Pages

Showing posts with label Beloved Prophet character. Show all posts
Showing posts with label Beloved Prophet character. Show all posts

Akhiri Nabi ke Darbar mein Hazri آخری نبی ﷺکے دربار میں

Akhiri Nabi Sallallahi Alaihi Wasallam ke Darbar Mein Hazri ke liye Madeena Pak jane Jane wale Mukhtalif Maidanon mein deen ki khidmat karne wale Ashab Ilm o Taqwa o Saltanat aur unke nikle hue duaon aue Ahsasat ka ankho dekha hal (dil ki ankhon se) Ek Ashiq e rasool ki zabani


آخری نبی ﷺکے دربار میں



Equality in Islam Wahdat o Masawat in Islam Urdu Nabi e Rahmat

Reproduced with jazakallah o khair from urdu Monthly magazine Darul Uloom.It is Very good Islmic Magazine available on this link.http://www.darululoom-deoband.com/urdu/index.php?main=magazine/new/index.php

نبیِ وحدت ومساوات کی انقلاب آفرینی

از: مولانا شفیق احمد قاسمی ابوظہبی ”متحدہ عرب امارات“

سرور کائنات، فخرموجودات، رحمت عالم، ہادیِ اعظم محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور حیاتِ مبارکہ کا ایک انقلاب آفریں کارنامہ یہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان وتوحید اورآسمانی دستور وقانون کی بنیاد پر قائم ایک ایسا صالح اور جامع معاشرہ تشکیل فرمایا جس کا ہر فرد بتانِ رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوچکا تھا اور دشمنانِ اسلام کے سامنے اسلامی وحدت ومساوات کی ایک ایسی چٹان کھڑی ہوگئی تھی، جس کے مضبوط پتھروں سے ٹکراکر معاندینِ اسلام پاش پاش ہوتے گئے اور بہت قلیل مدت میں وہ سبھی طاغوتی اور فرعونی طاقتیں جو قصر اسلام کو منہدم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہی تھیں، نیست ونابود ہوکر صفحہٴ ہستی سے مٹ گئیں اور تاریخ کے اوراق پر صرف ان عبرت ناک انجام کی داستان باقی رہ گئی کہ دنیا میں کبھی روم وفارس کی دوزبردست سلطنتیں پائی جاتی تھیں جن کی قوت وطاقت کے ڈنکے بجتے تھے اور شوکت وسطوت کے پھریرے اڑتے تھے اور اقوامِ عالم ان کے زیر نگیں تھیں۔
          سیرة النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انقلابی پہلو نے دانشورانِ یورپ وامریکہ اور مفکرانِ ہندوچین کو ششدرکررکھا ہے کہ آخر کیوں کر ایک عرب نژاد اُمیّ نے عربوں کے متحارب ومتصادم قبائل کو جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہا کرتے تھے اور قبائلی نخوت اور خاندانی تفاخر کو اپنا آبائی ورثہ گمان کرتے تھے ایک پرچم تلے ایک عقیدہ ونظریہ پر متحد کرکے قوت واستقامت کا پیکر بنادیا اور ان کی صدیوں پرانی تقلیدی روایات قَدْ وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا کو اسلامی نظریہٴ توحید میں بدل دیا؛ یہاں تک کہ جو عرب اپنی ذاتی خواہشات، قبائلی روایات اور خاندانی امتیازات کے تابع ہوکر برسوں لڑتے مرتے اور کٹتے رہتے تھے، وہ اللہ کے لیے جینے اور مرنے لگے اور تمام امتیاز وتفاوت کو ترک کرکے انسانی مساوات اور اسلامی وحدت کا اعلیٰ ترین نمونہ بن گئے اور ایک ایسی آندھی بن کر آگے بڑھے کہ اس کے سامنے قیصر وکسریٰ بھی ہَبَاءً مَنْثُوْرًا (بکھرے ذرات) ہوکر اڑگئے اور افریقہ واندلس، چین وسندھ کے دوردراز علاقوں تک اسلامی پرچم لہرانے لگا اور فضائے کائنات میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی ہمہ دم صدائیں گونجنے لگیں۔
وحدت ومساوات کا پہلا منظر:
          آج ہم کو رسولِ کامل  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے اسی پہلو پر غور کرنا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو شرعی قوانین واحکام کا پابند بنانے سے پہلے ان کے درمیان سب سے پہلے وحدت ومساوات پیدا کرنے پر کیوں اتنا زور دیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا سے جو اعلا کامیابی وکامرانی نشر فرمایا تھا، اس میں تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: یَا أیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لاَ الٰہَ الاّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا اے لوگو! لاالٰہ الا اللہ کہو کامیاب رہوگے۔ آپ کاروئے سخن سردارِ قریش کی طرف تھا اور غلامانِ عرب کی جانب بھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلان میں امیہ بن خلف کو بھی مخاطب کیاتھا اور بلالِ حبشی کو بھی پیغام دیا تھا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو مخاطب فرمایا تھا اور عورتوں کو بھی شامل کیا تھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جوانوں کو بھی دعوت دی تھی اور بچوں کو بھی پکارا تھا، یہ پہلا اعلانِ حق جو سرعام کیاگیا تھا رسولِ کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن کی ہمہ گیری اورآ پ کی رحمة للعالمینی کا اظہار تھا، اسی کے ساتھ اس دعوت کو اول اول جن لوگوں نے قبول کیا اور انسانی مساوات کا پہلا نمونہ دنیا کے سامنے آیا ان افراد میں ابوبکر صدیق آزاد وسردار تھے، تو حضرت خدیجة الکبری آزاد ومالدار تھیں، حضرت زید بن حارثہ غلام تھے، تو حضرت علی بن طالب بچے تھے، اس کے بعد ایک جماعت آئی جن میں یاسروسمیہ اور عمار وخباب بن ارت، بلال حبشی رضی اللہ عنہم جیسے نادار وکمزور اور غلام افراد تھے، تو طلحہ بن عبیداللہ، عثمان بن عفان، ابوعبیدہ بن الجراح، عبدالرحمن بن عوف، حمزہ بن عبدالمطلب، زید بن ارقم رضی اللہ عنہم جیسے آزاد اصحابِ ثروت اور خوش حال تجار تھے، پھر بہت تیزی سے مکہ کے کمزروں، غلاموں، سنجیدہ وباوقار آزاد لوگوں میں اسلام اپنی جگہ بنانے لگا جو بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا تمام مشرکانہ جاہلی رسومات وعادات کو توڑ کر ملتِ واحدہ کے سمندر کا حصہ بن جاتا تھا۔ زیادہ دن نہیں گذرا تھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسا جری و بے باک نوجوان بھی حلقہ بگوشانِ اسلام ہوگیا۔ حضرت عمر کا قبولِ اسلام، ایک نئی طاقت ثابت ہوا، ابوجہل کے تمرد وسرکشی اور عناد کا صحیح جواب عمر ہی تھے، آپ نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ مسلمانوں کو خوف وہراس کے ماحول سے نکالا، عرض کیا: یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم حق پر اور مشرکین باطل پر ہیں تو پھر حق دب کر چھپ کر رہے اور باطل آزاد پھرے، کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم کھلم کھلا حرمِ پاک میں نمازیں ادا کریں گے اور اس وقت مشرکینِ مکہ نے اسلامی وحدت اورانسانی مساوات کا دلآویز نظارہ دیکھا کہ ابوبکر صدیق وعمر فاروق، حمزہ وطلحہ کے قدم بقدم شانہ بشانہ عمار ویاسر اور بلال، صہیب وزید بن حارثہ رضی اللہ عنہم حرم شریف میں داخل ہوتے ہیں، ایک ساتھ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، ایک ساتھ رکوع وسجدہ کرتے ہیں یہ رسولِ کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم گیر انقلاب ومساوات کا نقشِ اولیں تھا، ابھی اس انقلاب کو وسیع سے وسیع تر ہوکر پوری دنیا میں عام ہونا تھا، مکہ کی سنگلاخ زمین کے سنگ دل باشندوں میں تحریک وحدت ومساوات کی یہ کامیابی ابھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بین الاقوامی مشن دعوت وہدایت کی ابتداء تھی۔
انسانی مساوات کی بنیاد:
          آں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے گروپوں، فرقوں، قبیلوں، خاندانوں میں منقسم عربوں کو ایک ایسی دعوت دی تھی جس میں رنگ ونسل اور نسب وحسب پر تفاخر، اور قبیلہ وخاندان کے امتیاز و تفوق کی کوئی گنجائش نہیں تھی، سب کو انسانی مساوات کا درس دیا جارہا تھا کہ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی کسی عربی کو کسی عجمی پر یا کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری نہیں ہے؛ مگر تقویٰ وپرہیزگاری کے ذریعہ، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے اَلنَّاسُ بَنُوْا آدمَ وَآدمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ لاَفَضْلَ لِعَرَبِیٍ عَلیٰ عَجَمِیٍّ الاّ بِالتَّقْویٰ (ترمذی) ایک دوسری حدیث میں مزید وسعت کے ساتھ فرمایا:
