Pages

Showing posts with label Usool and hikmat of tabligh. Show all posts
Showing posts with label Usool and hikmat of tabligh. Show all posts

Principles in the Work of Tablīgh Wisdom and Farsightedness

[41:33] 
Who can be better in words than the one who calls towards Allah, and acts righteously and says, .I am one of those who submit themselves (to Allah)?

Nothing happens without the will of Allāh and
the life of our beloved Prophet 
Muḥammad sallallahu Alaihi wasallam
is the only way to eternal success...


For Reading and Downloading 


14818 200 square


Important Principles in the 
Work of Tablīgh

Molānā Saeed Aḥmed Khān 

Translated by Shaykh Abdul Mājid Iltāf

مستورات تبلیغی جماعت کی شرعی حیثیت اور کام کی شروعات کی تاریخ

 مستورات کی جماعت محرم کے ساتھ اور سخت ضوابط اور اصولوں کے سا تھ

 مستورات کی جماعت محرم کے ساتھ اور سخت ضوابط اور اصولوں کے سا تھ بھیجنے کو اہل حق علماء  کی ایک جماعت نے جائز اور دین کے لیئے مفید بتایا ہے ۔اہل حق علماء کی ایک دووسر ی جماعت نے اسے ناجائز بتایا ہے ۔
 ((عورتیں ملاقات کے لیئے گھر سے باہر نہیں جاتیں ۔ عورتوں میں کوئی گشت یا ملاقات نہیں ہے۔مرد کا قیام مسجد میں ہوتا ہے جس گھر میں قیام ہوتا ہے اس گھر کے مرد حتیٰ کے نو عمر بچے کو بھی گھر میں رکنے کی اجازت نہیں ہوتی مرد حضرات عورتوں کا نام تک نہیں جانتے جیسے اہلیہ محمود   والدہ محمد وغیرہ کے نام سے مشورہ ہوتا ہے سفر میں ساری عورتیں ایک ساتھ ہوتی ہیں اور سارے مردالگ ۔

فقہی اور اجتہادی مسائل میں علماء کا اختلاف دین کے اندر قبول کیا گیا ہے
اس بارے میں بخاری شریف کی حدیث موجود ہے ۔ دین کے اندر بہت ساری چیزوں میں اس کی مثالیں ہیں ۔مفتی شفیع صاحب ؒ معارف القرآن سورہ آل عمران آیت نمبر 103 کی تفسیر میں لکھتے ہیں"    فقہ  کا اختلاف  علماء کرام کے بیچ   ایک خالص علمی واجتہادی مسئلہ ہے جو امت کے تاریخ کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے  ۔ اگر قرآن پر مجتمع رہتے ہوئے اور حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح وتفصیل کوقبول کرتے ہوئے اپنی علمی   و اجتہادی استعداد اور دماغی حیثیتوں کی بناء پر فروع میں اختلاف کیا جائے تو یہ اختلاف فطری ہے ۔ اور اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔ صحابہ وتابعین اور ائمہ فقہاء کا اختلاف اسی قسم کا تھا،  ہاں اگر انہی فروعی بحثوں کو اصل دین قرار دیا جائے اور ان میں اختلاف کو جنگ وجدال اور سب وشتم کا ذریعہ بنالیا جائے تو یہ بھی مذموم ہے ۔

ایک نئی بات اور سازش
"ادھر ایک حلقے کی طرف سے   مستورات کی جماعت کے بارے میں انٹرنیٹ پر  یہ غلط  بات پھیلانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ اسے سارے علماء حق نے ناجائز قرار دیا ہے اور تبلیغی جماعت کسی کی بات نہیں مان رہی ہے اور اس کے ذریعے تبلیغی جماعت کو گمراہ اور با طل بتایا جا رہا ہے ۔بعض جگہ کھلے الفاظ میں اور بعض جگہ پوشیدہ ۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔لیکن ایک بات صاف ہے کہ جو لوگ بھی ایسا کر رہے ہیں یہ ظلم ہے ۔اور  دانستہ یا نا دانستہ دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔یہ میں اس لیئے کہ رہا ہوں کہ اس طرح کی بات ایک حلقے کی جانب سے برابر آرہی ہے ۔

نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔

تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ نہیں ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے ۔اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ 
نہیں ۔

تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ

اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ

راست رابطہ کیا جائے ۔اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی ۔کیونکہ

 کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاحکا ثواب ملے گا ۔  


پیش نظر مضمون میں مستورات جماعت کے  اصول آداب سے لیکر اور قرآن و حدیث میں اسکی شرعی حیثیت  اور اسے
  علماء کی کے فتٰوےکو پیش کیا گیا


:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

حضرت اقدس مفتئ اعظم گجرات مد ظلہ رقم طراز ہیں؛

عورتوں کو تبلیغی جماعت میں بھیجنے کے سلسلے میں علمائے عصر کے دونظریے اور دو رائے ہیں، بعض علماء و اکابر نے تبلیغی اہمیت اور احساس کے باوجود مفاسد کے غالب ہونے کے پہلوکو مد نظر رکھ کر اجازت نہیں دی، اور بعض دوسرے علمائے کرام نے عصرحاضر کے لوگوں میں دین سے غفلت، اسلامی تہذیب و کلچر سے بعد و دوری، علوم اسلامیہ کی تحصیل و ترویج سے سستی و بیزاری وغیرہ دیگر حقائق نیز تبلیغی جماعت کے فوائدِ کثیرہ, من جملہ ان کے لوگوں میں اس کے ذریعہ علوم دینیہ کی تحصیل کا شوق و جذبہ، سنت نبوی علیہ الصلاة و السلام سے والہانہ لگاؤ، شریعت ِ اسلامی و تہذیب محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت کا شوق و عزم وغیرہ پہلوؤں کے پیشِ نظر رکھ کر چند اہم و ضروری شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ـ
چنانچہ مفتی لدھیانوی شہید رحمة الله تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں؛
 تبلیغ والوں نے مستورات کے تبلیغ میں جانے کے لئے خاص اُصول و شرائط رکھے ہیں، ان اُصولوں کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا بہت ہی ضروری ہے، اس سے دِین کی فکر اپنے اندر بھی پیدا ہوگی اور اُمت میں دِین والے اعمال زندہ ہوں گے۔
مفتی رشید احمد صاحب طویل بحث کرکے "بصیرت فقیہ" عنوان قائم کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
بصیرت فقہیہ:
حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ امور دینیہ کے لئے خواتین کے خروج کی ممانعت قرآن وحدیث میں منصوص نہیں، ٗبلکہ ان  حضرات نے اپنے زمانے کے حالات اور شیوع فتن و فسادات کی وجہ سے اصول شریعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی آراء وانظار کا اظہار فرمایا ہے ٗ لہٰذا ان حضرات کا  فیصلہ کوئی نص قطعی اور حرف آخر نہیں، ٗ بلکہ تغیر زمانہ سے اس میں ترمیم کی گنجائش ہے۔
دور حاضر میں غلبہ جہل اور  دین سے بے اعتنائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خواتین کے لئے ضرورات شرعیہ سے خروج کو مطلقاً ممنوع و حرام قرار دینا اور کسی بھی ضرورت شرعیہ کے لئے خروج کی اجا زت نہ دینا اقامت دین کی بجائے ہدم دین ہے ٗ چنانچہ اسی کے پیش نظر مجموع النوازل میں مسائل شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت سے خروج کی اجازت دی گئی ہےــ
آخر میں حضرت اقدس سیدی مفتی خانپوری مدظلہ فرماتے ہیں کہ بہر حال یہ مسئلہ دیانت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی پوری بنیاد ہی دیانت پر ہے، لہٰذا جو حضرات بھیجنے والے ہیں اور جو بھیج رہے ہیں ان کی بہت بڑی اور بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کا اطمنان حاصل کرلیں کہ جماعت ِ تبلیغ میں بھیجی جانے والی یہ خواتین کس نوع کی ہیں آج تک کے ان کے طرز عمل اور رویہ سے اس بات کا اطمنان ہو کہ یہ عورتیں اس سلسلے میں جو خاص اصول و شرائط تجویز کیے گئے ہیں ان کی مکمل پابندی کریں گی تو بھیجنے کی اجازت و گنجائش ہے ــ
محمود الفتاوی
- See more at: http://fatawasection.blogspot.in/2014/12/blog-post_16.html#sthash.el6tXN1T.dpuf
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مستورات كى تبليغي جماعت
مستورات كى تبليغي جماعت
مستورات كى تبليغي جماعت



دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
Question: 38071
http://darulifta-deoband.org/showuserview.do?function=answerView&all=ur&id=38071&limit=4&idxpg=0&qry=%3Cc%3EFAB%3C%2Fc%3E%3Cs%3EIAP%3C%2Fs%3E%3Cl%3Eur%3C%2Fl%3E
مفتی صاحب مولانا رفعت صاحب کی کتاب مسائل سفر میں عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا جائز کہا ہے اور اس میں حوالہ فتاویٰ محمودیہ کا دیا ہے اور آپ کی سائٹ میں اس کو ناجائز کہا ہے جب کہ مولانا رفعت صاحب کی کتاب میں آپ حضرات کی تائید بھی ہے۔ اب مسئلہ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ۱ جگہ تو آپ حضرات جائز کہہ رہے ہیں اور ۱ جگہ ناجائز کہہ رہے ہیں اب کون سا فتویٰ صحیح مانیں؟ معاف کیجئے گا۔ میں آپ حضرات پہ تنقید نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنی اور امّت کی صحیح رہبری کی لئے سوال کر رہا ہوں۔ سوال کا جواب ضرور دیجئے گا۔
فتوی: 702-111/B=5/1433

اجتہادی مسائل میں ہمیشہ سے علماء کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں، جس پر اعتراض کیا جائے، جن علماء کے پیش نظر عورتوں کی دینی تعلیم رہی انھوں نے جماعت میں نکلنے کو جائز فرمایا۔ جن علمائے کے پیش نظر عورتوں کی عفت وعصمت کی حفاظت رہی انھوں نے عورتوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ سیکڑوں مسائل میں اسی طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مستورات میں کام کی شروعات

