Pages

دینی مدارس کی ا ہمیت ضرورت وافادیت اس کا تعاوں اور مسلمانوں کی بقا و سلامتی






































 دینی مدارس کی ا ہمیت وافادیت
مفتی محمدجمال الدین قاسمی  * 
مدارسِ اسلامیہ جو ہندوستان کے چپے چپے پر نظر آتے ہیں اور جن کا قیام وبقاء ملتِ اسلامیہ کے وجود وتشخص سے وابستہ ہے، جن کے دامنِ تربیت سے فیضیاب ہونے والے معاشرہ کی اصلاح اور اسے دینی رُخ پر ڈالنے کے لیے خاموش خدمات انجام دیتے ہیں اورجن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا کر انسان دُنیا وآخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، اس کا سلسلہ درحقیقت آقائے نامدار تاجدارِ مدینہ احمد مجتبیٰﷺ کے صفہ سے جاملتا ہے، آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی تعلیم وتربیت کے واسطے صفہ کی سنگِ بنیاد رکھی اور صحابہ کی ایسی تعلیم وتربیت فرمائی، جو ایک طرف راتوں کو اللہ کے سامنے رونے اور گڑ گڑانے والے تھے، تو دوسری طرف دن کے اُجالوں میں دین کی نشرواشاعت اور اس کی سربلندی کے واسطے اپنی جانوں کی بازی لگانے والے تھے، اسی کی تقلید صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے اپنے اپنے زمانوں میں کی، پھر یہی مزاج علمائِ کرام، بزرگانِ دین اور اولیائِ عظام کی جلو میں قاہرہ، دمشق اور بغداد سے ہوتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیائؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمہما اللہ کی سرپرستی میں ہندوستان پہونچا اور عصرِ حاضر میں حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ کی قیادت میں مدارسِ اسلامیہ کی شکل میں نمودار ہوا۔

یہ وہ وقت تھا؛ جب کہ سلطنتِ مغلیہ کا زوال ہو رہا تھا اور علماء ومشائخ نے اپنی بصیرت سے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا ہے، تو انھوں نے اس عزم کے ساتھ اس تحریک کی بنیاد رکھی کہ اس دیار میں اسلام کی حفاظت کا جو فریضہ سلاطین کیا کرتے تھے، اب اسے ہم بوریہ نشیں درویش انجام دیں گے، ہمارے پاس نہ تاج وتخت کی دولت وثروت ہوگی، نہ لوگوں کو خیرہ کرنے والے مادّی وسائل ہوں گے؛ لیکن ہمارا سینہ بہر حال ایمان ویقین کی دولت بے کراں سے معمور ہوگا اور دلِ درد مند اور فکرِ ارجمند کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوگا، مادّی وسائل کے بجائے خدا کے خزانہ پر نظر رکھیں گے، جو خدا کی محبت اور خدا کے دین کے لیے سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ، حکومت کی طرف سے آنے والی آزمائشوں اور فقروافلاس کی تلخیوں میں ثابت قدم رکھے گا، نہ لوہے کی زنجیر خوف زدہ کرے گی اور نہ سونے کی زنجیر ان کو خرید سکے گی، تحریکِ مدارس کے بانیوں اور مؤسسوں نے اوّل روز سے اس کے لیے یہی ہدف مقرر 
۔کیا تھا، جس کی برکت سے ان مدارس کے فضلاء نے دین وملت کے واسطے نمایاں کارنامے انجام 

دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں جتنی تحریکات چل رہی ہیں، ان کو مدارس سے ہی غذا ملتی ہے، تبلیغی جماعت جو آج پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اس کی بنیاد کس نے رکھی؟ اور اس کی قیادت کن ہاتھوں میں رہی؟ علماء ہی کے ہاتھوں میں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اِسی طرح علامہ اقبالؒ کو اِن مدارسِ دینیہ کی افادیت اور ان کے ساتھ ملک وملت کے مفادات کی وابستگی کا کس شدت کے ساتھ احساس تھا، اِس کا اندازہ اُس خط سے ہوتا ہے، جو اُنھوں نے اپنے ایک نیاز مند حکیم احمد شجاع کو لکھا تھا، اس کا ایک حصہ یہ ہے:
’’ان مکتبوں اور مدرسوں کو اِسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا، میں اُنھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدارس کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اُسی طرح ہوگا، جس طرح اُندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کے نشانات کے سواء اسلام کے پیروؤں اور اِسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سواء مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔
اور علامہ سید سلیمان ندوی صاحب ’’سیرۃ النبیﷺ‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے جدید وقدیم دونوں حلقوں میں یکساں مقبولیت عطا کی تھی، ان کا کہنا تھا:
’’ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ہوگی، وہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی ہوشیار ہوں گے؛ اس لیے یہ مدرسے جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، ان کو سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فرض ہے، ان عربی مدرسوں کا اگر کوئی دوسرا فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اُونچا ہوتا ہے اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اُونچی ہوتی ہے اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے‘‘۔

آج عقیدے کی کمزوری، شریعت سے انحراف اور اخلاقی بے راہ روی میں مسلم معاشرہ پھنس چکا ہے، فکری جمود اور عزم واِرادہ کی کمزوری ہر سو نظر آتی ہے اور صدق وامانت، ایفائِ عہد، سخاوت وشجاعت، حیاء وعفت، تواضع وانکساری اور نظم وضبط جیسے انسانی، اخلاقی اور اسلامی قدریں پامال ہو رہی ہیں، اسی کے ساتھ اسلام مخالف طاقتوں کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے، مسلمانوں کی دینی، سیاسی، معاشی، اخلاقی،  اجتماعی اور تہذیبی شناخت کو جس طرح ملیامیٹ کیا جارہا ہے، وہ ہر صاحبِ خبر پر عیاں ہے، ایسے نازک حالات میں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کی پہچان محض تاج محل اور لال قلعہ کی بے جان عمارتوں سے نہ رہے؛ بلکہ ان کا ملی وجود باقی رہے، ملی تشخص قائم رہے، ہمارے شعائر محفوظ رہیں، ہمارے مساجد، مقابر اور دینی مراکز محفوظ رہیں، ہم اور ہماری نسل دین پر ثابت قدم رہیں، یہاں اسپین واُندلس کی تاریخ نہ دُھرائی جائے، تو مدارس کے قیام اور اس کے نظام کو مستحکم کرنے کی فکر کیجئے! ان کی ضرورت سمجھے! اور دامے، درمے، سخنے اس کا تعاون کیجئے!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا مضمون نیچے لنک پر ہے۔مضمون نگار اور ویب سائٹ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔
https://www.google.co.in/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=14&cad=rja&uact=8&ved=0CDEQFjADOAo&url=http%3A%2F%2Fraheislam.net%2Fislam%2Fwp-content%2Fuploads%2F2013%2F12%2F%25D8%25AF%25DB%258C%25D9%2586%25DB%258C-%25D9%2585%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25B3-%25DA%25A9%25DB%258C-%25D8%25A7-%25DB%2581%25D9%2585%25DB%258C%25D8%25AA-%25D9%2588%25D8%25A7%25D9%2581%25D8%25A7%25D8%25AF%25DB%258C%25D8%25AA.doc&ei=4uvzVO_yItW1uQSWg4CYBw&usg=AFQjCNEvzeMG1iZ2iUPDUZ0V4su8R44Rxw&bvm=bv.87269000,d.c2E