Pages

Showing posts with label Importance of Sunnah following. Show all posts
Showing posts with label Importance of Sunnah following. Show all posts

Muslims Marriage and Traditions

Simple Nikaah - Leading by Example

 

Many, who saw this, followed Hazrat’s (rahmatullahi ‘alaih) example when their daughters got married. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) received numerous letters saying that if marriages continued in this way many useless customs and innovations would be abolished. At the same time the Ummah’s financial resources will be saved. Hazrat (rahmatullahi ‘alaih) desired that all Muslims follow this simple manner in their weddings. (Hazrat Mufti Mahmood Hasan Gangohi (rahmatullahi ‘alaih) – His life and works, pg. 118)

Jazakallah o khair Taken from and for more visit http://alhaadi.org.za/

Hadith on muharram Ashura 10th day fasting sawm Bukhari Muslim Arabic Urdu English

 صحیح بخاری
2006حدیث نمبر
حدثنا عبيد الله بن موسى،‏‏‏‏ عن ابن عيينة،‏‏‏‏ عن عبيد الله بن أبي يزيد،‏‏‏‏ عن ابن عباس ـ 
رضى الله عنهما ـ قال ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى صيام يوم فضله على غيره،‏‏‏‏ إلا هذا اليوم يوم عاشوراء وهذا الشهر‏.‏ يعني شهر رمضان‏.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوا عاشوراء کے دن کے اور اس رمضان کے مہینے کے اور کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل جان کر خاص طور سے قصد کر کے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔


صحیح مسلم
 ماہ محرم کے روزے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 610

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے روزوں کے بعد سب روزوں میں سے افضل محرم کے روزے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات (تہجد) کی نماز ہے۔
عاشورہ کے دن کے روزے کی فضیلت۔


حدیث نمبر: 613
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو (فرعون سے) نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا، اس لئے مو سیٰ علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا اور ہم بھی رکھتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے دوست اور قریب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

The Excellence of Observing Sawm (Fasting) in the months of Muharram and Ashura

 Ibn `Abbas (May Allah be pleased with them) reported: The Messenger of Allah (sallallaahu ’alayhi wa sallam) observed Saum (fasting) on the day of `Ashura' and commanded us to fast on this day.

[Al-Bukhari and Muslim].


Abu Hurairah (May Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (sallallaahu ’alayhi wa sallam) said,
"The best month for observing Saum (fasting) next after Ramadan is the month of Allah, the Muharram; and the best Salat (prayer) next after the prescribed Salat is Salat at night (Tahajjud prayers).''

[Muslim].

English Book on Noble character of Prophet Shama’il Tirmidhi Khasaa-il Nabawi

  • English Translation of Shama’il Tirmidhi, with it’s commentary by Hadhrat Shaykh al-Hadith Mawlana Muhammad Zakariyya
English Book on Noble character of Prophet (Shama’il Tirmidhi Khasaa-il Nabawi)

Classic Book of Hadeeth by 
Imaam Abi 'Eesaa Muhammad bin 'Eesah bin Sorah At-Tirmidhi R.A.(209-279A.H.) 


Commentary by 
Shaykhul-Hadith Maulana Muhammad Zakariyya Muhajir Madni (R.A) 

Presented in Arabic and English
Click on the below link



All paise be to Allah who alone sustains the world. Exalted salaah (blessings) and complete salaam (peace) be on our master Muhammad Sallallahu 'Alayhi Wasallam and his family and companions.

The Shamaa-il of Imaam Abu 'Eesa Timidhi has a collection of 397 ahaadith and is divided into 55 chapters on the physical description and character of our beloved Nabi Sallallahu 'Alayhi Wasallam. It has been printed on numerous occasions and many commentaries have been written on it. The 
present English translation and commentary is of the Khasaa-il Nabawi Sallallahu 'Alayhi Wasallam by the late Shaykhul Hadith Maulana Muhammad Zakariyya Rahamatullahi 'Alayhi. It will enable a Muslim to achieve a link and connection with the one whom Allah Ta'aala has made as a mercy unto 
mankind, and most certainly Allah has spoken the truth when He mentions in His Book:

"Verily, you (0 Muhammad) are of a very high (noble) character".

A Muslim can truly claim his love for Rasulullah Sallallahu 'Alayhi Wasallam, if he attempts to follow the manner and life-style of the messenger of Islam. We are given such an opportunity, after the reading of this book, for it enlightens the reader with the intimate aspect of Rasul Sallallahu Alayhi Wasallam's life. 
Finally, we ask, Allah Ta'aala to reward us and that He instill within us the distinguished features and august character of this most Noble Messenger, who is the perfect example for Muslims.

Eid al-Adha Bakr-Id Qurbani Philosphy behind The Festival of Sacrifice Udhiya Worship


The Essence of Eid-ul-Adha (What really is Sacrifice Qurbani) By Maulana Saad [damath baraka tuhum]



http://nmusba.wordpress.com

My dear friends and elders! That work which is not made into a worship will become a
mere ritual. Really, this is the difference between worshiping and performing mere rituals.
Rituals and festivals are for the non-Muslims and worship and sacrifice are for the Muslims.
But, because of ignorance...because we do not believe in the rewards that Allah subhanahu wa ta’ala
has promised us nor have knowledge of the rewards that we’d gain through worship, the worship of
Muslims has become like that of the festivals of the non-Muslims. People think that the eid of the Muslims
are festivals, if such things are said by the non-Muslims, its fine, what do they know what worship is...but
if Muslims think Eid’s are festivals?
If Muslims think of eid’s as festivals...before Islam when the non-Muslims wanted to celebrate, such days
were fixed.
Didn’t the Companions [ra] say to the Prophet [peace be upon him] “O Prophet of Allah! On this day
during the age of ignorance, we used to celebrate, make merry”. 
The Prophet [peace be upon him] replied:
“No! Allah has given you something much better in return, Allah has given you 2 days in return for that 1
day, one is Eid ul Fitr and the other is Eid ul Adha”.

Remember, that night is a night of worship whose [following] day is also a day of worship [meaning the
night before the eid and day of eid]. People spend the night before eid doing shopping instead of in ibaadah! And that too in wasteful expenditure instead on giving in charity!...................