حضرت مولاناداود صاحب

بحوالہ مستورات میں تبلیغی کام کے اہم اصول صفحہ نمبر 13 تا 16
 شائع کردہ            ۔۔نور محل پبلیشنگ  ھاؤس   آر 2/138گلی نمبر 7نزد بڑی مسجد  رمیش پارک  لکچمی نگر دہلی 110092
<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>
مولوی داود اٹاڑوی کا خط........رائیونڈ حاجی بشیر احمد صاحب کے نام
مکرم بندہ جناب بھائی الحاج محمد بشیر احمدصاحب   السلام علیکم و رحمة اﷲ وبرکاتہ امید ہی کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوں گے ۔ یہاں پر بھی خیریت ہی ہے ۔دو سال سے گھٹنوں میں ورم اور درد ہے۔اور اب دو ہفتے سے ناف کی نیچے رگ میں ایک گلٹی اٹھی ہے جس میں درد رہتا ہے ۔بولنے سی درد میں اضافہ ہوتا ہے۔دعاوں کی ضرورت ہی۔ اچھامستورات کی کام کی ابتداء۶۲،۸۲ءمیں بالکل نہیں ہوئی۔بندہ1940 ۰۴۹۱ءمیں مدرسے سے فارغ ہوا۔1941 ۱۴۹۱ءمیں غالباً میں نظام الدّینؒ میں حضرت مولانا شاہ محمد الیاسؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔بندہ مدرسہ سبحانیہ میں پڑھتا تھا۔حضرت مولانا عبد السبحان صاحبؒ اور آپ کی گھر والی‘ہم انھیں امّاں جی کہا کرتے تھے‘ بہت محبت کرتی تھیں۔امّاں جی دہلی میں مختلف جگہوں میں کتابیں سنایا کرتی تھیں۔بندہ ان کی کارگذاری حضرت مولانا شاہ محمد الیاس صاحبؒ کو سناتا تھا ‘ اور حضرت جیؒ کی ہدایات ان کو بتلایا کرتا تھا۔ایک دن امّاں جی نے کہا کہ حضرت جیؒ سے کہیوکہ حضرت مردوں کی جماعت بھیجتے ہیں تو عورتوں کی جماعت کیوں نہیں بھیجتے۔ میں نے حضرتؒ سے عرض کیا کہ امّاں جی یوں کہتی ہیں کہ حضرت عورتوں کی جماعت کیوں نہیںبھیجتے۔حضرتؒ یہ سُن کر بہت خوش ہوئے اور بے شمار دعائیں دیں پھر مجھ سے کہا کہ تم ان تینوں سے مشورہ لو کہ مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتا ہوں‘آپ کی کیا را ئے ہے۔ بندہ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب مدظلہ العالی کی پاس گیا کہ حضرت مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتے ہیں‘آپ کی کیا رائے ہے۔حضرت جی مدظلہ العالی کی الفاظ تو مجھے یاد نہیں مطلب یہ تھا کہ ابھی تو مردوں کا نکلنا ہی علماءکی سمجھ میں نہیں آرہا ہے عورتوں کا نکلنا کیسے مان لیں گے اس لئے میری رائے نہیں ہے۔یہی قاری داود صاحب مرحوم نے فرمایا ۔پھر حضرت مولانا شاہ محمد یوسفؒ کی خدمت میں گیا ۔آپ مسجد کی برابر اوپر کی مکتب میں رہا کرتے تھے۔جہاں آج کل حافظہ کا مکتب ہے۔جب میں نے رائے لی تو یوں فرمایا کہ میری تو رائے نہیں ہے۔بس جیسی ان تینوں نے رائی دی تھی میں نے ویسی ہی حضرت جیؒ سے عرض کردیا کہ فلاں نے یوں فلاں نے یوں فرمایا۔حضرت شاہ محمد یوسف صاحبؒ کی بات سن کر غصّہ فرمایا اور مجھے فرمایا کہ جو عورتیں جماعت میں جانے کی لئے تیار ہیں تو ان کو دہلی میں جاکر ایک گھر میں جمع کرکے بات شروع کردے اورمیں دیکھتا ہوں ان مسلمانوں کو کہ ان کی رائے کیوں نہیں ہے۔پہاڑگنج ملتانی ڈھانڈا میں ایک گھر میں جمع کرکی بات شروع کردی۔ظہرکی نماز کی بعد حضرتؒ مولوی نور محمد باجھوٹ کو لے کر پہاڑگنج پہنچ گئے اور مولوی نور محمد مرحوم نے بیان شروع کیا ۔دورانِ بیان مولوی صاحب نے فرمایا کہ دین سیکھنی کے لئے عورتوں کا بھی نکلنا ضروری ہے مگر عورتیں بغیر محرم نہیں جاسکتیں۔ بیان کی ختم کے بعد حضرت جیؒ نے مولوی نور محمد صاحب کو ڈانٹا کہ تجھے مفتی کس نے بنایا تھاجو تم نے بغیر محرم نکلنے کو منع کر دیا ۔یعنی پہلی جماعت ہے ابھی سے مسائل پر زور مت دو۔خالی نکلنی کی ترغیب دو ۔یہاں تو یہ ہوا اور جب بڑی حضرت جیؒنی مجھے دہلی بھیج دیا تو لکڑی یعنی اپنی بینت لی کر حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کے پاس گئے اور فرمایا کہ تو ہی مسلمان ہے میں مسلمان نہیں ہوں؟تو نے کیسے کہا کہ عورتوںکو تبلیغ میں نہیں جانا چاہئے۔یہ عورتیں کہاں نہیں جاتیں۔یہ شادیوں میں جاتی ہیں،دہلی کی عورتیں مہرولی جاتی ہیں،سیر کرنے کو اوکھلا جاتی ہیں،پھر تم نے کیسی کہا کہ میری رائے نہیں ہے ۔