          اَلنَّاسُ کُلُّہُمْ بَنُوْا آدمَ وَ آدمُ مِنْ تُرَابٍ لاَ فَضْلَ لِعَربِیٍ عَلیٰ عَجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍ عَلیٰ عَرَبِیٍ وَلاَ لِأبْیَضَ عَلیٰ أسْوَدَ وَلاَ لِأسْوَدَ عَلیٰ أبْیَضَ الاَّ بِالتَّقْویٰ․ (مشکوٰة باب المفاخرہ والعصبہ ۴۱۷، زاد المعاد :۴/۲۲)
تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اورآدم مٹی سے بنے تھے کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری وفضیلت حاصل نہیں اگر فضیلت ہے تو تقویٰ وپرہیزگاری سے۔
          خالقِ کائنات نے اس دنیا کو ایک جان سے آباد کرکے اس کی نسل درنسل اولاد کو ہر جگہ آباد کیا ان میں تعارف وتعاون اور قرابت کے لیے خاندان اور قبیلوں میں تقسیم کیا، مختلف خطوں کے افراد واشخاص کے رنگ وروپ میں فرق رکھا ؛ اس لیے کہ ان سب کی حقیقت نسل وتولید کے اعتبار سے اس باپ سے ہے جو مٹی سے بنائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے مٹی کو الگ الگ رنگ وخاصیت کا بنایا ہے، کہیں کی مٹی سیاہ ہے تو کسی علاقہ کی مٹی سرخ ہے، کسی مقام کی مٹی زرد ہے، تو کسی جگہ کی مٹی سفیدی مائل ہے، کوئی مٹی سخت ہے تو کوئی بھربھری، ان سب کے مجموعہ اور خمیر سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اس نکتہ وحکمت کو رسولِ حکمت وموعظت، رحمت عالم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ”وَآدمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ“ سے بیان فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
          یَا أیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَاءَ لُوْنَ بِہ وَالْأرْحَامَ انَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْباً(سورة النساء:۱)
اے لوگو! تم اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان (آدم) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی (حوا) کو پیدا کیا اور ان دونوں (کے اختلاط) سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلایا اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں (کو قطع کرنے) سے ڈرو، بیشک اللہ تم سب پر نگراں ہیں۔
          یَا أیُّہَا النَّاسُ انَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَر وَاُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا انَّ أکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أتْقَاکُمْ (سورة الحجرات:۱۳)
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک نر اور مادہ (آدم وحوا علیہما السلام) سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قوموں اور خاندانوں میں بنایا؛ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو، یقینا اللہ کے نزدیک تم سب میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔
عہدِفساد میں اعلانِ مساوات:
          رسولِ عربی نبی امی صلوات اللہ علیہ وسلامہ نے فرمایا: الرَّبُ واحدٌ والأب واحدٌ (کہ پروردگار بھی ایک ہے اور باپ بھی سب کے ایک ہیں) کی بنیاد پر انسانی وحدت ومساوات کا اصول وقاعدہ اس تاریک ترین اور پرآشوب دور میں عطا کیاتھا، جس کو رب العالمین نے عہدِ فساد سے تعبیر فرمایا ہے، اس فسادِ عام کے سبب امنِ عالم مفقود اور انسان امن وانصاف سے محروم تھا، ایک رب کو چھوڑ کر ہزاروں معبود کی پرستش ہونے اور ایک باپ کی حقیقت کو فراموش کرکے مختلف طبقوں میں بٹنے کی وجہ سے اونچ نیچ کا طبقاتی نظام رائج ہوگیا تھا؛ لہٰذا ہر طرف انتشار، بدامنی، انارکی، درندگی پھیلی تھی۔ ”اسلام کا نظامِ امن“ کے مصنف حضرت مفتی محمد ظفیرالدین صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند اس تاریک دور پر اس انداز سے روشنی ڈالتے ہیں:
          بعثتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا ظلمت وضلالت کے سمندر میں غرق تھی، چھٹی صدی عیسوی تاریخ کا تاریک ترین دور ہے جس میں انسانیت دم توڑچکی تھی۔ انسانوں کی بستی تھی، مگر انسانی مجدوشرف سے تہی دامن ہوچکی تھی۔ انسان اپنی ہی خود ساختہ غلط بنیادوں پر بے شمار ٹولیوں میں بٹا ہوا تھا، جس طرح سب نے الگ الگ اپنا خدا گھڑ رکھا تھا، اسی طرح ہر ایک نے اپنے اپنے قبیلہ کی حکومت بھی علیحدہ بنارکھی تھی۔ عرب میں لڑائی عموماً قبیلہ کے نام پر ہوا کرتی تھی پھر اس کا سلسلہ برسہا برس چلتا تھا، مختصر یہ کہ پورا ملک خونریزی، غارت گری، سفاکی اور نہ ختم ہونے والی جنگ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔
          پھر بیرونِ عرب یہ حقائق تھے کہ آریوں نے طاقت پاکر غیرآریوں کو پامال کیا، برہمنوں اور چھتریوں نے شودروں کو غلام بنایا، رومیوں نے افریقیوں پر غلبہ پاکر ان کو معاف نہیں کیا، یونانیوں نے ایرانیوں کو کمزور پاکر خونریزی کی، گاتھ اور گال نے بھی یہی کیا۔ فرعونِ مصر نے خدائی کا دعویٰ کرکے کونسا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا اور آج بھی یورپ نسلی منافرت کے دام میں گھرا ہوا ہے ، کالے گورے کے عفریت وہاں زندہ ہیں۔
          یہ تاریخی شہادتیں ہیں کہ انسان ان خرافات میں مبتلاء ہوکر امن وامان کھوچکا تھا اورانسانی جان کی قدر وقیمت بھول چکا تھا، اسلام نے ضروری سمجھا کہ ان کے نظریہ میں مکمل انقلاب برپا کیا جائے اور انسانی رشتے مضبوط کیے جائیں؛ تاکہ انسانی خون کی قدر وقیمت لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہو۔ انسانی عزت وکرامت اجاگر ہو اور انسانی ملکیت کا احترام دلوں میں قائم ہوجائے۔ (اسلام کا نظامِ امن ص۲۷)
          رومیوں کے بارے میں مفکرِ اسلام مولانا علی میاں ندوی ”انسائیکلوپیڈیا آف برناٹیکا“ کے مصنف کا اقتباس نقل کرتے ہیں:
          روم کی مشرقی ریاست میں اجتماعی بدنظمی انتہا کو پہنچ گئی تھی، باوجود اس کے عام رعایا بے شمار مصائب کا شکار تھی، ٹیکس اورمحصول دوگنے چوگنے بڑھ گئے تھے، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ملک کے باشندے حکومت سے نالاں تھے اور اپنے ملک کے حکمرانوں پر بدیسی حکومتوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اجارہ داریاں اور ضبطیاں مصیبت بالائے مصیبت تھیں، ان اسباب کی بنا پر بڑے پیمانہ پر فسادات اور بغاوتیں رونماہوئیں؛ چنانچہ ۵۳۲ھ کے فساد میں تیس ہزار افراد دارالسلطنت میں ہلاک ہوئے۔ (مسلمانوں کا عروج وزوال کا اثر ص۴۲)
          اور ایران کے حالات کے بارے میں ایران بہ عہد ساسان کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
          اونچ نیچ کا فرق، طبقوں کا تفاوت اور پیشوں کی تقسیم، ایرانی سوسائٹی اور نظامِ زندگی کا اٹل قانون تھا، جس میں ردوبدل ممکن نہیں تھا۔ (انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر ص۵)
          اور ہندوستان کے طبقاتی نظام کے بارے میں مَنوسمرتی کے حوالے سے موٴرخِ اسلام اکبرشاہ نجیب آبادی ”نظامِ سلطنت“ میں رقم طراز ہیں:
          دنیا میں برہمن سب سے افضل ہے برہمن دھرم کی مورت، نجات کا مستحق، دھرم کا محافظ ہے دنیا میں جو کچھ ہے برہمنوں کے لیے ہے برہمن کا کام وید پڑھنا، دان لینا، چھتری کا کام رعایا کی حفاظت کرنا، دان دینا، ویش کا کام ہے چوپایوں کی حفاظت کرنا، تجارت وکھیتی کرنا اور شودر کا کام ہے مذکورہ بالا تینوں کی خدمت کرنا۔ برہمن کا حق ہے کہ وہ غلام شودر سے دولت چھین لے اگر کوئی شودر کسی کا نام لے کر بلند آواز سے کہے تو فلاں برہمن سے نیچ ہے، اس کے منھ میں گرم آہنی سیخ ڈال دی جائے۔
          اس جیسے غیرانسانی وغیر فطری ظالمانہ دستور و قانون کا ملغوبہ ہے منوسمرتی جس کے مصنف منومہاراج ہیں، طبقاتی نظام کے باعث فتنہ وفساد، ظلم و ستم کا ایک تاریک ترین بھیانک دور تھا۔
اصولِ وحدت ومساوات:
          محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے عہد فساد اور دورفتن میں انسانی مساوات اور وحدت کا جو پیغام نشر کیاتھا، اس کا اصول و دستور انسانی فکر وخیال کو نہیں بنایا؛ بلکہ خالقِ کائنات کے عطا کردہ دستور وضابطہ قرآن مجید کو بنایا؛ اس لیے کہ وہی ایک ایسا اصول وضابطہ ہے جو انسانی فطرت کی مکمل رعایت کرتا ہے، اگر انسانوں کے وضع کردہ قوانین کو اصول مان لیا جائے تو اختلاف فکر کا پایاجانا لازم ہے؛ کیوں کہ ہر آدمی کی اپنی سوچ اور فکر ہوتی ہے، نظریات وخیالات میں فرق ہوتا ہے اور اسی سبب سے اختلاف پیدا ہوتا ہے، دنیا میں جو بھی فساد عقیدہ اور فساد اخلاق تھا، انسان کے کسی خودساختہ اصولوں کے باعث تھا۔ ”اسلام کا نظامِ امن“ کے مصنف مفتی محمد ظفیرالدین صاحب مفتاحی کتاب کے آغاز میں تحریر کرتے ہیں:
