Pages

Showing posts with label knowledge issue of Tabligh. Show all posts
Showing posts with label knowledge issue of Tabligh. Show all posts

فضائل اعمال ی جگہ صحیح بخاری کا درس کیوں نہیں دیتے ;وساوسِ غیرمقلدین تبلیغی جماعت



وساوسِ غیرمقلدین
-؛:------------------:؛-
فضائل اعمال کی جگہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا درس کیوں نہیں
وسوسه = تبلیغی جماعت والے کتاب{ فضائل اعمال } کی جگہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا درس کیوں نہیں دیتے جو کہ صحیح ترین کتب ہیں ؟؟
-؛:-------------------:؛-

جواب = یہ وسوسہ پیش کرنے والا یا تو تبلیغی جماعت کے اصول سے جاهل ہے یا محض مُتعصب ومعاند ہے ،
کیونکہ تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت کا اولین مقصد یہ ہے کہ غفلت وجہالت کے اندهیروں میں پڑے لوگ دین کا ضروری علم سیکهنے اور پهراس پرعمل کرنے والے بن جائیں ، اور تبلیغی جماعت کے لیئے { فضائل اعمال } پرمبنی کتاب مرتب کرنے اوراس کی تعلیم دینے کا اصل یہ حکم نبوی ہے کہ 
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:
يَسِّروا ولا تُعَسِّروا وبَشِّروا ولا تنَفّروا ،
( رواه البخاري ومسلم وأحمد والنسائي وغیرهم )

یہ ارشاد نبوی کے دو جملے ہیں مگر ان میں طریق دعوت وتبلیغ کا ایک دفتر بند ہے ، داعی اور مُبلغ کوچائیے کہ جب کسی فرد وجماعت کو دعوت دے تو اس میں آسان سے آسان طریقے پیش کرے ، اور سختی نہ کرے بلکہ ان کو خوشخبری اوراعمال کی بشارت اور فضائل اعمال اور رحمت ومغفرت الہی کا بکثرت اور وسعت سے تذکره کرے ، ان کو دین کی طرف راغب ومائل هونے کا شوق وحوصلہ دلائے ، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عقائد وفرائض غفلت برتی جائے ، یہ توکسی حال میں جائزنہیں ہے ،
باقی رہی یہ بات صحیح بخاری وصحیح مسلم کا درس کیوں نہیں دیتے ؟؟

توعرض ہے کہ اهل علم وبزرگان دین نے { فضائل اعمال } پرمبنی احادیث کوبمع تشریح وفوائد کے اوراسی طرح آیات قرآنیہ بمع ترجمہ وتفسیر کےجمع کیئے هیں ، اور بخاری ومسلم وغیره تمام کتب سےاحادیث کوجمع کیا گیا ہے ، تو اس اعتبار سے بخاری ومسلم کا درس ہی ہوگیا ، اور { فضائل اعمال }میں هرحدیث کو بحوالہ مع اقوال محدثین کے ذکرکیا گیا هے ، اوراسی کی تعلیم وقرآت جماعت تبلیغ کے نصاب میں شامل هے ، لہذا کتاب { فضائل اعمال }اور اس میں موجود احادیث پرطعن وتشنیع درحقیقت ان کتب احادیث پرطعن وتشنیع هے جن کتب سے ان احادیث کولیا گیا هے ،

اوراگر کچهہ جُہلاء کو { فضائل اعمال } میں موجود کرامات اولیاء پرمبنی چند واقعات سے تکلیف هے ، تو هم کہتے هیں ایک دفعہ نہیں هزار دفعہ هو ، کیونکہ جمیع اهل سنت کا یہ عقیده هے کہ {كرَامَاتُ الأولياء حَق} ، اورایسے جاهل لوگوں سے میری درخواست هے کہ تمهیں اگر { فضائل اعمال } میں موجود کرامات اولیاء سے بڑی چڑ هے ، تو ذرا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب 
{ ألفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطن } پڑهہ لیں ، توان شاء الله { فضائل اعمال }میں چند کرامات تم بهول جاو گے ، یا پهر اس کتاب { ألفرقان }کا انکار هی کروگے ،اور پهر یہ تاثر دینا کہ احادیث صرف بخاری ومسلم کی قابل اعتبار ہیں باقی کتب احادیث میں صحیح احادیث نہیں ہیں ، یہ ایک جاهلانہ سوچ ہے جس کو فرقہ جدیداهل حدیث نے اپنی جہالت کی بنا پر عوام میں مشہور کیا هے 
باقی بخاری ومسلم ودیگر علوم شرعیہ کی باقاعده تحصیل وتعلیم کا اگرکسی کو شوق هوتو اس کے لیئے اهل حق کے مُستقل مدارس وادراے موجود ہیں ، تبلیغی تحریک تو دین سے بے خبروغافل لوگوں کوجگانے کے لیئے ہیں ، مساجد سے دور لوگوں کو مسجد سے قریب کرنے کے لیئے ہے ، مسلمانوں کی وه کثیر تعداد جو دین سے بے بہره ہے ان کو دین کی بنیادی تعلیم دینے کے لیئے ہے ۰-؛:------:؛-
وارثین انبیاء

Tablighi Jamaat Important role of ulema/islmic scholars and ilm seeking

Maulana Ilyas always tried to link the workers of Tabligh to the `ulama.


He used to stress the importance of `ulama, the need to benefit from them, the rewards of meeting them, and used to teach the manners of talking to them.


He used to educate the workers to take the best possible explanation of things they did not understand and keep their faith in the scholars.


The results of this effort became apparent when those big businessmen who were against the `ulama started attending their gatherings with respect and reverence and invited them for discourses to their congregations.


They did not have the condition that only those `ulama would give talks who had spent time in the Jama'at; all authentic and righteous `ulama were invited.

Tablighi Jamaat importance of knowledge seeking and role in Dawah

Hazrat Maulana Muhammad Ilyas had a keen concern


that if the `ulama did not overlook the preaching and this task was left to the common man alone, it would develop lots of flaws.


His wish was for the educated `ulama to take an interest in this task and use their God gifted talents for the propagation of this work.


Because most of his life Maulana had been associated to learning, he knew intimately the pursuits of the madaris, its teachers, and students.




He wanted them to join hands with this work of calling to God but he also wanted a way out that would help those of the madaris in their learning but not interfere with it.




He writes, "Deen can progress and develop according to the progress and development of learning, and under the progress and development of learning. It would be the greatest of losses if my movement caused any set back to learning. I do not mean by tabligh to prevent or hurt progress towards learning………"

Benefecial Knowledge

The first and foremost object of knowledge is that man should takestock of his own, life. He should realise his obligatory duties and
execute them. Similarly, he should realise his shortcomings and rectifythem. If. instead, he takes stock of the deeds of others and their shortcomings. then it is a sign of pride and deception which is verydestructive.


A poet says: "Do your own work, do not look at the short-comings of
others."