Pages

Showing posts with label Islamic Dawah in Urdu. Show all posts
Showing posts with label Islamic Dawah in Urdu. Show all posts

عہد نبوت میں تعلیم و تبلیغ کا نظام


مدنی عہد نبوت میں تعلیم و تبلیغ کا نظام


مدینہ منورہ آمد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو کام کیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر تھی۔
مسجد نبوی کے ایک گوشے میں ایک سائبان اور چبوتری (صفہ) بنایا گیا جس پر وہ مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مدینہ منوری آکر رہنے لگے تھے جو نہ تو کچھ کار و بار کرتے تھے اور نہ ان کے پاس رہنے کو گھر تھا۔ مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں سے دین متین کی تعلیمات حاصل کرنے کے لیے آنے والے صحابہ کرام بھی یہاں قیام کرتے تھے۔ گویا صفہ ان غریب اور نادار صحابہ کرام کی جائے پناہ تھی جنہوں نے اپنی زندگی تعلیمِ دین، تبلیغ اسلام، جہاد اور دوسری اسلامی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
مدنی عہد نبوت میں مذہبی تعلیم و تربیت کے دو طریقے تھے۔ ایک غیر مستقل، جس میں مختلف قبائل کے آدمی مدینہ آکر چند دن قیام کرتے اور ضروری مسائل سیکھ کر واپس چلے جاتے اور اپنے قبائل کو جاکر تعلیم دیتے۔ ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے قبائل میں واپس بھیج دیتے، چنانچہ مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کو بیس دن کی تعلیم کے بعد حکم دیا:
’’ارجعوا الی أھلیکم فعلّموھم و مروھم و صلوا کما رأیتمونی أصلی، و اذا حضرت الصلوۃ فلیؤذّن لکم احم کم ثم لیؤمکم اکبر کم‘‘ (1)
[تم اپنے خاندان میں واپس جاؤ اور ان میں رہ کر ان کو امور شریعت کی تعلیم دو اور جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اسی طرح پڑھانا، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، پھر تم میں سے سب سے زیادہ پڑھا لکھا امامت کرائے]۔
اسی طرح وفد عبدالقیس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ادائے خمس، نماز، روزہ اور زکوۃ و غیرہ کی تعلیمات دیں اور پھر فرمایا:
’’احفظوہ و اخبروہ من وراء کم‘‘(2)
[ان باتوں کو یاد کر لو اور جاکر دوسروں کو بھی بتادو]۔
دوسرا طریقہ مستقل تعلیم و تربیت کا تھا اور اس کے لیے صفہ کی درس گا مخصوص تھی۔ اس میں وہ لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے جو علائق دنیوی سے بے نیاز تھے اور انھوں نے اپنے آپ کو دینی تعلیم و تربیت اور عبادت و ریاضت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ مسجد نبوی کی اس درس گاہ کے دو حلقے تھے، ایک درس و تعلیم کا حلقہ اور دوسرا ذکر و فکر اور عبادت و ریاضت کا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
’’خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم من بعض حجرہ، فدخل المسجد، فاذا ھو بحلقتین احدھما یقرؤن القرآن و یدعون اللہ و الاخریٰ یتعلّمون و یعلّمون، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کل علی خیر، ھؤلآءِ یقرء ون القرآن و یدعون اللہ، فان شاء اعطاھم و ان شاء منعھم، و ھولاء یتعلّمون و یعلّمون و انما بعثت معلما، فجلس معھم‘‘(3)
[ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسجد میں دو حلقے دیکھے۔ ایک حلقہ کے لوگ تلاوت و دعا میں مصروف تھے اور دوسرے حلقے کے لوگ تعلیم و تعلم میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تحسین فرمائی اور فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں، اگر چاہے تو ان کو عطا فرمائے اور اگر چاہے تو روک لے، اور یہ لوگ سیکھتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے کہ) ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ حلقہء درس و تعلیم میں جا کر بیٹھ گئے]۔
اصحابِ صفہ کے لیے اساتذہ کا تقرر
اصحاب صفہ کے معلم اول تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’اقبل ابوطلحۃ رضی اللہ عنہ یوما فاذا النبی صلی اللہ علیہ وسلم قائم یقری اصحاب الصفۃ علی بطنہ فصیل من حجر یقیم بہ صلبہ من الجوع‘‘(4)
[ایک دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کو کھڑے قرآن پڑھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر کا ٹکڑا باندھا ہوا تھا تا کہ کمر سیدھی ہوجائے]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تعلیم و نصیحت سے فارغ ہوکر تشریف لے جاتے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھما حلقہ میں بیٹھ کر تعلیم کے سلسلہ کو اسی طرح جاری رکھتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لاتے تو لوگ خاموش ہوجاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہونے کے بعد فرماتے کہ اسی عمل میں مشغول رہیں اور اس کو جاری رکھیں۔ کبھی کبھار حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی تعلیمی حلقہ سنبھال لیتے تھے۔ (5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کئی مستقل معلمین بھی اصحاب صفہ کی تعلیم و تربیت پر متعین تھے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’علّمت ناسا من أھل الصفۃ القرآن و الکتاب فاھدیٰ الیّ رجل منھم قوسا‘‘(6)
[میں نے اصحاب صفہ میں سے چند لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا اور لکھنے کی تعلیم دی تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی]
اسی طرح حضرت عبداللہ بن سعید بن العاص جو خوشخط تھے اور زمانہ جاہلیت میں بھی کاتب کی حیثیت سے مشہور تھے، اصحاب صفہ کو لکھنا سکھاتے تھے۔ (7)
اوقات تعلیم
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر ادا فرمالیتے تو ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جاتے اور ہم میں سے کوئی آپ سے قرآن کے بارے میں سوال کرتا، کوئی فرائض کے بارے میں دریافت کرتا اور کوئی خواب کی تعبیر معلوم کرتا تھا۔ (8)
سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: ہاں، میں بہت زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک رہا کرتا تھا۔ جب تک آفتاب طلوع نہیں ہوتا تا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر رہتے تھے اور طلوع آفتاب کے بعد اٹھ کر مجلس میں تشریف لاتے تھے اور مجلس کے درمیان صحابہ زمانہ جاہلیت کے واقعات بیان کرکے ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیتے تھے۔
اصحاب صفہ انتہائی نادار اور مفلس تھے اس لیے ان میں سے بعض لوگ دن میں شیریں پانی بھر لاتے، جنگل سے سے لکڑیاں چن کر لاتے اور ان کو بیچ کر جو آمدنی ہوتی اس سے اپنے مصارف پورے کرتے تھے۔ (9)
اس مصروفیت کی وجہ سے ان میں سے بعض حضرات کو دن میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا، اس بنا پر ان کی تعلیم کا وقت رات کو مقرر کیا گیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ستر کے قریب اصحاب صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔
’’فکانوا اذا جنّھم اللیل انطلقوا الی معلم لھم بالمدینہ فیدرسون اللیل حتی یصبحوا‘‘(10)
[جب رات ہوجاتی تھی تو یہ لوگ مدینہ میں ایک معلم کے پاس جاتے اور رات بھر پڑھتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی]۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ مسجدنبوی سے ہٹ کر کوئی اور جگہ تھی جہاں اصحاب صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔ گویا اصحاب صفہ کا سارا وقت درس و تدریس ہی میں بسر ہوتا تھا۔ ابن المسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے:
’’یقولون: ان ابا ھریرۃ قد اکثر، واللہ الموعد و یقولون ما بال المھاجرین و الانصار لایتحدّثون مثل احادیثہ؟ و سأخبرکم عن ذالک: ان اخوانی من الانصار کان یشغلھم عمل ارضھم و اما اخوانی من المھاجرین کان یشغلھم الصفق بالاسواق و کنت الزم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ملء بطنی، فاشھد اذا غابوا و احفظ اذا نسوا‘‘(11)
[لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا محاسبہ کرنے والا ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کیا وجہ ہے کہ انصار و مہاجرین ابوہریرہ کی طرح کثرت سے حدیثیں بیان نہیں کرتے؟ میں تمہیں بتلاتاہوں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہمارے مہاجر بھائی بازاروں میں اپنے کار و بار میں لگے رہتے تھے اور انصاری بھایء اپنی زمین کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے تھے۔ میں محتاج آدمی تھا، میرا سارا وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزرتا تھا، پس جس وقت یہ موجود نہ ہوتے تھے میں موجود رہتا تھا اور جن چیزوں کو وہ بھلادیتے تھے میں محفوظ کرلیتا تھا]۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو خود بھی اصحاب صفہ میں سے تھے، ان کا یہ بیان گویا اصحاب صفہ کا ترجمان ہے۔ یہ سب لوگ درس گاہ نبوت میں سب سے زیادہ حاضر رہنے والے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان کی تصدیق خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ہوتی ہے:
’’کنت انا و جار لی من الانصار فی بنی امیۃ بن زید، و ھی من عوالی المدینۃ و کنا نتناوب النزول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ینزل یوما و انزل یوما، فاذا نزلت جئتہ بخیر ذالک الیوم من الوحی و غیرہ، و اذا نزل فعل مثل ذالک‘‘(12)
[میں اور عوالی مدینہ میں قبیلہ امیہ بن زید کا ایک انصاری پڑوسی ہم دونوں باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جاتے تھے، ایک دن وہ جاتے اور ایک دن میں جاتا، جب میں جاتا تو اس دن کی وحی و غیرہ کی خبر لاتا اور جس دن وہ جاتے وہ بھی اسی طرح کرتے]۔
طریقہ تعلیم
ابتدا میں مجلس میں طلبہ کے بیٹھنے کا کوئی خاص انتظام اور طریقہ نہ تھا، جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر بیٹھ جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ ایک حلقہ بنوایا اور سب لوگ ایک ساتھ بیٹھنے لگے۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے:
’’دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المسجد و ھم حلق فقال صلی اللہ علیہ وسلم: مالی اراکم عزین‘‘(13)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے جدا جدا حلقے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے تو لوگ جدا جدا ہو (یعنی ایک ساتھ بیٹھو)]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام حاضرین مجلس کو اس طرح تعلیم دیتے تھے کہ عالم، جاہل، شہری، بدوی، عربی، عجمی، بوڑھے، بچے، جوان پوری طرح فیض اٹھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سامعین کے دل میں اترجاتی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’انہ کان اذا تکلم بکلمۃ اعاھا ثلاثا حتی تفھم عنہ، و اذا أتی علی قوم فسلم علیھم ثلاثا‘‘(14)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کو تین بار کہتے تھے تا کہ سمجھ لی جائے اور جب کسی جماعت کے پاس جاتے تو ان کو تین بار سلام کرتے تھے]۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو مسجد نبوی کی اس درس گاہ کے معلم تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے قریب اہل مجلس کے سامنے جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے لگے۔ اس وقت ام المومنین حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا نماز میں مصروف تھیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجلس ختم کرکے جاچکے تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوہریرہ مل جاتے تو میں ان کے جلدی جلدی حدیث بیان کرنے پر نکیر کرتی، اس کے بعد فرمایا:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن یسرد الحدیث سردکم‘‘(15)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر شمار کرنے والا چاہتا تو شمار کرلیتا]۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیحدّث الحدیث لو شاء العادّ ان یحصیہ أحصاہ‘‘(16)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر شمار کرنے والا چاہتا تو شمار کرلیتا]۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم یہ تھا کہ آپ بات ٹھہر ٹھہر کر اس انداز میں کہتے کہ سننے والوں کے دل میں بیٹھ جائے، یاد کرنے والے یاد کرلیں اور لکھنے والے لکھ لیں۔ نرم کلامی، شیریں بیانی اور انداز تعلیم کے اس اسلوب کی بدولت بدوی لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوجاتے تھے۔ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھ رہاتھا، مجھ سے خلاف نماز کوئی حرکت سرزد ہوگئی، جس کی وجہ سے تمام نمازی مجھ سے بگڑ گئے اور گھور گھور کر میری طرف دیکھنے لگے، لیکن خود معلم انسانیت کا رویہ اور طریقہ تعلیم کیا تھا؟ صحابی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’فبأبی ھو و امی، ما رأیت معلما قبلہ و لا بعدہ احسن تعلیما منہ، فواللہ ما کھرنی و لاضربنی و لا شتمنی، قال صلی اللہ علیہ وسلم: ان ھذہ الصلوۃ لایصلح فیھا شیء من کلام الناس، انما ھو التسبیح و التکبیر و قرأۃ القرآن‘‘(17)
[میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر معلم نہیں دیکھا۔ خدا کی قسم نہ مجھے جھڑکا، نہ مارا اور نہ ہی سخت سست کہا، بلکہ فرمایا نماز میں انسانی کلام اچھا نہیں ہے۔ اس میں صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن پڑھنا ہے]۔
اصحاب صفہ میں درس و تدریس کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ایک شخص قرآن مجید پڑھتا جاتا اور دوسرے لوگ سنتے جاتے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ضعفاء مہاجرین کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان میں سے بعض لوگ عریانیت کے خوف سے ایک دوسرے سے مل کر بیٹھے تھے اور ایک قاری ہم لوگوں کو قرآن پڑھا رہا تھا۔ اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ہمارے پاس کھڑے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر قاری خاموش ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرکے پوچھا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قاری قرآن پڑھ رہا ہے اور ہم سن رہے ہیں۔ ہمارا جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما:
