Pages

Showing posts with label Namaz Salat Hadith. Show all posts
Showing posts with label Namaz Salat Hadith. Show all posts

Isha aur Fajir ki namaz salat Hadith sahih Muslim


✨💫عشاء اور فجر کی جماعت کی فضیلت کا بیان✨💫

💐سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ مغرب کے بعد مسجد میں آئے اور اکیلے بیٹھ گئے۔ میں ان کے پاس جا بیٹھا۔

🔹انہوں نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم فرماتے تھے کہ جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی
🔹تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا (یعنی ایسا ثواب پائے گا)
🔹اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔
صحيح مسلم اردو),٠٦۔ المساجد,٠٨٨۔ عشاء اور فجر کی جماعت کی فضیلت کا بیان۔حدیث نمبر: 324


🌱🍃عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کرنے پر سخت وعید🍃
🌱

💐سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ نماز عشاء اور فجر منافقوں پر بہت بھاری ہیں

🔸اگر اس کا اجر جانتے تو گھٹنوں کے بل چل کر آتے۔ اور میں نے تو ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں کہ (جماعت) نماز کھڑی کی جائے اور ایک شخص کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور چند لوگوں کے ساتھ ایک ڈھیر لکڑیوں کا لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو لوگ نماز میں نہیں آئے اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اور ایک دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہڈی فربہ جانور کی پائے تو ضرور آئے (یعنی نماز کو)۔
حدیث نمبر: 325

💐سیدنا عبداللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے،
🔻ان کے حق میں ارادہ کرتا ہوں کہ حکم کروں ایک شخص کو جو لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ میں نہیں آئے۔
صحيح مسلم اردو),٠٦۔ المساجد,٠٨٩۔ عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کرنے پر سخت وعید۔حدیث نمبر:326

صحیح بخاری حدیث يصلي من الليل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

صحیح بخاری


حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ قال حدثنا هشام،‏‏‏‏ قال أخبرنا معمر،‏‏‏‏ ‏.‏ وحدثني محمود،‏‏‏‏ قال حدثنا عبد الرزاق،‏‏‏‏ قال أخبرنا معمر،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ عن سالم،‏‏‏‏ عن أبيه ـ رضى الله عنه ـ قال كان الرجل في حياة النبي صلى الله عليه وسلم إذا رأى رؤيا قصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتمنيت أن أرى رؤيا فأقصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت غلاما شابا،‏‏‏‏ وكنت أنام في المسجد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأيت في النوم كأن ملكين أخذاني فذهبا بي إلى النار فإذا هي مطوية كطى البئر،‏‏‏‏ وإذا لها قرنان،‏‏‏‏ وإذا فيها أناس قد عرفتهم فجعلت أقول أعوذ بالله من النار ـ قال ـ فلقينا ملك آخر فقال لي لم ترع‏.
 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا، میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتا تھا۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بن دش ہے (یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے) اس کے دو جانب تھے۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگو ں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں کہنے لگا دوزخ سے خدا کی پناہ! انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ 
ملا اور اس نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں۔



یہ خواب میں نے (اپنی بہن) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا۔ (راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے۔ (زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے)۔

