Pages

Showing posts with label Mistakes by workers. Show all posts
Showing posts with label Mistakes by workers. Show all posts

Tablighi Jamaat Maulana Saad Moulana Tariq Jameel ki Ghaltian Naseehat

مولانا محمد سعد کاندھلوی کے بعض غلط نظریات و افکار کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کا متفقہ موقف
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Dawah--Tableeg/147286





 یہ اپیل رائونڈ مشورہ کے عمل درامد کے سلسلے میں حضرت مولانا سعد دامت برکاتہم سےکی جا رہی ہے۔
 یہ اپیل انسے دارالعلوم دیوبند(اپنے فتوی میں ) سمیت  تمام علما کرام و اکابرین کی درخواست کے سلسلے کو آگےبڑھاتےہویے ہے ۔
امت کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔
اللہ تعالی امت کے حال پر رحم فرمائے۔ 

۔ یہ امت کی امانت ہے ۔ یہ "تبلیغ جماعت " نہیں 

حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ ایک موقعہ پر فرماتے ہیں ”یہ امت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی زبان کا حامی نہ تھا، مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی نہ تھا بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھتا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کیا فرماتے ہیں؟


مولانا ابراہیم مرکز نظام الدین نصیحت اردو



مو لانا ابراہیم صاحب دئولا مرکزنظام الدینکا خط






دینی اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں میں اختلافات اسباب اور حل 