جب حضرت جیؒ محمدیوسفؒ سی خفا ہوکر آئے تو مولانا محمد یوسفؒ میرے اوپر خفا ہوئے کہ داود نے ابّا جی کو کیا کہہ دیا ۔مغرب کے بعد حضرت مولانا محمدیوسفؒ نے دو لڑکے حوض پر بٹھا دئے کہ جب داود دہلی سی آئے تو میرے پاس پکڑ کر لاو۔ہم دہلی سے عشاءپڑھ کر آئے۔گرمیوں کے دن تھے۔یہ لڑ کے مجھے حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ کی پاس لے گئے۔حضرت نے فرمایا کہ ابّا جی میرے اوپر کبھی اتنا خفا نہیں ہوئے اور آج صرف اتنی کسر رہی کہ لکڑی سے مارا نہیں ورنہ زبان سی بہت کچھ کہا۔تو تقریباً آدھا اشکال تو مولانا یوسفؒ کا حضرت کی خفگی سی نکل گیا اور میوات کو بار بارجماعتیں جانی لگیں تو حضرت مفتی کفایت اﷲ صاحب مفتی اعظم ہند کو عورتوں کا نکلنا معلوم ہوا تو بہت خفا ہوئے کہ یہ مولانا محمد الیاس صاحب ؒنے کیا کِیا اور دوسرے حضرات کو جو خطرہ تھا وہ سامنے آگیا۔تو مفتی صاحب کے خفا ہونے کاکسی نے بڑے حضرتؒ کوآکر کہا تو بڑے حضرتؒ تانگہ لے کر مدرسہ امینیہ تشریف لے گئے اور حضرت مفتی اعظم کی سامنے عورتوں کے نکلنے کے فائدے بتلائے۔ساتھ ساتھ عورتوں کی نکلنے کا اہتمام پیش کیا کہ جب مستورات کی جماعت نکالی جاتی ہے تو ہر عورت کو محرم کی ساتھ نکالا جاتا ہے۔اوّل تو خاوند ہو یا بیٹا یا باپ ہو یا بھائی ہو‘اگر کوئی عورت بغیر محرم آگئی اور کہا کہ میرا محرم کل پرسوں آئے گا تو اس عورت کو واپس کر دیا جاتا ہے اورجہاں جماعت جارہی ہے ان کو پہلے مطلع کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکان طے کرکے خا لی کروالیں۔جس مکان میں عورتیں ٹھہرتی ہیں وہ اسی مکان میں رہتی ہیں۔گاوں والی جماعت کی پاس آتی ہیں۔گشت عورتوں کے محرم اور مقامی مرد مل کر کرتے ہیں۔یہ مرد،مردوں سی بات کرتے ہیں کہ اپنی مستورات کو فلاں صاحب کے گھر میں جماعت کی پاس بھیجو۔یہ جماعت کی عورتیں کہیں نہیں جاتیں۔پردے کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ توحضرت مفتی صاحب ؒ کو پورا اطمینان ہوگیاکہ اگر اتنااہتمام کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔پھر جو جماعت مستورات کی کام کرکے آتی تو حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کو کارگذاری دیتی۔ان تمام باتوں سے حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کا اشکال آہستہ آہستہ ختم ہو گیا ۔سب سی پہلی جماعت گھاسیڑہ اور نوح کی قریب آس پاس میں آٹھ یوم لگا کر آئی۔ بندہ جماعت کے ساتھ تھا۔جب جماعت آٹھ یوم میں واپس ہوئی تو بڑی حضرت خفا ہوئے کہ اتنی جلدی کیوں آگئے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت عورتیں زیادہ کپڑے لی کر نہیں گئی تھیں تو فرمایا کہ تونوح سی نئے کپڑے بنوا کر دیتا پیسے مجھ سی آکر لے لیتا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مشورے والوں نے فرما یا تھاکہ یہ پہلی جماعت ہے ان کے جذبات کا خیال رکھنا اس لئے جلدی آگئے۔مشورہ کی بات سن کر حضرت بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔جب یہ جماعت مشورہ سے گھاسیڑہ وغیرہ طے ہوئی تو حضرت نے چودھریوں کی نام خط لکھا کہ میں تمھارے یہاں دہلی کی پردہ نشین مستورات بھیج رہا ہوں تم ان کی خوب نصرت کرنا وغیرہ وغیرہ۔گھاسیڑہ والوں کو جماعت کا انتظار تھا ۔ سڑک پر استقبال کی لئے آگئے۔ جب جماعت پہنچی تو گاوں والوں نے استقبال میں بندوقیں چلائیں اور پرُ زور استقبال کیا کہ مستورات کی پہلی جماعت ہمارے گاوں میں آئی ہے اور ہر گاوں میں ایسا ہی استقبال ہوا۔پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے کئی جماعتیں نکلیں۔بعدہ میوات سے مستورات کی جماعت کے مطالبے آنے لگی۔مستورات کا کام غالباً 1942 ءمیں شروع ہوا ہے۔اس سے پہلے نہیں۔اس لئے کہ بندہ ء1941میں مرکز آیا تھا۔مرکز میں آنے کی بعد مستورات کا کام شروع ہوا ہے۔اگر حضرتؒ کے انتقال سے دس سال پہلے شروع ہوتا تو ہندوستان کے کئی شہروں میں مستورات کی بے شمار جماعتیں پہنچ جاتیں۔حضرتؒ کی حیات میں میوات کی علاوہ کہیں یہ جماعتیں نہیں گئیں۔      واﷲاعلم۔والسلام بندہ : مولوی داود ۰۱۔۳۔۳۱