          یہ سب جانتے ہیں کہ اسلام کا مکمل آئینِ زندگی دنیا میں اس وقت آیا تھا، جب دنیا بربادی کے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکی تھی، انسان اپنی انسانیت کھوچکا تھا اور پوری دنیا سے امن وامان کا نام حرفِ غلط کی طرح مٹ چکا تھا۔
          پیغمبرِ اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نازک موقع پر انسانوں کی جس طرح رہنمائی کی اور انسانیت کے تنِ مردہ میں جس خوبی سے جان ڈالی وہ تاریخ کا ایک تابناک باب ہے اور یہ کیوں نہ ہوتا؛ جبکہ خود رب العالمین کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہورہا تھا، خالق سے بڑھ کو مخلوقات اور کائنات انسانی کا جاننے والا اوراس کی نفسیات سے واقف دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ جس کی نگاہ میں پوری کائنات کا ایک ایک ذرہ ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کو سامنے رکھ کر تجزیہ کریں گے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ امن وامان کو جو چیز تباہ کرتی ہے، وہ انسان کی تنگ نظری ہے کوئی مذہب کے نام پر تلوار اٹھاتا ہے، کوئی رنگ ونسل کے نام پر معرکہ آرائی کے لیے میدانِ کارزار گرم کرتا ہے، کوئی وطن اور ملکی حدود کے تعصب میں مبتلاء ہوکر انسانی خون سے ہولی کھیلتا ہے۔ (اسلام کا نظام امن ص۲۶)
          اس لیے سب کور نگ ونسل وطن وعلاقہ، خاندان وقبیلہ، عرب وعجم، روم وفارس، ہندو چین کے نسلی، خاندانی، علاقائی محدود دائرہ سے نکال کر اخوت و وحدت کی لڑی میں پرونا اور ایک فکر وعقیدہ پر ایک صف میں شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی شکل میں فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ آسمانی دستور نازل فرمایا اوراس کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا، قرآنی دستور چونکہ خالقِ کائنات کا وضع کردہ ہے؛ اس لیے اس میں کسی قسم کے تغیروتبدل کا امکان نہیں، وہ زمانہ کے گذرنے سے نہ فرسودہ ہوگا، نہ اس کی تازگی اور اثر آفرینی میں مرورِ زمانہ سے فرق آئے گا، اللہ رب العزت نے اسی ابدی دستور کو اساس بناکر مسلمانوں سے ملّی واسلامی اتحاد قائم کرنے اور تفرقہ بازی سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، نیز عربوں کی قدیم عداوت ونفرت اور آپسی اختلافات کا تذکرہ فرماکر اپنے انعام واحسان کو یاد دلایا ہے کہ ہم نے تم کو کس طرح ایک اصول وضابطہ کے تحت بھائی بھائی بنادیا۔
          وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اذْ کُنْتُمْ أعْدَاءً فَألَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہ اخْوَاناً وَکُنْتُمْ عَلیٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأنْقَذَکُمْ مِنْہَا (سورة آل عمران۳۰ آیت نمبر۱۰)
          اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو اور یاد کرو اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو جب کہ تم باہم دشمن تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا، لہٰذا تم بھائی بھائی بن گئے اور تم ہلاکت کے دہانے پر تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔
اولین اسلامی معاشرہ کے اوصاف:
          رسولِ اکرم محسن اعظم محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی وحدت وانسانی مساوات پر مبنی جو اسلامی معاشرہ تشکیل فرماکر دنیائے انسانیت کو اسلام کے دینِ فطرت ہونے کا اعلیٰ ترین نمونہ دکھایا تھا اس معاشرہ پر مفکرِ اسلام سید ابوالحسن علی ندوی اپنے خاص اسلوب میں روشنی ڈالتے ہیں:
          آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سطح سے کام شروع کیا جہاں حیوانیت کی انتہا اور انسانیت کی ابتداء ہوتی تھی اور اس اعلیٰ سطح تک پہنچادیا جو انسانیت کی انتہائی منزل ہے اور جس کے بعد نبوت کے سوا کوئی اور درجہ نہیں اور جسے محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ختم کردیاگیا۔
          امتِ محمدیہ کا ہر فرد اپنی ذات سے ایک مستقل معجزہ ، نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا، دنیا کے اگر تمام ادیب جمع ہوکر انسانیت کا کوئی بلند ترین نمونہ پیش کرنے کی کوشش کریں تو ان کا تخیل اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتا، جہاں واقعاتی زندگی میں وہ لوگ موجود تھے جو آغوشِ نبوت کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے اور جو درس گاہِ محمدی سے فارغ ہوکر نکلے تھے ان کا قوی ایمان، ان کا عمیق علم، ان کا خیر پسند دل، ان کی ہر تکلف اور ریاء ونفاق سے پاک زندگی، انانیت سے ان کی دوری، ان کا خوفِ خدا، ان کی عفت وپاکیزگی اور انسان نوازی، ان کے احساسات کی نزاکت ولطافت، ان کی مردانگی وشجاعت، ان کا ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت، ان کی دن کی شہسواری اور راتوں کی عبادت گذاری، متاعِ دنیا اور آرائش زندگی سے بے نیازی، ان کی عدل گستری، رعایا پروری اور راتوں کی خبرگیری، اگلی امتوں اور تاریخ میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
          انھیں اینٹوں سے اسلامی معاشرہ کی عمارت بنی تھی اوراسلامی حکومت انھیں بنیادوں پر قائم ہوئی تھی یہ معاشرت وحکومت اپنی فطرت میں ان افراد کے اخلاق و نفسیات کی بڑی صورتیں اور تصویریں تھیں اور ان افراد ہی کی طرح ان سے بنا ہوا معاشرہ بھی صالح، امانت دار دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والا، اس معاشرے کے اقدار میں تاجر کی صداقت وامانت، ایک محتاج کی سادگی ومشقت، ایک عامل کی محنت وخیرخواہی، ایک غنی ومال دار کی سخاوت وہمدردی، ایک قاضی کا انصاف اور معاملہ فہمی، ایک والیِ ملک کا اخلاص و امانت داری، ایک رئیس کی تواضع ورحم دلی، ایک وفادار خادم کی قوتِ کار اور ایک امانت دار محافظ کی نگرانی ونگہبانی جمع تھی۔ (مع تلخیص از منصبِ نبوت ص۱۷۹-۱۸۱)
          اللہ رب العزت نے اس اولیں معاشرے کے افراد اصحابِ رسول عربی  صلی اللہ علیہ وسلم کے تعارف میں ارشاد فرمایا ہے:
          مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّدِیْنَ مَعَہ أشِدَّاءُ عَلی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَاناً سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِمْ مِنْ أثَرِ السُّجُوْد (سورہ فتح۲۹)
محمد اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت نرم دل ہیں تم ان کو دیکھوگے رکوع کرتے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا تلاش کررہے ہیں، ان کی علامتیں ان کے چہروں سے نمایاں ہیں سجدوں کے اثر سے۔
          ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
          رِجَالٌ لاَ تُلْہِیْہِمْ تِجَارَةٌ وَلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہ․
(ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ کے ذکر سے نہ تجارت روکتی ہے نہ خریدوفروخت)
          خود ان نفوسِ قدسیہ کی پرورش اور تربیت کرنے والے، معلمِ انسانیت، پیکرِ رحمت ورافت محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا:
          مِثْلُ الْمُوٴمِنِ کَالبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہُمْ بَعْضاً ثُمَّ شَبَکَ یَدَیْہِ (بخاری ومسلم)
مسلمانوں کی مثال عمارت کی طرح ہے، جس کا ہر فرد ایک دوسرے کو مضبوط کیے ہوئے جوڑے ہوئے ہے، پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرکے دکھایا۔
جاہلی عصبیت پر زد:
          آں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت ومحبت اور وحدت ومساوات کی روح کو فنا کرنے اور انسانوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنے والے جاہلی تفاخر اور انساب پر غرور کو بالکل ختم کردیا فرمایا:
          وہ قومیں جو اپنے مردہ آباء واجداد پر فخر کرتی ہیں ان کو اس سے باز آنا چاہیے وہ تو جہنم کا کوئلہ بن چکے ہیں یا پھر اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے بھی بدتر وحقیر ہیں جو اپنی ناک سے نجاست کو دھکیلتا ہے اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر تم سے جاہلی عصبیت اور باپ دادا پر فخر کرنے کو مٹادیا۔ (باب المفاخرت مشکوٰة شریف ۴۱۷)