Taken with Jazakallah o khair from http://baseeratonline.com/26700
مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
تعمیر مشکل ہوتی ہے اور تخریب آسان ، گھر بنانے اور بسانے میں مدت لگ جاتی ہے ؛ لیکن گرانے اور اُجاڑنے میں وقت نہیں لگتا ، اُن کاشتکاروں کا درد دل پوچھئے ، جو موسم سرما کی ٹھنڈک ، موسم گرما کی شعلہ ریز دھوپ اور برسات کی رم جھم بارش کے درمیان دن رات ایک کرکے کھیت بوتے ہیں ، درخت لگاتے ہیں ، اسے سیراب کرتے ہیں اور اس کی حفاظت و نگرانی کے لئے ہر طرح کی مشقت گوارہ کرتے ہیں ؛ لیکن سیلاب کی موج بلا خیز چند گھنٹوں میں ان سب کو روند ڈالتی ہے اور ساری محنت چند لمحوں میں تخت و تاراج ہوکر رہ جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اسی نظام پر بنایا ہے ؛ کہ کسی چیز کے اوج کمال پر پہنچ نے میں دیر لگتی ہے ؛ لیکن اس کے بکھرنے اور ٹوٹنے پھوٹنے میں دیر نہیں لگتی ، انسان کے اپنی پیدائش سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک پہنچنے میں کتنا سارا وقت لگ جاتا ہے ؛ لیکن جب موت کا فرشتہ آدھمکتا ہے تو دنیا سے آخرت کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے ۔
قدرت کا یہ نظام جیسے کائنات میں پھیلی ہوئی چیزوں اور انسانوں کے بارے میں ہے ، اسی طرح قوموں ، جماعتوں اور گروہوں کے سلسلہ میں بھی ہے ، کوئی بھی گروہ اپنا اجتماعی ڈھانچہ برسوں میں تیار کر پاتا ہے ، جیسے پرندے تنکے چن چن کر آشیانے بناتے ہیں ، ایسے ہی اس اجتماعیت سے جوڑنے کے لئے ایک ایک فرد پر محنت کی جاتی ہے ، تب جاکر کہیں ایک آشیانہ تیار ہوتا ہے ؛ لیکن پھر بھی وہ طوفانوں کی زد میں رہتا ہے ، اگر اس کے بنانے والوں اور بسنے والوں نے اس کو بچاکر نہ رکھا اور اس کے تنکے نوچنے شروع کردیئے تو بکھرنے میں دیر نہیں لگتی ، اس اجتماعیت کو وجود میں لانے کے لئے شروع میں ایک طویل اور پرمشقت راستہ طے کیا جاتا ہے ، مخالفتوں سے گذرنا پڑتا ہے ، جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دینی پڑتی ہے ، لوگوں کی خوشا مد کی جاتی ہے ، پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس سے تعلق وجہ اعزاز بن جاتا ہے اور اس کا اکرام ہوتا ہے ، یا تو کانٹوں کے بستر تھے ، یا اب پھولوں کی سیج بچھائی جاتی ہے ، اس وقت وہ لوگ گذرچکے ہوتے ہیں ، جنھوںنے اس کو سینچا تھا ، اب یہ سرمایہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں آتا ہے ، اگر انھوںنے اپنے سلف کے راستہ کو بھلا دیا ، قربانی کے بجائے آسانی کا اور اتحاد و یکجہتی کے بجائے اپنی رائے پر اصرار اوراپنے رفقاء سے بے نیازی کا طریقہ اختیار کرلیا تو اللہ کی مدد اُٹھ جاتی ہے ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اجتماعیت کے ساتھ ہے ، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : ’’ ید اﷲ علی الجماعۃ‘‘ ( سنن نسائی ، حدیث نمبر : ۴۰۲۰) آپ انے اس حقیقت کو ایک مثال دے کر واضح فرمایا کہ بکریوں کا ریور اگر ایک ساتھ چلتا رہے تو کمزور و نازک اندام جانور ہونے کے باوجود اس کی حفاظت ہوتی ہے ، اور اگر کوئی بکری ریوڑ سے بچھڑ جائے تو بھیڑیا اس کو اپنا شکار بنالیتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر : ۵۴۷)
بھیڑیا ایک تشبیہ ہے ، یعنی ایک باہری طاقت ، جو اسلام کا دشمن ہو ، وہ افراد ملت کو اپنا شکار بنالیتا ہے ، افراد کو شکار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو آلۂ کار بنالیا جائے ، اُمت محمدیہ کی تاریخ پر نظر ڈالئے تو اُمت کے کھلے ہوئے دشمنوں سے اس درجہ نقصان نہیں پہنچا ، جتنا نقصان ان دشمنوں سے پہنچا ، جو حقیقت میں بھیڑیئے تھے ؛ لیکن انھوںنے بکریوں کی کھال پہن رکھی تھی ، یہ ایک سازش پر مبنی عمل ہوتا ہے ، کچھ لوگ تو واقعی اپنے مفادات کے لئے سوچ سمجھ کر دشمن کے آلۂ کار بنتے ہیں اور بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے ، جو سادہ لوحی اور بے شعوری میں اس سازش کے آلۂ کار بن جاتے ہیں ؛ حالاںکہ وہ مخلص ہوتے ہیں ، ان کو غلط راستہ پر ڈالنے کے لئے ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا جاتا ہے ، انھیں باور کرایا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کررہے ہو ، وہ حق کو نافذ کرنے اور باطل کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؛ لیکن حقیقت میں ان کا یہ عمل باطل کو تقویت پہنچاتا ہے اور حق و سچائی کو کمزور کر دیتا ہے ، اس کی ایک واضح مثال ’داعش ‘ ہے ، جن کا خون بہایا جارہا ہے ، وہ بھی مسلمان ہیں اور جو لوگ خون بہارہے ہیں یا بہانے میں شامل ہیں ، وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور بمقابلہ دوسرے مسلمانوں کے بہ ظاہر اسلام پر زیادہ کاربند نظر آتے ہیں ؛ لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ وہ ان دشمنانِ اسلام کے آلہ کار ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ مسلمان برادرکشی میں مبتلا ہوجائیں ؛ تاکہ اختلاف وانتشار ان کو کمزور سے کمزور تر کردے اور اسلام کی شبیہ کو خراب کرنا آسان ہوجائے ۔
غور کیا جائے تو یہ سلسلہ محمد رسول اللہ اکی حیات ِطیبہ سے ہی شروع ہوچکا تھا ، مدینہ منورہ میں ایک عمارت مسجد کے نام سے بنائی گئی ؛ تاکہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جائیں ، اگر قرآن مجید نے اس سازش سے پردہ نہ اُٹھادیا ہوتا تو یقینا سیدھے سادھے مسلمان اس کو دین کی ایک خدمت ہی تصور کرتے اور وہاں ان کی آمد و رفت شروع ہوجاتی ؛ لیکن قرآن نے اس کو ’ مسجد ضرار ‘ قرار دے کر منہدم کرنے کا حکم دیا ، ( تفسیر ابن کثیر : ۴؍۲۱۲) اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین نے بے بنیاد تہمت لگائی اور انھوںنے اس جھوٹ کو ٹھیک اسی طرح پھیلایا جیسے آج کل میڈیا جھوٹ کو سچ بنانے کی فکر کرتا ہے ، آخر کچھ سادہ لوح سیدھے سادے مسلمان بھی اس سازش کا شکار ہوگئے ، یہاں تک کہ جب بعض مخلص مسلمانوں نے اس فتنہ کے سرچشمہ عبد اللہ بن اُبی کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تو اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں اوس و خزرج کی لڑائی نہ بھڑک اُٹھے ، ( صحیح بخاری ، حدیث نمبر : ۲۶۶۱) اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی برأت کا صاف صاف اعلان نہ ہوجاتا تو یہ اسلام کی دعوتی کوششوں کے لئے ایک زبردست دھکا ثابت ہوتا ۔
پھر عہد صحابہ میں دیکھئے ! سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں ، خود رسول اللہ انے اس کی مدح فرمائی ہے، آپ ا کی دو دو صاحبزادیاں ان کے نکاح میں رہیں ، حضرت عثمانؓ کے قبیلہ کی غالب اکثریت فتح مکہ تک اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہی اور غزوۂ اُحد اورغزوۂ خندق کی قیادت کی ؛ لیکن حضرت عثمانؓ نے اپنے قبیلہ کے فکری رجحان اور عملی رویہ کے برخلاف بالکل ابتداء میں اسلام قبول کرلیا اوراسلام کے راستہ میں مشقتیں اُٹھائیں ، اپنے عہد خلافت میں جمع قرآن مجید کی خدمت انجام دی ، ان سب کے باوجود ایک یہودی ’ عبد اللہ ابن سبا ‘ نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایسی سازش رچی ، جو خلیفہ مظلوم کی شہادت کا باعث بن گئی ، اور بہت سے سیدھے سادے مسلمان اور اکابر صحابہ کی اولاد بھی اس سازش کا شکار ہوگئے ، اور انھوںنے سب کچھ یہ سمجھ کر کیا کہ نعوذ باللہ یہ ظالم حکمراں کے خلاف جدوجہد ہے ، حضرت عثمان غنیؓ نے اس وقت ایک تاریخی بات ارشاد فرمائی :
فو اﷲ لئن قتلتمونی لا تتحابون بعدی أبدا ، ولا تصلون بعدی جمیعا أبدا ، ولا تقاتلون بعدی عدوا جمیعا أبدا ۔ (الطبقات الکبریٰ : ۳؍۷۱)
خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کیا تو میرے بعد کبھی تم میں محبت باقی نہیں رہے گی ، میرے بعد ایک ساتھ نماز نہیں پڑھوگے ، میرے بعد ایک ساتھ دشمن سے جنگ نہیں کروگے ۔
آہ ، اور سوبار آہ ، کہ آج حضرت عثمان غنیؓ کی اس بددُعا کو سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ، مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ جو لوگ اسٹیج پر اتحاد و اتفاق کی باتیں کرتے ہیں ، وہی اسٹیج سے نیچے اُترنے کے بعد اپنے متبعین کو نفرت پر اُکساتے ہیں ، ہماری نمازیں ایک مسجد میں نہیں ہوتیں ، ہر فرقہ کی الگ الگ مسجدیں ہیں ، جن میں ان کے سوا دوسرے لوگ نماز نہیں پڑسکتے ، دشمن سامنے کھڑا ہے ، لیکن ہمارا اختلاف ہے کہ کم ہی نہیں ہوتا ؛ چہ جائیکہ ہم مل جل کر ان کا مقابلہ کریں — یہ ایک ایسی سازش تھی ، جس نے مستقبل کی تاریخ پر نہایت افسوس ناک اثر ڈالا ، مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور نہ صرف یہ واقعہ بالآخر خلافت راشدہ کے ختم ہونے کا سبب بنا ؛ بلکہ مستقبل میں مذہبی قیادت اور سیاسی قیادت بھی الگ الگ ہوگئی اور صدیوں ایک ایسا بادشاہی نظام پروان چڑھتا رہا ، جو زیادہ تر دینی اقدار سے خالی ہی رہتا تھا ، پھر عہد صحابہ میں ہی ایک وقت ایسا آیا کہ توقع قائم ہوگئی تھی کہ خلیفہ راشد حضرت علیؓ اور شام کے فرمانروا حضرت معاویہؓ کے درمیان صلح ہوجائے گی ؛ لیکن کچھ عجمی نزاد لوگوں کی سازشوں سے یہ صلح بکھر کر رہ گئی اور ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا ، جو ایک مستقل اعتقادی مکتب ِفکر بن گیا اور ہمیشہ کے لئے اُمت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ، دشمنانِ اسلام نے ہمیشہ اس تقسیم سے فائدہ اُٹھایا ، اور آج بھی اُٹھارہے ہیں ۔