’’الحمدللہ الذی جعل من امتی من امرت ان أصبر نفسی معھم‘‘
[اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے جن کے ساتھ مجھے بیٹھنے کا حکم ہے]۔
یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سامنے رہیں، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح بیٹھو، اور حاضرین مجلس اس طرح حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کہ سب کا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقراء مہاجرین! تم کو بشارت ہو قیامت کے دن نور تام کی، تم لوگ مالداروں سے آدھ دن پہلے جنت میں داخل ہوگے، اور (دنیوی حساب سے) پانچ سو سال ہے۔ (18)
اصحاب صفہ کی دعوتی سرگرمیاں
ویسے تو ہر مسلمان ہی داعی اور مبلغ ہے اور دعوت و تبلیغ ہی اس مات کا وہ خصوصی وصف ہے جس کی بدولت اس کو ’’خیر الامم‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا۔(19) اسلامی معاشرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت دین کے لیے ایک ایسی جماعت تیار کرے جو امربالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ وَ لْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ أُولئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘ (آل عمران 104)
[تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے]
چنانچہ ہجرت مدینہ کے فورا بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی مین ایک باقاعدہ درسگاہ قائم فرمائی، تاکہ مبلغین کی ایک تربیت یافتہ جماعت تیا کی جائے۔ اصحاب صفہ کی صورت میں جب یہ جماعت تیار ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اصحاب کو جو اپنے علم و فضل کی وجہ سے ’’قراء‘‘ کہلاتے تھے۔ (20) مختلف دعوتی و تبلیغی مہمات پر روانہ فرمایا۔
رجیع کی مہم:
صفر سنہ 4ھ میں قبائل عضل و قارہ چند آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارگاہِ رسالت میں درخواست کی کہ آپ اپنے رفقا میں سے کچھ آدمیوں کو ہمارے ساتھ روانہ کردیجیے تا کہ وہ لوگوں میں دین کی سمجھ پیدا کریں، قرآن پڑھائیں اور شریعت اسلامیہ کی تعلیم دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب صفہ میں سے مندرجہ ذیل چھ (*1) افراد منتخب کیے: مرثد بن ابی مرثد غنوی، خالد بن بکیر لیثی، عاصم بن ثابت، خبیب بن عدی، زید بن دثنہ، عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنھم، اور مبلغین کی اس جماعت کا امیر مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔
جب یہ لوگ رجیع، جو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک جگہ ہے، پہنچے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگوں نے مسلمانوں سے غداری کی اور قبیلہ ہذیل کو مدد کے لیے پکارا، چنانچہ ان لوگوں نے حضرت خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ کو پناہ کا دھوکہ دے کر گرفتار کرلیا، جبکہ باقی صحابہ کو شہید کردیا گیا۔ زید بن دثنہ اور خبیب بن عدی کو بھی ان لوگوں نے بعد میں مکہ لے جا کر فروخت کردیا، چنانچہ زید بن دثبہ کو صفوان بن امیہ نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عوض قتل کرنے کے لیے خرید لیا، جبکہ خبیب کو حجیر بن ابواہاب تمیمی نے خرید کر قتل کردیا۔ (21)
بئر معونہ کی مہم:
صفر سنہ ۴ھ میں نجد کے ایک قبیلے عامر بن صعصہ کے ایک رئیس ابوالبراء عامر بن مالک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی، وہ نہ اسلام لایا اور نہ اس نے تردید کی بلکہ کہنے لگا! اے محمد! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقا میں سے کچھ لوگوں کو اہل نجد کے ہاں بھیج دیں اور وہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا کر انہیں اسلام کی دعوت دیں تو مجھے امید ہے اہل نجد آپ کے پیغام پر ضرور لبیک کہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے اپنے آدمیوں کے متعلق اہل نجد سے خوف ہے۔ ابوبراء نے کہا: میں اس کا ضامن ہوں، اس لیے آپ ان کو روانہ فرمادیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عمرو کی قیادت میں ستر صحابہ جو سب کے سب درسگاہ صفہ کے تربیت یافتہ تھے، اس کے ساتھ بھیج دیے۔ (22)
ابن ہشام اور ابن اثیر کی روایت کے مطابق یہ جماعت چالیس صحابہ پر مشتمل تھی۔ یہ سب لوگ بئر معونہ پہنچ گئے، جو بنو سلیم کے قریب ایک جگہ تھی۔ وہاں سے اپنی جماعت کے ایک آدمی حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دے کر قبیلے کے سردار عامر بن طفیل کے طرف بھیجا، لیکن اس نے خط پڑھنے سے قبل ہی قاصد کو قتل کردیا اور بنو سلیم کے ہمراہ بئر معونہ روانہ ہوا اور باقی مسلمانوں کو بھی قتل کردیا۔ (23)
سطور بالا کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی و تبلیغی مقاصد کے لیے ایک ایسی جماعت کی تیاری کو ضروری خیال کیا جس کو دعوتی مشن اپنی جان سے بھی عزیز تھا۔ رجیع اور بئر معونہ کی دعوتی مہمات میں انتہائی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان واقعات کا انتہائی رنج ہوا۔ اس لیے بعد کے دور میں خالصتا تبلیغی مہمات بھی حفاظتی نقطہ نظر سے مسلح کرکے بھیجی گئیں۔
درس گاہ صفہ کے تربیت یافتہ معلمین و مبلغین کی دعوتی سرگرمیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو مختلف جہادی مہمات میں افواج کے ہمراہ بطور مبلغ روانہ فرماتے، اس کے علاوہ قبائل عرب کی طرف سے آنے والے وفود کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی آپ اصحاب صفہ سے مدد لیتے تھے۔
قریش مکہ کو چونکہ مذہبی سیادت حاصل تھی، اس لیے عرب میں ان کا ادب و احترام کیا جاتا تھا اور تمام عرب مذہبی معاملات میں ان کو اپنا مقتدا اور پیشوا سمجھتے تھے۔ کفر و اسلام اور حق و باطل کی جو آویزش جاری تھی، اس میں قبائل عرب قریش کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بالآخر جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش سب کے سب مسلمان ہوگئے تو اب قبائل عرب کے لیے بھی اسلام کے حق میں فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔ ابن حجر لکھتے ہیں:
’’ان مکۃ لما فتحت بادرت العرب باسلامھم فکان کل قبیلۃ ترسل کبراء ھا یسلّموا و یتعلّموا و یرجعوا الی قومھم فیدعوھم الی الاسلام‘‘(24)
[فتح مکہ کے بعد تمام عرب نے اسلام کی طرف نہایت تیزی سے قدم بڑھایا۔ ہر قبیلہ اپنے سرداروں کو بھیجتا تھا کہ جاکر اسلام لائیں اور دین کی تعلیم حاصل کریں، واپس آئیں تو اپنی قوم کو دعوت اسلام دیں۔
فتح مکہ کے بعد تقریبا ایک سال کے عرصے میں تمام قبائل عرب نے اپنے منتخب افراد کو وفود کی صورت میں مدینہ طیبہ بھیجاتا کہ وہ پوری قوم اور قبیلہ کی طرف سے اسلام کی بیعت کریں۔ فتح مکہ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ جو قبیلہ اور قوم بھی اسلام قبول کرے، اسے مدینہ آکر مستقل رہنے پر آمادہ کیا جائے۔ اس کی بظاہر حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو لوگ دارالہجرت میں آکر دین کی تعلیم حاصل کریں اور مزید یہ کہ دفاعی نقطہ نظر سے بھی مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد اور طاقت میں اضافہ ہو۔ چنانچہ فتح مکہ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعوتی مہمات روانہ فرماتے تھے، ان کو یہی نصیحت کی جاتی تھی کہ لوگوں کو دین کی دعوت دیں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان کو مدینہ کی طرف ہجرت کی دعوت دیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: 
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا بعث امیرا علی سریۃ اور جیش اوصاہ بتقوی اللہ فی خاصۃ نفسہ و بمن معہ من المسلمین خیرا، و قال صلی اللہ علیہ وسلم: ’ اذا لقیت عدوک من المشرکین فادعھم الہ احدی ثلاث خصال فایتھا اجابوک الیھا فاقبل منھم و کف عنھم، ادعھم الی الاسلام، فان اجابوا فاقبل منھم و کف عنھم، ثم ادعھم الی التحول من دارھم الی دارالمھاجرین و أعلمھم انھم ان فعلوا ذالک ان لھم ما للمھاجرین، فان ابوا و اختاروا دارھم فأعلمھم انھم یکونون کأعراب المسلمین یجری علیھم حکم اللہ الذی کان یجری علی المؤمنین و لایکون لھم دی الفئ و الغنیمۃ نصیب الا ان یجاھدوا مع المسلمین، فان ھم ابوا فادعھم الی اعطاء الجزیۃ فان اجابوا فاقبل منھم و کف عنھم، فان ابوا فاستعن باللہ و قاتلھم۔ (25)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی جماعت یا لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو اس کو خاص اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہیں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے اور یہ فرماتے: جب تمہارا مشرک دشمنوں سے سامنا ہو تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا۔ ان باتوں میں سے جو بات بھی وہ مان لیں، تم اسے ان سے قبول کرلینا اور ان سے جنگ نہ کرنا۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اسے منظور کرلیں تو تم ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے رک جاؤ، پھر تم ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر دارالمہاجرین (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو اور انہیں یہ بتلادو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ تمام منافع میں گے جو مہاجرین کو ملتے ہیں اور ان پر وہ تمام ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ سے نہ مانیں اور اپنے علاقے میں رہنے کو ہی ترجیح دیں تو انہیں بتلادو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور اللہ کے احکام جو تمام مسلمانوں کے ذمہ ہیں، وہ ان کے ذمہ ہوں گے۔ انہیں فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو حصہ ملے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے مان لیں تو تم اسے قبول کر لو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان سے جنگ کرو]۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد انتہائی سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کو نو مسلم قبائل اور افراد کو مدینہ کی طرف ہجرت کی ترغیب دی جائے، لیکن فتح مکہ کی صورت میں جب اسلام کو نئی قوت و شوکت نصیب ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکمت عملی تبدیل فرمائی اور واضح طور پر اعلان فرمادیا گیا:
’’لا ھجرۃ بعد فتح مکۃ‘‘(26)
[فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے]۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار یہ تھا کہ جو لوگ بھی انفرادی طور پر یا وفود کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خود تعلیم ارشاد فرماتے اور بعض اوقات انصار و مہاجرین صحابہ کو حکم دیتے کہ وہ ان لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں اور جب وہ لوگ دین کے بنیادی امور کا علم حاصل کرلیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان وفود کو جو عام طور پر رؤساے قبائل پر مشتمل ہوتے تھے، واپس اپنے قبائل میں جانے کا حکم دیتے اور ان کو حکم ہوتا تھا کہ وہ جو کچھ سیکھ چلے ہیں وہ اپنے دوسرے لوگوں کو سکھائیں۔ (27)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک جگہ ’’وصاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفود العرب ان یبلغوا من وراءھم‘‘(28) کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو آگے دوسروں تک پہنچانا ان وفود کا سب سے اہم فریضہ تھا۔ نیز بعض علاقوں کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی مہمات روانہ فرمائیں اور مبلغین کو تلقین کی کہ اگر وہ لوگ اطاعت کا اظہار کریں تو ان کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں اور ان کو کہیں کہ وہ وفد بن کر مدینہ آئیں اور براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب ہوں۔ (29)
چنانچہ سنہ 9ھ میں اس کثرت سے وفود آئے اس لیے مورخین نے اس سال کو ’’عام الوفود‘‘ کا نام دے دیا۔ ان وفود میں سے بعض سینکڑوں افراد پر بھی مشتمل تھے (*2) اور بعض محض ایک دو اور تین افراد پر۔ ان وفود کی تعداد میں بھی کافی اختلاف ہے تا ہم یہاں ان میں سے ان چند وفود اور قبائلی وؤسا کا ذکر کرلیا جارہا ہے جن کا کردار دعوت و تبلیغ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔
قبائلی رؤسا کی تعلیم و تربیت کا انتظام
اصحاب صفہ کی منظم اور مستقل تبلیغی جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ ہر قبیلہ اور جماعت میں سے کچھ ایسے لوگ موجود رہیں جو تعلیم و ارشاد اور دعوت و تبلیغ کے فریضہ کو انجام دیتے رہیں۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں یہ حکم نازل ہوا:
’’ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ‘‘ (التوبہ۔ 122)
[اور سب مسلمان تو سفر کرکے (مدینہ) نہیں آسکتے تو ہر قبیلہ سے ایک جماعت کیوں نہیں آتی کہ وہ دین کی سوجھ بوجھ حاصل کریں، تا کہ جب وہ واپس جائیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں، شاید وہ بری باتوں سے بچ جائیں]۔
چنانچہ بعض قبائل نے تو خود ہی اپنے نمائندہ افراد کو مدینہ بھیجا اور بعض قبائل مثلا بنو حارث بن کعب اور ہمدان و غیرہ کو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ وہ اپنے وفود بھیجیں۔ چنانچہ اس کے بعد عرب کے تقریبا ہر قبیلہ نے اپنے وفود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بھیجے تا کہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور واپس آکر خود ان کو اس کی تعلیم دیں۔ تفسیر خازن میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے:
’’کان ینطلق من کل حی من العرب عصابۃ فیأتون النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیسألونہ عما یریدون من امر دینھم و یتفقّھون فی دینھم‘‘(30)