          جاہلی عصبیت وانانیت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
          لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا الیٰ عَصبِیَّة وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَل عَصَبِیَّةً وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَصَبِیَّةً(رواہ ابوداؤد)
جس نے عصبیت کی دعوت دی وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے عصبیت کے باعث قتال کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو عصبیت میں مبتلا ہوکر مرا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
          اسلامی معاشرہ کے جذبہ تعاون وتراحم کو قائم رکھنے اور بداعتمادی وبدگمانی کو ختم کرنے کی وہ تمام ترکیبیں فراہم کردیں جس کی طرف کوئی انسانی ذہن نہیں جاسکتا اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و تابعداری اوراختلافات وتنازعات سے دور رہنے کی تاکید نیز بدظنی رکھنے، کسی کی ٹوہ میں پڑنے اور غیبت کرنے، پڑوسیوں کے حقوق سلب کرنے، مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا اور مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے، تعاون کرنے، مصائب ومشکلات میں مدد کرنے کو اجرِ عظیم کا باعث فرمایا، ذرا ان آیات واحادیث کو ملاحظہ کریں کس طرح ہدایات دی جارہی ہیں:
          اَطِیْعُو اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَلاَ تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوا انَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن(سورہ انفال۴۶)
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تنازع میں مت پڑو ورنہ ناکام ہوجاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑجائے گی (دشمنوں سے مقابلہ کے وقت) صبر سے کام لو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
بدگمانی سے بچو:
          یَا أیُّہَا الذین آمنوا اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم لا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضاً أیحب احدکم أن یاکل لحم اخیہ میتاً فکرہتموہ واتقوا اللّٰہ أن اللّٰہ تواب رحیم․ (سورة الحجرات ۱۲)
اے ایمان والو! بہت زیادہ بدگمانی کرنے سے بچو کیونکہ بعض بدگمانی گناہ ہے اور ٹوہ میں مت رہو اور نہ تم میں کا کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی گوارہ کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے تو تم ناپسند کرو، اللہ سے ڈرو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔
          اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
          اِیَّاکُمْ وَالظَّنَ فَانَّ الظَّنَّ أکْذَبُ الْحَدِیْثِ لاَ تَحَسّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَباغَضُوا ولاَ تَدَابَرُوا وَکُوْنُوْا عبادَ اللّٰہِ اخْوَاناً (بخاری ومسلم)
تم بدگمانیوں سے دور رہو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ کسی کی ٹوہ میں پڑو اور نہ کسی کی جاسوسی کرو اور نہ آپس میں حسد رکھو، نہ بغض وکینہ اور نہ ایک دوسرے سے رُخ پھیرے رہو اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔
حسن ظن کا درجہ:
          حُسْنُ الظَّنِ مِن حُسْنِ الْعِبَادَةِ (رواہ احمد وابوداؤد) حسن ظن بہترین عبادت ہے۔
پڑوسیوں کا خیال رکھو:
          آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص بہ خدا مومن نہیں ہے (تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا) صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول کون؟ فرمایا جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم)
          نیز فرمایا: لَیْسَ الْمُوٴْمِنُ بِالَّذِیْ یَشْبَعْ وَجَارُہ جَائِعٌ الیٰ جَنْبِہ (مشکوٰة باب الشفقہ)
وہ شخص مومن نہیں جو پیٹ بھرکر کھالے اور اس کے بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔
جذبہٴ اخوت و تعاون کی آبیاری:
          اَلْمُسْلِمُ أخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہ وَلاَ یُسَلِّمُہ مَنْ کَان فِیْ حَاجَةِ أخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِی حَاجَتِہ وَمَنْ فَرَّحَ عَنْ مُسْلِمٍ کَرْبَةً فَرَّحَ اللّٰہُ عَنْہُ کَرْبَةً مِنْ کرَبَاتِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ (بخاری ومسلم)
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے جس نے اپنے بھائی کی ضرورت پوری کی اللہ اس کی ضرورت پوری کرے گا اور جس نے اپنے بھائی سے کسی تکلیف کو دور کیا قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف اللہ اس سے دور کرے گا۔
          اسی طرح وحدت ومساوات اور محبت واخوت کے ماحول کو زہریلا کرنے اور نفرت پھیلانے، دشمنی پیدا کرنے کی ایک ناپسندیدہ حرکت کسی کا تمسخر ومذاق کرنا ہے کسی کو برے القاب سے یاد کرنا ہے اسلام نے اس کو انتہائی ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ جس کو تم حقیر و ذلیل جان کر مذاق کا نشانہ بناتے ہو یا اس کو برے القاب دے کر رسوا کرتے ہو، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اچھے عمل کی وجہ سے اللہ کے نزدیک ان مذاق اڑانے اور استہزاء کرنے والوں سے بلند مرتبہ پر ہو۔ سورہ حجرات میں ارشادِ خداوندی ہے:
          انما المومنون اخوة فاصلحوا بین أخویکم واتقوا اللّٰہ لعلکم ترحمون یا ایہا الذین آمنو لا یسخر قوم من قوم عسیٰ أن یکونوا خیراً منہم ولا نشاءٌ من نساءٍ عسیٰ أن یکن خیراً منہن ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب (سورة الحجرات۱۱)
تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادو (اگر اختلاف پیداہو) اور اللہ سے ڈرتے رہو شاید تم پر رحم کیا جائے، اے ایمان والو! کوئی جماعت کسی قوم کا تمسخر نہ کرے ممکن ہے وہ لوگ تمسخر کرنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ مذاق اڑانے والیوں سے بہتر ہوں اور نہ اپنوں کی عیب جوئی کرو، نہ برے القاب سے مخاطب کرو۔
          ایسے جامع اصول وقوانین کا پابند معاشرہ ہی وحدت ومساوات اور محبت ورافت، رحم دلی وخیرخواہی، ہمدردی وغمگساری اور ایک دوسرے کی نصرت واعانت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہوسکتا ہے یہی اسلامی وحدت ومساوات ہی وہ قوت وطاقت تھی، جس کے سامنے دشمن کی کوئی فوج نہ ٹک سکی، اسی مساواتِ اسلامی کا اثر تھا کہ غزوئہ موتہ میں ایک آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ سپہ سالار اعظم بنائے گئے اور مرض الوفات میں اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لشکر روانہ فرمایا تھا اس کے سپہ سالار اسامہ بن زید بن حارثہ تھے، جن کے ماتحت ابوبکر وعمر، عثمان وعلی سمیت تمام کبار صحابہ تھے، یہی اسلامی مساوات کارفرماتھی کہ فتحِ مکہ کے دن سیدنا بلال حبشی بیت اللہ شریف کی چھت پر کھڑے ہوکر اذانِ توحید دے رہے تھے اور مشرکین کے بعض سردار احساسِ ذلت سے کہہ رہے تھے کہ کاش میں اس منظر کو دیکھنے سے پہلے مرچکا ہوتا، اسی اسلامی وحدت ومساوات کو دل سے قبول کرنے کا نتیجہ تھا کہ فاتحِ شام اس امت کے امین حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
اے لوگو! میں ایک قریشی انسان ہوں اور تمہارا کوئی بھی فرد جوتقویٰ میں مجھ سے فائق ہو خواہ سرخ ہو یاسیاہ فام میں اس جیسا بننا پسند کروں گا (اشہر مشاہیر الاسلام :۳/۵۱۴)۔
          آج دنیا میں مسلمانوں کو جو بھی مسائل درپیش ہیں یا ان کو دشمنانِ اسلام کی جن سازشوں، تحریکوں کا سامنا ہے اور ان کا توڑ نہیں کرپارہے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری وہ مثالی وحدت باقی نہیں رہی جو قوت وطاقت کا سرچشمہ تھی جس طرح قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے بتانِ رنگ و خون کو توڑ کر اپنے کو ملت میں گم کردیا تھا اورسیسہ پلائی دیواربن گئے، آج انھیں کے جانشین مسلمان فرقوں، گروپوں، جماعتوں میں تقسیم ہیں، قومیت ووطنیت، علاقائیت اور خاندانی انانیت کا شکار ہیں۔ علامہ اقبال کا یہ پیغام اور ان کا منتشر بکھرے مسلمانوں پر طنز کتنا گہرا ہے:
بتانِ رنگ وخوں کو توڑ ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

