Pages

Showing posts with label ZAKAT AYATS RULING CALCULATOR. Show all posts
Showing posts with label ZAKAT AYATS RULING CALCULATOR. Show all posts

Roza Zakat Aitakaf ke Masla Masael روزہ کے مسائل

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء


احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة

از:  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند      

                رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔
روزہ کی نیت:
                نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔
                روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔
                مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
                (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا اسی حکم میں ہیں، (۷) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا، (۸) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی، (۹) دن باقی تھا؛ مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
                تنبیہ: ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
                (۱۰) جان بوجھ کر بدون بھولنے کے بی بی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ بھی۔
                کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاوے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے؛ اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں؛ مگر مکروہ ہوجاتا ہے:
                (۱) بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
                (۲) تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
                (۳) فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
                (۴) غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
                (۵) روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا!
                (۱) مسواک کرنا ۔ (۲) سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔ (۳) آنکھوں میں دوا، یا سُرمہ ڈالنا۔ (۴) خوشبو سونگھنا۔ (۵) گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔ (۶) کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔ (۷) بھول کر کھانا پینا۔ (۸) حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔ (۱۰) خود بخود قے آجانا۔ (۱۱) سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔ (۱۲) دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔ (۱۳) اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
وہ عذر جن سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے:
                (۱) بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
                (۲) جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
                (۳) جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
                (۴) مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
                (۵) بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
                (۶) کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
                (۷) کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
                (۸) عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
روزہ کی قضا
                (۱) کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عُذر جاتا رہے جلد ادا کرلینا چاہیے۔ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں، قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک دودو کرکے رکھے۔
                (۲) اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہونے کے بعد اتنا وقت نہ پائے کہ جس میں قضا شدہ روزے ادا کرے تو قضا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں، اتنے ہی کی قضا لازم ہوگی۔
سحری
                روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔ اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
                آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
                کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ․
تراویح
                (۱)رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت سنت موٴکدہ ہے۔
                (۲) تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ محلہ کی مسجد میں جماعت ہوتی ہواور کوئی شخص علیحدہ اپنے گھر میں اپنی تراویح پڑھ لے تو سنت ادا ہوگئی، اگرچہ مسجد اور جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور اگر محلہ ہی میں جماعت نہ ہوئی تو سب کے سب ترک سنت کے گنہگار ہوں گے۔
                (۳) تراویح میں پورا قرآن مجید ختم کرنا بھی سنت ہے۔ کسی جگہ حافظِ قرآن سنانے والانہ ملے یا ملے؛ مگر سنانے پر اجرت ومعاوضہ طلب کرے تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں، اُجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔
                (۴) اگر ایک حافظ ایک مسجد میں بیس رکعت پڑھ چکا ہے، اس کو دوسری مسجد میں اسی رات تراویح پڑھنا درست نہیں۔
                (۵) جس شخص کی دوچار رکعت تراویح کی رہ گئی ہو تو جب امام وتر کی جماعت کرائے اس کو بھی جماعت میں شامل ہوجانا چاہیے، اپنی باقی ماندہ تراویح بعد میں پوری کرے۔
                (۶) قرآن کو اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں بڑا گناہ ہے، اس صورت میں نہ امام کو ثواب ہوگا، نہ مقتدی کو۔ جمہور علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ نابالغ کو تراویح میں امام بنانا جائز نہیں۔
اِعتکاف
                (۱) اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
                (۲) رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
                (۳) بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