hadith no 1121

نماز کی تعلیم قرآن آیات احادیث خشوع وخضوع پیدا کرنے کا طریقہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْم وَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْن۔
تحریر:مفتی نجیب قاسمی صاحبؒ
قیام، قرآن کی تلاوت، رکوع، سجدہ اور قعدہ وغیرہ نماز کا جسم ہیں اور اسکی روح خشوع وخضوع ہے۔ چونکہ جسم بغیر وح ے بے حیثیت ہوتا ہے، اسلئےضروری ہے کہ نمازوں کو اس طرح ادا کریں کہ جسم کے تمام اعضاء کی یکسوئی ے ساتھ دل کی یکسوئی بھی ہو تاکہ ہماری نمازیں روح یعنی خشوع وخضوع کےساتھ ادا ہوں۔ دل کی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات ووساوس سے دل کو محفوظ رکھیں اور اللہ کی عظمت وجلال کا نقش اپنے دل پر بٹھانے کی کوشش کریں۔ جسم کے اعضاء کی یکسوئی یہ ہے کہ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگیں بلکہ خوفوخشیت اور عاجزی وفروتنی کی ایسی کیفیتطاری کریں جیسےعام طور پربادشاہ کے سامنے ہوتی ہے۔
قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں نماز کو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کرنے کی بار بار تعلیم دی گئی ہے کیونکہ اصل نماز وہی ہے جو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جائے اور ایسی ہی نماز پر اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا فرماتے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل قرآن کریم کی آیات اور احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے۔
یقیناًوہ ایمان والے کامیاب ہوگئے جن کی نمازوں میں خشوع ہے۔ (سورۂ المؤمنون ۱،۲۔۔
صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کیا کرو۔ بیشک وہ نماز بہت دشوار ہے مگر جن کے دلوں میں خشوع ہے ان پر کچھ بھی دشوار نہیں۔ ( البقرہ ۴۔۔
تمام نمازوں کی خاص طور پر درمیان والی نماز (یعنی عصر کی) پابندی کیا کرو اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔ (سورۂ البقرہ :۲۴۸۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اقامت سنو تو پورے وقار، اطمینان اور سکون سے چل کر نماز کے لئے آؤ اور جلدی نہ کرو۔ جتنی نماز پالو پڑھ لو اور جو رہ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔ (صحیح بخاری۔۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ ایک اور صاحب بھی مسجد میں آئے اور نماز پڑھی پھر (رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور) رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گئے اور جیسے نماز پہلے پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھکر آئے، پھررسول اللہ ﷺ کو آکر سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ اُن صاحب نے عرض کیا: اُس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے نماز سکھائیے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھرقرآن مجید میں سے جو کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو۔ پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے کھڑے ہو تو اطمینان سے کھڑے ہو، پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدہ سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں کرو۔ (صحیح بخاری۔۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی فرض نماز کا وقت آنے پر اسکے لئے اچھی طرح وضو کرتاہے پھر خوب خشوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے جسمیں رکوع بھی اچھی طرح کرتا ہے تو جب تک کوئی کبیرہ (بڑا) گناہ نہ کرے یہ نماز اس کے لئے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور یہ فضیلت ہمیشہ کے لئے ہے۔ (صحیح مسلم۔۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرتاہے پھر دو رکعت اس طرح پڑھتا ہے کہ دل نماز کی طرف متوجہ رہے اور اعضاء میں بھی سکون ہو تو اسکے لئے یقیناًجنت واجب ہوجاتی ہے۔ (ابوداؤد۔۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف اس وقت تک توجہ فرماتے ہیں جب تک وہ نماز میں کسی اور طرف متوجہ نہ ہو۔ جب بندہ اپنی توجہ نماز سے ہٹالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹالیتے ہیں۔ (نسائی۔۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بدترین چوری کرنے والا شخص وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز میں کس طرح چوری کرے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح سے ادا نہ کرنا۔ ( غرض اطمینان و سکون کے بغیر نماز ادا کرنے کو نبی اکرم ﷺ نے بدترین چوری قرار دیا)۔ (مسند احمد، طبرانی۔۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لئے ثواب کا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے، اسی طرح بعض کے لئے نواں حصہ، بعض کے لئے آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھائی، تہائی، آدھا حصہ لکھا جاتا ہے۔ (ابوداؤد، نسائی، صحیح ابن حبان۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی نماز کی طرف دیکھتے ہی نہیں جو رکوع اور سجدہ کے درمیان یعنی قومہ میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔ (مسند احمد۔۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاجو رکوع اور سجدہ کو پوری طرح سے ادا نہیں کررہا تھا۔ جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگیا تو محمد ﷺ کے دین کے بغیر مرے گا۔ (بخاری

Congregational Prayer its Importance Quranic Verse and Ahadith :Regulation of making Rows Ahadith and Islamic Ruling


