Pages

Showing posts with label ISLAMIC MAGAZINES LINK. Show all posts
Showing posts with label ISLAMIC MAGAZINES LINK. Show all posts

اسلام اورامن عالم اسلام کے بنیادی عناصر

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ7‏-8 ، جلد: 99 ‏، رمضان - شوال 1436 ہجری مطابق  جولائی -اگست  2015ء



اسلام اورامن عالم


از: ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی[1]


تعارف:
امن کے لفظی معنی ہیں چین، اطمینان، سکون وآرام نیز صلح، آشتی وفلاح کے۔ اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن وسکون اورلازوال سلامتی کا مذہب۔
اسلام میں امن کا اتنا واضح تصور موجود ہے کہ دیگر ادیانِ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں، مثال کے طور پر آیت ذیل پیش کی جاسکتی ہے:
”مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فسَادِ فِی الْاَرْضِ فَکَأنَّمَا قَتل النَّاس جَمِیعًا“ (پ۶، آیت۳، ع۴)
(جو شخص قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا ملک میں فساد کرنے لگے تو گویا قتل کرڈالا اس نے سب لوگوں کو اورجس نے زندہ رکھا ایک جان کو توگویا زندہ کردیا سب لوگوں کو)
اسلام کے بنیادی عناصر:
رحم، خیرخواہی اور امن پسندی اسلام کے بنیادی عناصر ہیں، اسلام میں پہلے سلام پھر کلام کی ترغیب آئی ہے۔ السلام علیکم کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، بلکہ یہ اس مفہوم پر بھی محیط ہے کہ تم میری طرف سے محفوظ و مامون ہو۔ اسلام میں ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، جس میں اللہ کے دو صفاتی نام یعنی رحمن ورحیم بھی شامل ہیں، یعنی بڑامہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس طرح بندوں کے کیرکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں:
”عملی طور پر ایک مسلمان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن وسلامتی کا پیغامبر بنے نہ کہ تشدد، نا انصافی اور ظلم و زیادتی کاسفیر۔ چنانچہ اسے حکم دیاگیا کہ ہر روز تشہد کے اندر بار بار ان الفاظ کی تکرارکرے۔ ”السّلام علیک أیُّہا النبي ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ، السّلام علینا وعلیٰ عباد اللّٰہ الصالحین“۔ یہی نہیں بلکہ نماز کا اختتام ہی ان الفاظ پر ہوتا ہے ”السّلام علیکم ورحمة اللّٰہ“(۱)
اسلام میں رحم کی ترغیب وترہیب:
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”الرَّاحِمُوْنَ یَرحَمُہُمُ الرَّحمٰن“
(مہربانوں پر خدائے مہربان رحم کرتا ہے۔)
کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر   $                   خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا“۔ (مشکوٰة شریف ۲/۴۲۵)
اسلام میں امن وسکون کی فضیلت اور ظلم کی بیخ کنی کی ہدایت:
اسلام میں امن وسکون کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ظلم وستم سے اس روئے زمین کو پاک کرنے کی اتنی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ دیگر مذاہب عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں:
”اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اور اس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا، جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں۔ اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی واخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی۔ آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتاہے اورہر طبقہ اپنے اپنے طور پر کسی گہورائہ سکون کی تلاش میں ہے، یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔“(۲)
”اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔“(۳)
اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ اسلام دنیا میںآ یا ہی ہے ظلم کے استیصال کے لیے، اس کی بیخ کنی کے لیے، خواہ وہ کسی بھی سطح پر موجود ہو۔ حدیث میں ہے:
”مَن آذی الناس آذی اللّٰہ“ (جس نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اللہ کو تکلیف پہنچائی)
ظاہر ہے اللہ کی ناراضگی کوئی مردمومن گوارہ نہیں کرسکتا۔ حدیث بالا میں کسی مذہب وملت کی قید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دائرہ ساری انسانیت پر محیط ہے:
”یہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں امن وسلامتی کا عنصر زیادہ ہے، وہ تمام معاملات میں ان پہلوؤں کو اختیار کرنے پر زور زیادہ دیتا ہے جن میں نہ خود کوئی زحمت اٹھانی پڑے اور نہ دوسروں کو کوئی تکلیف ہو، اللہ تعالیٰ نے مومنین کا یہ وصف بیان کیا ہے وہ تسامح اور صلح جوئی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جبکہ فریق ثانی سے زیادتی اور جھگڑے کا اندیشہ ہو۔“(۴)
”لاضرر ولاضرار“ اسلام کا وہ لائحہ عمل ہے، جس کی روشنی میں ممکنہ حد تک قوت اور اثرات کے ذریعہ مظلوم کی دستگیری کی جائے اور ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے۔ مظلوم کی حمایت میں حسب ذیل حدیث میں کسی قدر واضح ہدایت موجود ہے:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، اللہ تعالیٰ تہتر مغفرت کا انتظام فرماتا ہے، جن میں سے صرف ایک مغفرت اس کے تمام معاملات سدھارنے کے لیے کافی ہے۔ مابقیہ ۷۲ مغفرتیں اس کے لیے آخرت میں رفع درجات کا ذریعہ بنیں گی۔
دوسروں پر رحم نہ کرنے والا اللہ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔ چنانچہ:
”عن جریر بن عبد اللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ، لا یرحمُ اللّٰہ من لا یرحم النّاس“ (بخاری:۲/۸۸۹)
(حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ لوگ اللہ کی رحمت سے خصوصی طور سے محروم رہیں گے، جن کے دلوں میں دوسروں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے)
”اس حدیث میں الناس کا لفظ عام ہے جو مومن و کافر اور متقی وفاجر سب کو شامل ہے اور بلاشبہ رحم سب کا حق ہے۔“(۵)
اسلام نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر احسان کو ترجیح دیا ہے:
”خلق خدا اللہ کی عیال کے مانند ہیں، لہٰذا اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے،جو اللہ کی مخلوق پر احسان کرنے والا ہو۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”عن عبد اللّٰہ بن عمر بن العاص ان النبی قال: من قتل عصفوراً فما فوقہا بغیر حقہا الاّسألہ اللّٰہ عن قتلہ “
(جس نے کسی گوریا یا اس سے بھی چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کیاتو اس سے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ بازپرس کریں گے)
اسلام کی رحمت عمومی:
”رحمت دراصل اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور رحمن ورحیم اس کے خاص نام ہیں اور جن بندوں میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا جتنا عکس ہے، وہ اتنے ہی مبارک اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اتنے ہی مستحق ہیں اورجو جس قدر بے رحم ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے اسی قدر محروم رہنے والے ہیں۔“(۶)
جس طرح سورہ فاتحہ کی شروعات ہی رحمتِ عالم کے اعلان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلمین الرّحمٰنِ الرّحیم“ (سب تعریفیں اس پروردگار کے لیے ہیں جو سارے جہان کا پالنہار ہے، مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ اس آیت میں خداکو رب العالمین کہاگیا ہے، صرف رب المسلمین نہیں۔ جس سے اسلام کے فیض عمومی کا اندازہ بلاتکلف لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن نے نہ صرف رب کائنات کو بلکہ پیغمبرآخرالزماں کی تخصیص وتحدید بھی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں کی، بلکہ اس کا دائرہ سارے عالم کے لیے وسیع کرتے ہوئے فرمایا:
”وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْن“
(ہم نے آپ کو سارے عالم کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے)
چونکہ اللہ رب العزت کی ذات رحمن ورحیم ہے اور پیغمبر آخرالزماں رحمة للعالمین لہٰذا دونوں کی انتہائے رحمت کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات محبت وشفقت، رحمت ورافت کا سرچشمہ بن گئیں۔ اسلامی تعلیمات پوری کائنات کے لیے امن وسلامتی، اتحاد واتفاق، احترام آدمیت، ہمدردی وغم خواری، وحدت ومساوات، رحم وکرم، عفو ودرگزر، صلح وآشتی، عدل وانصاف، سکون واطمینان اور پرامن بقائے باہم لامنتاہی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ خوبیاں جن سے اسلام متصف ہے، دراصل امن کے لیے خمیر کی حیثیت رکھتی ہیں، جن سے صرف نظر کرکے امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام کی انہیں گوناگوں خوبیوں نے اسے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب بلااکراہ پھیلادیا، جس میں جورو تعدی یا شمشیروسنان کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔ جن لوگوں نے تاریخ اسلام کا معروضی مطالعہ کیا ہے اور معاندانہ کے بجائے منصفانہ ذہن ودماغ کے حامل ہیں، انہیں اس کا دل سے اعتراف ہے کہ اسلام اپنی مذکورہ بالا خوبیوں کے سبب ہی دنیا میں پھیلا اور آج بھی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ جس کا برملا اظہار مستشرقین نے بھی بار بار کیاہے، مثال کے طور پر مشہور مورخ مسٹرولز رقم طراز ہیں:
”اسلامی تعلیمات نے دنیا میں منصفانہ، شریفانہ طرز عمل کے لیے عظیم روایات چھوڑی ہیں اور وہ لوگوں میں شرافت اور رواداری کی روح پھونکتی ہیں۔ یہ تعلیمات اونچی انسانی تعلیمات ہیں اور قابل عمل ہیں۔ ان تعلیمات نے ایسی سوسائٹی کو جنم دیا، جس میں اس کے پیشتر کی سوسائٹی کے مقابلے میں سنگدلی اور اجتماعی ظلم کم سے کم رہا۔ اسلام نرمی، رواداری، خوش اخلاقی اور بھائی چارہ سے پھیلا ہے۔“(۷)
عفودرگزر:
عفوودرگزر قیام امن کے لیے کس قدر ناگزیر ہے، یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ سرزمین عرب پر خاص طور سے قتال وجدال کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس وقت رکا جب آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم طلوع ہوا ورنہ پشتہا پشت بدلے لینے کی روش برقرار رہتی تھی، لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آئندہ کے لیے ختم کردیا اور اولیں قربانی خود پیش کی اور اپنے خاندان پر ہونے والے مظالم کو فراموش کردیا اور ان کے اوپر بیک جنبش قلم خطِّ عفو کھینچ دیا۔ جہاں تک عفوودرگزر کا سوال ہے:
”ارباب سیر نے تصریح کی اور تمام واقعات شاہد ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا․․․․ قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکی دی، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپ کی شان میں گستاخیاں کیں، نعوذ باللہ کبھی جادوگر، کبھی پاگل، کبھی شاعر کہا، لیکن آپ نے کبھی ان کی باتوں پر برہمی ظاہر نہیں فرمائی۔“(۸)