WITH THANKS FROM nmusba.wordpress.com

Tahajjud Prayer Namaz Method Fazilat Tarika Benefits Quran Hadith virtues



نمازِ تہجد کی فضیلت

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”وَمِنَ اللَّیلِ فَتَہَجَّدْ بِہ نَافِلَةً لَّکَ، عَسیٰ اَٴنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوْداً“۔ (بنی اسرائیل:۷۹)
ترجمہ:۔”اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد پڑھ لیاکرو جو آپ کے حق میں زائد چیز ہے، کیا عجب کہ آپ کا رب آپ کو ”مقام محمود“ میں جگہ دے“۔
”مقام محمود“ مقامِ شفاعتِ کبریٰ ہے، جس پر قیامت کے دن فائز ہوکر آپ ا اپنی امت کی بخشش 
کرائیں گے۔ (ابن کثیر واحمد)
دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:


”إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ، اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰہُمْ رَبُّہُمْ إِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ، کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالأَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ“۔ (الذاریات:۱۰تا۱۸)
ترجمہ:۔”بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے اور اپنے رب کی عطا کردہ نعمتیں لے رہے ہوں گے (اس بات پر کہ) بے شک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیکو کار تھے، رات کو (تہجد پڑھنے کی وجہ سے) بہت کم سوتے تھے اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے“۔ 
مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں رات کو جس وقت آنکھ کھل جائے، وضو کرکے دورکعت، چار رکعت، چھ رکعت یا آٹھ رکعت جس قدر طاقت اور فرصت ہو، دل کی رغبت ہو، پڑھ لیا کریں، تہجد کا ثواب مل جائے گا، خصوصاً رمضان المبارک میں زیادہ خیال رکھا کریں، تہجد کے لئے کوئی خاص سورتیں 
نہیں، جس جگہ سے یاد ہو اور دل چاہے پڑھ لیا کریں۔
تہجد کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں، یہاں چند احادیث کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے:

آپ ا نے ارشاد فرمایا:
”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے“۔ (مسلم وابوداؤد)

حضرت عبد اللہ بن سلام جو تورات کے زبردست عالم تھے، مدینہ منورہ میں حضور اقدس ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چہرہٴ انور دیکھ کر یقین ہوگیا کہ آپ ا اللہ کے سچے رسول ہیں، آپ ا جھوٹے نہیں ہوسکتے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلا کلام جو آپ ا کی زبان مبارک سے سنا، وہ یہ تھا:

”یا ایہا الناس! افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا الارحام وصلوا باللیل والناس نیام، تدخلوا الجنة بسلام“۔ (ترمذی)
ترجمہ:۔” اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داریوں کو جوڑو اور رات میں تہجد کی نماز پڑھو، جبکہ لوگ سورہے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے“۔
آپ ا نے ارشاد فرمایا: 
”جنت میں ایک محل ہے جس کا اندرونی حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہوگا ۔حضرت ابو مالک اشعری نے پوچھا: یہ کس کو ملے گا اے اللہ کے رسول!؟ فرمایا: اس کو جو شیریں کلام ہو اور لوگوں کو کھانا کھلاتا ہو اور نماز تہجد میں کھڑے ہوئے رات گذارتا ہو، جبکہ لوگ سورہے ہوں“۔ (طبرانی)
جناب رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ:
” جنت میں ایک درخت ہے، جس کے اوپر سے جوڑا اور نیچے سے سونے کا گھوڑا نکلے گا، اس کی زین اور لگام موتی اور یاقوت کے ہوں گے، وہ نہ تو”لید“ کرے گا، نہ پیشاب ،اس کے کئی پر ہوں گے، حد نظر پر اس کے قدم پڑیں گے، پھر اہل جنت اس پر سوار ہوں گے تو وہ ان کو لے کر اڑے گا، جہاں جانا چاہیں گے۔ یہ شان دیکھ کر ان سے نیچے درجے والے جنتی کہیں گے: اے رب! تیرے بندے اس مرتبہ پر کیونکر پہنچے؟ تو ان سے کہا جائے گا کہ یہ لوگ رات میں نماز (تہجد) پڑھتے تھے اور تم لوگ سوتے رہتے تھے، یہ لوگ روزہ رکھتے تھے اور تم کھاتے پیتے تھے، یہ خرچ کرتے تھے اور تم بخیلی کرتے تھے، یہ جان کی بازی لگاتے تھے اور تم بزدل بنے رہتے تھے“۔ (ابن ابی الدنیا)
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ا نے ارشاد فرمایاکہ: آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ:
” جس شخص کی رات میں نماز (تہجد) زیادہ ہوگی، اس کا چہرہ دن میں زیادہ حسین ہوگا“۔ (ابن ماجہ)
جناب رسول اللہا نے صحابہٴ کرام سے ارشاد فرمایا کہ:
” تمہیں تہجد ضرور پڑھنا چاہئے، اس لئے کہ یہ تمہارے سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے رب سے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے، گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے“۔ (ترمذی)
دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ:
” بدن سے بیماری کو دور کرنے والی ہے“۔ (طبرانی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ا نے فرمایا:
”جو شخص رات کو اٹھے اور اپنی گھر والی کو بیدار کرے اور دونوں نماز (تہجد) کی دورکعتیں پڑھیں تو ان دونوں کو کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھا جائے گا“۔ (نسائی)
ایک اور حدیث میں چند خوش نصیبوں کا ذکر ہے، جن کے تین انعامات ہیں:
۱… خدا ان سے محبت کرتا ہے۔
۲…ان کے سامنے ہنستا ہے۔
۳…ان سے خوش ہوتا ہے۔
ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس کی خوبصورت بیوی ہو، عمدہ نرم بستر ہو اور وہ ان کو چھوڑ کر رات کو نماز تہجد کے لئے اٹھے، اس کے بارے میں خدا خود فرمائے گا کہ اس نے اپنی خواہش چھوڑ دی اور میرا ذکر کیا، حالانکہ اگر یہ چاہتا تو سوجاتا“۔ (طبرانی)
اسی حدیث کی دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ:
” اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا: میرے بندے کو اس کام (تہجد پڑھنے) پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ فرشتے عرض کریں گے: اے رب! آپ کے پاس کی چیز (جنت ونعمت) کی امید نے اور آپ کے پاس کی چیز (دوزخ وعذاب)کے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تحقیق میں نے ان کو وہ چیز عطا کردی، جس کی امید کی تھی اور اس چیز سے محفوظ کردیا، جس سے وہ ڈرتے تھے“۔ (مسنداحمد)
حضرت عبد اللہ بن سلام  کہتے ہیں کہ: تورات میں لکھا ہے کہ:
” جن لوگوں کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں، ان کے لئے خدانے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر اس کا خیال گذرا، ان نعمتوں کو مقرب فرشتے اور نبی مرسل بھی نہیں جانتے“۔ (حاکم)

Hadith Raising Hand in Dua from Bukhari,Shareef Prophet Sunnah

Sunnah Method of doing Dua prcticed by our beloved Prophet Sallallahu Alaihi Wasallam from Sahih Bukhari Ahadith


باب ‏ ‏رفع الأيدي في الدعاء ‏ ‏وقال ‏ ‏أبو موسى الأشعري ‏ ‏دعا النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ثم رفع يديه ورأيت بياض إبطيه
Abu Musa Ashari (RA) narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) made a dua, and I saw him raise his hands, until I could see the whitness of his armpits. 
(Bukhari Shareef)
وقال ‏ ‏ابن عمر ‏ ‏رفع النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يديه وقال اللهم إني أبرأ إليك مما صنع ‏ ‏خالد
Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) raised his hands and said, "O Allah! I ask your protection for what Khalid has done".
(Bukhari Shareef)
قال أبو عبد الله ‏ ‏وقال ‏ ‏الأويسي ‏ ‏حدثني ‏ ‏محمد بن جعفر ‏ ‏عن ‏ ‏يحيى بن سعيد ‏ ‏وشريك ‏ ‏سمعا ‏ ‏أنسا ‏ ‏عن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏رفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه ‏
Anas (RA) also narrated that the Prophet (Sallaho Alaihe Wassallam) raised his hands until I saw the whiteness of his armpits. (Bukhari Shareef)