پھر تاریخ کے ہر موڑ پر مسلمانوں کے زوال اور ہزیمت کا بنیادی سبب یہی بنا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ، تاتاریوں کے ہاتھ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور خلافت عباسی کا محل زمین بوس ہوگیا ، پھر عثمانی ترکوں نے پانچ سو سال سے زیادہ اسلامی مقدسات اور عالم اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کی ؛ لیکن بعض عرب اور ترک ضمیر فروشوں نے وطنی تعصب کے جھنڈے بلند کئے اور سادہ لوح عرب اورترک مسلمانوں کا جم غفیر ان کے ساتھ ہوگیا ، آخر خلافت عثمانیہ کا چراغ بجھ گیا اور مسلمانوں کی وحدت کی ایک علامت — جو اعداء اسلام کی آنکھوں میں چبھتی تھی — ختم ہوگئی ، خود ہمارے ملک ہندوستان کی تاریخ بھی یہی رہی ہے کہ قریب قریب ساری مسلم حکومتیں مسلمانوں میں پائے جانے واے ایک منافق گروہ اور عام مسلمانوں کے ان کے جھنڈے نیچے جمع ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوئیں اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اشارہ پر ہوا ، جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے ، اس لئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس اُمت کو نقصان پہنچانے کی سازش ہمیشہ دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہوتی رہی ہے ، انھوںنے ہمیشہ اس کے لئے مسلمانوں ہی کی صفوں میں گھسے ہوئے لوگوں کا استعمال کیا ہے اور اس صفائی سے کیا ہے کہ کچھ لوگوںنے ایک کارِثواب اور دینی خدمت سمجھ کر وہ حرکتیں کیں ، جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی اور اسلام کو کمزور کرنے والی تھیں ۔
جو لوگ دینی کاموں کو انجام دیتے ہیں اور اچھے جذبہ سے انجام دیتے ہیں ، انھیں مطمئن نہ ہوجانا چاہئے کہ انھیں ان کی دین داری کی وجہ سے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا ؛ کیوںکہ ڈاکو اسی گھر میں ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ، جس میں دولت ہو ، اسی طرح دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہمیشہ اسی گروہ کو شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، جو اسلام سے گہری وابستگی رکھتا ہو ، دوسرے لوگوں کے بارے میں شیطان سوچتا ہے کہ یہ تو پہلے ہی سے ہمارا کام کررہا ہے ؛ اس لئے ان کے کام میں خلل ڈالنے کی ضرورت نہیں ، دینی اداروں ، درسگاہوں اور جماعتوں کو ہمیشہ اس پہلو سے اپنا جائزہ لیتے رہنا اور چوکنا رہنا چاہئے ، برصغیر میں اگر پچھلے تین دہوں کی تاریخ دیکھی جائے تو بعض بڑی بڑی درسگاہوں کے ٹکڑے ہوگئے ، بعض بہت ہی فعال تنظیمیں تقسیم درتقسیم کا شکار ہوگئیں ، اس کے نتیجہ میں ان کا وقار و اعتبار متاثر ہوا ، مسلمانوں کی معتبر ترین شخصیتیں جن کو مسلمانوں کی وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا ، بے وزن ہوگئیں ، اس بکھراؤ نے کام کو متاثر کیا ، مسلمانوں کی آپسی محبت نفرت میں تبدیل ہوگئی ، مسلم مخالف طاقتوں پر جو بھرم قائم تھا ، وہ ختم ہوگیا اور انھیں اس اختلاف سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا ، اس لئے ہمیں ضرور اپنے زوال و نقصان کی اس تاریخ سے سبق لینا چاہئے ، جو مریض اپنی بیماری کو جاننے اور اس کا علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو ، وہ کبھی صحت یاب نہیں ہوسکتا ، اس بیمار سے بڑھ کر کوئی کم نصیب نہیں ، جو خود اپنی بیماری کا احساس نہ کرسکے ۔
اداروں ، تنظیموں اور اجتماعی کاموں میں اختلافات کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ — ان پر گہرائی کے ساتھ غور کرنے اور آپ اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے ، سیاست سے وابستہ تنظیموں میں زیادہ تر سیاسی مفادات اختلافات کی بنیاد بنتے ہیں ، جو ادارے تجارتی نوعیت کے ہیں ، ان میں معاشی مفادات کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ؛ لیکن مذہبی اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں میں بنیادی طورپر دو باتیں اختلاف کا سبب بنتی ہیں ، ایک : عہدہ و جاہ کی طلب ، دوسرے : اپنی رائے پر اصرار ، کتنی ہی دینی درسگاہیں ہیں ، جہاں صدر ، سکریٹری یہاں تک کہ شیخ الحدیث کے لئے بھی جھگڑے ہوتے ہیں اور بڑے بڑے اصحاب علم و فضل کھلے طورپر مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے بخاری شریف پڑھانے کا موقع دیا جائے ؛ حالاںکہ ایسا نہیں ہے کہ بخاری شریف پڑھانے ہی سے نجات متعلق ہو ، اگر کوئی شخص نورانی قاعدہ اور قاعدۂ بغدادی اخلاص کے ساتھ پڑھائے تو عجب نہیں کہ قیامت کے دن جنت میں جانے والے خوش نصیب قافلہ میں وہ آگے آگے ہو اور بخاری پڑھانے والے اضطراب و بے چینی کے ساتھ اپنی باری کے منتظر ہوں ۔
یہی بات دینی تنظیموں کی قیادت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی تنظیم یا جماعت کے سربراہ بننے یا اس کی منتظمہ کے رکن بننے میں خصوصی اجر و ثواب ہو ، اجر و ثواب کے زیادہ مستحق تو وہ گمنام لوگ ہیں ، جو گرد کارواں کی طرح پیچھے پیچھے رہتے ہیں ؛ لیکن اللہ کی رضا کے جذبہ سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں ، نہ شہرت و نام وری کے طلب گار ہیں اور نہ کسی صلہ کے خواستگار ، دینی کاموں سے وابستہ لوگوں میں اس جذبہ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، انھیں سمجھنا چاہئے کہ عمارت کی اساس ان گنبدوں اور میناروں پر نہیں ہوتی ، جو دُور سے نظر آتے ہیں ؛ بلکہ ان بنیادوں پر ہوتی ہے ، جو زمین میں دفن ہوتی ہیں اور جن کو کوئی دیکھ نہیں پاتا ، دینی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو بنیاد کا پتھر بنانے کی کوشش کریں ۔
اس جذبہ پر قابو پانے کے لئے رسول اللہ ا نے عہدہ کی طلب سے منع فرمایا ، یہاں تک کہ ارشاد ہوا کہ جو شخص کسی عہدہ کا طالب ہو ، اسے وہ عہدہ نہ دیا جائے ، خلفاء راشدین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی عہدہ طلب نہیں کیا ؛ بلکہ مسلمانوں نے ان کو اپنا سربراہ منتخب کیا ؛ اسی لئے اللہ کی نصرت ان کے ہم رکاب رہی ، بعد کو پوری اُمت میں فتنہ کا دور شروع ہوا ، خاندانی بادشاہتیں قائم ہوئیں ، لوگ عہدے طلب کرنے لگے ، یہاں تک کہ اس کے لئے قتل و قتال تک کی نوبت آنے لگی ، تو پھر مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کی مدد روٹھ گئی اور آہستہ آہستہ وہ عزت و سربلندی کی چوٹی سے ذلت و نکبت کی پستی میں جاگرے ۔
اسلام کا تصور یہ ہے کہ عہدہ و منصب اعزاز کی چیز نہیں ہے ؛ بلکہ یہ ذمہ داری ہے ، آپ ا نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں ذمہ دار ہے ، اور اپنی ذمہ داری میں آنے والے لوگوں کے بارے میں جواب دہ بھی ہے : ’’ کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ‘‘ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر : ۸۵۳) یہ احساس ذمہ داری جتنا بڑھے گا ، عہدوں کی طلب کم ہوگی ، اور اگر اسے اعزاز سمجھا جائے گا تو عہدوں کی پیاس بڑھے گی اور چوںکہ عہدے محدود ہیں ؛ اس لئے ٹکڑاؤ پیدا ہوگا ، اور اگر نظر کام پر رہے گی تو چوںکہ کام کا میدان وسیع ہے ؛ اس لئے اس میں شامل ہونے والوں کی کثرت تقویت کا باعث ہوگی نہ کہ ٹکڑاؤ کا ۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ عام طورپر لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ قربانی کے دو ہی محل ہیں ، ایک : جان ، دوسرے : مال ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قربانی کی ایک اور قسم ہے ، اور وہ ہے رائے کی قربانی ، اکثر ملی اختلافات کو حل کرنے میں اس قربانی کا بہت اہم رول ہوتا ہے ، بعض لوگ اپنے نقطۂ نظر پر اس درجہ اصرار کرنے لگتے ہیں کہ دوسرے نقطۂ نظر کو سننا ہی نہیں چاہتے ، وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ ہماری ہی رائے پر ہونا چاہئے ، یہ انداز فکر دین کے مزاج کے خلاف ہے ، رسول اللہ انے بعض مواقع پر اپنی رائے کے مقابلہ اپنے رفقاء کے مشورہ کو ترجیح دی ہے ، اس سلسلہ میں غزوۂ اُحد کا واقعہ مشہور ہے ، آپ اکی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے ، کچھ نوجوان صحابہ — جو جذبۂ جہاد سے سرشار تھے — نے اس کو بزدلی خیال کرتے ہوئے رائے دی کہ باہر نکل کر دشمنوں کے حملہ کا جواب دیا جائے ، انھوںنے کسی حد تک اس پر اصرار بھی کیا ؛ چنانچہ آپ انے ان کی رائے قبول کرلی ، بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ رسول اللہ ا اور اکابر صحابہ کی رائے ہی درست تھی ؛ لیکن آپ ا کبھی اس بات کو اپنی زبان پر نہیں لائے اور نہیں فرمایا کہ فلاں حضرات کی رائے پر عمل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو اس قدر جانی نقصان اُٹھانا پڑا ، خلفاء راشدین اوربالخصوص حضرت عمرؓ نے کئی مواقع پر اپنے رفقاء کی رائے سن کر ان فیصلوں کو بدل دیا ، جو وہ کرچکے تھے ؛ اس لئے کبھی بھی اپنی رائے پر ایسا اصرار کہ گویا اسی میں خیر و بہتری ہے ، نہ گھریلو معاملات میں درست ہے اور نہ اجتماعی معاملات میں ، اکثر و بیشتر اپنی رائے پر اصرار ہی کی وجہ سے اجتماعی کاموں میں ٹوٹ پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور 
یہی انتشار کا سبب بنتا ہے