انسان کے ذخیرئہ اخلاق میں سب سے کم یاب، نادرالوجود چیز دشمنوں پررحم اور ان سے عفوودرگزر ہے، لیکن حاملِ وحی ونبوت کی ذات اقدس میں یہ جنس فراواں تھی۔ دشمن سے انتقام لینا انسان کا قانونی فرض ہے، لیکن اخلاق کے دائرئہ شریعت میں آکر یہ فرضیت مکروہ تحریمی بن جاتی ہے۔ تمام روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ دشمنوں سے انتقام کا سب سے بڑا موقع فتح حرم کا دن تھا جب کہ وہ کینہ خو سامنے آئے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اور جن کے دستِ ستم سے آپ نے طرح طرح کے اذیتیں اٹھائی تھیں، لیکن ان سب کو یہ کہہ کر چھوڑدیا:
”لا تثْریب علیکم الیوم فانتم الطَّلَقَاءَ“ (تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عربوں جیسی وحشی اور جنگجوقوم کو اس فضا سے نکال کرامن اور بھائی چارہ کا درس دیا۔ اگر انھوں نے کبھی جنگ بھی لڑی تو اس وقت، جب انھیں مجبور کیاگیا یا جب قیام امن کے لیے ناگزیر ہوگئی۔“(۹)
اسلام میں رواداری اور حقوق وسلوک:
قیام امن میں رواداری، حسن سلوک اور حقوق کی پاسبانی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس امر کے وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ان تینوں بنیادی امور کے محاذ پر بھی اسلام سب سے اعلیٰ وارفع منہاج فراہم کرتا ہے۔ اسلام بلاشبہ نہ صرف اپنوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحیم وشفیق بننے کی ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ“
(تم دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو جیساکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کرتاہے)
لیکن اس سلسلے میں بھی وہ جادئہ اعتدال سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتا:
”اسلام راواداری، محبت، شائستگی، شرافت اورمعقولیت کی تعلیم ضرور دیتا ہے، لیکن ایسی عاجزی اور مسکینی کی بھی تعلیم نہیں دیتا کہ اس کے پیروہرظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔“(۱۰)
نہ حلوا بن کہ چٹ کرجائیں بھوکے      $            نہ کڑوا بن کہ جو چکھے سو تھوکے
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی بندگی کے لیے شرط اولیں قرار دیا ہے:
”اگر تمہیں خدا کی بندگی کرنی ہے تو پہلے اس کے بندوں سے محبت کرو۔“
”اسلام دین رحمت ہے،اس کا دامن محبت ساری انسانیت کو محیط ہے، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، غمخواری ورواداری کا معاملہ کریں اوراسلامی نظام حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی، بھیدبھاؤ اور امتیاز کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ان کی جان ومال عزت وآبرو، اموال اور جائیداد اورانسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ ارشاد ربانی ہے:
”لا ینہٰکم عن الذین لم یُقاتلوکم فی الدین ولم یُخرجوکم من دیارکم ان تبرّ و ہُم وتُقسطوا اِلیہِم، ان اللّٰہ یُحبُّ المقسطین“
(اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑے نہیں دین کے سلسلے میں اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک، بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو)(۱۱)
اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ بے ضرر کافروں سے بغض وعداوت رکھی جائے، یہ فعل اسلام کی نظر میں غیرمطلوب اور انتہائی ناپسندیدہ ہے۔
اسلام نے کفارِ مکہ، یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ منافقوں کے ساتھ بھی کھل کر حسن سلوک کی ہدایت دی ہے۔ اس نے جہاں رشتہ داروں، قرابت داروں کے حقوق متعین کیے ہیں، وہیں قیدیوں، عام انسانوں اور غیرمسلم رعایا(ذمیوں) کے حقوق کی بھی وضاحت کی ہے۔
جہاد اور اسلام:
جہاد کا حکم شریعت مطہرہ میں خالق ارض وسما نے بڑی مصلحتوں کے پیش نظر بڑے قیدوبند اور اصول وضوابط کے ساتھ دیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی یہ خوبصورت دنیا فتنہ وفساد سے پاک ہوکر امن وامان کا گہوارہ بن جائے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری انسانیت کو اس نے اپنی خاندان قرار دیا ہے اور من آذی النَّاس آذی اللّٰہ فرماکر شریعت نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت عمومی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ جہاد کے درج ذیل چند بنیادی مصالح سے اس کی حکمت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں:
”(۱) جہاد لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لیے ہے․․․․ تلوار، تیر اور خنجر سے کوئی عقیدہ قلب میں نہیں اترسکتا․․․․ بلکہ اگر اسلام کو تلوار اور تیر سے پھیلایا جاتا تو اسلام پھیلنے کے بجائے کمزور ہوتا اور لوگ اپنے اس قاتل مذہب کے دشمن بن جاتے۔
(۲) بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں۱۳ سال آپ کا قیام رہا۔ اسی زمانے اور اسی حالت میں صدہا قبائل اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے․․․․ نجاشی بادشاہ حبشہ حضرت جعفر کی تقریر سن کر مشرف باسلام ہوا، ہجرت سے قبل مدینہ کے ۷۰ آدمیوں نے مقام منیٰ میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ مصعب بن عمیر کے وعظ سے ایک ہی دن میں تمام قبیلہ بنی عبدالاشہل مدینہ منورہ میں مشرف باسلام ہوا، بعد ازاں باقی ماندہ انصار بھی مشرف باسلام ہوئے۔
یہ سب قبائل جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوئے اورابوبکر صدیق،فاروق اعظم، عثمان غنی، علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین، جنھوں نے چہاردانگ عالم میں اسلام کا ڈنکا بجایا، یہ بہادرانِ اسلام بھی آیت جہاد وقتال کے نازل ہونے سے پہلے ہی اسلام کے حلقہ بگوش بن چکے تھے۔
