Pages

Showing posts with label The Elders. Show all posts
Showing posts with label The Elders. Show all posts

Maulana Qasim Quraishi Banglore passed away Intaqal

Bade Ranj o Gham ke saath yeh Ittala di ja rahi hai ki 

MOULANA QASIM QURESHI SAHAB (Banglore)
 KA AAJ (23/07/2016) ASAR KI NAMAZ K BAAD
INTEQAAL HOGAYA HAI 
. _inna lillahi wa inna ilaahi razioon_

 بڑے ہی رنج وغم کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ شہربنگلور کرناٹک  کے معروف عالم دین حضرت مولانا قاسم قریشی صاحب کا بعد عصر انتقال ہو گیا ہے


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 

INNA LILLAHI WA INNA LILLAHI RAJEOON.............

داعئی کبیرحضرت مولانا قاسم قریشی صاحب ؒ جن کے وجود سے دعوت وتبلیغ میں جان پڑی اور کام کرنے والوں میں حقیقی جذبات پیداہوئے، جان، مال، وقت، لگانے کا اصل مفہوم آپکی زندگی سے سمجھ میں آیا، آپ کی ذات فنافی التبلیغ تھی، مرتے مرتے کرنا ہے، اور کرتے کرتے مرنا ہے کا آپ مصداق تھے، آپ کا وجود حلقۂ دعوت وتبلیغ میں خیرکا باعث تھا، آپ نے اپنی زندگی میں دعوت و تبلیغ کے لئے بہت دکھ اور تکلیف اٹھائے ہیں، ، آپکی تقریر واقعتاً انقلاب آفریں ہوتی تھی، جس سے ہزاروں کی زندگیاں بدلی ہیں، اللہ آپ کوجزائے خیرعطاءفرمائے، جنت الفردوس 
میں اعلی مقام عطاء فرمائے،
************************************************************************
میں بھی موجود تھا وہان
از : ع ز قاسمی

بزرگ عالم دین دعوت وتبلیغ کے امیر براے کرناٹک حضرت مولاناقاسم قریشی صاحب کی نماز جنازہ تیار تھی .سلطان شاہ کا اندرونی حصہ صوبہ اور بیرن صوبہ سے آے ہوے عقیدت مندوں کے جم غفیر سے کھچا کھچ بھرا تھا 
مین سلطان شاہ کے عقب مین واقع چھوٹے میدان مین تھا جہاں نماز جنازہ کے لیے صف بندی ہو رہی تھی
یہاں بھی تاحد نظر انسانوں کا ایک ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر دکھائ دے رہا تھا  
مائک سے ایک بزرگ کچھ بیان فرما رہے تھے 
میرا خیال تھا کہ شاید وہ مولانا کی حیات و خدمات اور ان کے کار ناموں پر روشنی ڈال رہے ہوں گے 
دور دراز سے آے ہوے عقیدت مند جن کی آنکھین اپنے ایک عظیم قائد کے بچھڑ جانے سے اشک بار تھین ان کی اشک شوئ کر رہے ہوں گے 
ان کو دلاسہ دے رہے ہوں گے

مین نے کان لگاے تو مائک سے بلند ہونے والی صدائین کچھ اور کہ رہی تھین

لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ آپ اپنی حیات مستعار کو خدا کے لیے وقف کردین 
چالیس دن اور چار مہینے کی تشکیل ہو رہی تھی 
لوگوں کو دعوت و تبلیغ کی اہمیت کو سمجھایا جارہا تھا 
گویا دعوت وتبلیغ کے مشن کو ایک لمحے کے لیے بھی فراموش نہیں کیا گیا تھا 
ایک دھن سوار تھی 
باھر کھڑے لوگ اشک بہا رہے تھے اور اندر کے حضرات سکون واطمنان کے ساتھ دعوت وتبلیغ سے متعلق سر گرمیوں مین مشغول تھے

مین کھڑا ہوا سوچ رہا تھا کہ دعوت وتبلیغ کی شاید انہی خوبیوں کی وجہ سے الله نے اس جماعت کو وہ مقام بخشا ہے کہ دنیا کا کوئ کونہ ایسا باقی نہیں ہے جہاں اس محنت سے لوگ نہ جڑے ہوں 
بس ایک جنوں ہے
ایک دیونگی ہے 
کہ لوگ ایک خدا سے روشناس کیسے ہو جائین
اور سرور کائنات حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا کیسے ہو جائین
دعوت وتبلیغ سے جڑے لوگوں مین جب تک یہ جنوں باقی ہے دنیا کی کوئ طاقت ان کا بال بانکا نہین کر سکتی      
       مفتی عیسی زاھد قاسمی




May Allah SWT forgive him, grant him the highest rank in Jannah give sabr to his family members. And Allah give us Best replacement (bahtareen Naemul badal ).

The journey of a Muslim believer (soul) after death 

Everyone has to die one day. Allah says in the Quran:
 
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الأنبياء: 35
 

“Everyone is going to taste death, and We shall make a trial of you with evil and with good, and to Us you will be returned.” Quran (Surah Al-Anbiya:21)
However, the return of every soul to the afterlife shall depend on its state of righteousness in this world. To the pious believers, it will be said (as stated in the Quran):

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (الفجر: 27).
ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: 28).
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (الفجر: 29).
وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: 30). 
 

27. (It will be said to the pious): “O (you) the one in (complete) rest and satisfaction!.
28. “Come back to your Lord well-pleased (yourself) and well-pleasing (unto Him)!.
29. “Enter you then among My (honored) slaves,.
30. “And enter you My Paradise!”


Maut-ul-Alim, Maut-ul-Alam (Death of a scholar is a loss to the whole Universe)


He talk used to be Full of Akhlaqiat , manner, etiquette, Maashrat and remeberance of Akhirah (life after death) the eternal life after death.

May Allah SWT give him place in Janat-ul-firdaus (amin)..

حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب Haji Abdul Wahab

 حاجیمحمد عبد الوہاب 
 ہمارے اندازہ میں ایسی شخصیت پوری دنیا میں کم ہوگی
کہ جس کا سوائے اللہ کے؛
کوئی آگے ہو نہ پیچھے، اور جس نے دین کے لیے سب کچھ چھوڑدیا ہو،
جس کی سوچ و بچار اور خیالات و فکر کا محور اور دائرہ؛ اُمت کی اصلاح و فکر ہو،
حاجی محمد عبد الوہاب ۱۹۲۳ء؁ کو دہلی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اِبتدائی دِینی و عصری تعلیم حاصل کر کے اِسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور وہاں عصری علوم کی تکمیل کر کے تحصیل دار کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 
 مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی حیات ہی میں تبلیغی کام سے منسلک ہوکر فنا فی التبلیغ ہوگئے، یہاں تک کہ نوکری بھی چھوڑدی، اولاد کوئی تھی نہیں، اہلیہ کا کچھ عرصہ کے بعد اِنتقال ہوگیا، حق تعالیٰ نے ہر طرف سے آپ کو تبلیغ کے لیے عافیت عطا فرمادی، یوں آپ نے اپنے کو تبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ ا۔
بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ سے قائم کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے اور ایک قول کے مطابق حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بھی خلافت حاصل ہوئی۔ یوں اس وقت آپ ہر دو مشائخ کے آخری خلیفہ ہیں۔ آپ کی قریب قریب ایک صدی پر محیط پوری زندگی دعوت و عزیمت سے عبارت ہے، آپ نے مروجہ طریق پر درس نظامی کی کتب نہیں پڑھی ہیں چنانچہ آپ باقاعدہ عالم نہیں کہلاتے لیکن جب مجمع عام میں بیان کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرمایا ہے۔
حضرت حاجی محمد عبد الوہاب صاحب اور ان جیسے دوسرے حضرات نے اس راہِ وفا میں جو تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور جو تنگی و ترشی برداشت کی ہے اور جن مصائب و مشکلات سے گزرے ہیں، ہم جیسا اس کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا، اللہ کے دین کے لیے پورا پورا دن بھوکا پیاسا پیدل چل چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور لوگوں کی باتیں، گالیاں سن کر ماریں کھاکر دین کی محنت ان پر کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ حق تعالیٰ ان کو اپنی شایانِ شان بدلہ عطا فرمائے۔

Muslims Marriage and Traditions

Simple Nikaah - Leading by Example

 

Many, who saw this, followed Hazrat’s (rahmatullahi ‘alaih) example when their daughters got married. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) received numerous letters saying that if marriages continued in this way many useless customs and innovations would be abolished. At the same time the Ummah’s financial resources will be saved. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) desired that all Muslims follow this simple manner in their weddings. (Hazrat Mufti Mahmood Hasan Gangohi (rahmatullahi ‘alaih) – His life and works, pg. 118)

Jazakallah o khair Taken from and for more visit http://alhaadi.org.za/

Hafiz Muhammad Patel England


‬:  داعی اسلام حافظ محمد پٹیل رحمہ اللہ

🌴 اسلام تو نازل ہی اس لیے ہوا  کہ اس نے ہر سو پھیلنا ہے ، تاقیامت رہنا ہے۔ یہ خداوند قدوس کا پسندیدہ دین ہے اس میں ساری انسانیت کی دنیاوی اور اخروی کامیابیاں ہیں۔

☄یہ خدا کی وہ امانت ہے جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کڑے اور تلخ حالات میں امت تک دیانت بلکہ حق دیانت کے ساتھ باکمال پہنچائی جب جہالت، ضد، انا اور خواہشات کے بتوں کو پوجنے والے کسی کی نہیں سنتے تھے۔ پھر دین کی اسی دعوت کو لے کر امت کے جلیل القدر طبقات صحابہ و اہل بیت ، تابعین و تبع تابعین ، فقہاء ، محدثین ، مفسرین اور اولیاء اللہ لےکر  چلے ۔


💐 دعوت کا یہ عمل حالات کے مدوجزر کے مطابق اپنے آپ کو برقرار رکھتے ہوئے بلاتعطل پوری آب و تاب کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ اس نے اپنے داعیوں کی تربیت تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی بنیادوں پر کی یعنی باہم حق بات کی تلقین کو مسلسل دہراتے رہنا تاکہ تمہارا ایمان و ایقان پختگی کے اعلی درجے کو پہنچ جائے۔ اور اگر حالات ناموافق آ جائیں تو دل برداشتہ ہو کر اسلام کے دامن عافیت سے ہاتھ نہیں کھینچنا بلکہ خدائے حکیم و خبیر کے حکم صبر پر لبیک کہتے رہنا ۔


🌺پچھلی صدی عیسوی میں دین اسلام کی اشاعت کو جو انتظامی طور پر منظم شکل دی گئی وہ حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی رحمہ اللہ بانی تبلیغی جماعت کی فراست ایمانیہ کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کےتمام خطوں میں بسنے والے انسانوں تک اسلام کا پر امن اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں پر منحصر نظام سامنے آ چکا ہے ۔

🌷 برصغیر میں تبلیغ دین کا عمل نسبتاً یورپ کے آسان ہے کیونکہ یہاں کے لوگوں پر اکابر علماء اہل السنت والجماعت کی علمی، عملی، روحانی ، اخلاقی اور فکری تربیت زیادہ رہی ہے ۔ آج کے اس دور میں جب یورپ کا نام سنتے ہیں فحاشی ، عریانی ، بے حیائی ، بے لباسی ، بے شرمی اور فکری آوارگی کا تصور ابھر کر ذہن کو پراگندہ کر دیتا ہے-

🌸 ایسے دور میں یورپ میں اسلام کی دعوت انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے ۔ ان حالات میں اللہ کریم نے اپنے جس عظیم ولی کا انتخاب کیا دنیا اسے حافظ محمد پٹیل رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے ۔

🌴 آپ1962ء میں انڈیا سے دل میں ایک درد ، کڑھن ، جذبہ لے کر یورپ تشریف لائے۔ آپ نے اس عرصے میں یہاں کے کئی بڑے بڑے دینی مراکز قائم کیے۔ کئی مساجد بنوائیں ، خلق خدا کی کثیر تعداد کو تبلیغ جیسی عظیم محنت سے وابستہ کیا۔ ہزاروں لوگوں کی دل کی دنیا بدلی۔ ان کو یورپ کی غلاظتوں سے پاک کر کے اسلام کے پاکیزہ ماحول سے متعارف کرایا۔ کئی لوگوں کو دولت ایمان سے مالا مال فرمایا۔ اور یہاں کے باسیوں کو دین حق کی حقیقت سے آشنا کرایا۔ ساری زندگی اللہ کے لیے وقف کی حالات کے تیکھے اور تند و تیز جھکڑچلے ۔