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اجتماعی کاموں میں دو باتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے : امارت اور شورائیت — امارت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو ادارہ یا تنظیم کا سربراہ اعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہو ، امیر ادارۂ و تنظیم کا امین ہوتا ہے نہ کہ مالک ، وہ گویا گاڑی کا انجن ہوتا ہے ، پہئے کتنے ہی مضبوط ہوں ؛ جب تک کوئی کھینچنے والا انجن نہ ہو ، گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی ، اور انجن کتنا ہی طاقتور ہو ، اگر اس کو پہیوں کا ساتھ حاصل نہ ہو تو اس کی طاقت اس کو فائدہ نہیں پہنچاسکتی ؛ اسی لئے دونوں کی اہمیت ہے ، سربراہ کی بھی اور اس کے شرکاء کار کی بھی ، سربراہ سے تو لوگوں کا تعلق اطاعت و فرمانبرداری کا ہونا چاہئے ، سربراہ کا حکم چاہے طبیعت کے خلاف ہو ؛ لیکن عمل اسی پر کیا جائے گا ؛ بشرطیکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو ، اور عام مسلمانوں کی کامیابی سربراہ کی اطاعت میں ہے ؛ اسی لئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پورا پورا اسلام اسی وقت معاشرہ میں آسکتا ہے ، جب کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام ہو اور یہ جماعتی نظام امیر کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا ، کسی سربراہ کے بغیر لوگوں کا اکٹھا ہوجانا بھیڑ تو کہلا سکتا ہے ، اسے جماعت نہیں کہا جاسکتا ، اور امیر کی امارت لوگوں کی اطاعت وفرمانبرداری ہی سے قائم ہوسکتی ہے نہ کہ طاقت و قوت سے : ’’ لا إسلام إلا بجماعۃ ولا جماعۃ إلا بإمارہ ولا إمارۃ إلا بطاعۃ‘‘ (سنن دارمی، حدیث نمبر :۲۵۳) — نظم امارت کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ انے فرمایا : اگر سفر میں تین اشخاص جارہے ہوں توان میں بھی کسی کو امیر بنالو ، (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر :۲۶۰۹) خود آپ ا کا معمول مبارک تھا کہ جب بھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو مدینہ میں کسی کو والی یعنی عارضی امیر بناکر جاتے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ معیاری طریقہ تو یہی ہے کہ ایک شخص مستقل امیر ہو ؛ لیکن امارت کی مدت یا اس کے دائرہ کار کو محدود کیا جاسکتا ہے ، فقہی اعتبار سے اس کی اصل یہ ہے کہ امیر عام لوگوں کی طرف سے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے اور وکیل بنانے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وکیل کے کام یا اس کے اختیارات کو محدود کردے ، پھر یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ’ اصلح ‘ یعنی جماعت کا سب سے بہتر شخص ہی امیر ہو ، اس پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے ، رسول اللہ ا نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام بھی امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت کرو : ’’ ولو کان عبداً حبشیاً مجدعا‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۲۸۶۲) اسی طرح آپ انے فرمایا کہ ظالم سربراہ کی اقتداء میں بھی جمعہ قائم کرتے رہو ، ( سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۱۰۸۱) نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ جب تک کسی امیر سے کفر کا ارتکاب نہ ہو ، اس کی اطاعت واجب ہے : ’’ وأجمع اھل السنۃ والجماعۃ علی أن السلطان لا ینعزل بالفسق … فلو طرأ علیہ کفر … سقطت طاعتہ ‘‘ (شرح طیبی علی المشکوٰۃ : ۸؍۲۵۶۰) بلکہ اگر کوئی شخص زبردستی امیر بن جائے اور غلبہ حاصل کرلے تو اس کی بھی اطاعت واجب ہے : ’’ وقد اجمع الفقہاء علی وجوب طاعۃ السلطان المتغلب والجھاد معہ ‘‘ (نیل الاوطار : ۷؍۲۰۸) امیر کی اطاعت کا یہ حکم ظالموں کی مدد کی تلقین نہیں ہے ؛ بلکہ اس کا مقصد اُمت کی اجتماعیت کی حفاظت ہے ؛ اس لئے جو لوگ کسی ادارہ ، جماعت یا تنظیم سے وابستہ ہوں ، ان کو جائز باتوں میں بہر حال اپنے امیر و سربراہ کی اطاعت کرنی چاہئے ، چاہے وہ اس کے فیصلہ کو نتائج کے اعتبار سے غلط سمجھتے ہوں ۔
اجتماعی کاموں کے لئے دوسری اہم ضرورت ’ شورائیت ‘ ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود کو صلاحیت کے اعتبار سے ایک ناقص وجود رکھا ہے ، اس لئے جب ایک فرد کسی کام کو نہیں کرپاتا ہے تو بہت سے افراد مل کر اس کو انجام دیتے ہیں اور اجتماعی قوت سے وہ کام ہوجاتا ہے ، ایک شخص ایک چٹان کو اپنی جگہ سے کھسکا نہیں سکتا ؛ لیکن جب لوگوں کا جم غفیر اپنا ہاتھ لگاتا ہے تو چٹان اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے ، یہ اجتماعی کاموں کی ایک مثال ہے ، انسان جیسے اپنی جسمانی قوت کے اعتبار سے عاجز و نامکمل ہے ، اسے دُور تک دیکھنے کے لئے چشمہ کی ، آواز پہنچانے کے لئے مائیک کی اور فاصلہ طے کرنے کے لئے سواری کی ضرورت پڑتی ہے ، اسی طرح وہ عقل و فہم کے اعتبار سے بھی عاجز ہے ، اس کو کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے بہت سے لوگوں کی مدد درکار رہتی ہے ؛ اس لئے اجتماعی کاموں میں خاص کر شورائیت ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے اہم کام مشورہ ہی سے انجام پانے چاہئیں : ’’ وأمرھم شوریٰ بینھم‘‘ (شوریٰ : ۳۶) رسول اللہ ا کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اہم مسائل میں اپنے رفقاء سے مشورہ کیا کیجئے : ’’ وشاورھم فی الأمر‘‘ (آل عمران : ۱۵۹) ؛ حالاںکہ رسول اللہ ا کو وحی جیسا ذریعہ علم حاصل تھا اور آپ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی ؛ لیکن پھر بھی آپ کو مشورہ کی تلقین فرمائی گئی ؛ تاکہ اُمت اس کو اپنے لئے اُسوہ بنائے ، خلفاء راشدین کے عہد میں بھی امیر کے ساتھ شوریٰ ہوا کرتی تھیں ، اور اس کو اس درجہ اہمیت حاصل تھی کہ جب عراق کی زمینیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں اور ان زمینوں کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا کہ ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے یا بیت المال کی ملکیت بنالیا جائے تو تقریباً ایک ماہ تک مباحثہ و مناقشہ کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد فیصلہ ہوا ۔
رسول اللہ انے نئے پیش آنے والے شرعی مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ جب کوئی اہم اور نیا مسئلہ پیش آئے تو اہل علم و فضل کو جمع کرو ، ان سے مشورہ کرو اور تنہا اپنی رائے پر فیصلہ نہ کرو : ’’ تشاورون الفقھاء والعابدین ولا تمضوا فیہ رأی خاصۃ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث نمبر : ۱۶۱۸) اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ انے یہ ہدایت سیدنا حضرت علیؓ کو دی ، جن کا تفقہ صحابہ کے درمیان بھی مسلّم ہے اور جن کو رسول اللہ انے اپنے رفقاء میں سب سے بڑھ کر قوتِ فیصلہ کا حامل قرار دیا : ’’ و أقضاھم علی بن ابی طالب‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۵۴) ایک موقع پر آپ انے ارشاد فرمایا کہ جو مشورہ سے کام کرے گا ، اسے شرمندگی سے دوچار نہ ہونا پڑے گا : ’’ولا ندم من استشار‘‘ (المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۶۶۲) ایک اور روایت میں ہے کہ جو کسی مسلمان سے مشورہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بہتر پہلو کی توفیق عطا فرمائیں گے : ’’ وفقہ اﷲ لأرشد أمورہ‘‘ ۔( المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۸۳۳۳) 
لیکن مشورہ کے سلسلہ میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں : ایک یہ کہ مشورہ اہم اُمور میں ہو نہ کہ معمول کے کاموں میں ، دوسرے : یہ ضروری نہیں ہے کہ مشورہ دینے والوں کا ہر مشورہ مان لیا جائے ، مشورہ دینے والوں کو چاہئے کہ زیر مشورہ مسئلہ سے متعلق اللہ نے جو بات اس کے دل میں ڈالی ہے ، اس کو پیش کردے اور حسب ِضرورت اس کے اسباب ووجوہ کو واضح کردے ، پھر اگر مشورہ مان لیا جائے تو یہ احساس پیدا نہ ہوکہ میں بہت صائب الرائے شخصیت ہوں ؛ اسی لئے میری رائے مان لی گئی ہے ؛ بلکہ خیال کرے کہ اب یہ سبھوں کی مشترکہ رائے ہے اور دُعا کرے کہ اس کی رائے کسی نقصان کا باعث نہ بن جائے ، اور اگر رائے قبول نہ کی جائے تو برا نہ مانے اور اجتماعی رائے سے جو فیصلہ ہو ، اس پر ایسی خوش دلی کے ساتھ عمل کرے کہ گویا یہ اسی کی رائے تھی ، اجتماعی کاموں میں بعض دفعہ لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زبان سے تو اپنی رائے کو مشورہ کہتے ہیں ؛ لیکن انداز ایسا اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی فیصلہ ہے ، یہ طریقہ درست نہیں ہے ، — امارت و شورائیت کے اسی متوازن امتزاج سے اسلام کے اجتماعی نظام کی تشکیل ہوتی ہے ، امارت ہو اور شورائیت نہ ہو تو انسان امیر کے بجائے آمر و ڈکٹیٹر بن جاتا ہے ، شورائیت ہو ؛ لیکن کوئی سربراہ نہ ہو تو اس کی مثال اس گاڑی کی ہے جس کو بیک وقت کئی ڈرائیور چلانے کی کوشش کریں ، اس سے قدم قدم پر اختلاف اور تضاد پیدا ہوگا اور کام میں ترقی نہیں ہوگی ۔