(۳) نجران اور شام کے نصاریٰ کو کسی نے مجبور نہیں کیاتھا․․․․ ہر طرف سے وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے۔ جبر تو درکنار آپ نے تو ان کو بلانے کے لیے بھی کوئی قاصد نہیں بھیجا تھا۔
(۴) مسئلہ جہاد اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ انبیاء سابقین کی شریعت میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا۔
(۵) سلاطین اسلام اگر لوگوں کو جبراً مسلمان بناتے یا اس قسم کی تدبیریں کرتے جو عیسائیت کے لیے کی گئیں اور کی جارہی ہیں تو کم از کم اسلامی قلم رو میں عیسائیوں کا نام ونشان بھی نہ ہوتا۔“(۱۲)
ہفت روزہ ٹائمز مجریہ یکم اکتوبر ۲۰۰۲/ میںآ رم اسٹرانگ کا ایک مضمون ”اسلام کاحقیقی پر امن چہرہ“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جس میں اس نقطئہ نظر کی تردید کی گئی ہے کہ اسلام تشدد پسند دین ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ:
”اسلام میں اگر ان واقعات کے لیے کوئی دلیل ہوتی جو ۱۱/دسمبر کو پیش آئے تو اسلام کبھی دنیا کا تیزی سے پھیلنے والا مذہب نہ ہوتا۔“(۱۳)
حاصل کلام:
یاد رکھئے حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے، ظلم کے ساتھ نہیں، کیونکہ
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں  $            ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں
دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انھوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا اور ملک کے باشندوں کو بلاتخصیص مذہب وملت ہمیشہ ایک آنکھ سے دیکھا، ان کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز روا نہیں رکھا۔ انھوں نے اسپین میں اپنے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں شمشیر کا استعمال نہیں کیا۔ پورا خطّہٴ عرب گزشتہ چودہ صدیوں سے عربوں کے زیرنگیں ہے اور وہاں کم وبیش ڈیڑھ کروڑ قبطیوں (Christian Captic) کی موجودگی اس حقیقت کی غماز ہے کہ اگر مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت میں تلوار کا سہارا لیا ہوتا یا بزور قوت مسلمان بناتے تو آج قبطیوں کا وہاں نام ونشان بھی نہ ہوتا۔ دور کیوں جائیے خود ہندوستان کو دیکھئے، جہاں آج غیرمسلموں کا تناسب ٪۸۰ ہے، اس ملک پر مسلمانوں نے ہزار سال (محتاط اندازے کے مطابق مستحکم حکومت ۸۰۰ سال) حکومت کی۔ اگر حکمرانوں نے جبر واستبداد، شمشیر وسنان کو روا رکھا ہوتا تو ایک بھی غیرمسلم نظر نہ آتا۔
بلاشبہ:
”مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے۔“(۱۴)
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں امن کا تصور اظہر من الشمس ہے، کیا بلحاظ نظریہ (Theory) اور کیا بلحاظ عمل (Practice) ۔
$ $ $
حوالہ جات:
(۱)  ندیم الواجدی، مولانا، ۲۰۱۳/ اسلام اور امن عالم، راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، ۲۷، دسمبر، ص۷
(۲) ماہنامہ دارالعلوم، دیوبند، دسمبر ۲۰۰۸/ وجنوری ۲۰۰۹/ ص۷
(۳) دہشت گردی کا عالمی منظرنامہ، ص۱۶
(۴) ندیم الواجدی، مولانا، ۲۰۱۳/ اسلام اور امن عالم، راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، ۲۷، دسمبر، ص۷
(۵) معارف الحدیث، ج۲، ص۱۷۲
(۶) ایضاً
(۷)                اسلامی تہذیب کے درخشاں پہلو، ص۱۲۸
(۸) سیرت النبی، حصہ دوم، ص۵۹۹
(۹) ایضاً ص۶۰۳
(۱۰)اسلام میں مذہبی رواداری، ص۱
(۱۱)ماہنامہ دارالعلوم، دیوبند، دسمبر ۲۰۰۸/ وجنوری ۲۰۰۹/ ص۶
(۱۲)صحابہٴ کرام کے جنگی معرکے، ص۲۷-۲۶
(۱۳)ہفت روزہ ٹائمز ممبئی، مجریہ یکم اکتوبر ۲۰۰۲/
(۱۴)باب الاسلام، ص۱۶
مصادر و مراجع
(۱)  قاسمی، اختر امام عادل، مفتی، جنوری ۲۰۰۸/ اسلام امن وسلامتی کا مذہب، دارالعلوم، دیوبند، ص۱۹-۷
(۲) اصلاحی، فضل الرحمن، اکتوبر-دسمبر۲۰۰۷/ اسلام پیغام امن وسلامتی، سہ ماہی، باب الاسلام، ص۱۶
(۳) اصلاحی، حکیم صفات، جون ۲۰۰۲/، کیا اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے؟، معارف اعظم گڑھ، ص۴۵۲-۴۴۱
(۴) پریم چند، منشی، اسلامی تہذیب؟ مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی
(۵) نعمانی، علامہ شبلی، ستمبر۲۰۰۲/، سیرت النبی، ج۱، حصہ دوم،ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور
(۶) شوکت علی بستوری، مولانا، اکتوبر ۲۰۰۹/ اسلام میں حقوق انسانی کی حفاظت، ندائے شاہی، ص۳۷-۳۲
(۷)                شوکت علی بستوی قاسمی، دسمبر۲۰۰۸/ جنوری۲۰۰۹/، اسلام میں دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ رواداری، دارالعلوم دیوبند، ص۱۶-۶
(۸) صباح الدین عبدالرحمن، سید، ۱۹۸۷/، اسلام میں مذہبی رواداری، دارالمصنّفین، اعظم گڑھ
(۹) نعمانی، مولانا منظور، اکتوبر ۲۰۰۹/، معارف الحدیث، جلددوم، کتاب الرقاق وکتاب الاخلاق، الفرقان بک ڈپو، لکھنوٴ
(۱۰)محمد طیب، حکیم الاسلام، مولانا قاری، ۱۹۹۱/، خطبات حکیم الاسلام، جلداول، دارالکتاب، دیوبند
(۱۱)نور عالم خلیل الامینی، مولانا، ۱۴۲۹ھ، دہشت گردی کا عالمی منظرنامہ، دارالعلوم دیوبند۔
(۱۲)ندیم الواجدی، مولانا ۲۰۱۳/، اسلام اور امن عالم، روزنامہ راشٹریہ سہارا، ۲۷/دسمبر، ص۷
(۱۳)واقدی، علامہ محمد بن عمر/حکیم شبیراحمد سہارنپوری، ۲۰۰۶/، صحابہٴ کرام کے جنگی معرکے، (تسہیل، تلخیص، عنوانات: مولانا امداد اللہ)، انوردارالاشاعت مصطفائی، دہلی-۱۱۰۰۰۶
$ $ $