Congregational Prayer
Stress on Congregational Prayers and its Excellence
The fact that both, the Qur'an and Sunnah, have laid great stress on the congregational prayer and described its unique excellence, shows that the fard prayer is meant to be offered collectively, and no one in the Islamic community should even think of observing it individually unless one has to do so on the account of a genuine reason. The Qur'an says:
"…and bend down in ruku with those who bend down in ruku." [Al-Baqarah 2:43]
Arguing from this verse, the commentators are generally of the view that prayer has to be offered collectively. The importance of the congregational prayer in Islam is so great that the Muslims have been enjoined to observe it even in the battlefield where danger to life is extreme. The Qur'an has prescribed the following way:
" And when you, O Prophet, are among the Muslims and are going to lead them in salah (in a state of war), let a party stand behind you, carrying their weapons with them. When they have made their prostrations, they should fall back and let another party of them, who have not yet offered salah, say it with you and they too, should be on guard and keep their weapons with them." [An-Nisaa 4:102]
The Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, also has greatly stressed the offering of prayer in congregation and described its unique merit and excellence. For instance, he said:
  • "Nothing is harder on the hypocrites than the Isha and Fajr prayer; had they known of the great rewards that Allah would bestow for those prayers they would never had missed them even if they had to come to the masjid on their knees." Then he said, "I wish I should tell a Mua'dhin to pronounce the iqamah and appoint someone as Imam in my place, and I should myself go and set fire to the houses of those who do not come out even after hearing the adhan. (Bukhari, Muslim).
  • "Offering the prayer in congregation carries 27 times greater reward than offering it alone individually." (Bukhari, Muslim)
  • According to Sayyidna Anas, Radi-Allahu anhu, the Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, said: "The person who offers his prayers continuously for 40 days without missing the first takbeer, is granted a two-fold immunity by Allah: immunity from Hell-fire and immunity from hypocrisy. (Tirmidhi)
  • According to Sayyidna Abdullah bin Masoud, Radi-Allahu anhu, the Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, said: "O Muslims! Allah has prescribed paths of right guidance for you among which is the offering of the daily prayers in congregation in the masjid, which is the offering of the daily prayers in congregation in the masjid; if you start saying your prayers individually at home, as so-and-so does, you will be forsaking the Sunnah of your Prophet, and if you forsake the Sunnah of your Prophet, you will certainly be going astray." (Muslim)
  • According to Ubayy bin Ka'ab, Radi-Allahu anhu, the Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, said: "If the people come to know of the great rewards and benefits of the congregational prayer, they would never stay back but would rush to the masjid for it. The first row merits the highest reward. Two persons praying together merit greater reward than the same praying individually, the rule being that the bigger the congregation the higher its worth in the Sight of Allah." (Abu Dawud)
  • "Give good news to those who go to the masjid in the darkness of the night to offer the prayer in congregation that on the Day of Judgement they will be provided with a perfect light." (Tirmidhi)
  • Sayyidna Usman, Radi-Allahu anhu, has reported that he heard the Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, say: "The person who observes the Isha prayer in congregation, will have the reward and blessings of staying up half the night in prayer, and the one who observes the Fajr prayer in congregation will have the reward and blessings of staying up the whole night in prayer." (Tirmidhi)
Regulations for Making Rows
  • Utmost care has to be exercised to keep the rows straight and balanced. The Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, has instructed: "Keep your rows straight and balanced in the prayer, for proper alignment is a necessary condition of observing the prayer well." (Bukhari, Muslim)
  • The front rows should be filled and completed first. The followers should stand behind the Imam in a balanced way, equally on the right and left, keeping him in the middle in front.
  • If there is a single follower, he should stand on the right of the Imam with his heels a little behind the Imam. It is undesirable for a single follower to stand behind the Imam in a separate row.
  • If the followers are more than one, they should invariably stand behind the Imam; it is undesirable for two or more followers to stand beside the Imam on his right or left.
  • If at the beginning of the prayer, there is only one follower and later on one or more follower joins in, they should either pull the first follower back in the row, or the Imam should step forward and let the followers make a row behind him.
  • If the front rows are complete, and there is no room for a late comer, he should avoid standing alone behind, but should pull a person back from the front row and make a separate row at the back.
  • If there is room for a late comer to stand in the front row, it is undesirable for him to stand alone at the back.
  • If a person who has offered a fard prayer alone, finds that the same fard prayer is being offered collectively, he should join the congregation, unless it is the Fajr, or Asr, or Maghrib prayer; the reason is that no prayer is valid after the Fajr or Asr prayer and Maghrib having 3 rak'ahs cannot be counted as a nafl prayer, for the prayer offered in congregation by the person will have nafl status and not fard, because he has all ready offered his fard prayer individually.
  • If a person is offering a fard prayer and than finds the same prayer being held in congregation, he should abandon his prayer and join the congregation. If, however, it is the Fajr prayer and he has performed the sajdah of the second rak'ah, or in case of other prayers the sajdah of the third rak'ah, he should complete his prayer independently. If at the end he finds that the congregational prayer is still in progress, he may join it provided it is the Zuhr or Isha prayer only.
  • If a person had started a nafl prayer and than finds a fard congregational prayer due to begin, he should pronounce salutation after two rak'ahs and join the congregation.
  • If a person has started the first four sunnah of the Zuhr or Friday prayer, and then finds the Imam standing up for the fard congregational prayer, he should pronounce salutation after two rak'ahs and complete them after observing the fard prayer in congregation.
  • When Imam has stood up for a fard prayer, the sunnah prayer should not be started. However, in view of the great importance of the sunnah rak'ahs of the Fajr prayer, one may offer them even if there is a hope of gaining a single rak'ah of the fard prayer.
  • If a fard congregational prayer is in progress, one may observe the sunnah rak'ah, if one so likes, in a place outside the masjid; if this is not possible, one may observe them in a corner of the masjid, away from the congregation; if this is also not possible, the one should join the congregation instead, for it is undesirable to offer a prayer independently in a place here a congregational fard prayer is in progress.
  • If due to some reason, one is late for a congregational prayer and has no hope of gaining the prayer, one should hasten to the masjid because it is expected that Allah will not deprive rewards and blessings of congregational prayer. Holy Prophet, Sall-Allahu alayhi wa sallam, has said: "The person who preformed his wudu well, then went to the masjid, and found the prayer to have been preformed already, he will get the same reward from Allah as those who were tended as observed the prayer in congregation without any decrease in there rewards."
  • The person who joins the Imam in the ruku position is deemed to have gained that rak'ah; if he joins later, he will have to complete the rak'ahs that he has missed, independently.
  • For a congregational prayer to be valid, there has to be at least one follower beside the Imam. In the Friday prayer, however, there should be at least two followers beside the Imam.