Tablighi Jamaat & Principles and Methodology of its Dawah Book English Translation

Translation of Urdu Book
Tablighi Jamaat Aur Iski Dawat Ke Usool O Adaab

Tablighi Jamaat &

Principles and Methodology of its Dawah


Two Chapters Of Book Are Writing And Bayan Of
Hadhrat Maulana Muhammad Yusuf (R.A.)
Detailing Aims, Principles, Dawah Manhaj Of The Emaan Movement
Compiled & Edited In Urdu By
Fazilatus Shaykh Dr. Abdur Razzaq Iskandar
Mohtamim, (The Chancellor) Jami'a al-Uloom al-Islamiyyah, `

{The Islamic University Allamah Binnori Town, Karachi (Pakistan)}




Tablighi Jamaat Khurooj Fi Sabilillah Objective Task Purpose

What should be the objective and task during this migration and Motivation.(Tablighi Jamaat Programme)
Maulana Ilyas said (Letter to Maulana Abul Hasan Ali Nadvi page no 21)

“The real preaching is of two things, and the rest all Usools consists only of giving it a definite shape.
1.     One of these things is related to the apparent skeleton of work i.e. revival of the practice of Sahaba travel­ling in batches from place to place and from country to country for the propagation of the Guidance brought by the Prophet Muhammad Sallallahu Alaihi wasallam,

2.     While the second one denotes the Revival of Islamic senti­ments (Jazbat) i.e.  Giving rise, once again, to the practice of laying down one's life at the command of Allah, as has been set forth in the Quran:
فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء: 65
So, never by your Lord! Never shall they become believers, unless they make you the judge in the disputes that arise between them, then find no discomfort in their hearts against what you have decided, and surrender to it in total submission. [4:65]
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 56
I did not create the Jinns and the human beings except for the purpose that they  should worship Me. [51:56]

The Priority themes to be undertaken in the whole programme
To strive for all the deen brought by the sacred Pro­phet in proportion, to their importance.

In this system of migration and motivation we have to strive for Whole deen i.e all commands of Allah and sunnah path of HAZARAT Muhammad  sallallahu Alaihi wasallam, priority of matters will be in proportion to their importance in deen. To start with the most basic things have to be taken care of first.

(Note The Quran Ayats written in Arabic Maulana Has written in Original letter also.Jazakallah o Khair sheikh for Reviving the work of Dawah of our Beloved Prophet .. )

Tablighi Jamaat work at Ground witness account and Impression

EYE WITNESS ACCOUNT AND IMPRESSIONS OF TABLIGHI JAMAAT WORK AT GROUND
Written by Shaykh Abul Hasan Ali Nadvi Rahimullah 
(Translated from his book ek Aham deeni dawat)

"To understand this Programme in a better way and to give some first hand glimpse the write visited first time in January 1940 (Zeeqada 1358). I met different people of Mewat who has gone in path and noted down their impression feeling and intuition.(Mushahidat O Tassurat.).