[1] سابق ڈپٹی ڈائریکٹر، سی،سی،آر،یو،ایم، دلکشا، این-۴۹، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی
-۱۱۰۰۲۵http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/04-Islam%20aur%20Aman%20Alam_MDU_07_08_July_Aug_15.htm

عقیدہٴ توحید عظمت واہمیت تشریح وتوضیح عبادت “کا مفہوم وجود باری تعالیٰ پر اقوال

Reproduced with JAZAKALLAH O KHAIR WITHOUT ANY EDITING FROM 


ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 9 - 10 ‏، جلد: 97 ‏، ذیقعدہ – ذی الحجہ 1434 ہجری مطابق ستمبر – اکتوبر 2013ء



عقیدہٴ توحید کی عظمت واہمیت


از: یرید احمد نعمانی


          یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ(21) الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الأَرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَاء بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّہِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (22)…(سورةالبقرة)
          ترجمہ: ”اے لوگو! اپنے اس پرودگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جوتم سے پہلے گزرے ہیں؛ تاکہ تم متقی بن جاؤ(21)(وہ پرودگار) جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایااور آسمان کو چھت، اور آسمان سے پانی برسایا،پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے طور پر پھل نکالے۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹہراؤ؛جب کہ تم ( یہ سب باتیں) جانتے ہو۔(22)“ (آسان ترجمہٴ قرآن)
تشریح وتوضیح:
          قرآن کریم سرچشمہٴ ہدایت ہے۔یہ اللہ رب العالمین کی وہ آخری الہامی کتاب ہے،جو اس نے اپنے آخری نبی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری۔ یہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو فلاح،نجات اورسعادت کاراستہ دکھاتی رہے گی۔اس کلام مبین سے کون فائدہ اٹھاتا ہے اورکون انکارکرکے اپنے لیے ابدی شقاوت کا سامان اکٹھا کرتاہے؟ اس کا جواب سورت بقرہ کی ابتدائی آیات سے ہی مل جاتاہے۔جن میں رب کریم نے انسانوں کے تین طبقات کا ذکر فرمایا ہے:
          ۱۔مومنین          ۲۔کافرین          ۳۔ منافقین
          ابتدائے سورت میں ہر ایک کی الگ الگ صفات بیان فرمانے کے بعد، تمام انسانوں کو ”یا ایھا الناس“ سے مخاطب کیا گیاہے۔ اس خطاب میں مومن مخلص بھی داخل ہے اور کافر ومنافق بھی۔ قرآن مجید میں یہ پہلا خطاب ہے،جس میں اللہ رب العالمین پوری انسانیت کو کسی لحاظ وامتیاز کے بغیر اپنی ذات عالی کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں اور بندوں کو اپنی قدرتِ کاملہ اور الوہیتِ مطلقہ سے آگاہ کرنے کے لیے ”آفاقی اور انفسی نعمتوں“ کا تذکرہ فرمارہے ہیں۔
          یعنی کچھ نعمتیں تو وہ ہیں جو براہ راست انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہیں۔ بعضے ایسی ہیں جن کا تعلق انسان کے اردگرد پائی جانے والی چیزوں سے ہے۔ انسان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت، خود اس کا وجود ہے۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ اس حوالے سے لکھتے ہیں:”نیست سے ہست اور نابود سے بودکرنا، پھر بطن مادر کی تاریکیوں اور گندگیوں میں ایسا حسین وجمیل ،پاک وصاف انسان بنا دینا کہ فرشتے بھی اس کی پاکی پر رشک کریں،یہ سوائے اُ س ذات حق کے کس کا کام ہوسکتاہے،جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔“(معارف القرآن:133/1)
          جب کہ آفاقی نعمتوں میں چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے:
          ۱۔       زمین                        ۲۔       آسمان
          ۳۔       بارش                        ۴۔       زمین سے غلہ اگنا
          ان چاروں نعمتوں کے خالق ومالک بھی صرف اورصرف اللہ رب العالمین ہیں۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ان کی تخلیق وپیدائش کا مفصل ذکر کیا گیاہے۔ غرض! انسان کو حاصل تمام نعمتیں خواہ ان کا تعلق ا س کی ذات سے ہو یا نہ ہو ،اللہ تعالیٰ کی عطافرمودہ ہیں۔اوربندگی والوہیت کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
          شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم آیاتِ بالا کی تشریح یوں بیان کرتے ہیں:”ان دوآیتوں میں اسلام کے بنیادی عقیدئہ توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اور مختصر انداز میں اس کی دلیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ اہل عرب یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کو پیدا کرنا، زمین وآسمان کی تخلیق اور آسمان سے بارش برسانا،او راس سے پیداوار اگانا،یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے کام بتوں کے سپرد کررکھے ہیں۔ اوروہ بت اپنے اپنے کاموں میں براہ راست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ ان بتوں کی عبادت اس لیے کرتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہر چیزکے پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہمیں کائنات چلانے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، تو عبادت کسی اور کی کرنا کتنے بڑے ظلم کی بات ہے۔“(آسان ترجمہ قرآن: 49/1)

Fazail e Amaal ki Haqeeqat Urdu Tawheed Ki Taraf Lane wali Kitab

Asslam O Alaikum,

1. Tamam Dunia mein Sirf Allah ki Taqat hai. Agar sari dunia ki Taqat milkar apko Badnam karna chahe aur Allah na Chahe to Nahi Kar sakta. Isi Ka Ek Misal Yahan HuI Hai.