Importance of Salat:Three areas of improvement among muslims with respect to Salah, Hadith from Bukhari and Muslim about Five pillars of Islam in Arabic text and Urdu Translation in word format




مولف
شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نوراﷲ مرقدہ
خطبہ و تمہید
بسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، نَحْمَدُہٗ وَنَشْکُرُہٗ وَنُصَلِّیْ وَ نُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ الْحُمَاۃِ لِلدِّیْنِ الْقَوِیْمِ وَبَعْدُ فَھٰذِہٖ اَرْبَعُوْنَۃٌ فِیْ فَضَائِلِ الصَّلٰوۃِ جَمَعْتُھَا اِمْتِثَالًا لِاَمْرِعَمِّیْ وَصِنْوِاَبِیْ رَقَاہُ اللّٰہُ اِلَی الْمَرَاتِبِ الْعُلْیَا وَوَفَّقَنِیْ وَ اِیَّاہُ لِمَا یُحِبُّ وَیَرْضٰی۔
اَمَّابَعْد:اس زمانہ میں دین کی طرف سے جتنی بے توجہی اور بے التفاتی کی جا رہی ہے وہ محتاج بیان نہیں حتیٰ کہ اہم ترین عبادت نماز جو بالاتفاق سب کے نزدیک ایمان کے بعد تمام فرائض پر مقدم ہے اور قیامت میں سب سے اوّل اسی کا مطالبہ ہوگا اس سے بھی نہایت غفلت اور لا پروائی ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ دین کی طرف متوجہ کرنے والی کوئی آواز کانوں تک نہیں پہنچتی۔ تبلیغ کی کوئی صورت بارآورنہیں ہوتی۔ تجربہ سے یہ بات خیال میں آئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاک ارشادات لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی جائے۔ اگر چہ اس میں بھی جو مزاحمتیں حائل ہیں وہ بھی مجھ سے بے بضاعت کیلئے کافی ہیں تاہم اُمید یہ ہے کہ جو لوگ خالی الذہن ہیں اور دین کا مقابلہ نہیں کرتے ہیں یہ پاک الفاظ انشا اللہ تعالیٰ اُن پر ضرور اثر کریں گے اور کلام و صاحب کلام کی برکت سے نفع کی توقع ہے نیز دوسرے دوستوں کو اس میں کامیابی کی اُمیدیں زیادہ ہیں جن کی وجہ سے مخلصین کا اصرار بھی ہے اس لئے اس رسالہ میں صرف نماز کے متعلق چند احادیث کا ترجمہ پیش کرتا ہوں چونکہ نفس تبلیغ کے متعلق بندئہ ناچیز کا ایک مضمون رسالہ فضائل تبلیغ کے نام سے شائع ہوچکا ہے اس وجہ سے ا س کو سلسلہ تبلیغ کا نمبر۲ قرار دیکر فضائل نماز کے نام سے موسوم کرتا ہوں۔ وَمَا تَوْ فِیْقِیْ اِلَّا بِاللہ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ۔
نماز کے بارے میں تین قسم کے حضرات عام طور پر پائے جاتے ہیں۔
1. ایک جماعت وہ ہے جو سرے سے نماز ہی کی پرواہ نہیں کرتی،
2.بہت سے حضرات نماز پڑھتے ہیں لیکن جماعت کا اہتمام نہیں کرتے
 3.بہت سے حضرات نماز بھی پڑھتے ہیں اور جماعت کا اہتمام بھی کرتے .ہیں مگر لا پروائی اور بری طرح سے پڑھتے ہیں