مذہبی گروہوں اور جماعتوں کے اختلافات کو حل کرنے کے لئے دو راستے ہیں ، ایک : صلح ، اور یہ سب سے بہتر راستہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ الصلح خیر‘‘ (نساء : ۱۲۸) صلح میں تین پہلو اختیار کئے جاسکتے ہیں : ایک پہلو ایثار کا ، کہ کوئی ایک فریق اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے ، صلح نام ہی اسی کا ہے کہ نزاع کو ختم کرنے اور اختلاف کو دُور کرنے کے لئے کوئی فریق اپنا حق چھوڑنے یا اپنے حق کا کچھ حصہ چھوڑنے پر آمادہ ہوجائے ، اس کی بہترین مثال حضرت حسن بن علیؓ کا عمل ہے کہ رسول اللہ اکی پیشین گوئی کے اشارہ کے مطابق ان کی خلافت جائز تھی ، ان کو اکابر صحابہ کی تائید حاصل تھی ، اس کے باوجود انھوںنے خلافت سے دستبرداری کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو ختم کردیا ، رسول اللہ انے بطور پیشین گوئی حضرت حسن ؓکے اس اعلیٰ کردار کی تعریف فرمائی تھی اور ان کی تحسین کی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ ایثار سے آدمی چھوٹا نہیں ہوجاتا ؛ بلکہ بڑا بن جاتا ہے ، وہ عہدہ و منصب کو ہار جاتا ہے ؛ لیکن دلوں کو جیت لیتا ہے ۔
دوسرا پہلو انتظامی ڈھانچہ کی توسیع کا ہے ، عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگ انتظامی ڈھانچہ سے الگ کردیئے گئے اور نظم و نسق میں شامل نہیں رکھے گئے تو ان کو ناگواری ہوتی ہے ، اسی سے انتشار پیدا ہوتا ہے ، اگر ایسے لوگوں کو نظم کا حصہ بنا دیا جائے تو ان کی زبان بند ہوجاتی ہے اوراتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہوجاتی ہے ۔
تیسرا پہلو اختیارات کی تحدید کا ہے ، شریعت میں واضح طورپر امیر و شوریٰ کے دائرہ کار کی تحدید نہیں کی گئی ہے ، صحابہ کے دور میں اس کی بالکل حاجت نہیں تھی ؛ کیوںکہ ورع و تقویٰ کا غلبہ تھا ، مشورہ دینے والے اخلاص کے ساتھ اور خیر خواہی کے جذبہ سے مشورہ دیتے تھے ، انھیں اپنے مشورہ پر اصرار نہیں تھا اور امیر بھی فراخ دلی سے مشورہ کو قبول کرتا تھا ، اس کے سامنے اُمت کی بھلائی اور اللہ کی رضا جوئی کے سوا کوئی اورجذبہ نہیں ہوتا تھا ، اختلاف کو دُور کرنے کے لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیر کو کچھ حدود کا پابند بنا دیا جائے ، مثلاً یہ کہ فیصلہ میں کچھ لوگ اس کے ساتھ شامل کر دیئے جائیں ، یافیصلہ کو تنہا اس پر چھوڑنے کے بجائے غلبۂ آراء کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے ، جیساکہ بڑے بڑے دینی اداروں اور مذہبی تنظیموں کا عرف ہے ، پڑوسی ملک میں اکابر علماء نے سربراہ ملک کے لئے اس اُصول کو قبول کیا تھا کہ ان کی مدت محدود ہوگی اور وہ پارلیمنٹ کی اکثریتی رائے کو قبول کرنے کے پابند ہوں گے ، اس کی نظیر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کی ہے ، حضرت عمرؓ نے چھ آدمیوں کے بارے میں وصیت فرمادی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو خلیفہ بنادیا جائے اور اگر ایک نام پر اتفاق نہ ہوپائے تو غلبہ آراء پر فیصلہ کیا جائے ، اسی بنیاد پر حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب ہوا ؛ البتہ غلبہ آراء پر اتفاق کا فیصلہ ایسے انتظامی اُمور میں کیا جائے گا ، جن میں دونوں پہلو مباح ہوں ، جو بات شرعاً واجب یا ممنوع ہو ، اس میں غلبۂ آراء کا اعتبار نہیں ہوگا ، ان کے سلسلے میں تو قرآن وحدیث اور فقہاء کے اجتہاد کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا ، خواہ اس رائے کے حاملین کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو ، غرض کہ صلح کی یہ تین بنیادیں ہوسکتی ہیں ، ایک یہ کہ کوئی ایک فریق پیچھے ہٹ جائے اور ایثار سے کام لے ، دوسرے : انتظامی ڈھانچہ جیسے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ ہر فریق مطمئن ہوجائے ، تیسرے : امیر و سربراہ کے اختیارات کو محدود کردیا جائے اور وہ شوریٰ کی رائے کا پابند ہوکر کام کرے ۔
اختلافات کو حل کرنے کی دوسری صورت ’ تحکیم ‘ ہے ، قرآن مجید نے نزاعات کو حَکَم کے ذریعہ حل کرنے کی تلقین کی ہے ، (نساء : ۳۵) رسول اللہ ا نے نبی ہونے کے باوجود غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان حضرت سعد ابن معاذؓ کو حکم بنایا ، اسی طرح حضرت علیؓ اورحضرت معاویہؓ نے اختلافات کو حل کرنے کے لئے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور حضرت عمر وبن عاصؓ کو اپنا حکم تسلیم کیا ، نیز فقہاء نے نزاعات کے حل کے سلسلہ میں تحکیم کو ایک مستقل طریقہ مانتے ہوئے اس کے اُصول و ضوابط اور حدود و شرائط مقرر کئے ، اس لئے اختلاف کو دُور کرنے کا یہ ایک بہترین حل ہے کہ چند معتبر ، معروف ، احکام شریعت سے واقف اور غیر جانبدار اہل علم کی کمیٹی دی جائے ، جو مختلف حضرات کے نقطۂ نظر کو سنیں ، اس ادارہ یا تنظیم یا جماعت کی مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے اور فریقین اس فیصلہ کو تسلیم کرلیں ۔
بہر حال جو لوگ ملت کے اجتماعی کاموں سے مربوط ہوں ، ان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ فرد سے زیادہ اہمیت اس ادارہ ، تنظیم اورجماعت کی ہے ، جس سے وہ وابستہ ہے ، اگر افراد کے مفادات مجروح ہوں تو اس کا نقصان انفرادی ہوگا ، اور اگر کسی ادارہ یا جماعت کا نقصان ہو تو اس کا نقصان ملی اور اجتماعی ہوگا ۔
ان سطورمیں جوکچھ عرض کیا گیاہے، اس کاخلاصہ یہ ہے کہ دینی اداروں اورجماعتوں میں اگراختلاف پیداہوجائے توان کوان امورپرتوجہ دینی چاہئے:
(۱) ذمہ داروں کواپنے گردوپیش کاجائزہ لینا چاہئے،کہیں ان کی صف میں ایسے لوگ توشامل نہیں ہیں،جودانستہ یانادانستہ دین سے یااس ادارہ یاجماعت سے بغض رکھنے والوں کے آلۂ کارہوں اوران کے لئے کام کررہے ہوں،ایسے لوگوں کوجلدسے جلدوہاں سے ہٹادیناچاہئے۔
(۲) ذمہ داروں کوخوداپنا احتساب کرنا چاہئے کہ عہدہ کوانہوں نے ایک اعزاز سمجھ رکھاہے یاذمہ داری؟اوران کواپنے دل کوٹٹولنا چاہئے کہ ان کے کام میں اخلاص کی قوت موجود ہے یانہیں؟اگرظاہری وسائل مہیاہوں؛لیکن جذبۂ اخلاص مفقود ہوتواس کی مثال اس گاڑی کی ہے جودیکھنے میں توبہت عمدہ اورسجی سجائی ہو؛لیکن اس کاانجن کام نہ کرتاہو،یہ دینی کاموں میں کامیابی اورفتنوں سے حفاظت کی کلیدہے۔
(۳) اجتماعی نظام کے قیام کی بنیادامارت پرہے،یعنی سب لوگ مل کرکسی کوامیرتسلیم کرلیں،خواہ وہ صلاحیت کے اعتبارسے ،عمرکے اعتبارسے اورمطلوبہ اوصاف کے اعتبارسے کم ہی درجہ کے ہوں؛کیوں کہ امیرکے لئے سب سے افضل ہونا ضروی نہیں ۔
(۴) انفرادی کمیوں کواجتماعی عمل کے ذریعہ دورکیاجاسکتاہے؛اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیرکے ساتھ ایک دوحضرات کومعاون کے طورپرشامل کرلیاجائے،کہ امیران کواعتمادمیں لے کر ہی فیصلہ کیاکرے،تنہافیصلہ نہ کرے۔
(۵) جوامورشوریٰ سے متعلق ہیں،ان میں امیرکوپابندکیاجائے کہ اختلاف رائے کی صورت میں وہ اس رائے پرفیصلہ اورعمل کرنے کاپابندہوگا،جواکثریت کی ہوگی۔
(۶) کام سے جڑے ہوئے مختلف حلقوں کی تشفی کے لئے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ مختلف حلقوں اورعلاقوں کی نمانئدگی ہوجائے۔
(۷) اگرادارہ اورجماعت کےدائرہ میں موجودلوگوں کے ذریعہ اتفاق رائے نہ ہوسکے توتین ایسے بزرگ علماء کوحکم بنایاجائے، جومؤقراداروں اورتنظیموں کی نسبت سے امت میں معتمدسمجھے جاتے ہوں۔
خداکرے نقارخانہ میں طوطی کی یہ آواز سنی جائے اورمسئلہ کوحل کرنے میں معاون ثابت ہو،وباللہ التوفیق وھو المستعان
تبلیغی جماعت،
  مدارس
 اوراہل تصوف
مضبوط ربط ، احترام ورفاقت  اور آپسی تعاون کی ضرورت
انکے بیچ کوئی  غلط فہمی امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے
Assalam o Alaikum Wa Rahmatullah Wa Barakatuhu,