🍃 فحاشی و عریانی ، بے راہ روی کے منہ زور سیلاب آئے۔ لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ وہاں کے لوگوں کو اس سے بچایا ۔ بلکہ ان میں ایسی روح پھونکی کہ وہ دوسروں کو بچانے والے بن گئے ۔
🕯جس ذات کی محبت، قربت، معیت، وصل اور رضا کے حصول کے لیے آپ نے زندگی بھر تکالیف و مصائب کا سامنا کیا۔ مشکلات جھیلیں بالآخر اسی کے آغوش رحمت میں جا کر ڈیرے لگالیے ۔

Madarsa Ulama Tablighi Jamaat Khanqah

It was an ache that it distressed him all the time; he couldn’t eat, he couldn’t sleep. was a worry that had engulfed all other worries; it was a topic, the explanation and elucidation of which took up all energies of his tongue and pen to the extent that writing on any other subject was a trial for him. He had written to Shaykhul Hadith Maulana Zakarya (rahimuhullah), “My heartfelt desire is that at least my brain, thought, time, and energy should be limited to nothing but this work.”He used to say, “How can any other occupation be lawful for me when I see that the soul of Rasulullah (sallallahu ‘alaihe wasallam) is distressed (because of the weakness of the Muslims’ faith and the supremacy of kufr).”
One day an attendant complained that he saw a lack of attention and affection in his behaviour as previously compared. He replied, “I am very busy; I feel that Rasulullah (sallallahu ‘alaihe wasallam) is in distress; I cannot pay attention to anything else.”
He did not attend gatherings where there was little chance of putting forward his message; he disliked going for the sake of an obligation only. He used to say, “If you go to a place, go with your message and put it forward, keep your invitation above anything.”
Once in Delhi, he had to perforce attend a wedding ceremony of an acquaintance. He addressed the gathering at the wedding thus, “Today is the happiest of days for you when even the lowliest is pleased; it is not done to displease even the sweeperess tell me! Do you have any concern of pleasing Rasulullah (sallallahu ‘alaihe wasallam)?” then he explained that the endeavour to revive the deen brought by Rasulullah (sallallahu ‘alaihe wasallam) was the greatest way to please him (sallallahu ‘alaihe wasallam).
This fine references are of the founder of the Tablighi Jama’at, Maulana Muhammad Ilyas Noorullah marqadahu, who adored calling to the Faith to such extent that all other sensory pleasures and opinions were dimmed before them; this spiritual pleasure had become sensory and natural for him.
Once, Maulana had defined ‘Ishq’, (adoration) as such, “The pleasures and interests of man that are divided between so many things come out and converge at one point; this is Ishq.” This definition was personified in the Maulana himself. He used to sob and cry on the departure of the ummah from its deen. Sometimes he used to writhe in pain, sigh, sob, and complain, “O Allah! What else should I do? I am not doing enough.” Sometimes he used to turn agonizingly on his bed, then get up and pace the room. One night his wife at last asked him, “What is the matter? Can you not sleep?” he answered, “What can I tell you? If you get to know what I do then the waking ones will become two.”
The result of this heart ache and dedication to his aim was that in just a few years, the ache that had bothered one breast caught fire in hundreds. The Mewatis who had become half Hindu despite being called Muslims, who celebrated many of the Hindu festivals, whose villages rarely had a mosque in them, who even used to kill their newborns; suddenly, little beacons of light sprung up in the same Mewati dwellings. Mosques were built, religious schools and madaris mushroomed, the number of huffaz exceeded hundreds, and there was a good number of qualified `ulama. The birth of the love of Imaan extinguished the following of kufr. The customs and traditions that had come to be a way of life for them began to be eradicated.
An experienced Mewati explained this in a very clear manner when he was asked what was happening in his area; he said, “I don’t know anything else, what I do know is some things for which we used to strive and they did not happen, are happening on their own; some things which we tried to stop with battles and great endeavour and did not stop, are being stopped on their own.”
Hazrat Maulana Muhammad Ilyas had a keen concern that if the `ulama did not overlook the preaching and this task was left to the common man alone, it would develop lots of flaws. His wish was for the educated `ulama to take an interest in this task and use their God gifted talents for the propagation of this work. Because most of his life Maulana had been associated to learning, he knew intimately the pursuits of the madaris, its teachers, and students. He wanted them to join hands with this work of calling to God but he also wanted a way out that would help those of the madaris in their learning but not interfere with it. He writes, “Deen can progress and develop according to the progress and development of learning, and under the progress and development of learning. It would be the greatest of losses if my movement caused any set back to learning. I do not mean by tabligh to prevent or hurt progress towards learning”
He used to council the groups going in the way of Allah for tabligh to sit and learn from the gatherings of elders with the intention of improving oneself, and never to mention their own work in their presence. If the elders asked anything of their own accord, well and good, otherwise they were to keep silent. He wrote to Shaykhul Hadith Maulana Zakarya rahamahullah ‘alaih, “I have an old wish, that these groups benefit from the khanqahs, keeping to all the manners of khanqahs, and that the missionary work be done in particular timings in surrounding villages.
(Please) make a plan concerning this after council with the coming groups. This humble person is also overwhelmed with the wish to attend with some companions; I am also thinking of Deoband and Thana Bhawan.”
Hakim-ul-Ummah, Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanvi was of the opinion that when `ulama educated for eight to ten years failed to solve some matters when on mission work, what would the ignorant Mewatis do without any formal education and training? His cautious and farsighted nature was unsatisfied and he feared some harm would come out of it. But when he received continuous news that the groups were working under supervision of the `ulama and getting guidance from them, and that they did not mention anything for which they were not allowed, he became satisfied.
The founder of the Jama’at always tried to link the workers of Tabligh to the `ulama. He used to stress the importance of `ulama, the need to benefit from them, the rewards of meeting them, and used to teach the manners of talking to them. He used to educate the workers to take the best possible explanation of things they did not understand and keep their faith in the scholars. The results of this effort became apparent when those big businessmen who were against the `ulama started attending their gatherings with respect and reverence and invited them for discourses to their congregations. They did not have the condition that only those `ulama would give talks who had spent time in the Jama’at; all authentic and righteous `ulama were invited.
The connection of Shaykhul Islam Maulana Sayyed Hussein Ahmad Madani (rahimuhullah) with politics was no secret, but he often gave discourses in gatherings although he had not spent any formal time in the Jama’at. Maulana Sayyed Abul Hassan Ali Nadvi (rahimuhullah), who was the heart and soul of Nadvatul `ulama and who is unaware of the barrier between the Nadwah and the rest of the madaris because of its special ambience and isolation of some of its founders his dealing with the founder of the Jama’at was totally different. Hazrat Ilyas respected and loved all `ulama and so he did Ali Mian (rahimuhullah), and gave importance to his advise.
One day Ali Mian said that although the Nadwah had always extended an effectionate hand towards the people of deen, they had seldom had a positive response; thank God that he, Maulana Ilyas, had been loving towards them. Tears ran down Maulana’s face and he said, “What are you saying? Your Jama’at is that of deen; I am not in favour of leaving out even the people from Aligarh.” Besides Ali Mian, Hazrat Maulana Manzoor Ahmad Naumani rahimihullah was also among Maulana’s close associates. Hazrat Maulana Abdul Qadir Raipoori was also a frequent visitor.
Not even a blind person can deny the fruit born by the whole world seems in a stir by its blessing, millions of people have been reformed by joining it; but despite all this, there is a need for guidance from the `ulama at each step. God forbid, if a rift is created between the Jama’at and the `ulama and the `ulama are made to follow the Jama’at instead of the other way round, it will have grave results for the religious circles.