[عرب کے ہر قبیلے کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی امور دریافت کرتا اور دین کا فہم حاصل کرتا]۔
آنے والے وفود اور قبائل عرب کے نمائندہ افراد کی ایسی تعلیم و تربیت کہ وہ واپس جاکر دعوت و تبلیغ کا کام کما حقہ کرسکیں، بڑی اہم ذمہ داری تھی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین اور اصحاب صفہ کی مدد سے عمدہ طریقہ سے انجام دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفود عرب میں آنے والے قبائلی عمائدین کی خود تعلیم و تربیت فرماتے اور بعض اوقات انصار و مہاجرین کو حکم ہوتا کہ معزز مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو قرآن و سنت سکھائیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشغل، فاذا قدم رجل مھاجر علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دفعہ الی رجل منا یعلمہ القرآن‘‘(31)
[کوئی شخص جب ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تعلیم قرآن کے لیے ہم میں سے کسی کے سپرد کردیتے۔
چنانچہ حضرت وردان رضی اللہ عنہ طائف سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا کہ ان کہ مصارف کا بار اٹھائیں اور ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیں۔ (32)
انصار مدینہ باہر سے آنے والے حضرات کی مہمان نوازی کے ساتھ اس لگن اور دلسوزی سے ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے کہ وہ لوگ تشکر کے جذبات کے ساتھ واپس جاتے تھے۔ چنانچہ وفد عبدالقیس آیا تو اس اعتراف کے ساتھ واپس گیا:
’’خیر اخوان، ألانوا فراشنا، وأطابوا مطعمنا، و باتوا و اصبحوا یعلّمونا کتاب ربنا و سنۃ نبینا‘‘(33)
[یہ ہمارے بہترین بھائی ہیں۔ انہوں نے ہمیں نرم بستر مہیا کیے، اچھا کھانا کھلایا اور دن رات ہمیں اللہ کی کتاب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیتے رہے]۔
آنے والی سطور میں ان چند قبائلی رؤسا اور مبلغین کا ذکر کیا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبائل میں دعوت کا فریضہ انجام دیا۔
عمیر بن وہب کی قریش مکہ کو دعوت
عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ قریش کے ممتاز سرداروں میں سے ایک تھے۔ یہ ابتدائے اسلام میں اسلام کے شدیدترین دشمنوں میں سے ایک تھے۔ ان کا بیٹا وہب بن عمیر غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو چھڑوانے کے بہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سازش کا سوائے صفوان بن امیہ کے کسی کو علم نہ تھا، جو خود اس منصوبے میں شریک تھے۔ لیکن مدینہ پہنچ کر جب وہ اس ارادے سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بذریعہ وحی صفوان بن امیہ کے ساتھ تیار کردہ سازش سے آگاہ کردیا اب عمیر پر حقیقت حال واضح ہوچکی تھی۔ اس لیے انہوں نے فورا اسلام قبول کرلیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
’’فائذن لی یا رسول اللہ فالحق بقریش فادعوھم الی اللہ و الی الاسلام لعل اللہ ان یھدیھم‘‘(34)
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جاکر اہل مکہ کو اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں۔ امید ہے کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت دے گا]۔
ابن الاثیر کا بیان ہے کہ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ میں مسلسل اسلام کی صدا بلند کرتے رہے۔ چنانچہ صفوان بن امیہ سمیت متعدد لوگوں نے آپ کی ترغیب سے ہی اسلام قبول کیا۔ (35)
حضرت ضحاک بن سفیان کا بنوکلاب کو دعوت اسلام
حضرت ضحالک کی کوششوں سے بنوکلاب کا پورا قبیلہ اسلام لے آیا۔ سنہ 9ھ میں اس قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام لانے کی اطلاع دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ضحاک بن سفیان نے ہمارے درمیان کتاب اور آپ کی سنت کے مطابق عمل کیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی، ہم نے اسے قبول کرلیا۔ (36)
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم باہلہ کو دعوت اسلام
ابوامامہ باہلی نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی اپنی قوم کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا تا کہ وہ ان کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ قوم نے جب ان کو دیکھا تو خوش ہوکر کہا: صدی بن عجلان (ابوامام کا نام ہے) کو خوش آمدیدی ہو۔ اور کہنے لگے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ تم بے دین ہو کر اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے طرف مائل ہوگئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل ہوگیا ہوں اور مجھے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے تا کہ میں تم پر اسلام اور اس کے احکام پیش کروں۔
چنانچہ اس کے بعد ابوامامہ رضی اللہ عنہ ان کو اسلام کی دعوت دینے لگے، لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان پر بڑی سختی کی۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بڑی استقامت کا مظاہری کیا۔ بالآخر ان کی دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں پوری قوم مسلمان ہوگئی۔ (37)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد دعوت دین کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا جہاں دوچار لوگوں کو دیکھتے ان تک اسلام کا پیغام ضرور پہنچاتے۔ مسلم بن عامر کا بیان ہے: ’’جب ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھتے تو وہ ہم کو احادیث سناتے اور کہتے ان کو سنو، سمجھو اور جو سنتے ہو اس کو دوسروں تک پہنچاؤ‘‘(38)
سلمان بن حبیب محاربی بیان کرتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، دیکھا کہ مکحول رحمہ اللہ اور ابن زیاد زکریا دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مکحول نے کہا کہ اس وقت دل چاہتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے حضور چلتے، ان کی کچھ خدمت کرتے اور ان سے کچھ حدیثیں سنتے۔ سلمان کہتے ہیں: ہم لوگ اٹھے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اس کے بعد فرمایا: تمہارا میرے پاس آنا تمہارے لیے باعث رحمت بھی ہے اور تمہارے اوپر حجت بھی، (یعنی اگر تم حدیث کی خلاف ورزی کروگے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امت کے حق میں جھوٹ اور تعصب سے زیادہ اور کسی چیز کا خوف کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آگاہ رہو جھوٹ اور تعصب سے بچو پھر فرمایا: 
’’الا و انہ أمرنا ان نبلّغکم ذالک عنہ ألا و قد فعلنا فأبلغوا عنا ما قد بلّغنا کم‘‘(39)
[آگاہ رہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم یہ باتیں تم تک پہنچادیں۔ آگاہ رہو ہم نے پہنچادیں، لہذا اب تم ان باتوں کو جو ہم سے تم نے سنیں ہیں دوسروں تک پہنچادینا]۔
حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کے لیے دعوت
حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو خدمت اقدس میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور قرآن مجید کی تعلیم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے حاصل کی (40) پھر بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری قوم میں بھیج دیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ان پر بھی میرے ذریعہ فضل فرمادے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے مجھ پر فرمایا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم میں دعوت اسلام کی اجازت مرحمت فرمائی، انہوں نے قوم کو ان الفاظ میں اسلام کی طرف بلایا:
’’یا معشر جھینۃ! انی رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیکم ادعوکم الی الاسلام و اٰمرکم بحق الدماء و صلۃ الارحام، و عبادۃ اللہ وحدہ، و رفض الاصنام و بحج البیت، و صام شھر رمضان شھر من اثنی عشر شھرا، فمن اجاب فلہ الجنۃ و من عصی فلہ النار‘‘(41)
[اے قبیلہ جہینہ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں اور تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اور میں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم خون کی حفاظت کرو، صلہ رحمی کرو، ایک اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو چھوڑ دو، بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میں سے رمضان کے روزے رکھو۔ جو مان لے گا اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے جہنم کی آگ ہے]۔
حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کی مسلسل دعوت اور کوشش سے ان کی قوم نے اسلام قبول کرلیا تو وہ اپنی قوم کو لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال فرمایا، ان کو درازی عمر کی دعا دی اور ان کی قوم کے لیے ایک تحریر لکھ کردی۔(42)
رفاعہ بن زید جزامی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کے لیے بطور مبلغ تقرری
خیبر سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر رفاعہ بن زید جزامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک تحریر ان کی قوم کے لیے لکھ دی اور ان کو اپنی قوم کی طرف مبلغ بنا کر روانہ فرمایا۔ اس خط میں تحریر تھا:
’’ھذا کتاب من محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لرفاعۃ بن زید، انی بعثتہ الی قومہ عامۃ، و من دخل فیھم یدعوھم الی اللہ و الی رسولہ، فمن اقبل منھم ففی حزب اللہ و حزب رسولہ‘‘(43)
[یہ محمد رسول اللہ کی جانب سے رفاعہ بن زید کے لیے تحریر ہے کہ میں نے انہیں ان کی عام قوم کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو ان کی قوم میں داخل ہوں، بھیجا ہے، رفاعہ ان سب کو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف دعوت دیں گے، جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا، اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں شمار ہوگا]۔
پھر جب رفاعہ بن زید اپنی قوم میں پہنچے تو قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا۔(44)
عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ثقیف کو دعوت؍ عثمان بن ابی العاص کا بطور امیر تقرر
ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ماہ رمضان سنہ 9ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ثقفی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی قوم میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں ان کو اسلام کی طرف بلاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہیں ایسا نہ ہوکہ ثقیف تمہیں قتل کر ڈالیں۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ان کے نزدیک باکرہ عورتوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔
چنانچہ وہ اس امید پر کہ قوم ان کی مخالفت نہیں کرے گی بڑے جذبے کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے اسلام کی دعوت کے لیے روانہ ہوئے۔ جب وہ اپنے مکان کے بالاخانے پر نمودار ہوئے، قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان پر اپنا دین ظاہر کیا تو انہوں نے ہر طرف سے ان پر تیروں کا مینہ برسادیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے لیکن حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی یہ قربانی رائیگاں نہ گئی، جلد ہی قوم کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ چہ افراد پر مشتمل ایک وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا اور مدینہ میں ٹھہر کر اسلام کی تعلیمات سے فیض یاب ہونے لگے۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ دی اور عثمان بن ابی العاص کو ان کا امیر مقرر کیا۔
ابن ہشام نے ان کے تقریر کی یہ حکمت بیان کی ہے: ان لوگوں میں انہیں اسلام کو ٹھیک طور پر سمجھنے اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا سب سے زیادہ شوق تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہ کہتے ہوئے ان کے تقرر کی سفارش کی:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! انی قد رأیت ھذا الغلام منم من احرصھم علی التفقہ فی الاسلام و تعلم القرآن‘‘(45)
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس لڑکے کو ان لوگوں میں تفقہ فی الدین، مسائل دینی اور قرآن سیکھنے کا سب سے زیادہ حریص پاتا ہوں]۔
وفد بنو تمیم
بنو تمیم کا وفد بڑی شان و شوکے سے 9ھ میں مدینہ آیا۔ وفد میں قبیلہ کے تقریبا تمام بڑے رؤسا مثلا اقرع بن حابس، عمرو بن اہتمم، نعیم بن یزید، قیس بن حارث، عطارد بن حاجب، زبرقان بن بدر اور عینیہ بن حصن و غیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اپنے خطیب اور شاعر ساتھ لے کر آئے تھے۔ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
’’کان دی وفد تمیم سبعون او ثمانون رجلا ثم اسلموا القوم و بقوا بالمدینۃ مدۃ یتعلمون القرآن و الدین‘‘(46)
[قبیلہ بنو تمیم کے ستر یا اسی افراد وفد کی صورت میں حاضر ہوکر اسلام لائے اور مدینہ میں ایک مدت تک دین اسلام اور قرآن کی تعلیم حاصل کرتے رہے]۔
اسی وفد کے متعلق اللہ تعالی نے یہ آیت مقدسہ نازل فرمائی تھی:
’’ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاء الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ‘‘(الحجرات 4)
[وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجروں کے عقب سے پکارتے ہیں ان میں سے بیشتر نامسجھ ہیں]۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے کہا! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہم تمہارے پاس مفاخرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے ہمارے شاعر اور خطیب کو اجازت دو۔ چنانچہ بنو تمیم کی طرف سے عطارد بن حاجب نے تقریر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ثابت بن قیس نے اس کا جواب دیا۔ اسی طرح زبرقان بن بدرنے فخریہ اشعار پڑھے تو ابن اسحاق کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا تو انہوں نے ان کا جواب دیا۔ دو طرفہ مفاخرہ کے بعد اقرع بن حابس یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے: ’’باپ کی قسم! یہ آدمی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) وہ ہیں جن کو توفیق الہیٰ حاصل ہے، ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بہتر ہے، ان کا شاعر ہمارے شاعر سے بہتر ہے اور ان کی الفاظ ہمارے الفاظ سے شیریں ہیں‘‘