                (۴) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
                (۵) جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
                (۶) اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
                (۷) اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
                (۸) غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
شبِ قدر
                چونکہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے چھوٹی ہیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رات ایسی مقرر فرمادی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے؛ لیکن اس کو پوشیدہ رکھا؛ تاکہ لوگ اس کی تلاش میں کوشش کریں اور ثواب بے حساب پائیں۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ احتمال ہے یعنی ۲۱ ویں، ۲۳ ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں شب۔ اور ۲۷ویں شب میں سب سے زیادہ احتمال ہے۔ ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر تمام رات جاگنے کی طاقت یا فرصت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگے اور نفل نماز یا تلاوتِ قرآن یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، حدیث میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہوجاتا ہے، ان راتوں کو صرف جلسوں تقریروں میں صرف کرکے سوجانا بڑی محرومی ہے، تقریریں ہر رات ہوسکتی ہیں، عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔
                البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
ترکیب نمازِ عید
                اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔ دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلاہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ․
مسائل زکوٰة
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّکوٰةَ
                مسئلہ: اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہے یا اس میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر روپیہ یا نوٹ ہے تو اس پر زکوٰة فرض ہے۔ نقد روپیہ بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے (شامی) اور سامانِ تجارت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوٰة فرض ہے۔
                مسئلہ: کارخانے اور مِل وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰة فرض نہیں؛ لیکن ان میں جو مال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰة فرض ہے ، اسی طرح جو خام مال کارخانہ میں سامان تیار کرنے کے لیے رکھا ہے اس پر بھی زکوٰة فرض ہے (درمختار وشامی)
                مسئلہ: سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰة واجب ہے، زیور، برتن؛ حتی کہ سچاگوٹہ، ٹھپہ، اصلی زری، سونے چاندی کے بٹن، ان سب پر زکوٰة فرض ہے، اگرچہ ٹھپہ گوٹہ اور زری کپڑے میں لگے ہوئے ہوں۔
                مسئلہ: کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا یا چاندی اور کچھ مالِ تجارت ہے؛ لیکن علیحدہ علیحدہ بقدر نصاب ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے تو سب کو ملاکر دیکھیں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے توزکوٰة فرض ہوگی اور اگر اس سے کم رہے تو زکوٰة فرض نہیں (ہدایہ)
                مسئلہ: مِلوں اور کمپنیوں کے شیئرز پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ بشرطیکہ شیئرز کی قیمت بقدر نصاب ہو یا اس کے علاوہ دیگر مال مِل کر شیئرہولڈر مالک نصاب بن جاتا ہو؛ البتہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں؛ چونکہ مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ کی لاگ بھی شامل ہوتی ہے جو درحقیقت زکوٰة سے مستثنیٰ ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص کمپنی سے دریافت کرکے جس قدر رقم اس کی مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ میں لگی ہوئی ہے، اُس کو اپنے حصے کے مطابق شیئرز کی قیمت میں سے کم کرکے باقی کی زکوٰة دے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔ سال کے ختم پر جب زکوٰة دینے لگے اس وقت جو شیئرز کی قیمت ہوگی وہی لگے گی۔ (درمختار وشامی)
                مسئلہ: پراویڈنٹ فنڈ جو ابھی وصول نہیں ہوا اُس پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ لیکن ملازمت چھوڑنے کے بعد جب اس فنڈ کا روپیہ وصول ہوگا، اس وقت اس روپیہ پر زکوٰة فرض ہوگی، بشرطیکہ یہ رقم بقدرِ نصاب ہو یا دیگر مال کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہوجاتی ہو وصولیابی سے قبل کی زکوٰة پراویڈنٹ کی رقم پر واجب نہیں، یعنی پچھلے سالوں کی زکوٰة فرض نہیں ہوگی۔
                مسئلہ: صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰة پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے؛ البتہ اگر بعد میں سال پورا ہونے کے اندر مال بڑھ گیا تو اس بڑھے ہوئے مال کی زکوٰة علیحدہ دینا ہوگی۔ (درمختار وشامی)
                جس قدر مال ہے اس کا چالیسواں حصہ(۴۰---۱) دینا فرض ہے یعنی ڈھائی فیصد مال دیا جائے گا۔ سونے، چاندی اور مال تجارت کی ذات پر زکوٰة فرض ہے اس کا ۴۰---۱ دے اگر قیمت دے تو یہ بھی جائز ہے؛ مگر قیمتِ خرید نہ لگے گی، زکوٰة واجب ہونے کے وقت جو قیمت ہوگی اس کا ۴۰---۱دینا ہوگا (درمختار،ج:۲)
                مسئلہ: ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰة فرض ہوتی ہے، مکروہ ہے؛ لیکن اگر دے دیا تو زکوٰة ادا ہوگئی اور اس سے کم دینا بغیر کراہت کے جائز ہے۔ (ہدایہ ج۱)
                مسئلہ: زکوٰة ادا ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جو رقم کسی مستحقِ زکوٰة کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔
                مسئلہ: ادائیگی زکوٰة کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰة کی رقم کسی مستحق زکوٰة کو مالکانہ طور پر دے دی جائے، جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو، اس کے مالکانہ قبضہ کے بغیرزکوٰة ادا نہ ہوگی۔

Zakat calculation Method

A common mistake in
  ZAKAT CALCULATION?????????????