2 Kuch Log Fazail e Amaal ke khilaf Shirk Phailane ka Ilzam Lagate Hain ......Allah ne un logon ko Jawab diya Hai Aur aisa Jawab diya Jise Thoda bhi Aqle saleem hoga to Samajh Jaega.

3. Niche Urdu mein ek Naye Musalman  ka interview hai Jo Mushrik the. School ke zamane main Ek Musalman ke Ghar Jane lage Jahan Fazail e Amaal Padhi Jati thi......Isne use baar baar suna .........Aisa Asar hua ki Woh Tawheed ka shaidaee Ho gaya ................Aur Fazail e Amaal ko padhne se Allah ki Tawheed par uska itna Mazboot Aqeedah Bana ki Jab Musalamn hone par Takleef wagairah ki baat aayi to .........Hazrat Bila aur Hazrat Khabba Raziallahu ANhu ki Tarah Takleef bardasht Krne ka Irada Kar liya Lekin Tawheed Chodna Gawara Na Kiya ..........

Allah ne dikha Diya ki Fazail e Amal insan ko Allah ki Tawheed aur Quran o Hadith se Jodne wali Kitab hai.........Aur Jo log Jhoot ka Jhootha Ilzam Laga Rahe hain Woh kitne Badi Ghalat Ilzam Laga Rahe Hain.

 Yeh magazine Armughan bahut nafa bakhsh hai Pura Interview download karein May 2013 
.http://www.armughan.in/Current%20Issue/PDF.pdf

EK BAAT AUR....... EK GUZARISH MUSLAMAN BHAION SE 

4 .Jo log Internet/ you tube/Face book par hain woh Jante Honge ki kuch Musalman Bhai Yeh Ilzam Lagate hain ki Fazail e Amaal Shirk Phailata hai ....... Badi Mehnat aur Dimag laga Laga kar kuch logon ne Fazaile Amaal ke Khilaf video Tayyar Kiya...........Kuch to mil na saka to Cheezon ko Tod Madod kar apni Taraf se uska Mani Pahunchaya .........Phir Ilzamat Lagaye...Aisi Aisi Batein ki ke ...Hadith ke Aalimon ko Bad batilon Beghairat waghairah Kiya Nahin Kha.........Logon ko Warghalaya .......Unko Dawat ke kaam ke khilaf  karne ki koshish ki.....Mahaz Dunia ke Thode se Faede ke liye  ...Aise koi Janta nahin Tha ...Is bahane Thoda You tube par Naam ho gaya ........Aur Kiya Mila ......

4. Kuch Nadan Musalamn Bhai Tadad Jisko Pure Halat ka Ilm Nahin Tha.........Jisne Fazail e Amaal nahi Padha ........Sirf QUOTE/VIDEO CLIP /SCAN PAGE  dekha.........Aur Unke video ko sach Maan Liya ...... Bechare Idhar udhar ki Baat karne Lage 
In Bhaion se  Guzarish hai ki Pahle Khud Fazail e Amaal Padhen phir koi baat karei.........Unke Page no /video clip par Yaqeen na karein Balki Puri kitab Padhein..............Phir Aap ko Sacchahi ka Ilm hoga.............Urdu Kitab IS LINK PAR HAI .....http://islamicbookslibrary.wordpress.com/2012/07/02/fazail-e-amaal-urdu-by-shaykh-muhammad-zakariyya-kandhelvi-r-a/

5. Allah in ilzam lagane walon ko Aaur Unke Ilzamat ko sach mankar idhar udhar ki Baat karne walon ko Maaf farmae aur Aqle Saleem Ata Kare.
Ameen 

upar ka Pura Interview  Ek Naye Musalman Bhai ka jo Sharanpur Up India ke Hain........Pura Interview download karein 
http://www.armughan.in/Current%20Issue/PDF.pdf


Dawat ke kaam ke liye Dil ki Fikr aur Dard Ki Misaal


Bismillah Hir Rahmanirraheem

Yeh mazmoon Maulana Abdullah Hasni Rahimullah* k eek taqreer se maKhooz hai 
Jo Mahnama Tameer Hyat 25 fef 2013 ke shumare ka hai.
Pura Shumar Nadwa ki website par hai Zaroor padhein Is link par http://www.nadwatululama.org/upload-file/disp.php?act=URDU

Is page mein Maulana ne farmaya  ki dawat ke kam karnewale ulma ko khitab kiya hai.
Is page mein who yeh farma Rahe hain ki Dawat ke kaam karne ke liye Andar ki lagan aur kudhan ummat ka dard zaruri hai
Is silsile mein unhon chaar buzurgon ki missal dee hai
1.     Maulana Ilyas Rahimullah
2.     Maulana Yusuf Rahimullah
3.     Maulana Karamat Ali Jaunpuri Rahimullah
4.     Syed Ahmad Shaheed Rahimullah
Unhone kaha ki unke andar ke lagan aur AAG ki wajah se Allah ne unse deen ka kaam liya.
Allah Ham sab ko Amal ki Taufeeq Naseeb Farmaye .
Mujh  Siahkar ke liye Khas dua ki darkhast hai 

Maulana Abdullah Hasni Rahimullah* 30 jan 2013 ko apne malik e haqeeqi se ja mile. Maulana ek zabardast Aalim aur Daee the. Allah unko jannatul firdaus naseeb farmaye Ameen
Is Shumare mein unpar kai mazmoon hai. Padhe bada nafa hoga insha Allah.Link upar hai. Click karein



Sexual Crime Quran and Islamic Rulings is the Solution of Problem جنسی جرائم - اسباب اور علاج