Zikr Dua after Salah Namaz Hadith Sunnah Arabic Text English Translation

Adhkaar and dua’s to be recited after salah:

و بهذه الاخبار اجمع العلماء على استحباب الذكر بعد الصلوة
“Maulana Abdul Hayy Lucknowi (RA) mentions that there is consensus amongst the Ulama that it is mustahab to make zikr after salah.” (al Si’aya 2/260 Suhail academy) 

1 )   عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا وقال اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام مسلم 1/218مكتبة تهانوي
Thawban (RA)  narrates that when Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)  used to finish salah He صلى الله عليه و سلم used to recite Istighfaar thrice and then recite:
« اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ »
“O Allah You are peace and from You is peace. Blessed are You o the being of Majesty and Honour”
 2)  قال حدثني أبو الزبير قال سمعت عبد الله بن الزبير يحدث على هذا المنبر وهو يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم يقول لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون مسلم 1/218
Abdullah bin Zubayr (RA) reports that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)   after making salam would recite:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
“There is no deity but Allah, He has no partner, for Him is the kingdom, for Him is all praise and He has power over all things. We do not worship except Him, the Being of bounty, virtue and praise. There is no deity but Allah with sincere devotion to Him even though the disbelievers detest it.”
 3 ) قال سمعته من عبدة بن أبي لبابة وسمعته من عبد الملك بن أعين كلاهما سمعه من وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال
كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة أخبرني بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قضى الصلاة قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد مسلم 1/218
Mughira (RA) narrates that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)   used to recite after Salah:
»لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِىَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ «
“There is no deity but Allah, He has no partner, for Him is the kingdom, for Him is all praise and He has power over all things. O Allah none can prevent what You give and none can give what You prevent and no wealthy persons wealth can benefit from You.”
4) عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا جلس مجلسا أو صلى تكلم بكلمات فسألته عائشة عن الكلمات فقال إن تكلم بخير كان طابعا عليهن إلى يوم القيامة وإن تكلم بغير ذلك كان كفارة له سبحانك اللهم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك سنن النسائي - (ج 1 / ص 196)
Aisha (RA) narrates the after every salah or gathering Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) used to recite some dua. So I asked Him (Sallaho Alaihe Wassallam) as to what He صلى الله عليه (Sallaho Alaihe Wassallam) recites? Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) replied if the gathering was of good this dua seals it and if the gathering was other than good it is a means of atonement.
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
“Glory O Allah and all praise, I seek Your pardon and return to You.”
 5 ) عن عقبة بن عامر قال أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقرأ المعوذات دبر كل صلاة سنن النسائي   (ج 1 / ص 196) قديمي
Uqba (RA)  reports that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) ordered me to recite Surah Ikhlas, Surah Falaq and Surah Nas after every salah.
 There are many other dua’s and tasbeehat to be recited after salah, for example Ayat al Kursi, Tasbeeh Fatimi etc but we shall suffice on the above mentioned narrations.

How to do Qurbani ka Tareeqa in Urdu aur Dua Masail tarika

Assalam O Alaikum 
بسم اللہ الرحمن الرحیم​

Sacrifice or Qurbani: Philosophy and Rules

For other Related Bakreed/way of Qurbani/Udhuhia/Dua click the links ENGLISH  http://tablighijamaattruth.blogspot.in/2012/10/qurbani-rules-time-animals-meat.html



DUA / SUPPLICATION BEFORE AND AFTER 
(ZABAH / UDHIA (Arabic) / QURBANI / Sacrificial Slaughter )
How to do Qurbani / Udhuhia ?

1. URDU   Language   (Tareeqa aur Masael)

Many other article on this link about Qurbani etc   

 Qurbani ka Tareeqa in Urdu aur Dua Masail tarika..........After urdu English link