I WAS DOING THIS MISTAKE  ................5 years back..........

Recently I found my close relatives were also doing same mistake .........So I wanted to share........

MISTAKE ????????????
SUPPOSE ONE PERSON ........Ahmad is getting money in this manner/ Monthly manner/ Actually all salaried class get money in this manner......... 

..........If someone is getting 5 lakh Rs in January........His year will complete in next January......
............................He is getting again 60 thousand in March.............His year will complete in next March........
............................. He is getting again 4 lakh in August.................His year will complete in next aUGUST 


If he calculate by keeping in 1 year that mean he has to give ............zakat every month..................Suppose he is getting money every 15 Days How he will calculate........................


CORRECT METHOD IS .............


Fix a date in a year..............SAY FOR EXAMPLE ..................10th Ramzan...........Every year what ever money you have on 10 th Ramzan ................Give zakat of that Money .

Suppose you have 5 lakhs on 8th ramzan 
    on 9th 4 lakhs more came and on 10th you have 9 lakhs 
your zakat will be on 9 lakhs.

.............Provided You have never have been less than the NISAB Money throughout the year (Money on which zakat is admissible)..............

(PLEASE CONFIRM IT FROM ULEMA ...........BOTH CASE OF BEING IT right/ Wrong inform in comment .........I HAVE CONFIRMED FROM Very Good Alim and Mufti...............But still everyone is requested to confirm it and .....Please share in comment ..................) It is very important please Share.........


 ZAKAT CALCULATOR ONLINE LINK 
You can go to this link for zakat Calculator ONLINEhttp://www.central-mosque.com/fiqh/zcalc.htm


Zakat Nisab on gold Mahr Full Islamic Ruling Fatwa by Ask Imam

Category: Zakat
Fatwa#: 23964 Taken with JAZAKALLAH O KHAIR http://www.askimam.org/public/question_detail/23964
Asked Country: Bangladesh
Answered Date: Jan 15,2013
Title: Zakāt on gold jewellery
Question
I got married last year april 19,2012,I have got gold jewelry above 85 grams,i.e. above Nisab amount.But these gold jewelry was financed by my Brother-in-law.My husband will have to pay the value or price of these gold to his brother. Though my brother -in-law do not force us to pay him for these gold jewelry,but we feel that we are obliged to pay him when we are able to pay him.Now in this situation am I bound to pay zakah on these jewelry?As yet the value(price) of the gold has to be paid by me or my husband, am I obliged to pay zakah or not? If I have to pay zakah then can I pay zakah on gold based on the selling value of these gold?Becaouse in our country market price of gold is not provided to the gold Jewellery seller .There is huge diiference between market price of gold and the price is given to the individual gold jewellry seller coming to the gold shop to sell his/her gold jewelry.
 
 Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
As-salāmu ʿalaykum wa-raḥmatullāhi wa-barakātuh
·        The Niṣāb of gold is 87.48 grams.
·        Zakāt on any wealth is due on the owner of that specific wealth. If you were given the gold jewellery as Mahr (dowry) or as a gift, you are the owner of the gold jewellery even though your husband has not yet paid off your brother-in-law for it. Therefore, if you are the owner of the gold jewellery and it weighs 87.48 grams or more, you should calculate Zakāt on the gold jewellery from the time you became the owner of the gold jewellery.
·        When paying Zakāt on the gold jewellery, you should consider the current market price of gold on the day Zakāt becomes due (i.e. at the end of the lunar year) in relation to the karats of your gold jewellery.[1]
And Allah Taʿālā Knows Best
Mahmood Patel
Student, Darul Iftaa
Azaadville, South Africa
Checked and Approved by
Mufti Ebrahim Desai