جنسی جرائم - اسباب اور علاج


از: غلام رسول دیشمکھ‏، انجمن روڈ، بھساول




     A PASSAGES OF ARTICLE with jazakallah from Monthly urdu magazine Darul Uloom India Feb 201F
 اسلام برائیوں اور جرائم کی طرف جانے والے راستوں پر پہلے پابندی عائد کرتا ہے، ایک صالح اورپاکیزہ ماحول مہیا کراتا ہے، اس کے بعد سزا تجویز کرتا ہے۔ مثلاً:
          *       شراب اور دوسری منشیات کو حرام قرار دیتا ہے۔
          *       مرد اور خواتین کے آزادانہ میل ملاپ پر پابندی عائد کرتا ہے!
          *       خواتین کو ساتر لباس کا پابند بناتا ہے۔
          *       پردہ لازمی قرار دیتا ہے۔
          *       مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں دیتا۔
          اس تعلیم کے بعد صالح ماحول اور معاشرہ میں کوئی بے حیائی اور بے ہودہ کام کرے تو عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے۔
          زانی اگر غیرشادی شدہ ہے تو اس کو سو (۱۰۰) کوڑے کی سزا ہے، اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو سنگ سار کردینے کی سزا ہے۔ یہ سزائیں چوراہوں پر عوام کے درمیان دی جاتی ہے؛ تاکہ اس عبرت ناک سزا کے بعد کوئی اس طرح کی حرکت کی جرأت نہ کرسکے۔
          جب تک معاشرے کی تعمیر توحید یعنی اللہ کے ایک معبود ہونے کے کہ وہی تمام انسانوں کا اور پوری کائنات کا خالق، مالک، معبود اور رب ہے اور آخرت میں ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا، یہی وہ خوف وڈر ہے جو اسے برائیوں سے بچاسکتا ہے، اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہ السلام کو مبعوث کیا، آخری نبی محمد … نے اللہ کی ہدایت کی روشنی میں صالح معاشرہ قائم کیا جو اپنی مثال آپ ہے، جب تک مندرجہ بالا تعلیمات کی روشنی میں ماحول اور معاشرہ کی اصلاح و تعمیر نہیں ہوگی جرائم اور خبائث کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ آج کل جرائم کا انبار لگا ہوا ہے، وہ ہمیشہ نئے انداز میں ہر دور میں اپنا سرابھارتے رہتے ہیں۔ رشوت خور اور غیرذمہ دار انتظامیہ غیراخلاقی ماحول میں اس کی اصلاح ناممکن ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ مندرجہ بالا خطوط پر سوچا جائے، اس کے بغیر جرائم اور برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
          اللہ تعالیٰ قوم پر رحم فرمائیں اور صحیح خطوط پر سوچنے، غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)

Jahez Islamic Rulings on Dowry Family System and Society

 Reproduced with jazakallah o khair from urdu Monthly Darul Uloom Published from Deoband India.It is Very good Islmic Magazine.For reading this Magazine click here

جہیز: خاندانی ادارے کے لیے عظیم چیلنج
از: محمد شاہ نواز عالم قاسمی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی


عصر حاضر میں خاندانی ادارے کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان سب کا احاطہ تو شاید ممکن نہ ہو، ہرمعاشرے میں یہ چیلنج ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛ بلکہ بعض حالات میں متضاد بھی۔ مثلاً کہیں جہیز کا اژدہا بے شمار جوانیوں کوچاٹ جاتا ہے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں عفت مآب دوشیزائیں ہوس پرست نوجوانوں اور ان کے والدین کی ”ہل من مزید“ کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ دوسری طرف کوئی باپ اپنی جوان بیٹی کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے دندانِ حرص تیز کررہا ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اِن دو طرفہ ہوس پرستوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: عورت سے نکاح چار اسباب کی بنیاد پر کیاجاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب و نسب کے باعث، اس کے حسن وجمال کے سبب سے اور اس کے دین کے تعلق سے؛ لہٰذا تم دین دار خواتین کو منتخب کرو۔ (مسلم شریف: ۲۶۶۱، بخاری شریف: ۴۷۰۰)

نیز آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی ایسا شخص جس کے دین اوراخلاق پسندیدہ ہوں نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح کردیا کرو، بصورتِ دیگر زمین میں فتنہ وفساد برپاہوگا۔ (سنن الترمذی: ۱۰۰۴)

نکاح کے لیے مال ودولت کو معیار بنانا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اورنہ آپ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو، ارشاد ربانی ہے: اگر وہ غریب ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی فرمادے گا۔ (النور:۱۸=۳۲)

جہیز کی حقیقت

جہیز اور بری یہ دونوں درحقیقت زوج (لڑکے والوں کی) طرف سے زوجہ یا اہل زوجہ کو ہدیہ ہے اور جہیز جو درحقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے فی نفسہ امر مباح بل کہ مستحسن ہے۔ (اصلاح الرسوم،ص:۵۶)

اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو خوب جہیز دینا برا نہیں؛ مگر طریقے سے ہونا چاہیے، جولڑکی کے کچھ کام بھی آوے۔ (حقوق البیت،ص:۵۲)

جہیز میں قابل لحاظ امور

جہیز میں اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے: اوّل تو اختصار یعنی گنجائش سے زیادہ کوشش نہ کرے۔

دوم: یہ کہ ضرورت کا لحاظ کرے؛ یعنی جن چیزوں کی ضرورت فی الحال ہو وہ دینا چاہیے۔

سوم: یہ کہ اعلان نہ ہو؛ کیوں کہ یہ تواپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے دوسروں کو دکھلانے کی کیاضرورت ہے؟ حضور صلى الله عليه وسلم کے فعل سے جو اس روایت میں مذکور ہے تینوں امر ثابت ہیں۔ (اصلاح الرسوم،ص:۹۳)

حضرت فاطمہ رضى الله تعالى عنها کا جہیز

سیّدة النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز یہ تھا: دو یمنی چادر، دو نہالی جس میں اَلْسِی کی چھال بھری تھی، چار گدے، چاندی کے دو بازوبند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ،ایک چکی، ایک مشکیزہ اور پانی رکھنے کا برتن یعنی گھڑا اور بعض روایتوں میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔ (ازالة الخفا واصلاح الرسوم،ص:۹۳)