Ek musalaman bhai ne jo apne ko ulma ka representative bata rahe hain ne hamse rabita kiya hai ki Tablighi jamaat madaris aur ahle ilm ki ahmiat kam kar rahi hai aur is bare mein main apne blog par linkhun taki tablighi jamaat ki islah ho jae. 
 (Yeh koi tablighi jamaat ka offical blog . This is personal opinion of Blog writer)

Yeh munasib hai ki isse Pahle chand batein arz kar dun.Hamari jo baat ghalat ho iski islah kar dein Ain nawaqzish Hogi. Aur jo baat sahih ho use dusre tak pahuchaein.

DAWAT O TABLIGH & ISLAH




Un Tamam baton ke liye jispar Tablighi jamaat par Ghalti ka ilzam hai Main Apna Mauqif likh raha hun.


1. Musalamnon ki ek dusre ke khilaf Audi Video aur Ishtahar aur social media kiya Islah ka sahi tareeqa hai.???????

(Mera Mauqif.............Main ise islah ka zaria nahi samajhta. Main in cheezon ka istemal kisi bhi musalamn groh i.e Barelvi, deobandi, ahle hadith, salafi, madrsa, khanqah, jamaat e islami, Tablighi jamaat, zakir naik, Maulana kaleem sb etc ya kisi musalman ke bare mein karne ko ghalat manta hun. 
Isse koi Islah nahi hoti sirf aur sirf fitnah hota hai. 


AP HAZRAT KE ILM MEIN HOGA ki abto ek hi Jamaat ke do aalim ek dusre ke khilaf Social media par a gaye hain SHEIKH SALAMAN NADVI SB ne Pri Kitab SHEIKH KALEEM SIDDIQUI ke khilaf KALEEM PHULTI ke Nazeba Unwan se likh diya aur ise kisi ne face book par dal diya. Aisi bahut misalein hain.

Mera Manna hai ki agar Salaman Sb ko kaleem sb ki koi ghalti ki islah karni hai to woh unse milein aur apni baat rakhein aur unki baat sunein. Isi Tarah agar MO MUFTI ZAR WALI KHAN (DB)  ko koi ghalti ki nishandahi karni ho to maulana saad/raiwind markaz jakar baat karein. Social Media aur website par is tarah ki baat karna main munasib nahin samajhta.



2. Maulana saad ya Maulana Tariq Jameel ya kisi aalimk ki Ghalti ki nishandahi ka ishtahar aur Parchar?

(Mera Mauqif.......... hai ki Ghalti kisi bhi aalim se ho sakti hai.Maulana saad ya tariq jameel koi mustashna nahin.  

Ulma karam ko us aalim ko iski taraf mutawwajah kiya jana chahie. Ishtahar dena main munasib nahi samajhta. Baaz haalat mein aise ishtahar se Fitna hota han)


3. Agar koi Tablighi jamaat ke kaam ko ghairzaruri manta hai ya kam ahmiat deta hai.

(Mera Mauqif ..........Aisa maana Ghalat hai . Aur agar Maula saad/  Haji abdul wahab bhi hamse bolenge ki tablighi jammat ka kaam ka faeda nahin hai ise mat karo to bhi main karunga chunki quran hadith ise sahih bata raha hai)



3. Kiya Tablighi jamaat ka kaam Harf e Akhair Hai. kiya Ismein ghalti ka imkan hai

(Mera Mauqif ...........yeh harf e akhir nahi . Ismein ghalti ka imkan hai. ismein improvement ki hamesha gunjaesh hai. Aur ise zarur sochna chahie)



4. Kiya Tabligh ke log (Tabligh me lage aalim /Awam) deen ke dusre shaubon (Taleem Tazkiya etc)  ke bare mein laparwah hai. Kiya Tabligh ko jaisa ikram khanqah aur madaris ka karna chahie ya jaisa ikram aur taawun shuru ke daur mein tabligh ke logon ne diya hai kiya abb bhi dee rahe hain.

(Mera Mauqif........... Tabligh ka sawad e azam (zayadatar log) aisa nahi kar rahe hain. Woh sabka ekram karte hain .

 Lekin Tabligh ek bahut badi tahreek hai jismein har tarah ke log hain. Aur unmein aise log bhi shaamil hain jo madrson aur khanqah ke beikrami ki ghalti kar rahe hain.Baaz to inse dushmani tak samajh rahe hai (Nauzubillah). 

Tamam muslamanon ki zimmedari hai ki iski islah ki jae. Tabligh se jude ulma aur markaz ki zimmedari ois silsile mein sabse zayada hai.). Asal mein deen ke tamam shaubon mein inhatat aya hai yeh isi ka result hai.



5. Kiya Madarsa aur khanqah ke log deen ke dusre shaubon (Tabligh etc)  ke bare mein laparwah hain. Kiya Madarson aur Khanqah ko jaisa ikram tabligh ke kaam ka karna chahie ya jaisa taawun shuru ke daur mein madarson ne diya hai kiya abb bhi dee rahe hain.

(Mera Mauqif..........Madarson aur Khanqah ka sawad e Azam ajj bhi Tabligh ke kam ki qadr karta hai aur ismein tawauun karta hai.

Lekin Madrsa aur Khanqah  bhi bahut logon par mushtamil hai aur ismein har tarah ke log hain. Aur unmein aise log bhi shaamil hain jo tabligh ke bare mein beikrami ki ghalti kar rahe hain. Baaz to inse dushmani tak samajh rahe hai (Nauzubillah). 

Tamam muslamanon ki zimmedari hai ki iski islah ki jae. Madarsa aur Khanqah se jude ulma aur bade madaris ki zimmedari is silsile mein sabse zayada hai.). Asal mein deen ke tamam shaubon mein inhatat aya hai yeh isi ka result hai. 

6. Masturat Jamaat mein jana kais hai?

(Mera Mauqif............ Yeh Ulema e Haq ke darmiyan ikhtalafi masla hai Hamein ulma ke ikhtalf ke bare mein dono rayon ka ikram karna chahie. 

Ek hi madarsa ke do Mufti is bare mein alag alag rae rakhte hain. 

Darul Uloom deoband ke mufti ne iske mana ka fatwa diya hai aur usi darul uloom deoband ke mufti e azam mahmoodul hasan sahib ne iske sahih hone ka fatwa diya hai. Isliye ye ulma ka fiqhi ikhtalaf ismein kisi musalman ke liye jaez nahi ki woh KISI EK FATWA  par israr kare. Israr karna Fitnah hai. 





7. Musalamnon ki ek dusre ke khilaf Audi Video aur Ishtahar aur social media kiya Islah ka sahi tareeqa hai.


Main ne Apna Mauqif Wazeh kar diya. Hamari jo baat ghalat ho iski islah kar dein Ain nawaqzish Hogi. Aur jo baat sahih ho use dusre tak pahuchaein.


JAZAKALLAH

Mistakes Wrong Practices by Workers of Tablighi Jamaat Advices by Scholar of Sunnah

Below is translation of a long letter written by The Great Hadith Scholar and compiler of Maariful Hadith 
Hazrat Maulana Manzoor Nomani. 

Maulana has replied  to an Islamic Scholar who has raised the issues of Mistakes of the workers of Tablighi Jamaat and some other issues.