Love for Rasulullah is must,Quran verse Surah Tauba,Bukhari Hadith commanding


Allah Taala said in Quran Surah 9, At-Tauba, Verse 24)

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ 

Allah says, ‘(O Holy Prophet!) Say (to the believers) if your fathers, your sons, your brothers, your wives, your clan, the wealth that you have earned, the business in which you fear loss and your chosen houses are more dear to you than Allah and His prophet and striving in His cause then wait until Allah brings forth His command (punishment.’
(Holy Quran, Surah 9, At-Tauba, Verse 24)

Qadhi Iyadh Rahimullah writes in commentry that this verse is sufficient proof and indication of the necessity of loving the Holy Prophet and the fact that this is an immensely important obligation.



This is also mentioned in many Hadith of the Prophet Muhammad Sallallahu Alaihi Wasallam.

 Hadith from Sahih Bukhari:

عبد الله بن هشام قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلاّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَإِنَّهُ الآنَ وَاللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الآنَ يَا عُمَرُ

Hazrat Umar radhi-allahu-anhu said to the Holy Prophet, ‘I love you more than everything than myself.’ The Holy Prophet said, ‘None amongst you can be atrue believer until I am dearer to him than even himself.’
Hazrat Umar said, ‘I swear by Him (Allah) who revealed the Book (Holy Quran) to you! You are indeed dearer to me than even myself.’
The Holy Prophet replied, ‘Umar, now your eeman (faith) is complete.’
(Bukhari Shareef)

In the Hadith of Sahih Muslim 

لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

“None can attain faith, until I am more beloved to him than his child, his father, and all of mankind!”
 (Sahih Muslim )

Hadith Raising Hand in Dua from Bukhari,Shareef Prophet Sunnah

Sunnah Method of doing Dua prcticed by our beloved Prophet Sallallahu Alaihi Wasallam from Sahih Bukhari Ahadith


باب ‏ ‏رفع الأيدي في الدعاء ‏ ‏وقال ‏ ‏أبو موسى الأشعري ‏ ‏دعا النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ثم رفع يديه ورأيت بياض إبطيه
Abu Musa Ashari (RA) narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) made a dua, and I saw him raise his hands, until I could see the whitness of his armpits. 
(Bukhari Shareef)
وقال ‏ ‏ابن عمر ‏ ‏رفع النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يديه وقال اللهم إني أبرأ إليك مما صنع ‏ ‏خالد
Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) raised his hands and said, "O Allah! I ask your protection for what Khalid has done".
(Bukhari Shareef)
قال أبو عبد الله ‏ ‏وقال ‏ ‏الأويسي ‏ ‏حدثني ‏ ‏محمد بن جعفر ‏ ‏عن ‏ ‏يحيى بن سعيد ‏ ‏وشريك ‏ ‏سمعا ‏ ‏أنسا ‏ ‏عن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏رفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه ‏
Anas (RA) also narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) raised his hands until I saw the whiteness of his armpits. (Bukhari Shareef)

Lessons from life childhood youth Muhammad PBUH Family social administartive work