اسلئے اس رسالہ مین تینوں مضامین کی مناسبت سے تین باب ذکر کئے گئے ہیں اور ہر باب میں نبی اکرمﷺ کے پاک ارشادات اور انکا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔ مگر ترجمہ میں وضاحت اور سہولت کا لحاظ کیا ہے، لفظی ترجمہ کی زیادہ رعایت نہیں کی۔ چونکہ نماز کی تبلیغ کرنے والے اکثر اہل علم بھی ہوتے ہیں اسلئے حدیث کا حوالہ اور اس کے متعلق جو مضامین اہل علم سے تعلق تھے وہ عربی میں لکھ دیئے گئے ہیں کہ عوام کو اُن سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور تبلیغ کرنے والے حضرات کو بسا اوقات ضرورت پڑ جاتی ہے اور ترجمہ و فوائد وغیرہ اردو میں لکھ دیئے گئے ہیں۔
باب اول
نماز کی اہمیت کے بیان میں
اس باب میں دو فصلیں ہیں۔ فصل اوّل میں نماز کی فضیلت کا بیان ہے اور دوسری فصل میں نماز کے چھوڑنے پر جو وعید اور عتاب حدیث میں آیا ہے اس کا بیان ہے۔
فصل اول
نماز کی فضیلت کے بیان میں
۱۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّمَ بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰي خَمْسٍ شَھَادَۃِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ْٗہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقامِ الصَّلوٰۃِ وَاِیْتاَئِ الذَّکَوٰۃِ وَالَحجِّ وَصَوْمِ رَمضَانَ۔(متفق علیہ) (وقال المنذری فی الترغیب رواہ البخاری و مسلم ر غیر ھما عن غیر واحد م الصحابۃ )
حضرت عبد بن عمر رضی اﷲ عنہ ، نبی کریمﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے سب سے اول لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کی گواہی دینا یعنی اس بات کا اقرار کرنا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اسکے بعد بماز کاقائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا، رمضان المبارکے روزے رکھنا۔
ف: یہ پانچوں چیزیں ایمان کے بڑے اصول اہم ارکان ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس پاک حدیث میں بطورِ مثال کے اسلام کو ایک خیمہ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پانچ ستونوں پر قائم ہوتا ہے پس کلمہ شہادت خیمہ کی درمیانی لکڑی کی طرح ہے اور بقیہ چاروں ارکان بمنزلہ ان چار ستونوں کے ہیں جو چاروں کونوں پر ہوں۔ اگر درمیانی لکڑی نہ ہو تو خیمہ کھڑا ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ لکڑی موجود ہو اور چاروں طرف کے کونوں میں کوئی سی لکڑی نہ ہو تو خیمہ قائم تو ہو جائے گا لیکن جونسے کونے کی لکڑی نہیں ہوگی وہ جانب ناقص اور گری ہوئی ہوگی۔ اس پاک ارشاد کے بعد اب ہم لوگوں کو اپنی حالت پر خود ہی غور کر لینا چاہیے کہ اسلام کے اس خیمہ کو ہم نے کس درجہ تک قائم کر رکھا ہے۔ اور اسلام کا کونسا رکن ایسا ہے جس کو ہم نے پورے طور پر سنبھال رکھا ہے۔ اسلام کے یہ پانچوں ارکان نہایت اہم ہیں حتی کہ اسلام کی بنیاد انہی کو قرار دیا گیا ہے اور ایک مسلمان کیلئے بحیثیت مسلمان ہونے کے ان سب کا اہتمام نہایت ضروری ہے۔ مگر ایمان کے بعد سب سے اہم چیز نماز ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضورﷺسے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ شانہ‘ کے یہاں سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ نماز۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ میں عرض کیا اس کے بعد کونسا ہے۔ ارشاد فرمایا جہاد۔ ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں علماء کے اس قول کی دلیل ہے کہ ایمان کے بعد سب سے مقدم نماز ہے۔ اس کی تائید اس حدیث صحیح سے بھی ہوتی ہے جس میں اِرشاد ہے اَلصَّلوٰۃُ خَیْرُ مَو ضُوْعِ یعنی بہترین عمل جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کیلئے مقرر فرمایا وہ نماز ہے ۔آھ ۔ اور احادیث میں کثرت سے یہ مضمون صاف اور صحیح حدیثوں میں نقل کی گیا ہے کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے۔ چنانچہ جامِع صغیر میں حضرت ثوبانؔؓ ، ابن عمروؔؓ ، سلمہؔ ، ابو امامہؔ ، عبادۃؔ رضی اﷲ عنہم پانچ صحابہؓ سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے اور حضرت ابن مسعودؓ سے اپنے وقت پر نماز کا پڑھنا افضل ترین عمل نقل کیا گیا ہے حضرت ابن عمرؓ اور ام فروَہؓ سے اول وقت نماز پڑھنا نقل کیا گیا ہے۔ مقصد سب کا قریب قریب ایک ہی ہے
Taken with thanks Urdu unicode version in words from ownislam.co