پھر بنو تمیم کے وفد کے تمام افراد اسلام لے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہترین انعامات سے نوازا۔ (47)
ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی بنو سعد بن بکر کو دعوت اسلام
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو بارگاہ رسالت میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ کو آئیں۔ ضمام بڑے جری انسان تھے، چنانچہ یہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور پوچھا: ایکم ابن عبدالمطلب؟ (تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’انا ابن عبدالمطلب‘‘۔ (میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)ْ پھر ضمام بن ثعلبہ نے اسلام کے متعلق کئی سوال کیے، جن کو ابن ہشام اور دوسرے مؤرخین نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مطمئن ہونے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور کہا:
’’فانی اشھد ان لاالہ الااللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ و سأودّی ھذہ الفرائض و اجتنب مانھیتنی عنہ، ثم لاازید و الانقص‘‘(48)
[میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اقرار کرتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اور میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان سے پرہیز کروں گا، پھر میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا]۔
پھر اپنے اونٹ پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ جب اپنی قوم میں پہنچے تو پوری قوم ان کے پاس جمع ہوگئی چنانچہ انہوں نے قوم سے جو پہلی بات کہی وہ یہ تھی:
’’یئست اللات و العزی! قالوا: مہ یا ضمام! اتق البرص، اتق الجذام، اتق الجنون! قال: ویلکم انھما واللہ لا یضران و لاینفعان، ان اللہ قد بعث رسولا و انزل علیہ کتابا استنقذکم بہ مما کنتم فیہ، و انی اشھد ان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ، وقد جئتکم من عندہ بما امرکم بہ و ما نھاکم عنہ‘‘(49)
[لات و عزی کتنے برے ہیں، اس پر قوم نے کہا: ضمام! ٹھہرو، ٹھہرو! برص میں مبتلا ہونے سے ڈرو، جذام میں مبتلا ہونے سے ڈرو اور جنون سے ڈرو۔ ضمام نے جواب دیا: تمہارا برا ہو، خدا کی قسم یہ دونوں نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ نفع پہنچاسکتے ہیں۔ بے شک اللہ نے ایک رسول بھیجا ہے اور اس پر ایک کتاب نازل کی ہے جس کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس گمراہی سے نکالا ہے جس میں تم پڑے ہوئے تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے وہ لایا ہوں جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے اور وہ لایا ہوں جس سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے]۔
راوی (ابن عباس) کا بیان ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی اس قبیلے کے ہر مرد و عورت نے اسلام قبول کرلیا۔
اکثم بن صیفی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت اکثم رضی اللہ عنہ کو ظہور اسلام کی خبر ہوئی تو دو آدمیوں کو رسول اللہ کی خدمت میں بھیجا کہ تحقیق حال کریں وہ دونوں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ آیت سنائی:
’’ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
‘‘ (النحل، 90)
[بے شک اللہ تعالی عدل، احسان اور قرابت داروں کے دینے کا حکم کرتا ہے اور فحاشی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ خدا تم کو نصیحت کرتا ہے شاید تم سمجھو اور سوچو]۔
ان لوگوں نے جاکر ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے تمام قوم کی طرف خطاب کرکے کہا:
’’یا قوم! أراہ یأمر بمکارم الاخلاق و ینھی عن ملائمھا فکونوا فی ھذا الأمر رؤسا و لاتکونوا ادنابا و کونوا فیہ اولا و لاتکونوا فیہ آخر‘‘
[اے میرے قوم یہ پیغمبر مکارم اخلاق کا حکم دیتا ہے۔ اور ذمائم اخلاق سے روکتا ہے تم لوگ قبول اسلام میں دم نہ بنو، سر بنو، مقدم بنو، مؤخر نہ ہو]۔
اس کے بعد تا دم مرگ اس کوشش میں مصروف رہے، انتقال ہوا تو اہل عیال کو تقوی اور صلہ رحمی کی وصیت کی۔ (50)
حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو بذریعہ خط دعوت اسلام
حضرت زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت ہوا۔ مجھے پتہ چلا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میری قوم کی طرف بھیجاہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ لشکر واپس بلالیں۔ میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میری قوم مسلمان بھی ہوجائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی کرے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور اس لشکر کو واپس بلا لاؤ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری سواری تھکی ہوئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیج کر لشکر واپس بلوا لیا۔ میں نے اپنی قوم کو خط لکھا۔ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا ایک وفد یہ خبر لے کر حضور کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
’’یا اخا صداء! انک لمطاع فی قومک، فقلت: بل اللہ ھذا ھم للاسلام فقال علیہ الصلاۃ والسلام: افلا اؤمّرک علیھم؟ قلت بلی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال: فکتب لی کتابا امّرنی‘‘(51)
[اے صدائے بھائی! واقعی تمہاری قوم تمہاری بات مانتی ہے۔ میں نے کہا (اس میں میرا کمال نہیں) بلکہ اللہ نے ان کو اسلام کی ہدایت دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان کا امیر نہ بنادوں؟ میں نے کہا بنادیں یا رسول اللہ! چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امارت کے بارے مجھے ایک خط لکھ کردیا]۔
فروہ بن مسیک کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
فروہ بن مسیک سنہ 10ھ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ فروہ کا قبیلہ مراد سے تعلق تھا۔ قبول اسلام کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت ہو تو اپنی قوم کے اہل اسلام کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے کافروں سے قتال کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ جب یہ چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا اور فرمایا:
’’ادع القوم فمن اسلم منھم فاقبل منہ و من لم یسلم فلا تعجل حتی احدث الیک‘‘(52)
[تم اپنی قوم کو اسلام کی ترغیب دینا، جو شخص اسلام لے آئے اس کا اسلام قبول کرلینا اور جو انکار کرے اس کے بارے میں توقف کرنا یہاں تک کہ میں تم کو کوئی حکم بھیجوں‘‘
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت ابوثعلبہ جرثوم بن ناشب خشنی کا تعلق قبیلہ قضاعہ کی شاخ خشین سے تھا۔ یہ حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کو ان کے اپنے قبیلہ کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا چنانچہ حضرت ابوثعلبہ کی کوششوں سے ان کا پورا قبیلہ رسول اللہ کی زندگی ہی میں اسلام لے آیا۔ (53)
ابن عبدالبر کا بیان ہے:
’’و ارسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی قومہ فاسلموا‘‘(54)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا پس ان کی قوم نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا]۔
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کی قبیلہ ہمدان کو دعوت اسلام
عامر ابن شہر رضی اللہ عنہ ایک زمانہ تک بادشاہوں کی صحبت میں رہ چکے تھے اور اپنے قبیلے کے قابل ترین فرد تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر ان کے قبیلہ ہمدان کو ملی تو قبیلہ والوں نے ان سے کہا کہ تم اس شخص (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ اور جس چیز کو تم ہمارے لیے اچھا سمجھوگے اس کو ہم کریں گے اور جس کو برا سمجھوگے اس کہ نہ کریں گے۔ چنانچہ عامر بن شہر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی تو کئی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔(55)
حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عقائد اسلام اور زکوۃ کی تعلیم دی۔ اس کے بعد انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤں تاکہ ان کو اسلام اور اداء زکوۃ کی دعوت دوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حضرت حارث بن ضرار واپس اپنی قوم میں آگئے اور ان کو اسلام کی طرف بلایا تو قوم نے ان کی دعوت پر لبیک لہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ حضرت حارث رضی اللہ عنہ زکوۃ اکٹھی کرکے خود مدینہ حاضر ہوئے۔ (56)
عمرو بن حسان رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت عمرو بن حسان نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تو تمام لوگ مسلمان ہوگئے۔ چنانچہ وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے پیچھے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جس سے میں نے اسلام پر بیعت نہ لے لی ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا ہو سوائے قبیلہ کے خاندان بنی جون کی ایک ضعیفہ یعنی میری والدہ کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ارفق بھا‘‘ (ان کے ساتھ نرمی کرو)۔ (57)
قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ کی بنی سلیم کو دعوت اسلام
حضرت قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
’’یا بنی سلیم! سمعت ترجمۃ الروم و فارس و اشعار العرب والکھان و مقاول حمیر و ما کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یشبہ شیئا من کلامھم فاطیعونی فی محمد فانکم اخوالہ‘‘(58)
[ اے بنو سلیم! میں نے روم و فارس کے تراجم اور عرب، کہان اور حمیر کے بہادروں کے اشعار سنے ہیں لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ان سب سے الگ ہے، پس محمد کی معاملے میں میری اطاعت کرو، کیونکہ تم ان کے ماموں ہو]۔
ابن اثیر کی روایت کے مطابق حضرت قیس بن غزیہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تھا۔ (59)
مالک بن احمر رضی اللہ عنہ کی اہل فدک کو دعوت اسلام
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے مقام پر تشریف لائے تو مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بارگارہ نبوی میں حاضر ہوکر اسلام لے آئے اور عرض کیا کہ انہیں تبلیغ دین کے بارے میں ایک اجازت لکھ دیں جس کے ذریعہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر ان کو تحریر لکھ دی۔ (60)
محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت محیصہ بن مسعود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک کے پاس ارشاد و ہدایت کے لیے روانہ فرمایا، محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو ان کے بڑے بھائی تھے وہ ان ہی کو کوششوں سے مسلمان ہوئے۔ (61)
مسعود بن وائل رضی اللہ عنہ کی بنی سلیم کو دعوت اسلام
حضرت مسعود بن وائل رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو درخواست کی:
’’یا رسول اللہ! انی احب ان تبعث الی قومی رجلا یدعوھم الی الاسلام‘‘
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ کریں جو ان میں اسلام کی تبلیغ کرے]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کردیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خود اپنے قبیلے میں دعوت کا کام کریں۔ (62)
عبداللہ بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کی قبیلہ حارثہ بن عمرو کو دعوت اسلام
حضرت عبداللہ بن عوسجہ الجبلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط دے کر قبیلہ حارثہ بن عمرو قریط کے پاس تبلیغ و ہدایت کے لیے بھیجا، چنانچہ انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن یہ لوگ اسلام سے محروم رہے۔ (63)
قیس بن یزید رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
اسی طرح ابن اثیر قیس بن یزید رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی: ’’فدعا قومہ الی الاسلام فاسلموا‘‘(64)
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا بنو حارث بن کعب کی طرف بطور مبلغ تقرر
ربیع الاول سنہ 10ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنوحارث بن کعب کے پاس نجران دعوت و تبلیغ کی خاطر روانہ فرمایا۔ بنو حارث نے اسلام قبول کرلیا، تو خالد بن ولید نے بذریعہ خط کامیابی کی اطلاع بارگاہ رسالت میں بھیجی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی خط میں ان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ساتھ بنو حارث کا وفد لے کر واپس آجائیں، چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بنو حارث کے وفد سمیت مدینہ حاضر ہوگئے۔ چشمہء نبوت سے براہ راست فیض یاب ہونے کے بعد جب یہ وفد واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارث بن کعب پر قیس بن حصن رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ان لوگوں کے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ فرمایا۔ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان سے صدقات و غیرہ وصول کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد تھی۔ 
ابن ہشام لکھتے ہیں:
’’و قد کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد بعث الیھم بعد ان ولی وفدھم عمرو بن حزم، لیفقّھھم فی الدین، و یعلّمھم السنۃ و معالم الاسلام۔ (65)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو بنو حارث بن کعب کی طرف بھیجا تا کہ وہاں جاکر ان میں دین کا فہم پیدا کریں اور انہیں سنت رسول اور اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے ایک حصہ کا عامل اور قاضی بناکر بھیجا تو ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں میں اسلامی شعور پیدا کریں اور ان کو قرآن کی تعلیم دیں۔
ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
’’بعثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاضیا الی الجند من الیمن یعلم الناس القرآن و شرائع الاسلام ‘‘(66)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کے ایک حصہ کا قاضی مقرر فرما کر بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو قرآن مجید اور احکام دین کی تعلیم دیں]۔
خلاصہ بحث
قبائل عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اللہ تعالی کا پیغام نہ سنایا ہو۔ بالخصوص مکی عہد نبوت میں جب قبائل عرب ایام حج میں مکہ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلہ اور خاندان کے پاس خود جاکر ان کو اسلام کی دعوت پیش فرماتے، تو ہم وہ لوگ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست دعوت اسلام نہ دے سکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے صحابہ (رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو بطور مبلغ روانہ فرمایا۔
مدنی عہد نبوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت کے ساتھ قبائل عرب کی طرف دعوتی و تبلیغی مہمات روانہ فرمائیں اور صحابہ کرام کو دعوت اسلام کی ذمہ داری سونپی۔ اگر چہ ہر قبیلہ کی طرف بھیجے جانے والے مبلغین اور ان کی سرگرمیوں کا ہمیں تفصیلی ذکر نہیں ملتا تا ہم مدنی دور میں جس تیزی سے اسلام پھیلا وہ بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان گم نام مبلغین کی انتھک کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جن کے بارے میں ماخذ یا تو بالکل خاموش ہے یا ان کے بارے میں چند اشارے اور منتشر معلومات ملتی ہیں، ایسے ہی ایک گمنام مبلغ کے بارے میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ اتنے میں بنولیث کے ایک آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا میں تم کو ایک خوشخبری نہ سنادوں؟ میں کہا ضرور۔ اس نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے پاس بھیجا تھا۔ میں ان پر اسلام کو پیش کرنے لگا اور ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا تو تم نے کہا تھا کہ تم ہمیں بھلائی کی دعوت دے رہے ہو اوربھلی بات کا حکم کر رہے ہو اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بھلائی کی دعوت دے رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تمہاری بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللھم اغفر للاحنف‘‘ [اے اللہ احنف کی مغفرت فرما] 
حضرت احنف رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ہے جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا سے زیادہ امید ہو۔]‘‘ (67)
اسی نوعیت کا ایک واقعہ عبدخیر بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’میں ملکِ یمن میں تھا وہاں لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پہنچا جس میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ اس وقت میرے والد کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور میری عمر ابھی کم تھی، جب میرے والد واپس آئے تو میری والدہ سے کہا کہ دیگ کو کتوں کے سامنے بہادو اس لیے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں، پس اس وقت اسلام لے آیا۔ دیگ کو بہانے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ اس میں مردار پکا ہوا تھا‘‘۔(68)
بنو لیث سے تعلق رکھنے والے یہ مبلغ صحابی کونی تھے؟ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی قوم میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیجا تھا اس بارے میں ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے۔ اسی طرح ملک یمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی خط لے کر جانے والے صحابی کونی تھی؟ جن کی سرگرمیوں کا اشارہ حضرت عبد خیر بن یزید رضی اللہ عنہ کے بیان سے ملتا ہے۔ تا ہم اس قسم کی روایات سے یہ رائے ضرور قائم کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تخصیص تمام قبائل عرب کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو دعوت و تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا، اگر چہ ان کی دعوتی سرگرمیوں کے بارے میں کتب سیر و تاریخ خاموش ہیں۔
اسی طرح وفود عرب بھی مدنی دور میں دعوت و تبلیغ کا انتہائی موثر ذریعہ ثابت ہوئے۔ وفود عرب، جو عام طور پر قبائلی رؤسا اور سرداران قوم پر مشتمل ہوتے تھے، کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے اپنے ہی قبائل میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیج دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی اور اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے۔
عرب کے مخصوص قبائلی اور معاشرتی ماحول میں جہاں سردار قوم کا مذہب ہی پورے قبیلے اور خاندان کا مذہب اور دین ہوتا تھا، نو مسلم سرداروں نے اشاعت اسلام میں اہم کردار ادا کیا، چنانچہ قبائلی رؤسا کو اپنے قبائل میں جو شخصی اثر رسوخ اور وجاہت حاصل تھی اس کی بناء پر کثیر لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ فعد واحد کی دعوت پر پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا، چنانچہ حضرت سعد بن معاذ، ابو ثعلبہ، زیاد بن حارث، ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنھم کی دعوت پر ان کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح حضرت ضماد ازدی نے قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف بھی اسلام کی بیعت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
(*1) امام بخاری نے ان اصحاب کی تعداد دس بیان کی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع، ح:4086) امام سہیلی نے بھی دس کے قول کو ہی ترجیح دی ہے جن میں سے چھ مہاجر اور چار انصار صحابہ تھے۔ (الروض الانف، ذکر یوم الرجیع، 2؍167) جب کہ ابن الاثیر نے ان مبلغین کی تعداد چھ بیان کی ہے۔ (اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ، 5؍258)
(*2) وفد بنی تمیم ستر یا اسی افراد پر مشتمل تھا (الاستیعاب، تذکرہ عمرو بن اہتم، 3؍1163) جبکہ وفد بجیلہ میں شامل افراد کی تعداد ایک سو پچاس بیان کی جاتی ہے۔ (ابن سعد، 1؍347)
حوالہ جات
(1) صحیح البخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس و البھائم، ح:6008، ص:1051۔ ایضا، کتاب الاذان، باب الاذان للمسافرین۔ ح:631، ص:104۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب من احق بالامامۃ؟ ح:1535، ص:272۔ سنن نسائی، کتاب الاذان، باب اجتزاء المرء باذان غیرہ فی الحضر، ح:636، ص:88۔
(2) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب تحریص النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفد عبدالقیس علی ان یحفظوا الایمان... ح:87، ص:20۔ ایضا، کتاب الایمان، باب اداء الخمس من الایمان، ح:53، ص: 13۔
(3) سنن ابن ماجہ، المقدمہ، باب فضل العلماء و الحث الی طلب العلم، ح:229، ص:35۔ سنن الدرامی، المقدمہ، باب فی فضل العلم و العالم، ح:355، 1؍105۔
(4) ابو نعیم الاصفہانی، ’’حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء‘‘، ذکر اہل الصفۃ، 1؍419، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، 1997ء۔
(5) کتانی، عبدالحی، علامہ، ’’نظام الحکومۃ النبویۃ‘‘ (مترجم، مولانا معظم الحق) ص:327۔
(6) سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب کسب المعلم، ح:3416، ص:495۔ المسند، حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ح:22181، 6؍429۔
(7) اسد الغابۃ، تذکرہ عبداللہ بن سعید بن العاص، 3؍175۔ الاستیعاب، تذکرہ عبداللہ بن العاص، 3؍390۔
(8) جمع الفوائد، کتاب العلم۔ 1؍48۔
(9) المسند، حدیث جابر بن سمرہ، ح:202333، 6؍95۔96۔
(10) المسند، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ح:11994، 3؍598۔
(11) صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ، ح:2492، ص: 1097۔ صحیح البخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم، ح:118، ص:25۔
(12) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب التناوب فی العلم، ح:89، ص: 21۔
(13) سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی التحلق، ح:4823، ص:682۔
(14) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من اعاد الحدیث ثلاثا لیفہم عنہ، ح:95، ص22۔
(15) سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب فی سردالحدیث، ح:3655، ص:524۔
(16) ایضا
(17) صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب تحریم الکلام فی الصلوۃ، ح:1199، ص:218۔
(18) سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی القصص، ح:2666، ص:526۔
(19) آل عمران، 3:110۔
(20) صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:4917، ص:851۔ المسند، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ح:11994، 3؍598۔
(21) ابن ہشام، ذکر یوم الرجیع، 3؍187۔303، تاریخ الامم و الملوک، 3؍29۔31 (واقعات سنہ 4ہجری)
(22) صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:4917، ص:851۔
(23) ابن ہشام، حدیث بنر معونۃ، 3؍204۔210۔ اسد الغابۃ، تذکرہ منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، 4؍418۔
(24) فتح الباری، 10؍252۔
(25) سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، باب فی دعاء المشرکین، ح:2612، ص:377۔ سنن ابن ماجہ، ابواب الجہاد، باب وصیۃ الامام، ح:2858، ص:412۔ المسند، حدیث بریدہ الاسلمی رضی اللہ عنہ، ح: 22521، 6؍492۔
(26) المسند، مسند صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، ح: 14882، 4؍401۔
(27) صحیح البخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس البہائم، ح: 6008، ص: 1051۔
(28) صحیح البخاری، کتاب التمنی، ص: 1250۔
(29) ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب... 4؍249۔
(30) تفسیر خازن، تفسیر سورۃ التوبہ، آیت: ما کان المؤمنون لینفروا... 2؍421۔
(31) المسند، حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، ح: 22260، 6؍443۔
(32) الاصابہ، تذکرہ وردان جدالفرات رضی اللہ عنہ، 3؍233
(33) المسند، حدیث وفد عبدالقیس، ح: 14131، 4؍452۔ ایضا، ح: 17376، 5؍235۔
(34) الاصابہ، تذکرہ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ، 4؍150۔
(35) الاصابہ، تذکرہ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ، 4؍150۔
(36) ابن سعد، وفد کلاب، 1؍300۔
(37) المستدرک، ذکر ابی امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ، 3؍641۔ الاصابہ، تذکرہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ، 2؍182۔
(38) سنن الدرامی، المقدمہ، باب البلاغ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و تعلیم السنن، ح:550، 1؍143۔
(39) اسد الغابہ، تذکرہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ، 3؍16۔17۔
(40) الاصابہ، 5؍12۔
(41) البدایۃ، 5؍12، کنز العمال، 7؍64۔
(42) البدایۃ، 5؍12، کنز العمال، 7؍64۔
(43) ابن ہشام، قدوم رفاعۃ بن زید جزامی رضی اللہ عنہ، 4؍252۔ اسد الغابہ، تذکرہ رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ، 2؍181۔
(44) ایضا
(45) ابن ہشام، امر وفد ثقیف و اسلامھا... 4؍94۔ تاریخ الامم و الملوک، 3؍141 (واقعات سنہ 9 ہجری)
(46) الاستیعاب، تذکرہ عمرو بن اہتم، 3؍1164۔
(47) ابن ہشام، قدوم وفد بنی تمیم، 4؍221۔
(48) ابن ہشام، قدوم، ضمام بن ثعلبۃ وافدا عن نبی سعد بن بکر، 4؍229۔ المسند، مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ح:2254، 1؍414۔ صحیح البخاری، کتاب العلم، باب القرأۃ و العرض علی المحدث، ح:63، ص:15۔ الموطأ کتاب قصر الصلوۃ فی السفر، ح:197، ص:130۔
(49) ابن ہشام، قدوم ضمام بن ثعلبہ وافدا بن سعد بن بکر، 4؍229۔ المسند، مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ح:2376، 1؍437۔ اسد الغابہ، تذکرہ ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ، 3؍43۔ المستدرک، رجوع ضمام بن ثعلبہ علی قومہ، 3؍54۔
(50) اسد الغابہ، تذکرہ اکثم بن صیفی، 1؍112۔
(51) الاصابہ، تذکرہ زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ، 1؍557۔ البدایہ، 5؍83۔
(52) اسد الغابہ، تذکرہ فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ، 4؍181۔
(53) اسد الغابہ، تذکرہ جرثوم بن ناشب رضی اللہ عنہ، 1؍277۔
(54) الاستیعاب، تذکرہ ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ، 4؍1618۔
(55) اسد الغابہ، تذکرہ عامر بن شہر ہمدانی رضی اللہ عنہ، 3؍83۔
(56) اسد الغابہ، تذکرہ حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ، 1؍334۔
(57) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ، 4؍228۔
(58) اسد الغابہ، تذکرہ سنبر الابراشی رضی اللہ عنہ، 2؍360
(59) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن غزیہ، 4؍323۔
(60) اسد الغابہ، تذکرہ مالک بن احمر رضی اللہ عنہ، 4؍371۔
(61) اسد الغابہ، تذکرہ محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، 4؍334۔
(62) اسد الغابہ، تذکرہ مسعود بن وائل، 4؍360۔
(63) اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن عوسجہ، 3؍239۔
(64) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن یزید، 4؍229۔
(65) ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب، 4؍250۔ تاریخ الامم و الملوک، 3؍157 (واقعات سنہ 10ہجری)
(66) الاستیعاب، تذکرہ معاذ بن جبل۔
(67) اسد الغابہ، تذکرہ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ، 1؍55۔ الاصابہ، تذکرہ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ، 1؍100۔ المستدرک، ذکر احنف بن قیس، 3؍614۔
(68) اسد الغابہ، تذکرہ عبدخیر بن یزید رضی اللہ عنہ، 3؍277۔