حضرت فاطمہ رضى الله تعالى عنها کے جہیز کی حقیقت

ہمارے معاشرے میں جب جہیز کی بات آتی ہے تو سارے عہد نبوی سے ایک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اکلوتی مثال کو اس قدر زور بیان اور قوت استدلال فراہم کردیاجاتا ہے؛ گویا سنت نبوی کا تمام ترانحصار اسی پر ہے۔ سیّدہ فاطمہ رضى الله تعالى عنها کے اسباب کے ذریعے جہیز کو مسنون ثابت کرنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اور دیگر صاحب زادیاں تھیں، آپ نے اُنھیں کتنا سامانِ جہیز دیا، اگر نہیں دیا ہے تو کیاوجہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یہ تلقین فرمارہے ہیں: اولاد کو عطیہ دینے میں مساوات کو پیش نظر رکھو۔ (بیہقی)

ایک صحابی نعمان بن بشیررضى الله تعالى عنه اپنے ایک بیٹے کو عطیہ دینے کے سلسلے میں گواہ بنانے حاضر ہوئے توآپ نے پوچھا: کیا ساری اولاد کو اسی طرح کے عطیات دے رہے ہو؟ اُنھوں نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اولاد کے بارے میں انصاف سے کام لو، کسی ایک کو دینا دوسرے کو نظر انداز کردینا ظلم ہے اور میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ (متفق علیہ)

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ہاں یہ معاملہ آتاہے تو ایک بیٹی کو جہیز دے کر روانہ کرتے ہیں اور دوسری بیٹیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں حال آں کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟

بخدا دامنِ نبوت ہر قسم کی نا انصافی سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صحیح روایت سے یہ ثابت ہوجائے کہ آپ نے سیّدہ فاطمہ رضى الله تعالى عنها کے گھرکا سامان اپنے پاس سے دیا اور اُن چار سو اسی دراہم سے نہیں خریدا گیاجو حضرت علی رضى الله تعالى عنه نے اپنا واحد اثاثہ غزوئہ بدر میں ملنے والی زرہ کو فروخت کرکے حاصل کیاتھا تو بھی صورتِ حال علاحدہ تھی۔

بعثتِ نبوی سے پہلے کی بات ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کواپنے چچا ابوطالب کی معاشی تنگی کا شدت سے احساس تھا، ایک روز آپ نے اپنے دوسرے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آئیے ہم ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کا ایک بیٹا میں لے لیتاہوں ایک آپ لے لیں۔ اس طرح ان کی معاشی ذمے داری کم ہوجائے گی؛ چناں چہ آپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کی کفالت کی ذمے داری لی جو شادی تک آپ کے ساتھ رہے۔ چوں کہ حضرت علی رضى الله تعالى عنه کی کفالت آپ کے ذمے تھی؛ اِسی لیے مدینہ منورہ میں مواخات کے موقعے پر جب ایک ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بنایاگیا توآپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کا ہاتھ پکڑکر فرمایا: یہ میرا بھائی ہے۔

مطلب یہ تھا کہ اس کی کفالت جس طرح مکہ معظمہ میں میرے ذمے تھی اب بھی میرے ذمے ہے؛ چوں کہ حضرت علی رضى الله تعالى عنه کی کفالت آپ کی ذمے داری تھی؛ اِس لیے حضرت علی رضى الله تعالى عنه نے جب نیاگھر بسانے کا اِرادہ کیاتو آپ نے اُن کے سرپرست ہونے کی ذمے داری پوری کرتے ہوئے کچھ ضروری سامان ساتھ کردیا جسے بعد میں ہوس پرستوں نے کچھ کا کچھ کردیا۔

مروّجہ جہیز کی خرابیاں

مگر اب جس طرح سے اس کارواج ہے اس میں طرح طرح کی خرابیاں ہوگئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ اب ہدیہ مقصود رہا نہ صلہ رحمی؛ بلکہ ناموری اور شہرت اور رسم کی پابندی کی نیت سے کیاجاتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ بری اور جہیزی دونوں کا اعلان ہوتا ہے،متعین اشیا ہوتی ہیں، خاص طرح کے برتن بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں، جہیز کے اسباب بھی معین ہیں کہ فلاں چیز ضروری اور تمام برادری اور گھر والے اس کو دیکھیں گے، جہیز کی تمام چیزیں مجمع عام میں لائی جاتی ہیں اورایک ایک چیز سب کو دکھلائی جاتی ہے اور زیور اور جہیز کی فہرست سب کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ آپ خود فرمائیے یہ پوری ریا دکھلاوا ہے یا نہیں؟ اس کے علاوہ زنانہ کپڑوں کا مردوں کو دکھلانا کس قدر غیرت کے خلاف ہے۔

اگر صلہ رحمی مقصود ہوتی تو کیف ما اتفق جو میسر آتا اور جب میسر آتا بطور سلوک کے دے دیتے۔

اسی طرح ہدیہ اور صلہ رحمی کے لیے کوئی شخص قرض کا بار نہیں اٹھاتا؛ لیکن ان دونوں رسموں کو پورا کرنے کے لیے اکثر اوقات مقروض بھی ہوتے ہیں گوسود ہی دینا پڑے اور گو باغ ہی فروخت یا گروی ہوجائے پس اس میں الزام مالا یلزم اور نمایش اور شہرت اور اسراف وغیرہ خرابیاں موجود ہیں؛ اِس لیے یہ بھی بطریق متعارف (مروّجہ طریقے سے) ممنوعات کی فہرست میں داخل ہوگیا۔ (اِزالة الخفاء، اصلاح الرسوم،ص:۵۱و ص:۵۷)