ولادت باسعادت

مولانا عبد الماجد دریابادی

 
عرب کی جغرافیہ کا خاکہ تو آپ کے ذہن میں ہو ہی گا، طول البلد۱۲ اور ۳۲۔ عرض البلد۳۵ اور ۶۰۔ایک طرف مصر اور حبشہ اور طرابلس اورسارابراعظم افریقہ، دوسری طرف ملک روم و شام وفلسطین اور سارا یورپ، تیسری جانب ایران اور عراق اور سارا ایشیا، اور چوتھی سمت میں سمندرہی سمندر۔گویامعمورہ ٔ عالم، خصوصا اس وقت کی دنیائے مہذب کا عین چوراہااور پھر جو تجارتی شاہراہ مشرق کو مغرب سے ملا رہی تھی، اور بحر ہندوخلیج فارس کے تجارتی مال کو خشکی کے راستہ مصر وروم و شام تک پہنچارہی تھی، وہ بحر احمر کے برابربرابر گویا ایک خط مستقیم بناتی ہوئی، ٹھیک اسی عرب ہی کے مغربی کنارہ پر تو تھی، تاریخ اور جغرافیہ دیکھئے دونوں کی شہادت کیاگذ ری ہے، یہی نا کہ اکیلے عرب ہی کی نہیں، دنیا کی اصلاح کے لئے اس سے بڑھ کر ضروری وقت و زمانہ اورکون ہوسکتا ہے اور مقام اس کے لئے عرب سے موزوں تر کون سا ہوسکتا تھا، ۔۔۔۔۔۔زمان ومکان دونوں کے لحاظ سے ولادت ایسی باسعادت اور کون سی ہوگی، والد ماجد کا نام عبد اللہ، توحید وعبودیت کی طرف کتنا صاف اشارہ، والدہ ماجدہ بی بی آمنہ، امن و امان کے حق میں ایک مستقل فال نیک، آنکھ یتیمی میں کھلی، والد ماجد نورعین کے دیدار جمال سے قبل ہی سفر آخرت پر روانہ ہوچکے تھے، جس کو سارے عالم کا سہارا بنایا جانے والا تھا، حق تھا کہ قدرت اسے وجود میں بغیر ظاہری سہارے کے لائے اور اس کا سہارا روز ازل سے بجز ذات حق کے اور کوئی ساجھی نہ رکھے۔
نام نامی دادا عبدالمطلب نے محمد رکھا، لفظی معنی’’ بہت حمد کئے گئے‘‘کے۔ذات ستودہ صفات کے لئے اسم با مسمیٰ، دوسرا نام احمد پڑا، جس کی زندگی حمد میں کٹی اور جسے اٹھانا بھی مقامِ حمد میں ہے، اس کے لئے اس سے بہتر نام اور ہوہی کیاسکتا تھا، پلے بڑھے، کھیلے، چلے پھرے، ملے جلے، بچپن یوں گذارا کہ خود معصومیت اس بچپن پر فخر کرنے لگی، جوان ہوئے تو نیکی اور پارسائی، طاعت حق اور خدمت خلق بلائیں لینے لگی، جوانی یوں بھی دیوانی ہوتی ہے، اور پھر ایسے ملک میں جہاں عیش پرستی اور لذت کوشی کی ہر راہ کھلی ہوئی، قدم کی ہر لغزش مستانہ پر رواج اور فیشن کی مہر لگی ہوئی، اسی ماحول میں اور سن و سال میں محلہ اور بستی والوں نے، کنبہ اور قبیلہ والوں نے لقب دیایہی تو، کیا؟ امین، امین کا لفظ بڑا وسیع اورجامع ہے، یعنی محمد دیانت دار بھی ہیں اور راست باز بھی، نظریں نیچی رکھنے والے بھی اور سب کی خدمت کرنے والے بھی، کتنے ایسے ہیں جن کی قسمت میں ہر وقت دیکھنے والوں کی زبان سے یہ شہادت آتی ہے؟
لڑکپن بھر گلہ بانی کی۔۔۔۔۔۔۔ جس کے نصیب میں آگے چل کر قوموں اور امتوں کا گلہ بان ہونا تھا، اس کے لئے کتنی اچھی تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان ہوئے تو تجارت اختیار کی۔۔۔۔۔ جس کا کام آگے بڑھ کر جنت کے تمسکات (Share certificate) ہلکے پھلے داموں خریدوانا ہونا تھا، اس کے لئے کتنا موزوں اور پرمعنی پیشہ، امانت ودیانت اور کاروبار میں مہارت دیکھ کر ایک دولت مند بیوہ نے شادی کی درخواست از خود کی، اور ۲۵؍سال کے سن میں اس جوان رعنا کی خانگی زندگی کی بھی شروع ہوگئی، سن کے چالیسویں سال میں تھے کہ مرتبہ نبوت سے سرفراز ہوئے، ساری تیاریاں اسی لئے تھیں اور ۲۳؍ سال تک اپنے خالق و مالک کا پیام بندوں کو سناتے رہے۔نکاح کئی فرمائے، اولادیں بھی متعدد ہوئیں، لڑائیاں باربار سخت اور خوں ریزاپنے ہم وطن اور ہم قوموں سے لڑنا پڑیں، ہمسایہ ملکوں سے معاہدے بھی کئے، ملک کے انتظام ہرطرح کے فرمائے، دیوانی، فوجداری، قانونی فیصلے ہر قسم کے کرنے پڑے، غیر مسلم تاجروں سے نامہ و پیام رکھا، بے شمار نمازیں پڑھیں اور پڑھائیں، خطبہ یا برجستہ تقریریں، خدا معلوم کتنی کرڈالیں، غرض یہ کہ دنیا کو ہر ہر پہلو پر خوب برتا لیکن دنیا میں ایک بار بھی نہ پڑے ۔ جیسے غوطہ خورنے سمندرمیں گر کر غوطہ لگایا، اور جسم کا ایک رواں بھی بھیگنے نہ پایا، اور جب ۶۳؍سال کی عمر شریف میں جون ۶۳۳ء میں اس فانی دنیا کو چھوڑا، تو دل میں تمنا اپنے رفیق اعلیٰ کے دیدا رکی بسی ہوئی تھی، اور پاک اور معصوم ہونٹوں سے آواز اللہم بالرفیق الاعلیکی چلی آرہی تھی۔