For details click the link
http://deeneefiza.blogspot.in/2014/08/blog-post.html

مولانا طارق جمیل بیان تقریر تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن


تبلیغی جماعت،  مدارس
 اوراہل تصوف
 مضبوط ربط ، احترام ورفاقت  اور آپسی تعاون کی ضرورت
انکے بیچ کوئی  غلط فہمی امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے
https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےاردو کتاب 

https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےا

مولانا ابراہیم مرکز نظام الدین نصیحت اردو

ایک گزارش اور درد مند اپیل
آجکل انٹرنیٹ پر کچھ حلقوں کی طرف سے یہ پھیلایا جا رہا ہے کی تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں۔راقم لگ بھگ 20 سال سے دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑا ہے۔اور پورےہندوستان میں جاتا رہا ہے۔اور خوانہ بدوش (کم پڑھے لکھے ) سے لیکر بڑے بڑے  تعلیم یافتہ جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ چلا ہوں ۔مجھے تو ایسے لوگ نہیں ملے۔اسکے بعد بھی میں انکار نہیں کر رہا ہوں کے ایسے لوگ بالکل نہیں ہیں۔ لیکن ایک بات صا ف ہے کی تبلیغی جماعت کا سواد اعظم ایسا نہیں ہے۔
اسلئے جو لوگ اپنے ذاتی تجربہ کے بنیاد پر یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں ان سے درخواست ہے کے وہ اس کی وضاحت کر دیں کہ تبلیغ کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔اور یہ تبلیغی جماعت کے بالکل بنیاد کے خلاف ہے۔اور انہیں  چاہیئے کہ وہ اپنی شکایت نظام الدین مرکز یا رایونڈ  مرکز لکھ دے ۔یہ دین کی بڑی خدمت  ہوگی ۔اور اگر کوئی  کسی اور وجہ  سے یا کسی فرد سے ذاتی  رنجش کی وجہ سے تبلیغی جماعت  کے کام کو بدنام کرے گا تو یہ آخرت کے اعتبار سے بڑا خطرہ ہے۔
نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔
تبلیغی جماعت غلطیوں  سے مبرہ  نہیں  ہے ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے  ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے  ۔ اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ  نہیں  ۔
تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ راست رابطہ کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی  ۔ کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاح  کا ثواب ملے گا ۔
تبلیغ سے جڑے لوگوں سے خاص  درخواست
اسی کے ساتھ تمام تبلیغ سے جڑے لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے۔اور اگر آپ کوئی تحریر ایسی  دیکھں تو  اسکی طح میں جائیں ۔اور اگر بات صحیح ہے تو اپنے ساتھی کی اصلاح کریں ۔اور فرد کی مراتب کے اعتبار سے اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔تاکہ سب کی اصلاح ہو جائے۔
اور اگر غلط ہو تو یہ بات الزام لگانے والے پر پہچائیں  کہ یہ بات غلط تھی ،اور صبر کریں۔میں نے اس طرح کی ایک واقعہ کی  تحقیق کی تو معلوم ہوا کی  دوشخص کی  آپسی رنجش اصل وجہ تھی۔اور وہ ساتھی کسی ترتیب سے نہیں جڑا تھا اور جماعت میں  یا مقامی کام میں کوئی پابند نہیں تھا۔بہر حال   اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے ۔