Syed Abul Hasan Ali Hasani Nadvi and Tablighi Jamaat Ali Miyan

Syed Abul Hasan Ali Hasani Nadvi Rahimullah ( ابوالحسن علی حسنی ندوی) (affectionately and Popularly known as Ali Miyan ).The Faisal Award winner writer of Over hundred islamic books. Former President of All India Muslim Personal Law Board and Vice chancellor of Nadva tul Ulema , Former Patron Oxford Islamic centre.

He was on of the most close confident of Maulana IlyasRahimullah. And he was the man who introduced the work of Tabligh outside the Mewat area and he introduced and popularise in the circle of Ulemas, scholars and elite of the Ummah. His writing association and views about Tablighi Jamaat ( Jamat tut Tabligh ) is being summaraised here.


Attention of Ulemas and Islamic Scholars to the work around 1939
In Dec, 1939, three big personalities of India Maulana Abul Hasan Ali Nadvi(R.A), Maulana Manzoor Nomani(R.A) and Abdul Wahid Sb M.A.(R.A),planned to observe the religious work going on by different people/organization and to make a decision about themselves to join.

Akhiri Nabi ke Darbar mein Hazri آخری نبی ﷺکے دربار میں

Akhiri Nabi Sallallahi Alaihi Wasallam ke Darbar Mein Hazri ke liye Madeena Pak jane Jane wale Mukhtalif Maidanon mein deen ki khidmat karne wale Ashab Ilm o Taqwa o Saltanat aur unke nikle hue duaon aue Ahsasat ka ankho dekha hal (dil ki ankhon se) Ek Ashiq e rasool ki zabani


آخری نبی ﷺکے دربار میں



Mufi Kifayatullah Sb Mufti e Azam Hind on Tablighi Jamaat

Attention of Ulemas and Islamic Scholars to the Tablighi jamaat work around 1939
In Dec, 1939, three big personalities of India Maulana Abul Hasan Ali Nadvi(R.A), Maulana Manzoor Nomani(R.A) and Abdul Wahid Sb M.A.(R.A),planned to observe the religious work going on by different people/organization and to make a decision about themselves to join.
(They visited Saharanpur, Raipur and in Raipur Abdurraheem Sb Raipuri advised them to visit Maulana Ilyas (R.A.) at NIZAMUDDIN,Delhi and to see the ongoing work of Dawah.  
They were aware with the name of maulaana Ilyas and had recently read an article about his Dawah Movement in Mgazine Tarjumanul Quran  of SHAABAN 1358 Hijri written by Maulana Abul Ala Maudoodi (R.A)(the Renowed writer and founder of Jamaat e Islami) ,after visiting Maulana Ilyas at Nizamuddin and visiting the areas of mewat. That article was in praise of Tabligh work,The title of this article was “EK DEENI TAHRREK (A religious movement). So with advice of Raipuri Rahmatullah Alaihi their plan to visit Nizamuddin became final.  
(Ref.Autobiography of Abul Hasan Ali Nadvi “KARWANE ZINDAGI” vol 4)

Spread and Acceptance of work by Ulemas
Abul Hasan Ali Nadvi R.A started taking formal and active participation  along with Maulana Manzoor Nomani R.A and it helped much for spreading of work among Ulema and Madarsas. 
With there participation the work got an interface at a time when other Ulemas were not much attentive to the work. Maulana Ilyas has always acknowledged it and always praised Maulana Ali Miyan. 
Ali Miyan visited Peshawar and other parts of (Pakistan)  undivided India besides actively doing the effort in India.Apart from this other Ulemas were also took part. 


An important Mashwara was called to discuss the ways of participation of students of Madarsa which was attended by 
Qari Tayyab Sb (R.A) Rector of Darul Uloom Deoband,
Mufi Kifayatullah Sb Mufti e Azam Hind,
Maulana Mohammad Shafi Sb of Madarsa Abdurrab Delhi,
Hafiz Abdullateef Sb of Muzahirul uloom Saharanpur,
Maulana Aizaz Ali ,teacher of Darul Uloom Deoband,
Maulana zakariya and 
Maulana Abdul Qadir Sb Raipuri 
(RAHMATULLAH ALAIHIM) (Ref :Biography of Ali Miyan:Sawane Mufakkirul Islam page no 197-205,Life and mission of maulana ilyas page no 159)

الشيخ محمد يوسف الكاندهلوي الحياة والمنهج في الدعوة جماعة التبليغ

الشيخ محمد يوسف الكاندهلوي الحياة والمنهج في الدعوة جماعة التبليغ


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آ خر بيان للشيخ المحدث محمد يوسف الكاندهلوي
بعد فجر الثلاثاء قبل وفاته بثلاثة ايام عام 1384 هـ

بعد ان حمد الله واثني عليه قال :