[1] وصح دفع عرض ومكيل وموزون عن زكاة النقدين بالقيمة. (مراقي الفلاح، المطبوع مع حاشية الطحطاوي (ص: 717))
والمقوم الأهل في كل حرفة. (الفتاوى البزازية (1/ 366))
نُقْصَانُ الثَّمَنِ يَصِيرُ مَعْلُومًا بِإِخْبَارِ أَهْلِ الْخِبْرَةِ الْخَالِينَ عَنْ الْغَرَضِ. (مجلة الأحكام العدلية (الْمَادَّةُ 346))
وَالْقِيمَةُ مَا قُوِّمَ بِهِ الشَّيْءُ بِمَنْزِلَةِ الْمِعْيَارِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ وَلَا نُقْصَانٍ. (الجوهرة النيرة (1/ 193))
لِأَنَّ قِيمَتَهُ مِقْدَارُ مَالِيَّتِهِ بِتَقْوِيمِ الْمُقَوِّمِينَ؛ (بدائع الصنائع (5/ 26))
في «المنتقى»: بشر بن الوليد عن أبي يوسف ... يضمن للمالك قيمة دفاتر الحساب، وهو أن ينظر بكم يشترى ذلك. (المحيط البرهاني، المجلس العلمي (8/ 223))
وقال البِرْجَنْدي: والحاصلُ أنَّ مثلَ القيمةِ هو ما قوَّم به أكثرُ المقوِّمين، وما قوَّم به أقلُّهم ويكون زائداً على ما قوَّم به الأكثر، فهو ما يتغابنُ به النّاس، فإن كان زائداً بحيث لم يقوِّم به أحدٌ، فهو ممَّا لا يتغابنُ الناسُ. (عمدة الرعاية (8/ 59))
وَالْقِيمَةُ مَا تَظْهَرُ [عِنْدَ] تَقْوِيمُ الْمُقَوِّمِينَ، ... وَيَخْتَلِفُ الْمُقَوِّمُونَ فِي التَّقْوِيمِ أَيْضًا. (المبسوط للسرخسي (13/ 7))
 (قَالَ) وَإِذَا أَشْكَلَ عَلَى الْإِمَامِ قِيمَةُ الْمَسْرُوقِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قِيمَتُهَا عَشَرَةُ دَرَاهِمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَدْنَيْ، لَمْ يُقْطَعْ. (المبسوط للسرخسي (9/ 178))
إذَا وَجَبَتْ قِيمَةٌ عَلَى إنْسَانٍ وَاخْتَلَفَ الْمُقَوِّمُونَ فَإِنَّهُ يُقْضَى بِالْوَسَطِ ... كَمَا فِي كِتَابِ الظَّهِيرِيَّةِ. (الأشباه والنظائر (ص: 183))
DISCLAIMER - AskImam.org questions
AskImam.org answers issues pertaining to Shar'ah. Thereafter, these questions and answers are placed for public view on www.askimam.org for educational purposes. However, many of these answers are unique to a particular scenario and cannot be taken as a basis to establish a ruling in another situation or another environment. Askimam.org bears no responsibility with regards to these questions being used out of their intended context.
  • The Shar's ruling herein given is based specifically on the question posed and should be read in conjunction with the question.
  • AskImam.org bears no responsibility to any party who may or may not act on this answer and is being hereby exempted from loss or damage howsoever caused.
  • This answer may not be used as evidence in any Court of Law without prior written consent of AskImam.org.
  • Any or all links provided in our emails, answers and articles are restricted to the specific material being cited. Such referencing should not be taken as an endorsement of other contents of that website.

How much charity sadqah Quran ayat Surah Baqarah 219

Allah Pak says in Quran.............
(People) ask you what they should spend (as Sadaqah). "Tell (them) what they can spare". (i.e.) what is in excess of their requirements). (al-baqarah: 219)

Note: Wealth is meant to be spent; whatever is left over, after meeting personal requirements, should be spent as Sadaqah. 

Ibne Abbas Radhiallaho anho has said that, after meeting the requirements of one’s family the balance
becomes ‘Afv’ which means that it is to be spent as Sadaqah. Abu Umamah Radhiallaho anho has reported
Rasulullah Sallallaho alaihe wasallam as saying, "O men, give what you can spare for charity, this is good for you; if
you hold it back, it will be bad for you. You are not to blame for keeping back just enough for your own
requirements; begin by spending on those who are dependant on you. The upper hand (which gives) is better than
the lower hand (which is stretched out for accepting alms)".
Ataa Rahmathullah alaihe is quoted as having said that ‘Afv’ means wealth in excess of actual needs. (Durre
Manthur). Abu Sae’ed Khudri Radhiallaho anho has said that once Rasulullah Sallallaho alaihe wasallam said that
when a person has an extra conveyance he should give it to someone who has none, and whoever has provision in
excess should give the excess to those who do not have any. Rasulullah Sallallaho alaihe wasallam said this so
emphatically that we thought no one would have any right over his own property in excess of his actual needs. (Abu
Dawood).
In fact the highest virtue lies only in giving away everything that is over and above one’s legitimate requirements;
nothing is to be hoarded. Certain Ulama have said that ‘Afv’ means "What is convenient"; one should spend as
Sadaqah what can be spared with convenience and ease, so that no hardship or distress is caused to oneself
afterwards. Also that no dependant should be deprived of his or her legitimate rights (which is a responsibility of the
spender), due to which the latter may get into trouble on the Day of Judgement.
It is narrated that Ibne Abbas Radhiallaho anho said, "Some people used to give so much Sadaqah that nothing
would be left with themselves, even for eating, and they would be compelled to look for Sadaqah from others. It was
for this reason that the above Ayat was revealed".