فضائل و مسائل قربانی اور تکبیرات عیدین

فضائل و مسائل قربانی اور تکبیرات عیدین
متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
قربانی کی اہمیت:
قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوئی اور اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا السلام تک مشروع چلی آرہی ہے، ہر مذہب وملت کا اس پرعمل رہا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے:
’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ‘‘الآیۃ
(سورۃ حج:34)
ترجمہ: ہم نےہر امت کےلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کےمخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نےعطاء فرمائے۔
قربانی کاعمل اگرچہ ہرامت میں جاری رہا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں خصوصی اہمیت اختیار کر گیا، اسی وجہ سے اسے ’’سنتِ ابراہیمی‘‘کہاگیاہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خدا کی رضامندی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کیلئے پیش کیا تھا۔ اسی عمل کی یاد میں ہر سال مسلمان قربانیاں کرتے ہیں۔
اس قربانی سے ایک اطاعت شعار مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ رب کی فرمانبرداری اور اطاعت میں ہرقسم کی قربانی کے لئے تیار رہے اورمال ومتاع کی محبت کو چھوڑ کرخالص اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرے۔نیز قربانی کرتے وقت یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ قربانی کی طرح دیگر تمام عبادات میں مقصود رضاء الٰہی رہے،غیر کےلیے عبادت کاشائبہ تک دل میں نہ رہے۔ گویا مسلمان کی زندگی اس آیت کی عملی تفسیر بن جا ئے.
’’اِنَّ صَلاَ تِی وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَا تِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘
(سورۃ انعا م:162)
تر جمہ: میری نماز، میری قربانی، میرا جینا ،میرامرنا،سب اللہ کی رضا مندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کاپالنے والا ہے۔
قربانی کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہمیشگی فرمائی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔
’’اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَسِنِیْنَ یُضَحِّیْ‘‘
(جامع الترمذی:ج 1، ص:409: ابواب الاضاحی)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا(اس قیام کے دوران) آپ قربانی کرتے رہے۔
قربانی کے فضائل:
کئی احادیث میں قربانی کے فضائل وارد ہیں، چند یہ ہیں:
(1):عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھٰذِہِ الاَضَاحِیُّ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلاَم قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ۔
(سنن ابن ماجہ ص 226 باب ثواب الاضحیہ)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا:یارسول اللہ!یہ قربانی کیا ہے؟(یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نےعرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کےبدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ!اون (کے بدلے میں کیا ملے گا) فرمایا:اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔
(2) ’’عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَاعَمِلَ آدَمِیٌ مِنْ عَمَلٍ یَوْ مَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ اَنَّہْ لَیَتَأ تِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلاَفِھَا وَاِنَّ الدَّمَّ یَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ مِنَ الْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْساً‘‘
(جا مع تر مذی ج1ص275 با ب ما جاء فی فضل الاضحیہ)
ترجمہ: عید الاضحیٰ کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نز دیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں،سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کےہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
(3) ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اُنْفِقَتِ الْوَرَقُ فِیْ شَئْیٍ اَفْضَلُ مِنْ نَحِیْرَۃٍ فِیْ یَوْ مِ الْعِیْدِ۔‘‘
(سنن الدارقطنی ص774باب الذبا ئح ،سنن الکبریٰ للبیہقی ج9 ص 261)
تر جمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:کسی خرچ کی فضیلت اللہ تعا لیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن قربانی پر کیا جا ئے ہرگز نہیں۔
قربانی کے مسائل:
(1)قربانی واجب ہے:
ہر صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ اس بارے میں قر آن وسنت میں کئی دلائل موجود ہیں۔ چند یہ ہیں:
(1)’’فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘‘
(الکوثر:2)
ترجمہ: آپ اپنے رب کی نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
مشہورمفسر قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں۔
’’قَالَ عِکْرَمَۃُ وَعَطَا ئُ وَقَتَا دَۃُ فَصَلِّ لِرَ بِّکَ صَلوٰۃُ الْعِیْدِ یَوْمَ النَّحْرِ وَنَحْرُ نُسُکِکَ فَعَلیٰ ھٰذَا یَثْبُتُ بِہِ وُجُوْبُ صَلوٰۃِ الْعِیْدِ وَ الْاُضْحِیَّۃِ ‘‘
(تفسیرمظہری :ج:10:ص:353)
ترجمہ: حضرت عکرمہ،حضرت عطاء اورحضرت قتادۃ رحمہم اللہ فرماتےہیں کہ ’’فَصَلِّ لِرَ بِّکَ‘‘ میں’’فصل‘‘سے مراد’’عید کی نماز‘‘ اور ’’وانحر‘‘سے مراد ’’قربانی ‘‘ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور قربانی واجب ہے۔
(2)علامہ ابو بکر جصاص رحمہ اللہ اپنی تفسیر’’احکام القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں۔
’’قَالَ الْحَسَنُ صَلوٰۃُ یَوْمِ النَّحْرِ وَنَحْرُ الْبَدَنِ …قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ھٰذَاالتَّاوِیلُ یَتَضَمَّنُ مَعْنَیَیْنِ؛اَحَدُھُمَا اِیْجَابُ صَلوٰۃِ الْاَضْحیٰ وَالثَّانِیْ وُجُوْبُ الْاُضْحِیَّۃِ‘‘
(احکا م القر آن للجصا ص ج3ص 419 تحت سورۃ الکوثر)
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فر مایاکہ اس آیت ’’فَصَلِّ لِرَ بِّکَ‘‘ میں جو نماز کا ذکر ہے اس سے عید کی نماز مراد ہے اور ’’وانحر‘‘سےقربانی مراد ہے۔ حضرت ابو بکر جصا ص رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ اس سے دو با تیں ثا بت ہو تی ہیں :
1: عید کی نماز واجب ہے۔ 2: قربانی واجب ہے۔
(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَا نَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلَّا نَا‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،مسنداحمد ج2ص321 رقم8254، السنن الکبریٰ ج9ص260کتاب الضحایا،کنز العمال رقم 12261)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کر ے تو وہ ہما ری عید گاہ کے قر یب نہ بھٹکے۔
وسعت کے با وجود قربانی نہ کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت وعید ارشاد فر ما ئی اور وعید ترک واجب پر ہو تی ہے۔ تومعلوم ہوا قربانی واجب ہے۔
(4) حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’کُنَّاوُ قُوْفاً عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ یَااَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ عَلٰی کُلِّ اَہْلِ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَۃً وَعَتِیْرَۃً‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،سنن نسا ئی ج2ص 188)
تر جمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:اے لوگو ! ہرگھروالوں پر ہر سال قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔
اس حدیث سے دوقسم کی قربانیوں کا حکم معلوم ہوا ایک عید الاضحیٰ کی قربانی اور دوسرا عتیرہ۔
فا ئدہ: ’’عتیرہ ‘‘اس قربانی کو کہا جاتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں بتوں کے نام پر ہوتی تھی پھراسلام آنے کے بعد اللہ تعالی کے نام پر ہونے لگی، لیکن بعد میں اسے منسوخ فرمادیاگیا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’نَھیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرْعِ وَالْعَتِیْرَۃِ‘‘
(سنن النسائی ج2 ص188 کتا ب الفرع والعتیرہ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرع اور عتیرہ سے منع فرما دیا۔
فائدہ: ’’فرع‘‘ اس بچہ کو کہا جاتا تھا جو اونٹنی پہلی مرتبہ جنتی تھی اور اس کو بتوں کے نام پر قربان کیا جاتا تھا، ابتدا اسلام میں یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح ہوتی رہی لیکن بعداسے میں منسوخ کر دیا گیا۔
(زھر الربیٰ علی النسائی للسیوطی ج2 ص188)
(5) حضرت جندب بن سفیا ن البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں۔
’’شَھِدْتُّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْ مَ النَّحْرِ فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا اُخْریٰ وَمَنْ لَّمْ یَذْ بَحْ فَلْیَذْبَحْ‘‘