(This letter is originally in Urdu and to the best of Our knowledge is being translated for the first time.
There are some similar short articles in 2-3 pages by Great Scholars clarifying the blessed effort of Dawah. If any brother/sister is desirous to translate into English. Please inform us on ittehadummat@gmail.com.)
(Maulana Nomani letter was published in AL FURQAN Zilhijja 1379 H). Original urdu letter is also part of this Urdu book available on link http://ia700700.us.archive.org/22/items/Jamat-e-TableeghPerAiterazaatKayJawabatByShaykhMuhammadZakariyya/Jamat-e-TableeghPerAiterazaatKayJawabatByShaykhMuhammadZakariyyaKandhelvir.a.pdf
(PLEASE POINT OUT MISTAKES IN TRANSLATION AND TYPING ERRORS.JAZAKALLAH)
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

 Maulana Manzur Nomani has detailed in this letter following point .........

1.The Areas and domain of work of Tablighi Jamaat and confusion created by name TABLEEGH.
2.What is the Proper Method of Conveying concern about the mistakes of common brothers or any issue about the Movement.
3. He has quoted Maulana Ilyas as accepting that there are mistakes by worker Maulana Ilyas  has said that work is like A WASHERMAN PLATFORM ALL TYPE OF DIRTY CLOTH COME HERE.
4.Maulana Manzur Nomani  mentions that sometimes the mistakes of a few are exaggerated and branded vastly.
5. There is no competition between Madaris/Tazkiya/Tabligh Work. Rather they are complimentary TO EACH OTHER.
6. It is right and duty of specialized people like Ulema ,Suleha and Scholars to make correction if something wrong is going on. But approach should be for correction and not criticism and the best way is to draw attention of Markaz Nizamuddin Delhi.
7. Manzur Nomani Rahimullah has even suggested to personally visit Nizamuddin for this great cause of Islah of the large number of Muslims attached with this Islamic movement .

8. The correction of Muslims and of Tablighi Jamaat is a collective Responsibility of all Ulemas and Scholars and general Muslims of Ummat. It is not a blame game.
Whatever is good should be appreciated and bad should be corrected. 
Maulana Ibraheem sb of Makaz Nizamuddin is also advising the workers on similar issues.
مولانا ابراہیم مرکز نظام الدین نصیحت اردو




>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
A Request/Advice to general Muslims (Non Aalims) in the background of some recent discussion on internet.
1.Recently some well wishers of Ummat and the  work of Dawat o Tabligh has raised  some  issues of mistakes of workers on some public forum and consequently people with different background and understanding discussed it.And some avoidable and unwanted discussion took place.May Allah pardon all of us. 

STAND OF MARKAZ ELDERS IN THIS REGARD.............

1.It is for kind reminder for all of us that Markaz Nizamuddin knows only one word that is MUSLIM UMMAH. In their dictionary no one is TABLEEGHI/TABLEEGHI JAMAAT. 
All are Muslims only and all MADARSAS/KHANQAH/IDFFERENT MUSLIM ORGANISATION/ Islamic Scholars are on the one side of table. 
So no one is victim and no one is offender.If someone is offending any one that means he is offending all. e.g If someone is offending Madarsa he is also offending Tabligh and Vice Versa.

2. Markaz people pardon and have their heart clear from all Muslims , They do dua for all Muslims.

3. They want to reach with love to even those who do propaganda and rumours with baseless and absured allegations i.e. Calling them as grave worshiper ,Bigoted Hanafi , Gustakh e Rasool, Wahabi etc...........

Rather one Jamaat went to a country and wrote a letter with a sentence in it
Yahan.......................(Group name) Ka zor Hai"(Here ...............group is strong).

Nizamuddin Markaz ordered the jamaat to retun back telling" Apne ummat ko Baant diya Ab App ummat mein kaam nahi Kar sakte. Aap wapas chale Aiye."  
You have divided the Ummat and now you cant work in ummat

(As the matter has already come into public domain and has been discussed at length it is felt that from the perspective of Muslims Ummah something relevant to whole issue should be written in near future Insha Allahif Allah wills.)


2. As explained above and from the words of Maulana Ibraheem sb Dewla in Urdu Our elders of Nizamuddin also point out these mistakes of ours Maulana Zubair sb speech almost revolve around these only but they do in a different way as Maulana Manzoor Nomani Rahimullah has explained in this letter.


What to do if an Aalim raise these issues on Public Forum
1. Still if any Aalim/Mufti raise these matter in Public Forum it is his ijtahad and no general Muslim should tell anything to that Aalim/ by any means should not disrespect him. 

2. You can send him your request personally in this regard.You can clarify if you are anyway related to the issue. Afterwards there is no need of insistence on your advice. Mufti Mahmood Hasan Gangohi Rahimullah has given the guidelines on the same issue. 
(Refer his book on Tablighi Jamaat)

3.  No one should take it as that Aalim is against the work of Tableegh. He is advising for your benefit.Rather he is your well wisher. He wants to correct you for your Falah of Dunia and Akhirah. The only point is that he has done in public forum that is his ijtahad. 


4. In some other instances Even if someone Aalim/General Muslim apparently looks  against the work of Tabligh because of some misunderstanding it does not give us license/ permission to disrespect any scholar or even general Muslim. 

We have been taught lesson of Ikram e Muslim from our beloved Rasulullah ﷺ in which Respect of Aalim is at top. 
May Allah guide us.
Your action should convince him.Maulana Ilyas successfully utilized this formula for many.


>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

(After reading the BELOW letter of this great scholar and well wisher of ummat Maulan manzur Nomani  

His advices touched my heart and I have decided the following at least to implement for myself
.
I will confirm and see the things at ground after getting any news. 
Suppose if someone say me that Tabligh people are against Madarsa but after confirmation  ......I see at ground that actually Tabligh people are sending their children to Madarsa most (I am telling about India)..... Specially among elites of Muslims society many of the Tabligh brothers are sending their wards to Madarsa. I personally know Chief Engineer of an Indian State,District Judges, Professors of Central Universities, Doctors and engineers attached with tabligh work sending their wards to Madarsa. I can start counting in my family and locality and it will be countless. 
 If I will consider that mistakes of the workers is at large scale 
1. I will visit Nizamuddin/at least write letter for the correction of these large number of Muslims. This is only way of correction. Nizamuddin Markaz is very receptive of these advices. I have personal experience.
And if I am considering that it is individual mistakes and not on large scale.
1. I will point out to the brother concerned and advice and counsel him instead of putting blame in public forums.
Allah knows the best 



>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
Misunderstanding can be in any .............Even Maulana Yusuf Rahimullah was not convinced initially 
But when Maulana understood the effort ............Dunia bhar mein Inqalab Barpa Kar diya ....
(Maulana Ali Miyan Rahimullah ne iski tafseel likhi hai Yhan padhein 

...Till Maulana Ilyas the work was very little outside the boundary of Mewat ........It was Maulana Yusuf who carried it to continents of the world. And added new horizons in the work keeping its Manhaj maintained. He was great Scholar of Hadith and good orator.

And as it ia Allah work so when people started thinking that work is going on because of the personality of Maulana Yusuf . By Allah decision he died prematurely at age of 50 years.
Maulana Inaamul Hasana Rahimullah was not a good orator but the work still spread ed at more Pace even more than Maulana Yusuf time.

So Allah is the only Doer  and it is his work. We should do a lot of supplication and Shukar and should seek forgiveness from Allah, that from our action there should not be a bad name for the blessed work of Dawah and Tabligh


>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
 Hazrat Maulana Manzoor Nomani letter 

Translation starts........... 

Respected Honorable………..........Assalam O Alikum
I am seeking forgiveness for being late in reply of your letter because of my busy schedule. This letter is also being written in train while I am in travelling.
You have written some doubts about Tablighi Jamaat and its programme. You have written some complaints also.

You have addressed me as the caretaker or post holder of Tablighi Jamaat but without any humility (inkasar) I will tell that this is not my position. I consider this work as very blessed (Mubarak o Maqbool). I have highest degree of respect for this work but because of my special interest (Her was a prolific writer, actively involved in administration of big Mdarsas and editor of Al furqan Urdu magazine) and busy schedule I normally not able to take part actively. And this work of Tablighi Jamaat is totally by action (Amali) and there is no Post or position in it. That’s why I am not a right person for taking your complaints and advices.

Whatever issues you have you should write to (Bangle Wali Masjid) Markaz Basti Hazrat Nizamuddin Aulia Rahmatullah Alaihi (A locality in Indian capital New Delhi India. Rather the best is to meet the Elders at Markaz Nizamuddin Personally and put your suggestions and issues.(He has mentioned the name of Maulana Yusuf Rahimullah here who has died but Alhamdulillah other elders are there.
But as I am very close to those who are active and leading the effort and know their ideas and conditions so I am replying these points.