Sadqah charity should not be postponed till last time death bed

................Another Hadith says that the best Sadaqah is to spend at the time when you are in good health, hoping to live long.
Do not go on postponing Sadaqah till you find yourself on the death-bed, with little or no hope of survival, at which
juncture, you may begin to give away your wealth saying, ‘So much to so-and-so and so much for such and such
cause, though it now belongs to your heirs. (Durre Manthur). When the hope for life vanishes, feeling for personal
needs is no longer there and, with the apprehension of all the property going to your heirs, you begin to distribute it
among Masjids and Madrasahs!
So long as the feeling of one’s own neediness was uppermost, the will to give as Sadaqah was absent. Therefore
the ‘Shariah’ has ordered that such last-moment directions for giving things in Sadaqah or to non-heirs should be
limited to a maximum of one third of the total property. Thus if the total property has been given away at the time of death, only one third of it can be validly disposed off according to such a ‘will’ of the deceased. The above Ayat specifically emphasizes spending on the orphans and the destitute while Zakaat has been mentioned separately, at the end of the Ayat.


(Taken from Fazail e Amaal Volume 2 Book of charity)

Islamic economics USURY INTEREST Prohibition Baqrah 2:276 ZAKAT SADAQAH

THE DIFFERENCE BETWEEN USURY AND ZAKA'AT
USURY IS the lending of money with an interest 
(البقرة: [2:276]. 
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ

Allah destroys riba and nourishes charities, and Allah does not like any sinful disbeliever.

 
Although our Eyes see opposite Eg If intrese is 5 % after one month it will become 100+5= 105.....But if you give Zkat it will become 100-2.5=97.5 Rs ... but Allh word is true.Allah increase Sdaqah and decrease Usuury
The Economic Order in Islam
 This is heart touching article explained by Mufakkire Islam Abul Hasan Ali Nadvi Rahimullah
It is so because the usury makes the wealth of the community collected into
the hands of a few individuals. The community, upon the whole, gets pauperized
and plundered; whereas the few individuals, in their individual capacity (even if
they have their groups, companies and corporates formed), become Qaruns. A
little bit of wealth owned by the capitalists and the rich by which they start their
usury business gets all the wealth of the entire community, city or the country
sucked to it just as the legendary (Arabian Nights) magnet mountain sucked the
bolts and buckles of the ships and boats getting within its magnetic field to it
leaving their planks and passengers to be drowned. They (the usurers) have
their (other people’s) means of livelihood, their time and energy captured and
controlled by them and keep generating money from money without any
exertion of labour and any justifiable exchange. And, thus, their money keeps
inflating lying stagnant at one place instead of remaining in circulation and
distribution.
It is this very hell of a difference that is there between the Zakat and usury.
Under the usury and capitalist system a few individuals become owner of very
large amount of wealth and resources while the rest of individuals get deprived
of even means of subsistence. Yet, it does not bring to these few individuals real
happiness. No one person or a few individuals can, all alone, remain happy in a
collectivity. It is just like some one cannot live in a jungle or even a citizen cannot
live, all alone, in a city. The Zakat money makes the collectivity happy; and the
usury, having made the collectivity pauper and indigent, makes one or a few
individuals owner of very large amounts of wealth. Zakat is that very seed which
once laid in the soil, produces out of one seed hundreds of grains. Whereas the
usury, having reaped the harvests of others, makes them indigent and robbed of
even their last grain and gets the silo of one person overstuffed. This difference
between the usury and Zakat has been described, in its peculiar, miraculous and
eloquent style, in Qura’an:

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ
(Allah obliterates usury, and augments charity. And Allah loves not any ingrate sinner).

The Economic Order in Islam
MAULANA ABUL HASAN ALI NADWI
For more detail contact www.abulhasanalinadwi.org