(صحیح البخاری ج2ص843 باب من ذبح قبل الصلوٰۃ اعاد)
ترجمہ: میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عید الاضحی کےدن حاضر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے ) ذبح نہیں کیا تو اسے چا ہئے کہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کر ے۔
اس میں آپ علیہ السلام نے عید سے پہلے قربانی کرنے کی صورت میں دوبارہ لوٹانے کا حکم دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی واجب ہے۔
(2)قربانی کس پر واجب ہے؟
جس مرد وعورت میں قربانی کے ایام میں درج ذیل باتیں پائی جاتی ہوں اس پر قربانی واجب ہے:
(1) مسلمان ہو۔
دلیل:
’’ لِاَنَّھَا قُرْ بَۃٌ وَالْکَافِرُ لَیْسَ مِنْ اَہْلِ الْقُرَبِ‘‘
(بدائع الصنائع:ج4،ص195)
قربانی عبادت و قربت کا نام ہے اور کافر عبادت اور قربت کا اہل نہیں۔
(2) آزاد ہو۔
دلیل:
’’لِاَنَّ الْعَبْدَ لَا یَمْلِکُ‘‘
(البحر الرائق:ج2 ،ص:271)
تر جمہ:قربانی غلام پر واجب نہیں کیو ں کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔
(3) صاحب نصاب ہو۔
دلیل:
’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا ‘‘
(سنن ابن ماجہ:ص226)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:جس شخص کو وسعت ہو اس کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
معلوم ہوا کہ قربانی کےلیے صاحب ِوسعت ہونا ضروری ہےجسے ’’صاحب نصاب‘‘ سےتعبیر کیاجاتا ہے۔ (اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)
(4) مقیم ہو،مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
دلیل:
’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ لَیْسَ عَلَی الْمُسَا فِرِ اُضْحِیَّۃٌ‘‘
(المحلیٰ بالآثار لابن حزم:ج6،ص37،مسئلہ نمبر979)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
(3)قربانی کا نصا ب:
قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو نصاب صدقۃ الفطر کے واجب ہونے کا ہے۔
(الفتاویٰ الہندیہ:ج5ص360، کتاب الاضحیہ)
پس جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردو عورت پر قربانی کرنا واجب ہے۔ (الجوہرۃ النیرۃ:ج1ص160،باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لایجوز)
یاد رہے کہ وہ اشیاء جو ضرورت و حاجت کی نہ ہوں بلکہ محض نمود ونمائش کی ہوں یا گھروں میں رکھی ہوئی ہوں اور سارا سال استعمال میں نہ آتی ہوں تو وہ بھی نصاب میں شامل ہوں گی۔
(بدائع الصنائع ج2ص،158،ردالمحتارج3ص346باب مصرف الزکوٰۃ والعشر)
(4)قربانی کے جانور:
جوجانور قربانی کے لیے ذبح کئے جا سکتے ہیں :بھیڑ،بکری،گائے، بھینس،اونٹ(نر،مادہ) ہیں۔
دلیل :
قال اللہ تعالیٰ: ’’ثَمَانِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَاْ نِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ … وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ‘‘
(انعام: 143، 144)
ترجمہ: آٹھ جانور ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے ، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔
فائدہ: قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے ،لہذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔
اجماع امت :
’’وَاَجْمَعُوْا عَلیٰ اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسِ حُکْمُ الْبَقَرِ۔‘‘
(کتاب الاجماع لابن المنذر:ص37)
ترجمہ: ائمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔
لغت:
’’اَلْجَا مُوْسُ ضَرْبٌ مِّنْ کِبَا رِ الْبَقَرِ‘‘
(المنجد:ص101)
ترجمہ: بھینس گائے کی ایک قسم ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے۔
’’اَلْجَا مُوْسُ بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ:ج7،ص65 رقم:10848)
تر جمہ: بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔
امام مالک بن انس مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’اِنَّمَا ھِیَ بَقَرٌ کُلُّہَا‘‘
(مؤطا امام مالک:ص294 ،باب ما جا ء فی صدقۃ البقر)
ترجمہ: یہ بھینس گائے ہی ہے(یعنی گائے کے حکم میں ہے)
ایک مقام پرفرماتے ہیں۔
’’اَلْجَوَامِیْسُ وَالْبَقَرُ سَوَائٌ‘‘
(کتاب الاموال لابن عبید:ج2،ص385،رقم:812)
ترجمہ: گائے اور بھینس برابر ہیں (یعنی ایک قسم کی ہیں)
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’تُحْسَبُ الْجَوَا مِیْسُ مَعَ الْبَقَرِ‘‘
(مصنف عبدالرزاق:ج4ص23،رقم الحدیث:6881)
ترجمہ: بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔
فائدہ: حلال جانور کے سات اعضاء کھانا مکروہ ہیں۔
دلیل:
عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْرَہُ مِنَ الشَّاۃِ سَبْعًا،اَلدَّمَ وَالْحَیَائَ وَالْاُنْثَیَیْنِ وَالْغُدَّ وَالذَّکَرَ وَالْمَثَانَۃَ وَالْمَرَارَۃَ
(مصنف عبدالرزاق ج4ص409،سنن الکبری للبیہقی:ج10،ص7)
ترجمہ: حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بکری کے سات اعضاء کھانے کوپسند نہیں کرتے تھے۔
(1)خون(2)مادہ جانور کی شرمگاہ (3)خصیتین (4)غدود(5)نرجانورکی پیشاب گاہ (6)مثانہ (7)پِتَّہ
(5)جانورکی عمر:
قربانی کے جانوروں میں بھیڑ،بکری ایک سال،گائے،بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے،البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔
دلیل:
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃً اِلَّا اَنْ یُّعْسَرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْ بَحُوْا جَذْ عَۃً مِّنَ الضَأنِ‘‘
(صحیح مسلم:ج2،ص155باب سن الاضحیہ)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قربانی کے لیے عمر والا جانور ذبح کرو ،ہاں اگر ایسا جانور میسر نہ ہو تو پھر چھ ما ہ کا دنبہ ذبح کرو جو سال کا لگتا ہو۔
اس حدیث میں دو باتیں قابل غور ہیں:
نمبر1: اس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کے جانور کے لیے لفظ ’’مسنہ‘‘ استعمال فرمایا ہے،بقول امام ترمذی رحمہ اللہ فقہاء کرام احادیث کے معانی ومطالب زیادہ جانتے ہیں۔ (جامع الترمذی:ج1،ص193 باب غسل المیت)
چنانچہ جمہور فقہاء کرام رحمہم اللہ نے ’’مسنہ ‘‘ کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اس سے مراد ’’الثنی‘‘ یعنی وہ جانور ہے جس میں عمر کا لحاظ رکھا گیا ہو، چنانچہ بھیڑ،بکری ایک سال کی ہو،گائے اوربھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا ہو۔ چند تصریحات ملاحظہ ہوں:
(1)مشہور محدث وفقیہ علامہ ابوالحسین القدوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
’’اِنَّ الْفُقَہَائَ قَالُوْا…وَالثَّنی[مِنَ الْغَنَمِ اِبْنُ سَنَۃٍ] وَالثَّنی مِنْہُ [مِنَ الْبَقَرِ ]اِبْنُ سَنَتَیْنِ وَالثَّنی[مِنَ الْاِبِلِ ] اِبْنُ خَمْسٍ‘‘
(الفتاویٰ عالمگیریہ:ج5،ص367)
ترجمہ: حضرات فقہاء کرام یہ فرماتے ہیں کہ بھیڑ،بکری ایک سال کی، گائے دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہو۔
(2)محدث وفقیہ علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’وَالثَّنی مِنَ الضَّأ نِ وَالْمَعْزِ اِبْنُ سَنَۃٍ وَمِنَ الْبَقَرِ اِبْنُ سَنَتَیْنِ وَمِنَ الْاِبِلِ اِبْنُ خَمْسِ سِنِیْنَ‘‘
(البحر الرائق:ج8ص201 کتاب الاضحیہ)
ترجمہ: بھیڑاوربکری ایک سال کی،گائے دوجبکہ اونٹ پانچ سال کا ہو۔
اور یہی تعریف مندرجہ ذیل کتب میں بھی موجود ہے:
(1)
بذل المجہود:ج4ص71 (2) تکملہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم:ج3ص558
نمبر2: مذکورہ حدیث میں’’مسنہ‘‘ نہ ملنے کی صورت میں’’جَذْعَۃٌ مِّنَ الضَّأنِ‘‘ کا حکم فرمایا اس سے مراد وہ دنبہ ہے جو چھ ماہ کا ہو۔مگر دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو۔چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’وَقَالُوْا ھٰذَا اِذَاکَانَ الْجَذَعُ عَظِیْماً بِحَیْثُ لَوْخَلَطَ بِالثَّنِیَّاتِ یَشْتَبِہُ عَلَی النَّا ظِرِیْنَ وَالْجَذَعُ مِنَ الضَّأ نِ مَا تَمَّتْ لَہُ سِتَّۃُ اَشْھُرٍ عِنْدَ الْفُقَہَائِ‘‘
(البحر الرائق:ج8ص202 کتاب الاضحیہ)
ترجمہ: حضرات فقہاء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دنبہ ہے جو اتنا بڑا ہو اگراس کوسال والے دنبوں میں ملا دیا جائے تو دیکھنے میں سال والوں کے مشابہ ہو اور حضرات فقہاء کے نزدیک جذع (دنبہ) وہ ہے جو چھ ماہ مکمل کر چکا ہو۔
(6)شرکاء اوران کی تعداد:
قربانی کا جانور اگر اونٹ گائے یا بھینس ہو تو اس میں سات آ دمی شریک ہو سکتے ہیں:
دلیل(1):
’’عَنْ جَا بِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ خَرَ جْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُھِلِّیْنَ بِا لْحَجِّ فَاَمَرَنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِکَ فِی الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَۃٍ مِّنَّا فِیْ بَدَنَۃٍ‘‘
(صحیح مسلم:ج1،ص424 باب جواز الاشتراک الخ)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات ( آدمی)شریک ہوجا ئیں۔