ايها الأحباب ماإكتحلت عيناي بالنوم البارحة لكن أقوم بالخطبة للضرورة فالذي يعمل بعد الفهم فالله سبحانه وتعالى ينوره وينور حياته وإلا يكون مثله كاللذي يقطع رجله بيده .
هذه الأمة ظهرت الى الوجود بعد المصائب والمشاق
والرسول صلى الله عليه وسلم والصحابة الكرام تحملوا كثيرا من الشدائد والمحن
فأعدائهم من اليهود والنصارى اجتهدوا أن لا يكون المسلمون أمة بل يكونوا متفرقين . فاليوم المسلمون فقدوا حياتهم كأمة . فحينما كانوا أمة واحدة . آلآف منهم كانوا لهم وزن في العالم وكان الناس يخشونهم وماكان عندهم بيوت رفيعة ولامساجد مشيدة حتى ماكان في المسجد النبوي مصباح ولانور حتى السنة التاسعة من الهجرة .وفي نهاية السنة التاسعة من الهجرة دخل العرب كلهم في الإسلام . أنواع من الأقوام وألسنه مختلفة وقبائل شتى فكانوا أمة واحدة فلما صار كل هذا . بعدها نوروا المصباح في المسجد ولكن الرسول صلى الله عليه وسلم الذي جاء بنور الهداية الذي انتشر في العرب وفي خارج العرب وتكونت الأمة وقامت هذه الأمة بالدعوة فما تخرج الى بلدة من البلدان الا وهم يستسلمون امامهم , كيف تكون هذه الأمة ؟ ماكان منهم ولا رجل واحد يتحمس لأسرته أولحزبه أو لقومه أو لوطنه أو للسانه وماكان يلتفت إلى المال والعقار ولا الأهل ولا الأولاد بل كل واحد يصغي لأمر الله ورسوله . حينما كان المسلمون أمة إذا قتل أي واحد منهم في أي بقعة فكل الأمه تقوم وتقعد، والآن يذبح آلاف من المسلمين ومئات الألوف ولايتحرك ساكن , الأمة ليست اسم لقوم أو قبيلة بمنطقة خاصة بل تتكون الأمة بآلآف من الأقوام والبلدان . الذي يفهم أن قومه أو منطقته أنه منهم والذين خارجهم ليسوا منهم هو الذي يذبح الأمة ويمزقها تمزيقا ويقطع الشجرة التي غرسها الرسول صلى الله عليه وسلم والصحابه الكرام بعد جهد عظيم فنحن الذين قمنا بذبح الأمة بعد ان تمزقنا وتفرقنا وبعد ذلك قام الأعداء من اليهود والنصارى بتقطيعها قطعا قطعا حينما كانت الأمة ممزقه. فاليوم لو اجتمع المسلمون على صعيد واحد فكونوا أمة فالدنيا كلها لاتستطيع ان تأخذ منهم ولو شعرة واحدة ولا القنبلة الذرية ولا الأسلحة الجديدة تدمرهم وان المسلمين لو فرقوا بين الأمة على اساس القومية واللغة والمنطقة فاشهد الله ان اسلحتكم وجنودكم لاتستطيع ان تنقذكم من الورطة مع العدو فاليوم يضرب المسلمين في العالم ويموتون لأنهم فقدوا صورتهم كأمة هذه كلها من أحاديث القلب الذي يتقطع ألما على الأمة فكل هذه المصائب والمحن سببها واحد هو ان الأمة ليست أمة بل المسلمون نسوا ماهي الأمة وكيف الرسول صلى الله عليه وسلم قام بتشكيلها فليست الكفاية للأمة ولاينصر الله المسلمين ان توجد فيهم الصلاة والذكر والمدرسة الدينية. فالذي قتل علي رضي الله عنه ابن ملجم كان من المصلين والذاكرين حتى حين قبضوا عليه وارادوا ان يقطعوا لسانه فقال عليكم ان تفعلوا ماشئتم واياكم ان تقطعوا اللسان كي اذكر الله إلى آخر لحظة في حياتي مع هذا قال الرسول صلى الله عليه وسلم:قاتل علي اشقى رجل في أمتي وتعليم المدرسة قد تحصل عليه ابو الفضل والفيضي وكانا من كبار العلماء حتى قاما بتفسير القرآن بدون النقط وهما الذين قاما بتضليل احد كبار الملوك وافسداه فكيف الصفات التي كانت في ابن ملجم وابو الفضل والفيضي تستطيع ان تكون الامه وتستحق نصرة الله تعالى.
الشيخ اسماعيل شهيد والشيخ سيد احمد شهيد ورفقاؤهما كانوا على قمة من صفات الدين حينما وصلوا الى منطقة سرهد وجعله الناس أمير عليهم فوسوس الشيطان على بعض منهم فقالوا هؤلاء ليسوا من منطقتنا ، فقاموا بالثورة عليهم فاستشهد كثير منهم . فالمسلمون بأنفسهم قاموا بتمزيق الأمه بسبب عصيبة المنطقة فالله سبحانه وتعالى سلط عليهم الإنجليز إنتقاماً منهم وكان الإنجليز عذاب من الله.
إسمعوا أيها الأحباب قومي ومنطقتي وأسرتي هذه الكلمات كلها هي التي تمزق الأمه وهذه كلها الأشياء أبغض عند الله حتى بعض الصالحين الذي كان من كبار الصالحين صدرت منه هفوه في هذا الصدد فعوقب في الدنيا كما في الروايه أنه قتله الجن وسمع الناس صوتاً في المدينه ومارآه أحد قتلنا فلان ورميناه بسهم فلم يخطيء وبعض الصالحين يقوم بتمزيق الأمة على أساس القوم والمنطقه فا الله سبحانه وتعالى يأبى عليهم. وتتكون الأمة حينما يقوم كل الناس بالعمل الذي قام به الرسول صلى الله عليه وسلم وألقى المسؤلية على أمته بعده . فكيف تتمزق الأمة؟