رح یہ مضمون اس طرح کی بات اور تبلیغ اور مدارس سے جڑے تمام پہلوئوں پر ہمارے مضامین کا حصہ ہے۔اس سلسلے کا کوئی مضمون بھی بھیج سکتے ہیں۔ دعا کی خصوصی درخواست ہے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مسلمان نبی پاک کے بتائے دعوت و تبلیغ کے طریقے پر عمل کئے بغیر ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے':     مولانا  طارق جمیل
 رائے ونڈ :رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوسرے مرحلے میںپہلے روز نماز جمعہ سے قبل امیر جماعت رائے ونڈ حاجی عبدالوہاب نے ہدایات پر مبنی بیان کیا ،نماز جمعہ مولا نا محمد ابراہیم نے پڑھائی جس کے بعد 
 ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن کے بارے تفصیلی خطاب کیا ،
انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان عالم اسلام دعوت و تبلیغ کے کام کو اسی طریقے سے شروع نہیں کریں گے جو حضور اکرم نے بتایا ہے وہ اسی طرح ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے ،کفار ان پر غالب آجائیں گے ،دین سے دور ہونے والے مسلمانوں کے ضمیر کی آواز انہیں سنائی نہیں دے گی ،بزدلی چھا جائے گی ہر غیر سے ڈریں گے اور انہیں ہی سب کچھ مانیں گے ،مسلمانوں کی حالت بداعمالیوں کا نتیجہ ہے ،بم دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے اسلام کے خیر خواہ نہیں،یہ کفر کا ہتھیار بننے والے نامکمل مسلمان ہیں جن کی برین واشنگ کی گئی ہے ،لیکن ان پر غلبہ پانے کیلئے صحیح مسلمان بننا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے سے زیادہ اہم کام مسلمانوں کو مسلمان بنانا ، نام کے مسلمانوں کو کام کے مسلمان، اور قومی مسلمانوں کو دینی مسلمان بنانا ہے۔ حق ہے کہ آج مسلمانوں کو حالت دیکھ کر قرآن پاک کی یہ ندا(اے مسلمانوں ! مسلمان بنو!!) کو پورے زورو شور سے بلند کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کا انتظام ہر زمانے میں جاری رکھا ہے اور اپنی حکمت اور اپنے علم کے ما تحت کبھی قوم در قوم کبھی قبیلہ در قبیلہ اس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہدایت کی محنت کرنے والوں کو انبیا اور رُسل کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور جس قوم کیلئے جن اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا وہی اصول محنت کرنے والوں کو بذریعہ وحی یا الہام عطا فرماتے رہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح حضور اکرم ا تک جاری رہا۔ اور آپ کی بعثت پر سابقہ ترتیب کو ختم فرما کر پورے انسانوں اور قیامت تک کیلئے آقائے نامدار سرور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کا ہادی اور امام قرار دے دیا گیا۔ اس رہبر کامل کوحق تعالیٰ شانہ کی جانب سے کارِ نبوت کے تین فرائض عطا کئے گئے۔ اوّل تلاوت احکام، دوم تعلیم کتاب و حکمت ، سوم تزکیہ، رسول اکرم لوگوں کو پیغام الٰہی پڑھ کر سناتے، حکمت الٰہی کی باتیں سکھاتے، پھر اپنی صحبت فیض اثر سے پاک صاف کرتے، نفوس کا تزکیہ فرماتے، قلوب کے امراض کا علاج کرتے، برائیوں کا زنگ اور میل دور کر کے اعلیٰ اخلاق انسانی کو سنوارتے۔ آپ دوران تبلیغ تالیفِ قلب کا بڑا خیال رکھتے۔ لطف و محبت ، عفوودرگزر اور ہمدردی سے آپ انے بہت سے لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام بنایا۔ حضور اکے طریقہ تبلیغ میں صبرواستقامت کا عنصر بڑا نمایاں تھا۔ دائمی حق و صداقت کی مخالفت اور سختی جس قدر بڑھتی اسی قدر تبلیغ کی شدت زیادہ ہو جاتی۔ باطل کی قوتیں حق کو دبانے کیلئے چاروں طرف سے پورش کر کے آجاتیں تو دائمی انقلاب ایک مضبو چٹان کی طرح جم کر کھڑے ہو جاتے اس ہادی برحق نے خفیہ طور پر بھی پیغام حق دوسروں تک پہنچایا اور پھر اعلانیہ تبلیغ کے مراحل بھی طے کئے غیر ممالک میں تبلیغ کا فریضہ خطوط لکھوا کر پورا کیا غرضیکہ ظاہرو باطنی فرائض یکساں اہمیت سے ادا ہوتے رہے۔ چنانچہ صحابہ اکرام ؓ اور ان کے تابعین اور اولیاءاکرام تک یہ فرائض اسی طرح انجام پاتے رہے۔ اور پھر وہ دور شروع ہوا جس مین مسندِ ظاہر کے درس گو باطن کے کورے اور باطن کے روشن دل ظاہر سے عاری ہونے لگے۔ اور عہد بہ عہد ظاہرو باطن کی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ علوم ظاہرہ کیلئے مدارس کی چاردیواری اور تعلیم و تزکیہ باطن کیلئے خانقاہوں اور رباطوں کی تعمیر عمل میں آئی اور وہ مسجد نبوی جس مین یہ دونوں جلوے یکجا تھے اس کی تجلیات ، مدرسوں اور خانقاہوں کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس سے علماءدین کی بجائے علمائے دنیا برآمد ہونے لگے اور باطن کے مدعی علم شریعت کے اسرار و کمالات سے غافل ہو کر رہ گئے۔ اس دور زبوں میں بھی عالم اسلام میں ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں جو آرائش ظاہر اور جمالِ باطن سے آراستہ و پیراستہ تھیں ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت امام غزالی ؒ، شیخ عبد القادر جیلانی ؒ، حضرت امام بخاری ؒ ، اور حضرت سفیان ثوری نمایاں ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ بھی اسی سلسلہ ولی الٰہی کی ایک کڑی ہیں جس مبارک دینی ماحول میں مولانا محمد الیاس ؒ کی عمر کا ابتدائی حصہ گزرا تھا اس کی مخصوص دینی و روحانی فضا کی وجہ سے بمشکل اس بات کا احساس ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایمان و یقین کی دولت سرعت کے ساتھ نکلتی جارہی ہے۔ دین کی طلب اور قدر سے دل تیزی کے ساتھ خالی ہوتے جارہے ہیں۔ اس ماحول میں چونکہ صرف خواص اہل دین اور اہل طلب سے واسطہ پڑتا تھا اور احساس نہ ہونابے موقع نہ تھا۔ وہاں رہ کر ہی تصور کیا جاسکتا تھا کہ مسلمانوں کی زندگی دعوت و تبلیغ اور دین کی ابتدائی جدوجہد کی منزل سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب صرف مدنی زندگی کے تکمیلی مشاغل کی ضرورت ہے۔ اس لئے وہاں رہ کر مدارس دینیہ کے قیام و اہتمام ، کتاب و سنت کی اشاعت ، درس حدیث، دینی تصانیف و تالیف، قضا افتائ، ردِّ بدعات، اہل باطل سے مناظرہ واحقاقِ حق اور سلوک و تربیت باطنی کے علاوہ کسی اور طرف ذہن کا منتقل ہونا بہت مشکل تھا وہاں کام کی نوعیت یہ تھی گویا زمین ہموار دیتا رہے صرف اس پر پودے اور درخت بٹھانا باقی ہے۔ اس ماحول کا طبعی تقاضا تو یہ تھا کہ آپ بھی انہیں میں سے کسی شعبے کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی خداد استعداد صلاحیت سے اس میں کمال پیدا کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ کی خاص رہنمائی فرمائی اور آپ کی بصیرت پر یہ حقیقت منکشف کر دی کہ جس سرمایا کے اعتماد پر یہ سارا جمع خرچ ہے وہ سرمایا ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے جس زمین پر دین کے یہ درخت نصب کرنا ہیں وہ زمین ریت کی طرح پاں کے نیچے سے کھسکتی جارہی ہے۔ امّہات عقائد میں ضعف پیدا ہو گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے خدا کی خدائی اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کا یقین کمزور ہوتا جارہا ہے اور اجر و ثواب کا شوق (ایمان و احتساب) دل سے اٹھتا جارہا ہے۔ یہ انکشاف اس وضاحت اور قوت کے ساتھ ہو اکہ اس سے مولانا کی زندگی کا رخ بالکل ہی تبدیل ہو گیا۔ طبائع رحجانات کے سیلاب کے رخ کو خداد بصیرت و فراست سے پہچان کر آپ نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ نئے دینی اداروں کا قیام تو الگ رہا پرانے اداروں اور دینی مرکزوں کی حالت بھی خطرے سے باہر نہیں۔ اس لئے کہ وہ رگیں اور شریانیں جس سے ان میں خون زندگی آتا تھا مسلمانوں کے جسم میں برابر خشک ہوتی جارہی ہیں ان کی طلب اور ضرورت کا احساس ہوا کہ اس وقت کا احساس ، ان کی قدر کم ہو رہی ہے مولانا کو اس بات کا پوری شدت سے احساس ہوا کہ ا س وقت سب سے مقدم اور ضروری کام قلب کی تبلیغ اور مسلمانوں میں اپنے مسلمان ہونے کااحساس پیدا کرنا ہے اور یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں کے بجائے اسے سیکھنے کی ضرورت زیادہ ہے یہ احساس اور طلب پیدا ہو گئی تو باقی مراحل خود طے ہو جائیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے ان میں مشغول ہو گئے۔ حالانکہ سرے سے ہی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت باقی ہے اس احساس و طلب اور اسلام کے اصول اپنانے کی تلقین کے طریقہ کار کے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کا کلمہ طیبہ ہی اللہ کی رسی کا وہ سرا ہے جوہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی سرے کو پکڑ کو آپ پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ اس لئے مسلمان جب تک کلمہ کا اقرار کرتا ہے اسے دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی ہے اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اس کا فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔ اس لئے کلمہ کے ذریعے ہی ان میں تقریب پیدا کی جائے کلمہ یاد نہ ہو تو یاد کرایا جائے غلط ہوتو اس کی تصحیح کی جائے کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ خدا کی بندگی اور غلامی اور رسول کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی پابندی پر لایا جائے۔ نیز یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کیلئے اللہ کی مرضی و منشاءاوراس کے احکام و فرائض معلوم ہونے کی ضرورت ہے دنیا کا کوئی ہنر سیکھے اور کچھ وقت ضائع کئے بغیر نہیں آتا۔ دین بھی بے طلب نہیں آتا اس کے لئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔ ان نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا الیاس ؒ نے بستی نظام الدین سے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اس زمانے میں یہ بستی غیر آباد تھی۔ ایک چھوٹی سے کچی مسجد اور حجرے کے سوا یہاں کچھ نہ تھا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے جنوب میں مختصر سی آبادی تھی۔ مسجد میں چند میواتی غریب طالبعلم ہر وقت موجود رہتے تھے یہ زمانہ نہایت تنگدستی اور فقروفاقہ کا تھا۔ عرصہ تک یہ مجاہدہ جفاکشی اور ریاضیت جاری رہی۔ وہ مروجہ تمام ذرائع ابلاغ کو جائز تو سمجھتے تھے مگر انبیاءوالے کام کیلئے اسی سادہ فہم سینہ بہ سینہ، انسان بہ انسان ، زندگی بہ زندگی والے طریق دعوت کو اصل اور افضل سمجھتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اطاعت حق ، حفاظت حق اور اشاعت حق کو ہی اپنا مقصد حیات بنانا چاہیے اور اپنی جان اپنا مال اپنا وقت اور اپنا خون پسینہ اور آنسو بہا کر گمراہ لوگوں کیلئے نفرت اور دشمنی کی بجائے خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ یہ فریضہ انجام دینا چاہیے تاکہ دین کی قدر و قیمت دل میں آ جائے کیونکہ جو چیز مقصد حیات بن جائے اس پر سب کچھ قربان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کو کسی پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔

 Taken with Jazakallah https://groups.google.com/forum/#!topic/dineislam/0IsfPsaxwOY
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مولانا مجیب الرحمن انقلابی
بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ شرک و بدعت، جہالت اور ضلالت و گمراہی کے ”بحرظلمات“ میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپؒ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ”اخص الخواص“ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ”رشد و ہدایت“ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ”مرکزیت“ ختم ہوتی جارہی ہے جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں اب وہ بے نور ہیں، دوسری بات انہوں نے یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقہ تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپؒ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میںپھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک دین سیکھے، کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کا طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں اس لیے مولانا الیاس کاندھلویؒ ضروری سمجھتے تھے کہ اس ”دعوت و تبلیغ“ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص و للہیت کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کے ”احیائ‘ کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہوا اور یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاءکرام علیہم السلام کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ جیسی مقدس اور فرشتہ صفت جماعت پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب ہوئی اور پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فیضاءدینی بنے گی تو لوگوں میںدین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا بلکہ ہر شخص مجسمِ دعوت اور مدرسہ و خانقاہ بن جائے گا۔۔۔
حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی دین کے لیے تڑپ و بے چینی اور درد وبے قراری دیکھنے میں نہیں آتی تھی ، مسلمانوں کی دین سے دوری پر آپؒ انتہائی غمگین و پریشان اوراس فکر میں ڈوبے رہتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر کسی طرح دین دوبارہ زندہ ہو جائے۔۔۔ بعض اوقات اسی فکر میں آپؒ ”ماہی بے آب“ کی طرح تڑپتے آہیں بھرتے اور فرماتے تھے میرے اللہ میں کیا کروں کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ کبھی دین کے اس درد وفکر میں بستر پر کروٹیں بدلتے اور جب بے چینی بڑھتی تو راتوں کو فکر سے اٹھ کر ٹہلنے لگتے۔۔۔ ایک رات اہلیہ محترمہؒ نے آپ ؒ سے پوچھا کہ کیا بات ہے نیند نہیں آتی؟۔۔۔ کئی راتوں سے میں آپؒ کی یہی حالت دیکھ رہی ہوں۔۔۔، جواب میں آپؒ نے فرمایا کہ! کیا بتلاو¿ں اگر تم کو وہ بات معلوم ہو جائے تو جاگنے والا ایک نہ رہے دو ہو جائیں۔۔۔ صرف آپؒ کی اہلیہ محترمہؒ ہی نہیں بلکہ آپؒ کے سوز و درد کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی کے ساتھ لگا سکتا تھا جو آپؒ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور باتیں سنتا تھا، آپؒ کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب لوگوں کے دلوں میں وہی آگ پھونک دیں جس میںوہ عرصہ سے جل رہے تھے۔۔۔ سب اس غم میں تڑپنے لگیں جس میں وہ خود تڑپ رہے تھے، سب میں وہی سوز و گداز پیدا ہو جائے جس کی لطیف لمس سے آپؒ کی روح جھوم اٹھتی تھی جب ایک جاننے والے نے خط کے ذریعہ آپ سے خیریت دریافت کی تو آپؒ نے سوز ودرد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ”طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے“۔
اور پھر مولانا محمد الیاسؒ خود سراپا دعوت بن کر ”دعوت و تبلیغ “ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ”میوات“ کے ہر علاقہ میں پھرے ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دی کئی کئی وقت فاقے کیے، گرمی و سردی سے بے پرواہ ہو کر تبلیغی گشت کیے۔۔۔ اور جب لوگوں نے آپؒ کی حسب خواہش آپؒ کی آواز پر ”لبیک“ نہ کہا تو آپؒ بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کو خدا کے حضور روتے گڑگڑاتے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے دعا کرتے۔۔۔ اور پھر اپنی اہمت و طاقت ، مال ودولت سب کچھ ان میواتیوں پر اور ان کے ذریعہ اس تبلیغی کام پر لگا دیا۔۔۔ اس دوران اپنے رفقاءاور ساتھیوں کو ایک خط میں آپؒ تحریر فرماتے ہیں کہ! تم غور کرو، دنیائے فانی میں کام کےلئے تو گھر کے سارے افراد ہوں او ر اس دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے صرف ایک آدمی کو کہا جائے اور اس پر بھی نباہ نہ ہو تو آخرت کو دنیا سے گھٹایا ،یا نہیں گھٹایا؟۔
    حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اپنے ایک مکتوب میں میواتی حضرات کو تحریر فرماتے ہیں کہ ”میں اپنی قوت و ہمت کو تم میواتیوں پر خرچ کر چکا ، میرے پاس بجز اس کے کہ تم لوگوں کو قربان کردوں کوئی اور پونجی نہیں ہے۔۔۔
    اور پھر دنیا نے دیکھا کہ میواتی حضرات نے اپنے جان و مال اور زندگیوں کو اس کام پر قربان کر دیا۔۔۔ اور پھر ایک ایک گھر سے ایک ہی وقت میں کئی کئی افراد دین کے کام کے لیے باہر نکلنے لگے۔۔۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ابتداءمیں یہی میواتی لوگ جن کو اپنے گھر اور گاو¿ں سے نکلنا مشکل تھا اب وہ مولانا الیاسؒ کی محنت سے اس دعوت و تبلیغ کی فکر لے کر ملک ملک، شہر شہر دین کی خاطر پھرنے لگے۔۔۔
        مولانا الیاسؒ کی یہ عالمگیر”احیائے اسلام کی تحریک“ جیسے ظاہر میں لوگ صرف کلمہ و نماز کی تحریک کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوش کرتے ہیں یہ کوئی معمولی کام اور تحریک نہیں بلکہ یہ پورے دین کو عملی طور پر زندگی میں نفاذ کی تحریک ہے۔۔۔ اس تحریک اور جماعت کے بانی حضرت مولانا الیاس ؒ خود اپنی اس تحریک کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میرا مدعا کوئی پاتا نہیں“ لوگ سمجھتے ہیںیہ”تحریکِ صلوٰة“ ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ہر گز تحریکِ صلوٰة نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت اور تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضورﷺ کا لایا ہوا دین پورا کا پورا سیکھا دیں یہ تو ہماری تحریک کا مقصد، رہی تبلیغی قافلوں کی چلت پھرت، تو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ و نماز کی تلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے۔۔۔۔
    ہماری تبلیغی تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے جذبات پر دین کے جذبہ کو غالب کر کے اور اس راستہ سے مقصد کی دعوت کو پیدا کرتے ہوئے اور اکرام مسلم کے اصول کو رواج دے کر پوری قوم کو اس حدیث کے مصداق بنایا جائے۔
    ترجمہ: ”تمام مسلمان ایک جسم و جان کی مانند ہیں“۔ اور ہمارے تبلیغی کام میں اخلاص، صدقِ دل کے ساتھ اجتماعیت اور مل جل کر باہمی مشورے کے ساتھ کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے اور اس کے بغیر بڑا خطرہ ہے۔۔۔
    مولانا الیاسؒ نے اس دعوت و تبلیغ والے کام کے طریقہ کار اور چھ اصولوں کے علاوہ کچھ مطالبے اور دینی تقاضے بھی رکھے ہیں جس کے تحت اس دعوت و تبلیغ والے کام کی محنت و ترتیب اور مشورہ کے لیے روزانہ کم از کم دو سے تین گھنٹے وقت دینا، ذکر و اذکار اور اعمال کی پابندی کرناروزانہ دو تعلیمیں کروانا ایک مسجد میں اور ایک گھر میں، ہفتہ میںدو گشت کرنا، جس کے تحت کچھ وقت نکال کر اپنے ماحول میں ضروریات دین کی تبلیغ کےلئے باقاعدہ جماعت بنا کرایک امیر اور ایک نظام کی ماتحتی میں اپنی جگہ اور قرب و جوار میں تبلیغی گشت کرنا، ہر مہینہ میں تین دن اس دعوت و تبلیغ والے کام میں لگاتے ہوئے اپنے شہر یا قرب و جوار کے علاقہ میں گشت و اجتماع کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اس دعوت و تبلیغ والے کام پر نکلنے کےلئے امادہ اور تیار کرنا، سال میں ایک ”چلہ“ یعنی چالیس دن اللہ کے راستہ میں دعوت و تبلیغ کےلئے لگانا، اور پھر چار مہینے(تین چلے) اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نکل کر لگاتے ہوئے دین اور اس دعوت و تبلیغ والے کام کو سیکھے اور پھر ساری زندگی اسی کام میں صرف کرنا۔ بقول حضرت مولانا پالن پوری رحمة اللہ علیہ کے کہ ”اس دعوت و تبلیغ والے کام کو کرتے کرتے مرنا اور مرتے مرتے کرناہے“۔