 
تعلیم یہ لائے کہ اپنی عقلوں اور ذہنوں کو مادیات کے جنجال میں نہ پھنساؤ، اسباب ظاہری کے دھوکہ میں نہ آؤ، ان سے کام یقینا لو، اور پوری طرح لو، لیکن اصلی سہارا اور حقیقی بھروسہ ایک اَن دیکھی ذات ہی کا رکھو، وہی سب کا پیدا کرنے والا، وہی سب کو پالنے اور جلانے والا اور وہی سب کو آخر میں مارنے اور اٹھانے والا، اس کا کوئی شریک نہ ذات میں نہ صفات میں، زندگی کے چھوٹے بڑے ایک ایک عمل میں اپنی ذمہ داری محسوس کرو، اور مادی وجسمانی زندگی کو سلسلہ ہستی کا ایک جز اور بہت ہی محدود جز سمجھو، تنگ نظری سے کام لے کر اسی کو کل سمجھ لینے کے دھوکہ میں نہ پڑو۔اس’ آج‘ کا عنقریب’کل‘ہونے والاہے، ہر دودھ کا دودھ، پانی کا پانی الگ ہوکر رہے گا، ساری تیاریاں اس یوم حساب کے لئے رکھو۔
قانون یہ بنایا کہ کوئی کسی حال میں کسی پر ظلم نہ کرے، بڑائی اور چھوٹائی اس عالم آب وگل کا بنیادی قانون ہے، کوئی امیر ہے کوئی غریب ہے، لیکن بڑے کو چھوٹے کے دبانے کا اور امیر کو غریب کے پیسنے کا، حاکم کو محکوم کے ستانے کا، قطعا کوئی حق نہیں، میاں اور بیوی، بادشاہ اور رعایا، زردار اورنادار، ادائے حقوق کے لحاظ سے اللہ کی عدالت میں سب بالکل برابر ہیں، دھیان اپنے فرائض کارکھو، اپنی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے کے حق میں ادا کرو مطالبات ِحقوق کا نام لے کر غل غپاڑہ نہ کرو، دنیا کو ہنگامہ و فساد کے تہلکے میں نہ ڈالو، تلوار ہاتھ میں اٹھاؤ بھی تو دنیا میں امن قائم کرنے کو، اللہ کی حکمت کاسکہ ازسر نو چلانے کو۔سودکا، رشو ت کا، خیانت کا ایک ایک پیسہ حرام سمجھو۔بے حیائی کے قریب نہ جاؤ، ننگے ناچ کی قدردانی نہ کرو، نشہ کی چیزوں کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ، ترکہ سب وارثوں کو ان کے حصہ رسدی کے مطابق تقسیم کرو، یہ نہ ہو کہ سب کچھ بڑا لڑکا پاگیا اور دوسرے لڑکے لڑکیاں منھ دیکھتی ہی رہ گئیں، جوئے کی کمائی چوری کے مال کی طرح گندی سمجھے رہو، بیگانی عورت کی طرف نظر بھی نہ اٹھاؤ، ہاں جائز شادیاں اگر ضرورت یا مصلحت سمجھو، تو ادائے حقوق کے ساتھ ایک سے زائد کرسکتے ہو۔
غرض ان ساری ہدایتوں کو اپنے پروردگار سے سیکھ کر جب وہ رہبر اعظم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوا تو وہ دنیا کے ہاتھ میں ایک مکمل ہدایت نامہ، جامع و مفصل دستورالعمل دے کر گیا، اور اس کی یہ ساری تعلیمات محض مخفی نہ تھیں، ان سب کی مشق سالہا سال تک اپنے سامنے کراکر گیا، اس کی قوم کے جاہلوں اور فاسقوں نے اس کا پیچھا لیا، اسے اپنے مشن کے تحفظ کے لئے مکہ معظمہ سے جلا وطن ہوکر ڈھائی پونے تین سو میل کی منزلیں طے کرکے مدینہ جابسنا پڑا، اور بے رحمانہ سختیوں کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو اسے اور اس کے وفا دار ساتھیوں کو جھیلنا نہ پڑی ہو، ساری مشکلات پر وہ اپنی معجزانہ ہمت و تدبیر سے غالب آیا، ملکوتی اور لاہوتی قوتیں پہاڑوں کو اس کے سامنے پانی کرتی گئیں، اس نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت ایک لاکھ سے اوپر، کوئی سوا لاکھ کی چھوڑی اور عرب کے کوئی دس لاکھ مربع میل پر وہ اپنی عادلانہ حکومت کا نقش قائم کرگیا۔اس کی ہمہ گیر، بے نظیر اور جمال و جلال اور کمال سب کی جامع شخصیت کے لئے ہم کو آپ کو نہیں یورپ کو آج تک اعتراف ہے، کہ وہ دنیا کے تمام انبیاء اور مذہبی شخصیتوں میں کامیاب ثابت ہوئی۔
اللّٰہم صلّ وسلّم وبارِک علیہ

*
जन्म बासादत
मौलाना अब्दुल ालमाजद दरियाबादी

अरब की भूगोल की रूपरेखा तो आपके मन में हो ही जाएगा, तूल ालबलद 12 और 32. अर्ज़ ालबलद 35 और 60. एक तरफ मिस्र और हबनग और त्रिपोली ाोरसाराबराृम अफ्रीका, दूसरी ओर देश रूम और शाम ोफलसटियन और सारा यूरोप, तीसरी ओर ईरान और इराक़ और सारा एशिया और चौथी दिशा में समनदरही सागर. गोयासमझमोरह आलम, खासकर तत्कालीन दनियाए सभ्य का ठीक चोराहााोर फिर जो व्यापारिक मार्ग पूर्व को पश्चिम से मिला रही थी, और हिन्द हिन्दोरिएज फ़ारस के व्यापारिक माल को सूखी सी लगती के रास्ते मिस्र ोरोम और शाम तक पहुँचारही थी, वह महासागर अहमर के बराबरबराबर मानो एक पत्र मसतकीम बनाती हुई, ठीक उसी अरब ही के पश्चिमी किनारा पर तो थी, इतिहास और भूगोल देखिए दोनों की शहादत कयागज़ री है, यही ना कि अकेले अरब ही नहीं, दुनिया की सुधार के लिए इससे बढ़कर आवश्यक समय और समय ावर्कोन सकता है और स्थान के लिए अरब से उपयुक्त तर कौन सा हो सकता था, … ज़मान ोमकान दोनों के लिहाज से जन्म ऐसी बासादत और कौन सी होगी, पिता माजिद नाम अब्दुल्लाह, तौहीद ोिबोदयत द्वारा कितना साफ संकेत, मां माजदा बीबीसी ामना, शांति और अमान के पक्ष में एक स्थायी फ़ाल नेक, ानख यतीम में खुली, पिता माजिद नोरिीन के दर्शन जमाल से पहले ही यात्रा ाख़रत पर रवाना हो चुके थे जिसको सारे आलम का सहारा बनाया जाने वाला था, अधिकार था कि प्रकृति उसे अस्तित्व में बिना ऊपरी सहारे लाए और उसका सहारा दिन ाज़ल से बजज़ ज़ात हक़ और कोई साझा न रखे.
नाम नामक दादा िबदालम्लब ने मोहम्मद रखा, पाठ अर्थ”बहुत स्तुति किए गए ‘के. जाति सतोदा गुणों के लिए संज्ञा बा मसमी अगला नाम अहमद पड़ा, जिसकी जीवन स्तुति में कटा और जिसे उठाना भी स्थान स्तुति में है, के लिए अच्छा नाम और हो ही काज्कता था, प्ले बढ़े, खेल, चले फिरे, मिले जले, बचपन यूँ गुज़ार कि खुद मासूमियत इस बचपन पर गर्व करने लगी, जवान हुए तो नेकी और पारसाई, ्ात अधिकार और सेवा भाव बलाएँ लेने लगी , जवानी यूँ भी दीवानी होती है, और फिर ऐसे देश में जहां ऐश परस्ती और स्वाद कोशी की हर राह खुली हुई, कदम हर लगज़श मस्ताना पर रिवाज और फैशन की मुहर लगी हुई, उसी माहौल में और सन और साल में मुहल्ला और बस्ती वालों ने, परिवार और क़बीले वालों ने उपनाम दयाीही तो क्या? अमीन, अमीन शब्द बड़ा व्यापक ाोरजासमझ है यानी मोहम्मद दयानत दार भी हैं और बेलागलपेट भी नज़रें नीची रखने वाले भी और सब की सेवा करने वाले भी कितने ऐसे हैं जिनकी किस्मत में हर समय देखने वालों की जबान पर शहादत आती है?
लड़कपन भर गलह संस्थापक की ……. जिसके नसीब में आगे चलकर राष्ट्रों और ामतों का गलह बान होना था, उसके लिए कितनी अच्छी शिक्षा …….. जवान हुए तो व्यापार अपनाई. … उसका काम आगे बढ़ कर जन्नत के तमस्कात (Share certificate) हल्के मूलभूत दामों ख़रीदवाना होना था, इसके लिए कितना उचित और परसमझनी पेशा, अमानत ोदयानत और व्यवसाय में विशेषज्ञता देख कर एक धनी विधवा ने शादी का अनुरोध स्वत , और 25 / वर्ष सुन में जवान रिना की खानगी जीवन की भी शुरू हो गई, सन के चाीतोें साल में थे कि बार भविष्यवाणी से सरफराज हुए, सारी तैयारियां इसलिए थीं और 23 / वर्ष तक अपने निर्माता और मालिक का पियाम बन्दों को सुनाते रहे. निकाह कई करे, ावलादें भी कई हुई लड़ाईाँ बार सख्त और ख़ूँ रीज़अपने हमवतन और हम देशों से लड़ना पड़ी, पड़ोसी देशों से समझौते भी किए, देश प्रबंधन हर्तरह के करे, दीवानी, आपराधिक, कानूनी फैसले हर प्रकार के करने पड़े, गैर मुस्लिम व्यापारियों से पत्र और पियाम रखा, बेशुमार नमाज़ें पढ़ें और पढ़ाएँ, भाषण या बपंजीकतह भाषण, भगवान मालूम कितनी कर्डालें, गरज यह कि दुनिया को हर पहलू पर खूब इस्तेमाल होता लेकिन दुनिया में एक बार भी न पड़े. जैसे गोता सुरने समनदरमें गिर कर गोता लगाया, और शरीर का एक सजीव भी भीगने न पाया, और जब 63 / वर्ष शरीफ में जून 633 ई. में इस फानी दुनिया को छोड़ा तो दिल में तमन्ना अपने संगी उच्च दीदा रिकी बसी हुई थी और पाक और मासूम होंठों से आवाज़ ाललहम बालरफीक ालालेकी चली रही थी.
शिक्षा यह लाए अपनी िकलों और मन को मादयात के जंजाल में न फंसाने, कारण ज़ाहिरी के धोखा न ओ, उनसे काम निश्चित लो, और पूरी तरह लो, लेकिन वास्तविक सहारा और वास्तविक भरोसा एक इन देखी जाति ही रखो, 