أدلكم على هذا ! إن شخص من الناس أو طبقة من الناس يظلم غيره ولايعطي حق غيره ويأذيه ويحتقره فمن هنا تتمزق الأمه فأقول : فلاتتكون الأمة بالكلمة أي نطق الشهادتين والتسبيح فقط بل تتكون الأمه بعد أن تقوم بإصلاح المعاملات والمعاشرات ونؤدي الحقوق لأصحابها وأكثر من هذا ان نؤثر الغير على انفسنا ونضحي بمصالحنا من أجل مصالح الغير فالرسول صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر رضي الله عنهم قاموا بالتضحيه بماكان عندهم وتحمل المشاق وكونوا الأمه وفي عهد عمر رضي الله عنه وفد إليه مئات الألوف من الأموال وتشاورو كيف نقسمها .
في ذلك الوقت كانت الأمة أمة واحده فالذين يقومون بالمشورة ماكانوا من قبيلة واحده ولامنطقه واحده بل كانوا من قبائل شتى وأسر شتى وكانوا صحبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانوا من خواصه فقررو بعد المشوره أن يعطى أولاً النصيب الوافر لأسرة النبي صلى الله عليه وسلم
بعد ذلك أسرة أبو بكر بعده اسرة عمر وكان أقارب عمر في المنزلة الثالثه فحينما قدموا هذا الرأي إلى عمر ما قبله وقال أن الأمه كلها وجدت بسبب الرسول صلى الله عليه وسلم فالمعيار عندنا هو قرابة الرسول صلى الله عليه وسلم فالذي يكون قريب منه يجد نصيب أوفر وهكذا نعطي بني هاشم بعدهم بني عبد مناف ثم أولاد قصي ثم أولاد كلاب ثم كعب ثم مره وبهذه الطريقه صارت أسرة عمر في آخر القائمه ونصيبهم غير كثير ولكن عمر حكم بهذا وجعل قبيلته لأخذ المال في هذه المنزلة ,بهذه التضحيات تكونت هذه الأمة . فلابد لأن تكون الأمة أمة بأن يجتهد كل واحد منهم ، لايفرق بينهم ، بل يوحدهم فالرسول صلى الله عليه وسلم في حديث له معناه يؤتى بالرجل يوم القيامة وقد اجتهد في الصلاة والزكاة والحج والتبليغ ويلقى في النار لأنه من كلامه قام بتفريق الأمه ويقال له عليك ان تذق اولا هذه الكلمة التي اضرت بلأمة ويؤتى برجل أخر لاتكون عنده من الصلاه والصيام والحج الا قليل ولكنه كان يخاف الله خوفا شديدا فالله سبحانه يعطيه الثواب الجزيل فهو يتعجب ويسأل الله يارب بأي عمل اعطيتني كل هذا فيذكر انك قلت كلمة في مناسبه وحدت الأمة التي كادت ان تتفرق وتختلف كل هذا بسبب تلك الكلمة ففي تكوين الأمة وتمزيقها اكبر دور للسان هذا اللسان يوحد الأمه ويمزقها ايضا وبعض الأحيان يلفظ الانسان كلمة خاطئة فتكون فيها مفسدة فيتقاتل الناس وتقع الفتنة بينهم وكلمة أخرى توحد القلوب بعد فرقتها فبكل هذا لابد علينا ان نراعي السانتنا ونملكها وهذا لايمكن الا ان يتصور الإنسان ان الله سبحانه وتعالى معه في كل حين وانه يسمع كلامه ويراه . كان في المدينه قبيلتان الأوس والخزرج وكانت بينهم عداوة قديمه متوارثة حينما هاجر الرسول صلى الله عليه وسلم ودخل الأنصار حظيرة الإسلام تلاشت هذه العداوة ببركة الرسول صلى الله عليه وسلم والإسلام وكانو فيما بينهم كالسكر والحليب كالسمن والعسل فالأعداء من اليهود حينما شاهدوا هذا المنظر فكروا كيف يفرقوا بينهم مرة أخرى ، فمرة كان الرجال من القبيلتين في مجلس فقام واحد وانشد امامهم ابيات تتعلق بحربهم القديمة .اولا تجادلوا بالألسن حتى قام كل واحد منهم الى السلاح واسرع واحد من الصحابة واخبر النبي صلى الله عليه وسلم بهذا فجاء فورا وقال ابدعوى الجاهلية وانا بين اظهركم وقام بخطبة وجيزة مليئه بالحزن حتى احس كل واحد منهم ان الشيطان قام بهذه المفسدة فبكوا وقاموا يتعانقون فيما بينهم وانزل الله تعالى {ياايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولاتموتن الاوانتم مسلمون ...... }فالانسان حين يخاف الله كل حين ويتصور عذابه ويطيعه في كل مجال من المجالات . الشيطان لايستطيع ان يضلله وفي النتيجة تتحصن الأمة من سائر الفتن ولاتكون التفرقة قال الله تعالى {واعتصموا بحبل الله جميعـا....}الشيطاÙ † معكم فما هو العلاج ؟ علاجه ان تكون منكم طبقة أو أمة تقوم بالدعوه والأملر بالمعروف والنهي عن المنكر قال تعالى {ولتكن منكم أمة يدعون الى الخير...}فلابد ان تكون فيه طبقة من الناس يكون شغلهم وهمهم الدعوة الى الدين والى الخير ويجتهدوا في الإيمان والخير وسبيل الدعوة ويجتهدوا في الصلاة والذكر ويجتهدوا في انقاذ الناس من المعاصي والمنهيات بهذه كلها تكون الأمة أمة واحدة ولاتكونوا كالذين تفرقوا واختلفوا فكل الأعمال التي في الدين وتعاليم الدين ليست الا للتوحيد والتجميع ففي الصلاة وحدة وفي الصيام والحج وحدة ، للأقوام والبلدان والجنسيات واللغات . وحلقة التعليم سبب للوحده وإكرام المسلم وتقديم الهدايا والمحبة بينهم كل هذه اسباب توحيد صفوف المسلمين والتي تبلغ المسلم الى الجنة ويوم القيامة تكون الوجوه منورة بهذه الأعمال وعكس هذا الحسد والبغض والنميمة والغيبة وإحتقار المسلم وايذائه كل هذا يحزن ويمزق الأمة ويشتتها وتبلغ بصاحبها الى النار وتكون الوجوه مسودة قال تعالى{يوم تبيض وجوه وتسود وجوه}