First Account
After Asr time our vehicle reached Gud Gaon Jama Mosque.(A TOWN IN MEWAT AREA). We were pleased to know that A Jamaat (Group of people for the above mentioned programme) has just reached there. Listening our arrival news some of them came upto our vehicle our luggage was taken out. They met us and did Hand shake Musafha with love  and affection.
We entered Jama Mosque and the scene that I saw can never forget, and its pleasure still getting in my heart.
There were about thirty brothers sitting in circle comprising people of different age. Two boys of thirteen and sixteen years, and elders as old as sixty years were there. And many in between.
Everyone was having very few article one bed sheet,one cotton blanket etc. it was there eighth day after leaving their native villages. At start they took some dry food for journey and some was left for home.
Thirty people of Jamaat were subdivided into three groups to go on three different routes of Gud Gaon town. Every ten brothers there was a responsible (Ameer).
My colleague respected Patwar Sb addressed these Jamaat and said “You should be grately thankful to Allah that he accepted you for this noble path. This path of Tabligh is actually the path of Prophet. Allah has opened his blessing on you and has opened this path that has been dead for a time being. Allah is rejuvenating this path on your Hand.
Then he asked the Ameer of Jamaat to tell remarks of his last weak in Jamaat. One Jamaat Ameer stood and plainly described it as follows.
“Last Friday there was Nuh Jalsa (Religious gathering). We departed from there. We arrived village chandeni and did effort on them called villagers for prayers, We corrected their Kalima and persuaded them for sparing some time locally for conveying the same to nearby villagers.
Then we took the tribal leader of one village to another, In village Basaee we persuded the locals. We passed and spent night in hills. All of us slept on rocks of the hill. There was no food for the morning breakfast we did Sabr and everyone was patient.
Then we proceeded to another village known as Piyaka. We persuaded many towards Mosque, corrected their Kalima, convinced them to start local effort of Tabligh. We also requested them to prepare Jamaat to go locally in nearby villages and to go Uttar Pardesh area also. Some brother made some excuses we said if the deen of Allah is not alive we will also be dead. This impressed them much.
We reached Pudhiaini and did effort there to bring back muslims towards deen. Then we went Chahalka there we did effort we also went in the service of  a local Pious Scholar.
Then we proceeded to Raeseena village, we went to the fields of Farmers and persuaded them for prayer, they had to take bath then they offered Zuhar Salat (Alhamdulillah). In the meantime we did their remaining field work of irrigation.


A second Jamaat Ameer narrated following routine of his Jamaat and this is more or less common Routine of Jamaat.