वही सबका पैदा करने वाला, वही सब को पालने और जलाने वाला और वही सबको अंत में मारने और उठाने वाला, उसका कोई साझी न जाति न सिफ़ात में, जीवन के छोटे बड़े एक प्रक्रिया में अपनी जिम्मेदारी महसूस करो, और भौतिक ोजसमानी जीवन सिलसिला हसती का एक जुज़ और बहुत ही सीमित जुज़ समझो, संकीर्णता से काम लेकर इसी को कल समझ लेने के धोखा न पड़ो. इस ‘आज का निकट भविष्य में’ कल ‘होने वाला, हर दूध का दूध, पानी का पानी अलग होकर रहेगा, सारी तैयारियां इस दिवस हिसाब के लिए रखो.
कानून यह बनाया कि किसी हाल में किसी पर ज़ुल्म न करे, बड़ाई और छोटाई इस आलम अब ोगल मुख्य कानून है, कोई अमीर है कोई गरीब है, लेकिन बड़े को छोटे के दबाने और अमीर को गरीब के पेसने का, हाकिम को महकोम के सताने का, बिल्कुल कोई अधिकार नहीं, मियाँ और बीवी, राजा और रियायती, जरदारी ाोरनादार, ादाए अधिकारों के अनुसार अल्लाह की अदालत में सब बिल्कुल बराबर हैं, ध्यान अपने कर्तव्यों कारखो, अपनी ज़िम्मेदारियों को एक दूसरे के अधिकार में अदा करो मांगों अधिकारों का नाम लेकर रु गपाड़ह न करो, दुनिया को हंगामा और हिंसा के तहलके में न डालो, तलवार हाथ में उठाया भी तो दुनिया में शांति स्थापित करने को, अल्लाह रणनीति कासकह ाज़सर नौ चलाने को. सोदुका, रशो त का , खयानत का एक एक पैसा हराम समझो. बे हियाई के पास न जाओ, नंगे नाच की सराहना न करो, नशा की चीजों को हाथ भी न लगाओ, तुर्कह सबसे उत्तराधिकारियों को उनके भाग रसदी के अनुसार विभाजित करो, यह न हो कि सब कुछ बड़ा लड़का पागया और अन्य लड़के लड़कियां मुंह देखती रह गईं, जुए की कमाई चोरी के माल की तरह गंदी समझे रहो, बीगानी औरत की तरफ नज़र भी न उठाओ, हां वैध शादियाँ अगर जरूरत या मसलहत समझो, तो ादाए अधिकारों के साथ एक से अधिक कर सकते हो.
उद्देश्य इन सारी ौतायतों अपने पर्वरदिगार से सीख कर जब वह रहबर प्रधानमंत्री (सल्ल.) इस दुनिया से विदा हुआ तो वह दुनिया के हाथ में एक पूरा गाइड, व्यापक और विस्तृत हस्तोरालिमल देकर गया और यह सारी शिक्षा केवल गूढ़ न थीं, इन सब का अभ्यास वर्षीय साल तक अपने सामने कराकर गया, उसकी जनता के जाहलों और फ़ासकों ने उसका पीछा किया, उसे अपने मिशन की रक्षा के लिए मक्का समझृमह से निर्वासित होकर ढाई पुणे तीन सौ मील की मंज़िलें तय करके मदीना नौकरियां पड़ा और भी रहमाना सख्तियों की तरह ऐसी न थी जो उसे और उसके वफ़ा दार साथियों को झेलना न पड़ी हो, सारी कठिनाइयों पर वह अपनी समझजज़ाना हिम्मत और नीति से ग़ालिब आया, मलकोती और लाहोती शक्तियां पहाड़ों को उसके सामने पानी करती गईं उसने अपने पीछे अपने शागिर्दों की पार्टी एक लाख से ऊपर कोई सवा लाख की छोड़ी और अरब के कोई दस लाख वर्ग मील पर वह अपनी ादलाना सरकार का पद स्थापित कर गया. उसकी वैश्विक, बेनजीर और जमाल और महिमा और कमाल सबकी व्यापक व्यक्ति के लिए हमें आप नहीं यूरोप को आज तक स्वीकार है, कि दुनिया के सभी अम्बिया और धार्मिक व्यक्तियों में सफल साबित हुई.
ाललहम सल सल्लम ोबारक व


Taken with thanks fromhttp://armughanurdu.blog.com/hazrat-maulana-ali-miyan/

Prophet Muhammad noble character before Prophecy Youth Adulthood


MANHOOD
The virtues of Rasulullah (peace and blessing be upon him) became so clear that his integrity, loyalty and truthfulness gained great favour with the people of Makkah.

Prophet Noble Character in business...............
Hazrat Khadeejah-binte-Khuwaylid (R.A.) was a very rich business woman of Makkah and her trade extended to the realms of Syria (Shaam), Iraq and Yemen. She was so overwhelmed with Rasulullah's (peace and blessing be upon him) sublime character that she sent her nephew Qatima to him to find out if Rasulullah (peace and blessing be upon him) would accept a post as her trade agent. Rasulullah (peace and blessing be upon him) consulted his uncle Abu Taalib and accepted Hazrat Khadeejah (R.A.)'s proposition. 
Hazrat Khadeeja business Syria Visit.........................
She arranged a reasonable salary and Rasulullah (peace and blessing be upon him) set out on his second journey to Syria (Shaam), accompanied by Hazrat Khadeejah (R.A.)'s slave Maysarah and one of her relatives, Khazima-ibn-Hakeem.
Monk (Rahib) about Rasulullah............
When Rasulullah (peace and blessing be upon him)'s caravan camped at a site in Syria, Nasturaa, a monk, showed more than ordinary interest in Rasulullah (peace and blessing be upon him) and declared that according to their scriptures, Rasulullah (peace and blessing be upon him) was the expected 'Last of all Nabees'. The trade mission to Syria proved so profitable that Hazrat Khadeejah (R.A.) was overcome with admiration for Rasulullah (peace and blessing be upon him) . In due course, he made several other trips to Bahrain, Yemen and Syria each time returning with greater profit.
The exemplary character of Rasulullah (peace and blessing be upon him) was evident in many of his noble deeds. 
Custody of Hazrat Ali-ibn-Abu Taalib.................
 When his uncle Abu Taalib was hard pressed and in difficulty in a famine period, Rasulullah (peace and blessing be upon him) requested that he let him take custody of his children. Thus Rasulullah (peace and blessing be upon him) took care of Hazrat Ali-ibn-Abu Taalib while Hazrat Abbas (R.A.) cared for Hazrat Jafar-ibn-Abu Taalib.
Hazrat Zaid and Rasulullah.............................
Zaid-bin Haarith was a slave given to Rasulullah (peace and blessing be upon him) by Hazrat Khadeejah (R.A.). One day Zaid's father Haarith and his uncle Ka'ab came to Rasulullah (peace and blessing be upon him) to request the release of Zaid. Rasulullah (peace and blessing be upon him)readily granted Zaid his freedom. But Zaid refused to part from Rasulullah (peace and blessing be upon him) . Seeing this , Rasulullah (peace and blessing be upon him) promptly took Zaid with him to the court-yard of the Ka'bah and proclaimed Zaid as his own son before the people of Makkah.
Taken with sincere thanks from inter islam