشارہ کیاگیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سب سے اوّل انسان کے لیے پسند فرمایا ہے۔ اور یہ دس چیزیں بھی دین کے توابع میں سے ہیں۔

بذل کے اس قول میں جس آیة کی طرف اشارہ کیاگیا ہے وہ قرآن پاک کی دوسری آیت ہے جو اکیسویں پارہ میں ہے۔

”فِطْرَةَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لاَتَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ القَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ.

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس پراللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پراس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہ چاہیے۔ پس سیدھا دین یہی ہے اورلیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔(بیان القرآن)

شیطا مردود نے جب وہ رندئہ درگاہ ہوا تھا تو کہاتھا۔

”وَلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَیْطَانَ وَلِیًّا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِیْنًا“

”جس کا ترجمہ یہ ہے اور میں ان کو گمراہ کروں گا، اور ان کو ہوسیں دلاؤں گا اور میں ان کو تعلیم دوں گا۔ جس سے چارپاؤں کے کانوں کو تراشاکریں گے اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنادے گا وہ صریح نقصان میں واقع ہوگا۔“ (بیان القرآن)۔
حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ نے فوائد میں تحریر فرمایاہے کہ وَلَاٰمُرَنَّہُم فلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہ میں ڈاڑھی منڈانا بھی داخل ہے۔ اور بھی متعدد روایات میں ڈاڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم ہے۔ رسالہ حکم اللحیہ فی الاسلام میں صحیح ابن حبان کے حوالہ سے بہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا پاک ارشاد نقل کیا ہے جو درج ذیل ہے۔

(۲) قَالَ رَسُوْلُ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمْ مِنْ فِطْرَةِ الْاِسْلاَمِ اَخْذُ الشَّارِبِ وَاِعْفَاءُ اللّحٰی فَاِنَّ الْمَجُوْسَ تُعْفِیْ شَوَارِبَہَا وَتُحْفِی لُحَافَخَالِفُوہُمْ خُذُوا شَوَارِبکُمْ وَاعْفُوْا لُحَاکُمْ.

ترجمہ: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی فطرت سے مونچھوں کا لینا (کٹوانا) ہے، اور ڈاڑھی کا بڑھانا ہے۔ اس لیے کہ مجوسی لوگ اپنی مونچھوں کو بڑھاتے ہیں اور ڈاڑھی کو کٹواتے ہیں۔ لہٰذا ان کی مخالفت کرو، مونچھوں کو کٹوایا کرو اور ڈاڑھی کو بڑھایا کرو۔“

ف: اس حدیثِ پاک میں حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ڈاڑھی رکھنے کو اسلام کی فطرت (خصلت و مقتضی) قرار دیا ہے۔اور ڈاڑھی کٹانے کو مجوس کا شعار فرمایا ہے۔ نیز مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ، مشہور حدیث ہے۔ یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ اسی بناء پر حضور پاک صلى الله عليه وسلم نے حدیثِ بالا میں مخالفتِ مجوس کا حکم دیا ہے۔

پس اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ ڈاڑھی رکھنا ایک شرعی حکم ہے۔اوراس میں تمام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کی موافقت ہے جیساکہ حدیث نمبر ایک میں گذرا، لہٰذا جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عرب میں چونکہ ڈاڑھی رکھنے کا دستور تھا اس لیے آپ نے عادت کے طور پر اس کا حکم فرمایا ہے، یہ خیال بالکل غلط اور بے اصل ہے، حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل وکرم سے ہم سب کو اپنے حبیب پاک علیہ الصلوٰة والسلام کے ارشادات پر عمل اور وعیدات سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔

حضرت ابنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی حضور اقدسصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا پاک ارشاد نقل کیاگیاہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو۔ ڈاڑھیوں کو بڑھایا کرو۔ اور مونچھوں کے کٹوانے میں مبالغہ کرو۔ اور بھی متعدد احادیث میں یہ مضمون کثرت سے نقل کیاگیا ہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو ڈاڑھی کو بڑھایاکرو۔ اور مونچھوں کے کٹوانے میں مبالغہ کیا کرو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کا پاک ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ ڈاڑھی بڑھاؤ، مونچھوں کو کٹواؤ،اور اس میں یہود، اورنصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔

افسوس ہے کہ ہمارے اس زمانے میں نصاریٰ ہی کے اتباع اور ان کی مشابہت اختیار کرنے کے لیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جملہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کی اس مبارک سنت کو ختم کیاجارہا ہے اس ناکارہ کو خوب یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہندوؤں میں بھی جو بڑے لوگ ہوتے تھے وہ ڈاڑھی رکھاکرتے تھے۔

مصنّف ابن ابی شیبہ میں روایت نقل کی ہے کہ ایک مجوسی حضور اقدسصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے ڈاڑھی منڈارکھی تھی، اور مونچھیں بڑھا رکھی تھی تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ کیابنارکھا ہے۔ اس نے کہا یہ ہمارا دین ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے دین میں یہ ہے کہ مونچھوں کو کٹوادیں اور ڈاڑھی کو بڑھائیں (حکم اللحیہ فی الاسلام) ابنِ عساکر وغیرہ نے حضرت حسن سے مرسلاً حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا پاک ارشاد نقل کیا ہے کہ دس خصلتیں ایسی ہیں جو قومِ لوط میں تھیں جن کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے۔ ان دس چیزوں میں ڈاڑھی کا کٹوانا اور مونچھوں کا بڑھانا بھی ذکر کیاگیا ہے۔ حارث بن ابی اسامہ نے یحییٰ بن کثیر سے مرسلاً نقل کیا ہے کہ ایک عجمی (کافر) مسجد میں آیا۔ جس نے ڈاڑھی منڈا رکھی تھی اور مونچھیں بڑھا رکھی تھیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے اُبھارا تو اس نے کہا کہ میرے رب (بادشاہ) نے یہ حکم دیا

Islamic Media Journalism ethics Principle for reporting News

That to investigate and research any news before spreading it is a basic principle of Shariah and its injunction is plainly stated in the Qur'aan & Sunnah as Allah (SWT) states:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (الحجرات: 6
[49:6] O you who believe, if a sinful person brings you a report, verify its correctness, lest you should harm a people out of ignorance, and then become remorseful on what you did.
And Allah (SWT) states:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا 

[4:94]O you who believe, when you go out in the way of Allah, be careful, and do not say to the one who offers you the Salam (saLutation), .You are not a believer. to seek stuff of the worldly life. So, with Allah there are spoils in abundance. In the same state you were before; then Allah favored you. So, be careful. Surely, Allah is All-Aware of what you do.

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Sayyidina Rasul-ullah (Sallaho Alaihe Wassallam) said, "It is enough falsehood for a person to transmit everything he hears." [Muslim]

It is so because many people merely accept everything they hear or read and don't endeavor to investigate (its truth) and establish its authenticity and forget to act upon this basic principle which Allah (SWT) has commanded since those from amongst the Jinn and humans who are influenced by Shaytaan are busy in spreading falsehood and thus abandoning this basic principle enables many from amongst the people to abandon the truth and adopt falsehood until they begin to establish the realities of their lives upon falsehood and this has resulted in hatred, enmity and ill feelings between sons of Adam. 

These naive people will continue to harbour ill feelings towards Musliheen (those who attempt to make peace and reconcile) and good feelings towards Mufsids (those who attempt to spread vice and corruption) if they continue on their path of accepting everything (as truth) they read or hear.
How much blood has been shed, how many idols have been worshiped as a consequence of accepting random speeches and writings as truth? 

(This is one paragraph Translated from Arabic book “Islah Wal-Insaaf, La-Hadam Wala-Ait’saaf”
By Shaykh Yusuf Ibn Isa Al-Malahi (HA)
Full article available on www.central-mosque.com