دلیل(2):
’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَا مَ الْحُدَ یْبِیَۃِ اَلْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَ عَنْ سَبْعَۃٍ‘‘
(صحیح مسلم ج1ص424 باب جوا ز الاشتراک الخ)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ والے سال آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قربانی کی۔چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آ دمیوں کی طرف سے قربان کی۔
اگر قربانی کا جانور بکری یا بھیڑ ہو تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے:
دلیل(1): حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’اَنَّ النَّبِیَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتَا ہُ رَجُلٌ فَقَالَ اِنَّ عَلَیَّ بَدَ نَۃً وَاَنَا مُوْ سِرٌ بِھَا وَلاَ اَجِدُ ھَا فَاَشْتَرِ یْھَا فَاَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّبْتَاعَ سَبْعَ شِیَاۃٍ فَیَذْبَحُھُنَّ‘‘
(سنن ابن ماجہ:ص 226،کتا ب الاضاحی باب کم یجزی من الغنم عن البدنۃ)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ مجھ پر ایک بڑا جانور (اونٹ یا گا ئے) واجب ہو چکا ہے اور میں ما لدار ہوں اورمجھے بڑا جانور نہیں مل رہا کہ میں اسے خر ید لوں (لہٰذا اب کیا کرو ں؟) توآ پ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سات بکریاں خریدلو اور انہیں ذبح کرلو۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے جانور کو سات بکریوں کے برابر شمارکیا اور بڑے جانور میں قربانی کے سات حصے ہوسکتے ہیں اس سے زیا دہ نہیں۔معلوم ہوا کہ ایک بکری یا ایک دنبہ کی قربانی ایک سے زیادہ افراد کی طرف سے جا ئز نہیں۔
دلیل(2):حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشادہے:
’’اَلشَّا ۃُ عَنْ وَاحِدٍ‘‘
(اعلاء السنن:ج 17،ص210،باب ان البدنۃ عن سبعۃ)
ترجمہ:بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔
(7)قربانی کےدن:
قربانی کے تین دن ہیں: 12.11.10ذوالحجہ۔
دلیل(1):
قال اللہ تعالیٰ:’’لِیَشْھَدُوْا مَنَا فِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ‘‘
(الحج:28)
ترجمہ: تاکہ اپنے فوائد کیلئے آموجود ہوں اور ایام مقررہ میں ان مخصوص چوپائیوں پر اللہ کا نام لیں۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’فَا لْمَعْلُوْمَاتُ یَوْ مُ النَّحْرِ وَیَوْ مَانِ بَعْدَہُ ‘‘
(تفسیرابن ابی حاتم الرازی:ج6،ص261)
ترجمہ:ایام معلومات سےمرادیوم نحر(10ذوالحجہ)اوراس کے بعد دو دن ہیں۔
دلیل(2):
’’عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحیّٰ مِنْکُمْ فَلاَ یُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ وَبَقِیَ فِیْ بَیْتِہِ مِنْہُ شَئْیٌ‘‘
(صحیح بخاری: ج2،ص835،باب ما یؤکل من لحوم الاضاحی)
ترجمہ:حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:تم میں جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہ رہناچا ہئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں، اس لئے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گو شت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانورذبح کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟
فائدہ:تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی مما نعت ابتدائے اسلام میں تھی،بعد میں اجازت دی گئی کہ اسے تین دن کے بعد بھی رکھا جا سکتاہے۔
(مستدرک حا کم ج4ص259)
اس سے یہ نہ سمجھیں ’’جب تین کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد بھی قربانی کی جاسکتی ہے‘‘ اس لیے کہ گوشت تو سارا سال بھی رکھا جا سکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت سا را سال ہو گی،ہر گز نہیں۔ تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔
دلیل(3): حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں۔
(مؤطا امام ما لک ص497، کتاب الضحایا)
دلیل(4):
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبِّا سٍ :النَّحْرُیَوْمَانِ بَعْدَیَوْمِ النَّحْرِوَاَفْضَلُہَا یَوْمُ النَّحْرِ‘‘
(احکام القرآن للطحاوی ج2ص205 )
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد کے دو دن ہیں،البتہ یوم النحر(دس ذوالحجہ) کو قربانی کرنا افضل ہے۔
(8)قربانی کا وقت:
قربانی کا وقت شہروالوں کے لیے نماز عید ادا کر نے کے بعد اور دیہات والوں کے لیے جن پر نماز جمعہ فرض نہیں ،صبح صادق سے شروع ہوجاتاہےلیکن سورج طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنابہتر ہے۔
(فتاویٰ قاضیخان، فتاویٰ شامی)
چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فَقَالَ:اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِہِ مِنْ یَوْ مِنَا ھٰذَا اَنْ نُّصَلِیَّ ثُمَّ نَرْ جِعَ وَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ نَحَرَفَاِنَّمَا ھُوَ لَحْمٌ یُقَدِّمُہُ لِاِھْلِہِ لَیْسَ مِنَ النُّسِکِ فِیْ شَئْیٍ‘‘۔
(صحیح البخا ری:ج 2،ص834 کتا ب الاضاحی باب الذبح)
ترجمہ:میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ہمارےاس عید کے دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آکر قربانی کریں جس نے ہمارے اس طریقہ پر عمل کیا یعنی عید کے بعد قربانی کی تو اس نے ہما رے طریقے کے مطابق درست کام کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی تو وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیاہے اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز عید سے پہلے قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے، دیہات میں چونکہ نماز عیدکا حکم نہیں ہے،اس لئے وہاں اس شرط کا وجود ہی نہیں تو ان کے لیے یہ حکم نہ ہوگا۔ وہاں قربانی کے وقت کا شروع ہونا ہی کافی ہوگا اور اس کا آغاز طلوع فجر سے ہو جاتا ہے۔
(9)عمومی مسائل:
(1) خصی جانور کی قربانی کرنا جائز بلکہ افضل ہے۔
(سنن ابی داؤد ج2ص386 باب ما یستحب من الضحایا)
(2)
اگر کوئی آ دمی عقیقہ کی نیت سے قربانی کے جانور میں اپنا حصہ رکھ لے تو یہ جائز ہے۔
(3)
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص375)
(4)
ایسا لنگڑا جانور جو چلتے وقت پاؤں زمین پر بالکل نہ رکھ سکتا ہو اس کی قربانی جائز نہیں البتہ اگر وہ چلنے میں اس پاؤں سے کچھ سہارا لیتا ہوتو اس کی قربانی جائز ہے۔
(5)
(سنن ابی داؤد:ج2،ص387،ردالمحتار:ج9:ص 536 کتا ب الاضحیہ)
(4) اگر جانور کے اکثر دانت ٹوٹے ہوئے ہوں کہ چارہ بھی نہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، ہا ں اگر چارہ کھا سکتا ہو تو قربانی جائز ہے۔
(ردالمحتار ج9 ص 537 کتا ب الاضحیہ)
(5) جس جانور کی پیدائشی طور پر ایک یا دونوں کان نہ ہوں یا کان کا تیسرا یا اس سے زیادہ حصہ کٹا یا چرا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر تیسرے سے کم حصہ کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
(جامع الترمذی:ج1،ص275،باب الاضاحی، ردالمحتار:ج9،ص537)
(6) اگر جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے لیکن جڑ سے نہیں اکھڑا تو اس کی قربانی جائزہےاوراگر جڑ سے اکھڑ چکا ہو تو اس کی قربانی جا ئز نہیں۔
(سنن الطحاوی:ج2،ص271باب العیوب التی لایجوزالھدایاوالضحایا،ردالمحتار:ج9 ص535 کتاب الاضحیہ)
(7) جانور کی دم اگر تہائی سے کم کٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے اگر تہائی یا اس سے زائد کٹی ہوئی ہو تو قربانی جا ئز نہیں ہے۔
(اعلاءالسنن:ج17ص237، فتاویٰ عالمگیریہ:ج5ص368)
(8) گائے یا بھینس وغیرہ کا ایک تھن خراب اور باقی تین ٹھیک ہوں تو قربانی جائز ہے اور اگر دو تھن خراب ہوں تو قربانی جا ئز نہیں۔ اسی طرح بکری وغیرہ کا ایک تھن خراب ہو تو قربانی جائز نہیں۔
(المعجم الاوسط:ج2ص374 رقم 3578،فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص683)
(9) جانور اگر اندھا ہو یا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زائد روشنی نہ ہو تو اس کی قربانی جا ئز نہیں ہاں اگر روشنی تہائی سے کم جاتی رہے تو قربانی جائز ہے۔
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص368)
(10) ذبح کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ہو، لہٰذا مشرک ، مجو سی، بت پرست، اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے۔ (بدائع الصنائع ج4ص164)
گوشت کا حکم:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے گھر کے لیے،ایک حصہ رشتے داروں اور دوست واحباب کے لیے اور ایک حصہ فقرا ء ومساکین میں تقسیم کیا جائے، ہاں اگر عیال زیادہ ہوں تو سارا گوشت خودبھی رکھ سکتے ہیں۔
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص370)
اگر قربانی کے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جا ئے اندازے سے تقسیم کر نا جائز نہیں۔