أيها الاحباب كل هذة الآيات نزلت حينما اراد اليهود أن يفرقوا بين الأنصار حتى قامت كل قبيله ضد الأخرى وهذه الآيات تقول التفريق بين المسلمين وتمزيقهم من أعمال الكفر وتحذر من عذاب الآخرة . فاليوم في العالم أعداء المسلمين يجتهدون أن يفرقوا الأمة فليس هناك وقاية ولا علاج إلا أن يقوم كل منكم بالدعوة التي قام بها النبي صلى الله عليه وسلم فكل واحد يجتهد أن يأتي بأخيه إلى المسجد وتكون في المسجد حلقة التعليم والذكر ومذاكرة اليقين والتشاور للدعوة ولابد لكل الطبقات من الناس أن يجتمعوا في المسجد للأعمال كما كان مسجد النبي صلى الله عليه وسلم . حينما نتجنب الأشياء التي تفرق ، عندها تكون الأمة حينما يجتمع ثلاثة فعليهم أن يراعوا أن رابعهم هو الله عزوجل هكذا أي عدد يكون الله تعالى معهم يسمع كلامهم ويرى مكانهم فماذا نتكلم ، نتكلم بصالح الأمة ولانقوم بالتآمر على أحد من هذه الأمة . فهي أمة قد كونها النبي صلى الله عليه وسلم وتحمل الجوع والفاقة وإراقة الدماء فنحن اليوم نقوم بتمزيقها لمصالحنا الدنيوية فيا أيها الأحباب عليكم الا تنسوا أن الله سبحانه وتعالى ما حذر على ترك صلاة الجمعه كما حذر على تفريق الأمة فاليوم لو يكون المسلمون أمة فلايستطيع أحد في العالم أن يذلهم بل كل واحد يخضع حتى الروس وأمريكا. ولا تتكون الأمة إلا أن يكون عمل المسلمين على أصول {أذلة على المؤمنين أعزة على الكافرين} يعني كل واحد من المسلمين يظن أنه صغيراً أمام أخيه فيتواضع أمامه وحينما نخرج للدعوة فعلينا أن نمرن أنفسنا على هذه الصفة إذا اتصف المسلمون بهذه الصفه يأتي فيهم قولة تعالى {أعزة على الكافرين} فيكونوا أقويا أمام الكفار ، أيها الأحباب إن الله تعالى قد حذر ورسوله الكريم صلى الله عليه وسلم قد حذر أشد التحذير من الأشياء التي تمزق القلوب وتفرق بين المسلمين والله تعالى منع المسلمين أن يتناجوا بينهم لهذا السبب لأن الشيطان يقوم بالإفساد بينهم ويظن كل منهم بأخيه ظناً سيئاً قال تعالى { إنما النجوى من الشيطان} هكذا منع من التحقير والإستهزاء قال تعالى{ لايسخر قوم من قوم}وهكذا منع من التجسس وأن يذكر أو يذاع عيب المسلم وحرم الغيبة قال تعالى {ولاتجسسوا ولايغتب بعضكم بعضا} كل هذه الأشياء تفرق بين القلوب وتمزق الأمة وحضهم الله تعالى على الإكرام والإحترام حتى تتوحد الأمة ومنع أن يطلب الإنسان من احد أن يكرمه لأن بهذا لاتتكون الأمة بل تتمزق ولاتتكون الأمه إلا أن يتصور كل واحد أنه ليس أهل للتكريم للعزة ولهذا هو لايطلب لنفسه الإحترام والعزة بل يتركها للأخرين فكل الناس سواء ، وفي مكانه تستحق التكريم والإعتزاز مني حينما يضع كل واحد منا نفسه ونفيسه للدين تكون الأمة . والعزة والذلة ليست في مخططات الروس وامريكا لكنها بيد الله تعالى وعند الله تعالى ، أي شخص يختار تلك السنن فالله تعالى بنزلة المكانة الرفيعة وتكون له الكلمة العليا في الأرض والذي ينحرف عنها فالله تعالى يفنيه ويذله . اليهود من سلالة الأنبياء لما ماقاموا بسنن الله تعالى فالله تعالى أذلهم فضرب عليهم المسكنة . والصحابة رضي الله عنهم من نسل عباد الأوثان ولكنهم قاموا بسنن الله تعالى واختاروها فالله تعالى أعطاهم الكلمة الساميه المسموعه فليس عند الله تعالى نسب أو قرابة لأحد بل عنده السنن والطرق .
أيها الأحباب عليكم أن تضحوا بنفوسكم على هذه الدعوة وبأن تكون أمة محمد صلى الله عليه وسلم أمة واحدة تتصف بالإيمان واليقين وتسبح وتتعلم وتخضع وتسجد أمام الله تعالى وتخدم الأخرين وتتحمل المشاق وتكرم الآخرين ولاتتناجى فيما بينهم ولاتعصي الله تعالى ولاتحقر أخيك المسلم ولاتتجسس ولاتغتب ولاتقوم بالنميمة فلو قام أهل أي منطقة بهذه الدعوة حق قيام لانتشرت هذه الدعوة في العالم فعليكم أن تقوموا بالجهد وأن ترسلوا في سبيل الله أفراداً من المناطق والأسر المختلفه واللغات المختلفه وتراعوهم ليقوموا بأعمال الدعوة كلها ويواظبوا عليها فبهذه تتكون الأمة إن شاء الله تعالى ولايقوم الشيطان والنفس بدورها إن شاء الله تعالى كذلك عليكم أن تقوموا بالدعوة في القرى والبوادي وغيرها .
وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه اجمعين.
المصدر :
http://www.binatiih.com/go/news.php?action=view&id=19