    مولانا محمد الیاسؒ نے اس دعوتی سفر اور نقل و حرکت کے ایام کا ایک مکمل نظام الاوقات مرتب کیا جس کے تحت یہ تبلیغی جماعتیں اپنا وقت گزراتی ہیں۔۔۔ ایک وقت میں گشت، ایک وقت میں اجتماع، ایک وقت میں تعلیم، ایک وقت میں حوائج ضروری کا پورا کرنا اور پھر ان سارے کاموں کی ترتیب و تنظیم۔۔۔ گویا کہ یہ تبلیغی جماعت ایک چلتی پھرتی خانقاہ، متحرک دینی مدرسہ، اخلاقی و دینی تربیت گاہ بن جاتی ہے۔ مولانا الیاسؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے طریقہ کار میں دین کے واسطہ جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیّت حاصل ہے، اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک دینی ماحول میں آجاتا ہے۔۔۔ اور پھر اس دعوت و تبلیغ والے سفر اور ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اللہ کے لیے برداشت کرنا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہوتی ہیں۔
    بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ ایک موقعہ پر فرماتے ہیں ”یہ امت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی زبان کا حامی نہ تھا، مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی نہ تھا بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھتا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کیا فرماتے ہیں؟۔۔۔ امت جب ہی بنتی ہے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مقابلہ میں سارے رشتے اور سارے تعلقات کٹ جائیں، جب مسلمان ایک امت تھے تو ایک مسلمان کہیں قتل ہوتا تو ساری امت ہل جاتی اور تڑپ اٹھتی، اب ہزاروں، لاکھوں مسلمانوں کے گلے کٹتے ہیں اور کانوں میں جوں نہیں رینگتی“۔
    آج پوری دنیا میں تبلیغی جماعت اس دعوت و تبلیغ والے کام کو پوری محنت، اخلاص وللہیت اور ایک نظم کے ساتھ کر رہی ہے اور اس کام کے اثرات و ثمرات سے آج کوئی بھی ذی ہوش انسان انکاری نہیں۔۔۔۔ اللہ کی مدد و نصرت سے ناقابل یقین حد تک کامیابی ہو رہی ہے۔۔۔ دن رات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و معصیت اور فسق و فجور میں زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد اس تبلیغی جماعت کی بدولت تہجد گزار، متقی، پرہیز گار اور دین کے داعی بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں، دعوت و تبلیغ والے اس کام کی مثال پوری دنیا میں کسی مذہب والے کے پاس نہیں ہے۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمة اللہ علیہ اس تبلیغی جماعت کی افادیت و ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اصلاح نفس کے چار طریقے ہیں اور حُسنِ اتفاق سے ”تبلیغ“ کے اندر یہ چاروں طریقے جمع ہیں، صحبتِ صالح بھی ہے، ذکر و فکر بھی، مواخات فی اللہ بھی ہے، دشمن سے عبرت و موعظت بھی اور محاسبہ نفس بھی ہے۔۔۔ اور انہی چاروں کے مجموعہ کا نام ”تبلیغی جماعت“ ہے عام لوگوں کے لیے اصلاح نفس کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ، اس طریقہ کار سے دین عام ہوتا جا رہا ہے اور ہر ملک کے اندر یہ صدا پہنچتی چلی جا رہی ہے اور اس کے ذریعہ لوگوں کے عقائد درست ہو رہے ہیں، لوگ تیزی کے ساتھ اعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو حضورﷺ کی زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ تبلیغی جماعت مخلوق کو مخلوق کی غلامی سے نکال کرخالق کی بندگی و غلامی میں لانے، صحابہ کرامؓ جیسی پاکیزہ صفات و عادات کو اپنانے اور پیدا کرنے، صبح جاگنے سے لے کر رات سونے تک، کھانے پینے سے لے کر بیت الخلاءتک۔۔۔ گویا کہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک پوری زندگی میں دین لانے کی کوشش اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے اور خالق ہی سے سب کچھ ہونے کا یقین دلوں میں پیدا کرنے میں مصروف ہے، حقیقت یہ ہے کہ جس کام مین بھی جان و مال اور وقت یہ تین قیمتی چیزیں خرچ ہو جائین تو وہ کام بھی قیمتی ہو جاتاہے۔۔۔ تبلیغی جماعت بھی آج دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام میں جان و مال اور وقت لگا کر یہ کام پوری دنیا میں کرنے اور پھیلانے میں مصروف ہے۔۔۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/09-Nov-2012/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%BA%DB%8C-%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%88---%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%B1%DA%A9%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92
تبلیغ کی ضرورت و اہمیت
/http://shaheedeislam.com


تبلیغ کی ضرورت و اہمیت
س… میرا مسئلہ تبلیغ سے متعلق ہے، قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھتا ہوں: “تم بہترین اُمت ہو، لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو، تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے ہو اور بُرے کام سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔” دُوسری آیت کا ترجمہ: “اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی ضروری ہے جو خیر کی طرف بلائے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کرے اور بُرے کام سے منع کرے، ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔” ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “جو شخص کسی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھے، اگر اس پر قدرت ہو تو اس کو ہاتھ سے بند کردے، اتنی قدرت نہ ہو تو دِل میں بُرا جانے، اور یہ ایمان کا بہت کم درجہ ہے۔” ایک دُوسری حدیث کا مفہوم ہے: “تمام نیک اعمال جہاد کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں، اور تبلیغِ دِین ایک سمندر ہے، اور جہاد، تبلیغ کے مقابلے میں پس ایک قطرہ ہے” آیت اور حدیث کی روشنی میں ان کا جواب دیں۔
ج… آپ نے صحیح لکھا ہے، دِین کی دعوت دینا، لوگوں کو نیک کاموں پر لگانا اور بُرے کاموں سے روکنا بہت بڑا عمل ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرے اور بقدرِ استطاعت ان کو نیکیوں پر لگائے اور بُرائیوں سے بچائے۔ آخری حدیث جو آپ نے لکھی ہے، یہ میری نظر سے نہیں گزری۔

کیا تبلیغی جماعت سے جڑنا ضروری ہے؟
س… جماعت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کام میں جڑنے کے علاوہ بھی اصلاح اور ایک مخصوص ذمہ داری بحیثیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مسلمان اُمتی ہونے کے ادا ہوسکتی ہے؟ ایک مسلمان کے ذمے کیا ہے؟ وہ کیسے اپنی زندگی کا رُخ صحیح کرے؟ اور ساری انسانیت کے لئے فکرمند کیونکر ہو؟
ج… جماعت بہت مبارک کام کر رہی ہے، اس میں جتنا وقت بھی لگایا جاسکے ضرور لگانا چاہئے، اس سے اپنی اور اُمت کی اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے، اور اپنے نفس کی اصلاح کے لئے کسی شیخِ کامل محقق کے ساتھ اصلاحی تعلق رکھنا چاہئے۔

طائف سے واپسی پر آنحضرت ﷺ کا حج کے موقع پر تبلیغ کرنا
س… کیا طائف سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ سے روک دیا گیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حج کے موقع پر ہی دِین کی تبلیغ کرسکتے تھے؟
ج… کفار کی جانب سے تبلیغ پر پابندی لگانے کی ہمیشہ کوشش ہوتی رہی، لیکن یہ پابندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی قبول نہیں فرمائی، البتہ جب یہ دیکھا کہ اہلِ مکہ میں فی الحال قبولِ حق کی استعداد نہیں اور نہ یہاں رہ کر آزادانہ تبلیغ کے مواقع ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسمِ حج میں باہر سے آنے والے قبائل کو دعوت پیش کرنے کا زیادہ اہتمام فرمایا، جس سے یہ مقصد تھا کہ اگر باہر کوئی محفوظ جگہ اور مضبوط جماعت میسر آجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ہجرت کرجائیں۔

کیا نماز کی دعوت اور سنت کی تلقین ہی تبلیغ ہے؟
س… تبلیغ کے کیا معنی ہیں؟ اور اس کا دائرہٴ کار کیا ہے؟ کیا نماز کی دعوت اور سنت کی تلقین ہی تبلیغ ہے؟ اگر کوئی شخص معاشرے کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ اقتدار کے لئے ایسا کرتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کریں تو دُنیا قدموں میں خودبخود آجائے گی، حالانکہ مقصد اصلاحِ معاشرہ ہے اور معاشرے کو ان بُرائیوں سے بچانا مقصود ہے جو اسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص یا جماعت کا یہ فعل کس حد تک اسلام کے مطابق ہے؟ کیا یہ تبلیغ کی مد میں شامل ہے؟
ج… معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے، افراد کی اصلاح ہوگی تو معاشرے کی اصلاح ہوگی، اور جب تک افراد کی اصلاح نہیں ہوتی، اصلاحِ معاشرہ کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ پس جو حضرات بھی افراد سازی کا کام کر رہے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔
          تبلیغ کا دائرہٴ کار تو پورے دِین پر حاوی ہے، مگر نماز دِین کا اوّلین ستون ہے، جب تک نماز کی دعوت نہیں چلے گی اور لوگ نماز پر نہیں آئیں گے، نہ ان میں دِین آئے گا اور نہ ان کی اصلاح ہوگی، اور ہر کام میں سنتِ نبوی کو اپنانے کی دعوت، درحقیقت پورے دِین کی دعوت ہے، کیونکہ سنت ہی دِین کی شاہراہ ہے، اس لئے بلاشبہ نماز اور سنت کی دعوت ہی دِین کی تبلیغ ہے۔