Fazail e Amaal in Urdu:Fazail e Namaz Hadith, virtues of Salat


۲۔ عَنْ اَبِیْ ذَرِ اَنَّ النَّبِیَّ خَرَجَ فِی الشِّتَائِ وَالْوَرَقُ یَتَہاَفَتُ فَاَخَذَبِغُصْنِ مِّنْ شَجَرَۃِ قَالَ فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَہاَفَتُ فَقَالَ یَآاَباَذَرِ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ اِنَّ الْعَبْدَالْمُسْلِمَ لَیُصَلِّی الصَّلوٰۃَ یُرِیْدُ بِہاَ وَجْہَااللّٰہِ فَتَہاَفَتُ عَنْہ‘ ذُنُوْبَہ‘ کَماَ تَہاَفَتَ ھٰذَاالْوَرَقُ عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ۔
(رواہ احمدباسنادحسن کذا فی الترغیب)
حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سردی کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پَتے درختوں پر سے گر رہے تھے آپؐ نے ایک درخت کی ٹہنی ہاتھ میں لی اس کے پتّے اور بھی گرنے لگے آپﷺنے فرمایا اے ابوذر مسلمان بندہ جب اخلاص سے اللہ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس سے گناہ ایسے ہی گرتے ہیں جیسے یہ پتے درخت سے گر رہے ہیں۔
ف: سردی کے موسم میں درختوں کے پتے ایسی کثرت سے گرتے ہیں کہ بعضے درختوں پر ایک بھی پتہ نہیں رہتانبی اکرم ﷺ کا پاک اِرشاد ہے کہ اخلاص سے نماز پڑھنے کا اثر بھی یہی ہے کہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ایک بھی نہیں رہتا۔ مگر ایک بات قابل لحاظ ہے عُلماء کی تحقیق آیات قرآنیّہ اور احادیث نبویہ کی وجہ سے یہ ہے کہ نماز وغیرہ عبادات سے صرف گناہِ صغیرہ معاف ہوتے ہیں، کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا اس لئے نماز کے ساتھ توبہ و اِسْتِغْفَار کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ البتہ حق تعالیٰ شانہ‘ اپنے فضل سے کسی کے گناہ کبیرہ بھی معاف فرمادیں تو دوسری بات ہے۔(جامع صغیر)