الإمام المحدث الشيخ محمد زكريا الكاندهلوي ومآثره العلمية


الإمام المحدث الشيخ محمد زكريا الكاندهلوي ومآثره العلمية 
AL-Imamul Muhaddisus Sheikh Muhammed Zakaria Kandhalwi




شیخ الحدیث مولانا زکریاؒکی عربی اور اردو کتابوں کی ایک فہرست

شیخ الحدیث ؒ کی ضخیم عربی تصانیف
 اوجزالمسالک الیٰ موطا امام مالک،
لامع الداری علیٰ جامع البخاری،
الابواب والتراجم  للبخاری ،
الکوکب الدری،
جز ءحجۃالوداع والعمرا ت النبی 

شیخ الحدیث کی چند دیگر عربی کتابیں

وجوب اعفاء اللحبۃ، اصول الحدیث علی مذھب الحنفیۃ ،اولیت القیامامۃ ،تبویب احکام القرآن للجصاص ، تبویب تاویل مختلف الاحادیژ لابن فقیۃ ، تبویب مشکل الاثار للطحاوی ، تقریر المشکاۃ مع تعلیقاتہ ، تقریر النسا؛ئ، تلخی البذل ،جامع الروایاۃ والاجزاء،جز ء اختالاف لاصلاۃ ، جز ء الاعمال بالنیات ، جزء افضل الاعمال ،جزء تخریج حدیث عائشہ فی قصۃ بریرۃ ، جزء الجہاد ، جزء رفع دین ، جزء طرق المدینۃ ، جزء المبھمات فی الاسائید والروایات ، جزء ما قال المحدثون فی الامام العظم ، جزء مکفرات الذنوب ، جزء ملقط المر
حواشی علی الھدایۃ ، شرح سلم العلوم ، الوقائع والدھو

شیخ الحدیث مولانا محمدزکریاؒ ٍ کی چند اردو کتابیں  
اسباب اختلاف الائمہ
خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی
 الاعتدال فی مراتب الرجال  (اسلامی سیاست)
التاریخ الکبیر
سیرت صدیق
شرح الالفیۃ
شریعت  و طریقت کا تلازم اسکا عربی زبان میں ترجمہ مصر سے شائع ہو چکا ہے )
اکابر علماء دیوبند
اکابر کا تقوی
اکابر کا رمضان
اکابر کا سلوک و احسان
الابواب و التراجم۔عربی
آپ بیتی۔ ترتیب جدید(7جلدیں )
کتب فضائل پر اشکالات اور اسکے جوابات
تاریخ مشائخ چشت
جماعت تبلیغ  پر اعتراضات کے جوابات
حقوق الوالدین
فضائل زبان عربی
فضائل تجارت

حکایاتِ صحابہ رضی اﷲ عنہ
 فضائل قرآن
فضائل نماز
فضائل ذکر
فضائل تبلیغ  
فضائل درودشریف
فضائل رمضان
فضائل صدقات
فضائل حج
خصائل نبوی متوسط
نظام مظاہر علوم(دستور)
تاریخ مظاہر العلوم
موت کی یاد


مختصر سوانح شیخ الحدیثؒ
تحریر : مولانا مجیب الرحمن انقلابی
کچھ ترمیم کے ساتھ اس لنک سےسے ماخوذ ہے
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی کا نام نامی اسم گرامی کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ متجر عالم دین وسیع النظرشیخ، بلند پایہ محقق اور علم حدیث میں اعلیٰ اور انفرادی شان رکھتے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی عالم اسلام کی وہ عظیم علمی و روحانی شخصیت ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے لاکھوں لوگوں کو ہدایت کا ذریعہ بنایا، عرب وعجم اوریورپ وایشیاءمیں آپ کو یکساں محبوبیت و مقبولیت عطا فرمائی، مختلف علوم وفنون پر دعوتی، تبلیغی، اصلاحی علمی و تحقیقی عنوانات پر آپ کی تصنیفات و تالیفات 100 سے زائد ہیں جو اُردو عربی اور فارسی کے علاوہ دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی 1898ءکو ہندوستان کے علاقہ کاندھلہ میں حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی کے ہاں پیدا ہوئے۔ حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی کا گھرانہ ان خوش قسمت خاندانوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت و محبوبیت سے خواب نوازا تھا اس خاندان کی بنیاد کچھ ایسے صدق و اخلاص پر پڑی تھی کہ یکے بعد دیگرے، نسل در نسل اس خاندان میں علماء، فضلائ، اہل کمال و علم، مقبولین اور اللہ والے لوگ پیدا ہوتے چلے آرہے ہیں۔
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے چچا اور مربی تھے۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے8 سال کی عمر تک گنگوہ کی خانقاہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی سے پڑھیں اور بقیہ علوم وفنون اور حدیث کی کتابوں کی تکمیل مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری سے کیں، آپؒ کے دیگر اساتذہ کرام میں آپؒ کے چچا بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی اور حضرت مولانا عبدالطیف صاحب خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ علوم باطنی کی تکمیل قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے حاصل کی۔ یہاں تک کہ آپ اپنے وقت کے ایک بڑے محدث اور علوم باطنی کے بڑے مرشد بن گئے۔19سال کی عمر میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی درس و تدریس میں مصروف ہوئے،26سال کی عمر مےں بخاری شریف اور حدیث کی دیگر کتابوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا بھی سلسلہ شروع فرما دیا۔ شیخ الحدیث کا لافانی لقب آپ کو حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے عطا فرمایا تھا جو آپ کے نام کا قائم مقام بن گیا۔ آپ نے تقریباً50سال تک حدیث کی کتب پڑھائی ہیں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے طویل عرصہ کے انہماک و مطالعہ سے جن کتابوں کو تصنیف و تالیف کیا ان میں سے ان کی انتہائی اہم کتاب ” اوجز المسالک شرح موطا لامام مالک“ ہے یہ کتاب6جلدوں میں پوری دنیا میں دیگر کتب کی طرح مسلسل شائع ہورہی ہے۔ یہ کتاب بھی ان کے علمی و دینی تصنیفی کارناموں کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے علم و قلم میں ایسی برکت اور وسعت و دیعت عطا فرمائی تھی کہ لاکھوں بندگان کی دینی تربیت و ذہن سازی اور ان کے اخلاق و عقائد کی صحت و درستگی آپ کے علم و قلم کے ذریعہ ہوتی چلی گئی۔ وفات سے چند سال قبل ہندوستان سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے جہاں شاہ فیصل شہیدنے آپکو سعودی عرب کی شہریت بھی دی۔ آپ نے مہاجر مدنی بن کر وہیں قیام کیا اور پوری دنیا سے آنے والے مسلمانوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ عشقِ نبوت کا یہ آفتاب اپنی جلوہ افروزی دکھا کر 1982ءمیں مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین میں ہمیشہ کیلئے لاکھوں مسلمانوں کو جنت کا راستہ دکھانے کے بعد غروب ہوگیا، مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔ اللہ تعالیٰ آپ رحمة اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
L s�l=f� �n� 20.0pt;font-family:"Jameel Noori Nastaleeq"; mso-bidi-language:AR-SA'>الاعتدال فی مراتب الرجال  (اسلامی سیاست)