Pages

Hazrat Abuzar Ghiffari R.A. sacrifices for Islam and his saving by Hazarat Abbas Radhallahu Anhu


۵۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کا اسلام
حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ مشہور صحابی ہیں جو بعد میں بڑے زاہدوں اور بڑے علماء میں سے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ابوذر ایسے علم کہ حاصل کئے ہوئے ہیں جس سے لوگ عاجز ہیں۔مگر انہوں نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے ۔ جب ان کو حضور اقدس ﷺکی نبوت کی پہلے پہل خبر پہنچی ، تو انہوں نے اپنے بھائی کو حالات کی تحقیق کے واسطے مکہ بھیجا کہ جو شخص کہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور آسمان کی خبریں آتی ہیں اس کے حالات معلوم کریں اور اس کے کلام کو غور سے سنیں۔ وہ مکہ مکرمہ آئے اور حالات معلوم کرنے کے بعد اپنے بھائی سے جاکر کہاکہ میں نے ان کو اچھی عادتوں اور عمدہ اخلاق کا حکم کرتے دیکھا اور ایک ایسا کلام سنا جو نہ شعر ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ ابوذر رضی اﷲ عنہ کی اس مجمل بات سے تشفی نہ ہوئی تو خود سامان سفر کیا اورمکہ پہنچے اور سیدھے مسجد حرام  میں گئے ۔ حضور ﷺکو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے پوچھنا مصلحت کے خلاف سمجھا، شام تک اسی حال میں رہے۔ شام کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا کہ ایک پردیسی مسافر ہے۔ مسافروں کی، غریبوں کی، پردیسیوں کی خبر گیری، ان کی ضرورتوں کا پورا کرنا ان حضرات کی گھٹی  میں پڑا ہوا تھا۔ اس لئے ان کو اپنے گھر لے آئے۔ میزبانی فرمائی لیکن اس کے پوچھنے کی کچھ ضرورت نہ سمجھی کہ کون ہو، کیوں آئے ، مسافر نے بھی کچھ ظاہر نہ کیا۔ صبح کو پھر مسجدمیں آگئے اور دن بھر اسی حال میں گذرا کہ خود پتہ نہ چلا اور دریافت کسی سے کیا نہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ حضورﷺ کے ساتھ دشمنی کے قصے بہت مشہور تھے۔آپ کو اور آپ کے ملنے والوں کو ہر طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں ۔ ان کو خیال ہوا ہو کہ صحیح حال معلوم نہیں ہو گا اور بدگمانی کی وجہ سے مفت کی تکلیف علیٰحدہ رہی۔ دوسری دن شام کو پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خیال ہوا کہ پردیسی مسافر ہے بظاہر جس۔غرض کے لئے آیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی، اس لئے پھر اپنے گھر لے گئے اور رات کو کھلایا سلایا، مگر پوچھنے کی اس رات بھی نوبت نہ آئی ۔ تیسری رات کو پھر یہی صورت ہوئی۔ تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے دریافت کیا کہ تم کس کام آئے ہو، کیا غرض ہے تو حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے اول ان کہ قسم اور عہدو پیمان دیئے، اس بات کے کہ وہ صحیح بتائیں ۔ اس کے بعد اپنی غرض بتلائی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ وہ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور صبح کو جب میں جائوں تو تم میرے ساتھ چلنا میں وہاں تک پہنچا دوں گا۔ لیکن مخالفت کا زور ہے اس لئے راستہ میں اگر مجھے کوئی شخص ایساملاجس سے میرے ساتھ چلنے کی وجہ سے تم پر کوئی اندیشہ ہو تو میںپیشاب کرنے لگوں گا یا اپنا جوتہ درست کر نے لگوںگا،تم سیدھے چلے چلنا ، میرے ساتھ ٹھہرنا نہیں جس کی وجہ سے تمہارا میرا ساتھ ہونا معلوم نہ ہو۔ صبح کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پیچھے پیچھے حضورﷺکی خدمت میں پہنچے ۔ وہاں جا کر بات چیت ہوئی، اسی وقت مسلمان ہوگئے ۔ حضور اقدسﷺنے ان کی تکلیف کے خیال سے فرمایا کہ اپنے اسلام کو ابھی ظاہر کہ کرنا چپکے سے اپنی قوممیں چلے جائو ، جب ہمارا غلبہ ہو جائے اس وقت چلے آنا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺاس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس کلمہ توحید کو ان بے ایمانوں کے بیچ میں چلا کے پڑھوں گا۔ چنانچہ اسی وقت مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور بلند آواز سے اَشْہَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اَللّٰہ‘‘ پڑھا ۔پھر کیاتھا چاروں طرف سے لوگ اٹھے اور اس قدر مارا کہ زخمی کردیا مرنے کے قریب ہو گئے۔ حضورﷺکے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ وہ اس وقت تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے ان کے اوپر بچانے کے لئے لیٹ گئے اور لوگوں سے کہا کہ کیا ظلم کرتے ہو، یہ شخص قبیلہ غفار کا ہے اور یہ قبیلہ ملک شام کے راستہ میں پڑتا ہے تمہاری تجارت وغیرہ سب ملک شام کے ساتھ ہے۔اگر یہ مر گیا تو شام کا جانا آنا بند ہو جائے گا۔ اس پر ان لوگوں کہ بھی خیال ہوا کہ ملک شام سے ساری ضروتیں پوری ہوتی ہیں وہاں کا راستہ بند ہو جانا مصیبت ہے اس لئے ان کو چھوڑ دیا۔ دوسرے دن پھر اسے طرح انہوں نے جاکر بآوازبلند کلمہ پڑھا۔ اور لوگ اس کلمہ کے سننے کی تاب نہ لا سکتے تھے، اس لئے ان پر ٹو ٹ پڑے۔ دوسرے دن بھی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے اسی طرح ان کو سمجھا کر ہٹایا کہ تمہاری تجارت کا راستہ بند ہو جائے گا۔
ف: حضورﷺکے اس ارشاد کے باوجود کہ اپنے اسلام کو چھپاؤ،ان کا یہ فعل حق کے اظہار کا ولولہ اور غلبہ تھا کہ جب یہ عین حق ہے تو کسی کے باپ کا کیا اجارہ ہے جس سے ڈر کر چھپایا جائے۔ اور حضورﷺکا منع فرمانا شفقت کی وجہ سے تھا کہ ممکن ہے تکالیف کا تحمل نہ ہو ، ورنہ حضورﷺکے حکم کے خلاف صحابہ کی یہ مجال ہی نہ تھی ۔ چنانچہ اس کا کچھ نمونہ مستقل باب میں آرہا ہے۔ چونکہ حضوراقدسﷺخود ہی دین کے پھیلانے میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت فرما رہے تھے،اس لئے حضرت ابو ذر نے سہولت پر عمل کے بجائے حضورﷺکے اتباع کو ترجیح دی۔یہی ایک چیز تھی کہ جس کی وجہ سے ہر قسم کی ترقی دینی و دنیوی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے قدم چوم رہی تھی اور ہر میدان ان قبصہ میں تھا کہ جو شخص تھی ایک مرتبہ کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے جھنڈے کے نیچے آجانا تھا، بڑی سے بڑی قوت تھی اس کو روک نہ سکتی تھی اور نہ بڑے سے بڑا ظلم اس کو دین کی اشاعت سے ہٹا سکتا تھا۔