I realized from your letter that most probably you do not know the reality of this work at all. You have made your mindset and stand is based on the popular name of it that’s TABLEEGH . And accordingly you have advised. Many of your opinion does not touch the movement at all. The detail discussion of yours on DAKHILI TABLEEGH (Inner invitation) and KHARJI TABLEEGH (Outer invitation) is the product of your misconception.

I have always been of opinion that this name TABLEEGH and those who are working in it as TABLIGHI JAMAAT is creating many confusion for many people. It cause many misconceptions. From the word TABLEEGH people think that it is a work of Preaching (Nassehat o Waaz) and TABLIGHI JAMAAT is a tem or Party of these Preachers.

That’s why they expect that they should have an upper level of knowledge required for Preaching /WAAZ/Naseehat. And practically in action (AMALI) they also expect that they should not have a visiblt shortcoming.1.In this background when they see someone in Tablighi Jamaat not even knowing Wazu Properly or their  appearance is not according to shariah they become extremely critical.2. They further become surprised after seeing them that they are insisting on others to spare some time from their busy schedule and to go in the path of Allah for near and far as they think that
If preaching Waaz and Naseehat has to be done then why not in our locality instead of going far away.

Bahar Haal.
All these confusion comes from basic wrong concept of considering Preaching/Waaz Naseehat as the work of Tablighi Jamaat.
Actually here the name  TABLEEGHI JAMAAT means
“Here  TABLEEGHI JAMAAT means a system of developing a deeni and Dawat Environment  in with a person will be with certain Usools will do the Aamal of Dawat Taleem o Taallum (teaching and learning) Ibadat and Khidmat (Service) .

With this environment it is expected to have an increase in 1. attachment to Islam, 2.increase in Emaan,(Belive in Allah and Rasool command and words), 3. reformation of Action 4.seeking of knowledge and 5.Islah e Nafs and the 6.development of Jazba of  sacrifice for Islam.

That’s why all muslims with whatever lag in his knowledge or action (Ilm o Amal ki Kmee) is not only invited rather sometimes pulled and no minimum condition is put as eligibility for going in TABLIGHI JAMAAT.it is expected that with this Environment he will take good effect and Allah the actual caller and the master of our heart will bless him with hidayat.

And that’s why in TABLIGHI JAMAAT all kind of and all strata of people are there.
However as you have written it is correct that sometimes in small public gatherings some people starts addressing who are actually not eligible at all for address. And they even don’t know the work of Tablighi Jamaat. They donot remain in the boundary of their knowledge in talk.
But as you are considering it as bad the Zimmedar brothers (Responsible Brothers)also consider it as bad and wants to correct it. They give instruction to Jamaat before its departure about the talk and if all the guidance is followed these mistakes will not happen. But the thing is these mistakes are not rare and this matter is really important for the Responsible Brother. My personal opinion is that apart from Advice if some written instruction is also given these things may be corrected to a greater extant.
Now I am turning to most important part of your letter.

You have written that Tablighi people are against the Madarsas and people of Madarsa and those who engage in it has no connection with Madarsas.
This is a very grave point and the level of research required to tell or write these conclusion (accusation )in my humble view you have not done that homework and you have written it without required homework.

If you point out a particular person associated with Tablighi Jamaat has this feeling then it is not very surprising . The all types and kind of Muslims that are found in our society all you can find in tablighi jamaat also. People of all temperament and background are present in our society and same you can find in Tablighi Jamaat also.
But telling that People associated with Tablighi Jamaat are against Madaris is a grave oppression (Zyadti ki baat).


You must have thought that many of those who are associated with work are themselves running Madarsa or teaching in Madarsas.
 Even the person leading the movement Maulana Yusuf Rahimullah is teaching in a Madarsa named KASHIFUL ULOOM. He give regular Dars in that Madarsa. The same condition is of his colleagues Maulana  Inamul hasan Sb and Maulana Ubaidullah Sb and others. You also consider me as associated with the work and you are well aware of my connection with the world of Madarsa. i.e I am  member of Majlis e Shura and Excutive  body of Darul Uloom Deoband. And I also have same position at Darul Uloom Nadwatul Ulema also.And for quiet sometimes I have also taken some teaching work.
You also must be knowing many persons who are associated with work and has responsibility of a Madarsa also. ………

In this situation telling Tableeghi people are against Madarsa is so wrong and absured statement.
In my perception (Two things are there)
1. Many Muslims in society who for one reason other  has something against the Madarsas /Madarsa System or people attached with Madarsas, These people at times may join Tabligh work with this background and they may utter something wrong about Madarsas
2.The second reason could be that at times it happens that a person who was having no attachment with deen at all and was spending a life of irreligiousness and was non practicing  Muslim and finally he goes into Jamaat and turns towards Islam.
Then he considers this work as the only Religious work (As this work has brought me towards Islam). And still further he sees that many of the Scholars and people of Madarsas actually having more responsibility of service of deen are not involved in this effort. So because of his ignorance and less knowledge he starts uttering criticism on them.

But based on my personal experience knowledge and testimony (Mallomat o tajurbon ki bina par Wasooq se) I can tell and telling with full conviction that as the connection with the work increases these peoples get corrected. And his felling and perception is get rectified.

Although like others many issues for the correction of this problem debate and argument is not utilized in TABLEEGH. Rather with their methodology it is tried to get it changed, this method by the grace of Allah remain successful most of the times.

I personally know many people who were a bet noir and critical of Madarsas and people of Madarsas (Skaht Bezar o Bebak Mutaarriz) but as they started attached and closer with the work their mindset got changed.
I myself has seen Maulana Ilyas Rahimullah that he used to be very careful that those who are involved in this work should have utmost respect for Ulema and Madaris. And Maulana Yusuf Rahimullah is also always caring for this.

You don’t know But let me tell that every month hundreds of people and Jamaats from different areas and section come to him and it is his regular practice upto his capacity to send them to Deoband and Saharanpur to visit the Ulemas and to see the Islamic seat of learning there.And by this way hundreds of people get acknowledged from Islamic seats of learning.
Even personally Maulana Yusuf Sb keeps his attachment with elders of Madaris of Deoband and Sharanpur and his approach in this regard, Then how a person attached to himm (Maulana Yusuf) has a counter view against Madaris.
Apart from this a marked and visible general deeni condition is being build up and every one should Realise and perceive it. I am surprised how people like you are not being able to see this.

It is as like I am seeing from my own eyes that Madaris are getting help from Tablighi Jamaat in the same way as farming gets benefit from favorable weather condition and Rain. I can name you hundreds of people Rather areas and places those were having no connection with Madaris or elders of Madaris The movement of Tablighi Jamaat created among them the religious zeal and they get acknowledged with the work of Ulemas and then students from these areas started coming to Madarsa and started doing service of deen.
In this connection it is important to be mentioned that in my observation the largest sum of help to our Madaris comes from Calcutta (Kolkata) and Bombay (Mumbai) and not as an estimation rather with firm information I can say that the money after the work of Tabligh is many times higher than before it.And many of the elders of Madaris also know that in this Service of Madaris people attached with Tabligh are play an important role

In this connection it is important to note for me and you that in this era only those Muslims who have no means to teach their children in Schools and colleges are finally coming to Madarsa.
Not only this rather people like us who has got education in madarsa are also sending their children in Colleges instead of religious education
in expectation of good livelihood .
In this terrible period many people who were full of resources to give good education in colleges.But with the Barkat of this Tabligh effort they are sending their wards to our Madarsas.

After considering all these Letus think that your complaint against Tabligh is ridiculous to what extent.
I am not telling by any means that Tabligh people are angels or wrongdoings are not happening in Tabligh work. Undoubtly in this work there happens many mistakes. And among those who have some connection with this work there are many bad people also.
The structure of this this movement is like, In the words of Maulana Ilyas “ This (Effort) is a washer man Platform All types of dirty, foul and filthy clothes come here.”
But the kind of complain and the way you have done is not correct at all. For many mistakes I myself point out to those who are associated with effort.
But there are certain things in which that a person who has not gone in Jamaat /actively participating will think of urgent change. But those who are actively involved will consider unavoidable. On these matter after giving youropinion you should rely on the Knowledge and ijtahad of the elders of Tabligh.

As I have said in the beginning any thing in this connection should be brought to the notice of Markaz Nizamuddin and not to me. And consider me as feeble.
Wssalam

Muhammad Manzur Nomani
Afallahu Anhu
(May Allah forgive me)