(البحرالرائق:ج8ص198)
قربانی کا گو شت فروخت کرنا یا اجرت میں دینا جائز نہیں۔
(بدائع الصنائع ج4ص225)
قربانی کی کھال:
اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں مثلاً مصلیٰ، مشکیزہ وغیرہ بنا سکتے ہیں البتہ اس کو فروخت کرکے قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ فقراء کو دینا واجب ہے۔
(عالمگیری ج3 ص 372)
نیزکھال کی قیمت مسجد کی تعمیر میں نہیں لگا ئی جا سکتی اسی طرح کسی فلاحی ادارہ میں بھی اس کا خرچ کرنا درست نہیں کیو ں کہ اس میں ضروری ہے کہ اس کا فقرا ء ومساکین کو مالک بنا دیا جا ئے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھال کسی دینی مدرسہ اور جامعہ کے طلبا ء کو دی جائے کیوں کہ اس میں ان کی امداد کر نے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا سبب بھی۔
تکبیراتِ عیدین
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کر یہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کر چار۔گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمار ہوں گی۔
بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کرچاربتایا گیا ہے اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھ ہی بنتی ہیں۔
1: عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَصْحَاب رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیْدٍ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا وَاَرْبَعًا ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ حِیْنَ انْصَرَفَ فَقَالَ لَاتَنْسَوْا کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہٖ وَقَبَضَ اِبْھَامَہٗ۔
(شرح معانی الآثار ج2 ص 371 باب صلوۃ العیدین)
ترجمہ: ابو عبدالرحمن قاسم فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی تو چار چار تکبیریں کہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوکرفرمایا: بھول نہ جاناعید کی تکبیریں جنازہ کی طرح (چار) ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں کا اشارہ فرمایا اور انگوٹھا بند کر لیا۔
2: عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَائِشَۃَ جَلِیْسٌ لِّاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَأَلَ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یُکَبِّرُاَرْبَعًا تَکْبِیْرَۃً عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَدَقَ فَقَالَ اَبُوْمُوْسیٰ کَذٰلِکَ کُنْتُ اُکَبِّرُ فِی الْبَصْرَۃِ حَیْثُ کُنْتُ عَلَیْھِمْ۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص170باب التکبیر فی العیدین ،السنن الکبریٰ للبیہقی ج3ص 289)
ترجمہ: حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ کے ہمنشین ابو عائشہ نے بتایاکہ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر میں کتنی تکبیریں کہتے تھے ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا چار تکبیریں کہتے تھے،جیسا کہ آپ جنازہ میں کہتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سچ کہتے ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب میں بصر ہ کا گورنر تھا تو وہاں بھی اسی طرح تکبیریں کہا کرتا تھا۔
3: عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسَوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَا کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جاَلِسًا وَعِنْدَہٗ حُذَیْفَۃُ وَاَبُوْمُوْسَیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا فَسَألَھُمْ سَعِیْدُ بْنُ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلٰوۃِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأضْحٰی فَجَعَلَ ھٰذَا یَقُوْلُ: سَلْ ھٰذَا وَ ھٰذَا یَقُوْلُ:سَلْ ھٰذَا حَتّٰی قَالَ لَہٗ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَلْ ھٰذَا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَسَألَہٗ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَأ ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْکَعُ ثُمَّ یُکَبِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ فَیَقْرَأثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ج4 ص 593 رقم 9402،مصنف عبدالرزاق ج3ص167،رقم 5704)
ترجمہ: علقمہ اور اسود بن یزیدکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ تو ان سے حضرت سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی تکبیروں کے متعلق سوال کیا۔ حضرت حذیفہ نے کہا: ان( حضرت ابوموسیٰ) سے پوچھو، اور حضرت ابوموسیٰ نے کہا:ان( حضرت حذیفہ) سے پوچھو،پھرحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مسئلہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نمازی چار تکبیریں (ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ)کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر تکبیر کہ کر رکوع کرے دوسری رکعت میں تکبیر کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر قرأت کے بعد چار تکبیریں کہے۔(تین تکبیرات زائدہ اور ایک تکبیر رکوع کے لیے)
4: عَنْ کُرْدُوْسٍ قَالَ:اَرْسَلَ الْوَلِیْدُاِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ َو حُذَیْفَۃَ وَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ بَعْدَ الْعَتَمَۃِفَقَالَ: اِنَّ ہٰذَا عِیْدُالْمُسْلِمِیْنَ،فَکَیْفَ الصَّلٰوۃُ؟ فَقَالُوْا:سَلْ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَسَاَلَہُ فَقَالَ:یَقُوْمُ فَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ سُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ وَ یَرْکَعُ فَتِلْکَ خَمْسٌ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا یَرْکَعُ فِیْ آخِرِہِنَّ فَتِلْکَ تِسْعٌ فِی الْعِیْدَیْنِ فَمَا اَنْکَرَہُ وَاحِدٌ مِّنْہُمْ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص392)
ترجمہ: حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یعنی عبد اللہ بن مسعود سے پوچھو۔
چنانچہ قاصد نے ان سے پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر چار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورت فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحی میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبر دست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]
5: حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تکبیراتِ جنازہ کے چارہونے پر تمام صحابہ اورکا اتفاق ہوا۔ حدیث کے الفاظ ہیں:
فَاجْمَعُوْا اَمْرَھُمْ عَلٰی اَنْ یَجْعَلُوْا التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ مِثْلَ التَّکْبِیْرِ فِی الْاَضْحیٰ وَالْفِطْرِ اَرْبَعَ تَکْبِیْرَات۔
(شرح معانی الآثار ج1ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)
ترجمہ: تو انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نماز عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی چار تکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں۔
6: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ:فِی الْاُوْلٰی خَمْسُ تَکْبِیْرَاتٍ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ وَ بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِسْتِفْتَاحِ وَ فِی الرَّکْعَۃِ [الْاُخْرٰی] اَرْبَعَۃٌ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ
(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص166رقم الحدیث 5702باب التکبیر فی صلوۃ العید)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں رکوع اور تحریمہ کی تکبیر کو ملا کرپانچ تکبیریں ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع والی تکبیر کو ملا کر چار تکبیریں بنتی ہیں[خلاصہ یہ کہ ہر رکعت میں زائد تکبیروں کی تعداد تین ہے۔]
7: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ اَنَّہُ صَلّٰی خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْعِیْدِ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا ثُمَّ قَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ۔
(سنن الطحاوی: ج2 ص372باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن الحارث رحمہ ا للہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے عید کی نماز پڑھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پہلے چار تکبیریں کہیں، پھر قراء ت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔ پھر جب آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے قراء ت کی پھر تین تکبیریں کہیں، پھر (چوتھی) تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔



DUA / SUPPLICATION BEFORE AND AFTER ZABAH / UDHIA (Arabic) / QURBANI / Sacrificial Slaughter 
How to do Qurbani / Udhuhia 
Qurbani is an Urdu word comes from the Arabic word "Qurban" which  means an act performed to seek Allah’s pleasure. Actually the sacrifice of Animal is symbolic only and actual qurbani is to be ready for sacrifice Whatever Allah wants.
 Qurbani in Arabic is commonly known as Udhiya meaning blood sacrifice.

1. At the time of Zabah /giving qurbani the animal should be laid with its throat towards the QIBLAH. 
Then........ 
Before the Zabah read:
اِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اِنَّ صَلاَتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ للهِ رَبِّ الْعالَمِيْنَ لاَ شَرِيْكَ لَه وَبِذَلِكَ اُمِرْتَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ
Trans: “For me, I have set my face, firmly and truly towards Him Who created the heavens and the earth. And never shall I give partners to Allah. Verily my worship and my sacrifice, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds. O Allah! this sacrifice is from you and is for you”. 
THEN START ZABAH 

WHILE SLAUGHTERING THE ANIMAL READ:
بِسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبرُ
Trans: In the name of Allah. Allah is the greatest”. 
 DUA TO BE RECITED AFTER ZABAH:
اَللّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَاْ تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَّخَلِيْلِكَ اِبْرَاهِيْمَ عَلَيهِمَا الصَّلوةُ وَالسَّلامُ
Trans: "O Allah accept from me (this sacrifice) like you have accepted from you beloved Muhammad and you friend IBRAHEEM. Peace be upon them. 
(if you are sacrificing on behalf of other then in place of     (MInni ) مِنِّي
 Recite MINN .................and then take his name.)

If a person has not memorised the DUA, it is correct that he slaughter the animal with the NIYYAH (Intention) of Qurbani and the recital of:
بِسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبَرُ 
(Reference book Taleemul Islam/ Islamic basic teaching by Mufti sheikh kifayatullah Rahmatullah Alaihi )


Some Ruling and  Method of Qurbani

1. It is more preferable for a Muslim to slaughter the animal of his Qurbani with his/her own hands. Even females are encouraged to do provided proper ruling of hijab is maintained, or at least they should try to be present to see the sacrifice.

2.However, if he/she is unable to slaughter the animal himself, or does not want to do so for some reason, he can request another person to slaughter it on his behalf. In this case also, it is more preferable that he, at least, be present at the time of slaughter. However, his absence at the time of slaughter does not render the Qurbani invalid, if he has authorized the person who slaughtered the animal on his behalf. 

3.It is a Sunnah to lay the animal with its face towards the Qiblah, and to recite the following verse of the Holy Quran:
I, being upright, turn my face towards the One who has created the heavens and the earth, and I am not among those who associate partners with Allah. ( Al-An'am, 6:79)

But the most essential recitation when slaughtering an animal is: Bismillah, Allahu Akbar. (In the name of Allah, Allah is the greatest). 

4. If somebody intentionally avoids to recite it when slaughtering an animal, it does not only make his Qurbani unlawful, but also renders the animal haram, and it is not permissible to eat the meat of that animal. 

5. However, if a person did not avoid this recitation intentionally, but he forgot to recite it when slaughtering the animal, this mistake is forgiven and both the Qurbani and the slaughter are lawful.



MUKHTASAR (SHORT) JANNE KE LIYE Yeh Kitab Munasib Hai

Fazail – o – Masail – e – Qurbani By Shaykh Muhammad Ilyas Ghumman


Puri Tafseel Detail Janne ke liye is link par click karein

Qurbani Kay Ahkam By Shaykh Manzoor Yusuf

http://islamicbookslibrary.wordpress.com/2012/10/22/qurbani-kay-ahkam-by-shaykh-manzoor-yusuf/






FOR ENGLISH ARTICLE


JAZAKALLAH