“We normally get up at 4 oclock morning, By the taufeeq of Allah we pray Tahajjud. Then till Fajr Slat we do some recitation or dhikr. After the Fajr salat we do learning and Recitation of the Holly Quran. Then our Muallim teaches us basic lessons. They teach us Salat, and basic Fiqh for related with Routine matters.
Then they read from books and we listen to it. Generally Hikayat Sahaba (Stories of Sahaba) and Fatuhussham is read. Before Salat we do Gusht (Meeting local muslims and calling then to prayer). After the Maghrib Prayer we do dhikr. At some places where the farmers return late from the field we talk with them after Isha Prayer.
About the Usool and Propagation Method what different people has said I am reproducing it here.
Our intention is that we have come in Jamaat for our own Islah (correction and reformation) and for others. We are in need of our own Islah. How can we do Islah of others. The Deen Islam is of Allah. It is his will to take work of his deen from whom he wants. What is our status?(Nothing at all) We are not having much knowledge or etiquettes. If Allah takes his work from us it is his blessing. We have a firm a believe that even if Makhlooq (people) does not listen the Khaliq (Allah) listen”
It has been constantly Reminded and emphasized to us that we have to respect all the Muslims. To do conveying (Tableegh) becoming soft and polite thinking ourself as of little less important. (Narmi and Tawazu). W have been asked to bear all types of Hardship and adverse responses.”
When we reach near destined village we first pray to Allah to save the villagers from our Shar and to save us from their Shar. We pray to give benefit from the good of us to the villagers and from good of villagers to us.
We pray to Allah to assimilate in them whatever good we are going to tell them. After reaching Mosque if it is not Makrooh time we recite two rikats Salat. Then we go out for conveying and pursuance (Tableegh).”
Zeeqadah 1360 (November 1941) There was a big Ijtema in Nooh Town of Gud Gaon district.With a rough estimate 15-20 Thousands people gathered there. In this Ijtema there were many poor who have come from 30-40 km on foot (having no money for journey.). This Jalsa (Urdu word commonly used for a gathering under a pandal with talk by different scholars) was more than a Jalsa. Rather it was more a Kinetic and live Reformative place.
It was having Prayer (Ibadat dhikr) punctuality of Salat with aspiration of even Nawafil (Non obligatory prayer), Caring for his duty, Servicing of others specially of Ulema, and live example of Islamic etiquettes, Tawazuu Simplicity Sadgi was visible.
It was an effective demonstration of Islamic way of Life.
After returning from Ijtema The writer of these line has expressed his impression in An Nadva magazine.(Zilhijja 1360H, December 1943) In it I persuaded the Elites and Scholars of Ummat to be closer to the effort and to get first hand information and academic and practical understanding of the work. For this to visit the centre of the Movement. I am ending this book on those lines.
“To all the elite and scholars of Ummat who have cognition and understanding of deen and have become fed up with the downward trend of Ummah. Also for those who consider the Prophetic way is only way for success and are in pain and remorseful with the irreligiousness of Ummah.
I sincerely request them to visit Basti Hazrat Nizamuddin Delhi India and meet Maulana Ilyas1 (This article was written in Maulana Ilyas life time. Now he ahs died but by grace of Allah the effort is going on).
They should spend some time with them and to seen the effort practically. They should see the structure of effort and get first hand information.

I am surprised that people take out time to visit the remains of forts and ruined palaces of the kings, and left over Domes etc. But there are only few to visit and observe the live sample of the early generations of Muslims and kinetic and live demonstration of Islam. In reality Maasart is a big barrier”

Jaula and khurooj etc are not complete deen rather one of the means of its acquisition

Assalamu Alaikum Wa Rahmatullah Wa Barakatuhu 

It was a regular feature in the times of shaikh maulana inamul hasan (rahmatullah alaih) and before him Shaikh Maulana Muhammad yusuf rahmatullah alaih, that normally between 11 AM and 12 noon, he would welcome the incoming jamaat, describe the demands, principles and etiquettes of the work to the outgoing jamaat and then bid them farewell after dua and musafa (handshake). During those sittings the gathering could listen to some very important and beneficial talks in brief sentences. A few sayings will now be quoted:

  • Allah (swt) likes a life full of deeds for his servants. If the deeds are animated in us, and we are governed by them, we shall become of those favoured by Him. He is not pleased with property, wealth and money, rather with good deeds. Once He is pleased we will be successful in this world and in the hereafter. There are four things, if we bring them in our life, pursuit of deen will become easy for us. They are taleem, tableegh,offering salah with congregation with the first takbir, and, Joula. Nowadays our practical life is broken. Ignorance of Allah's commandments impair us Not Allah. Neither He benefited if we perform deeds throughout our lives nor He is at a loss if we disobey throughout our lives. It is ones own benefit and loss. Allah has sent everyone to this world for a short while. If he (any person) tracks down the path to Hell, that will be his destination. If he moves on the path leading to Paradise, that will be his destination.
  • Religiousness does not mean the performance of one or two deeds only, rather following the deen all through the life and spending the entire life in compliance of Allah's commandments. Jaula, tableegh, taleem, three chilla etc are meant only to keep the path of deeds open for us, so that we may follow the commandments of Allah in our lives. Jaula and khurooj etc are not complete deen rather one of the means of its acquisition. Keep yourself busy in the four things mentioned, and protect yourselves from useless things. The love for the good deeds is proportionate to the avoidance of useless talks and deeds.
The real life is that of the hereafter while the present life is meant for its building up. The status in the eyes of Allah depends upon the efforts for it in this life. The life of this world is not meant for games, gambol and negligence, but rather for the preparation, concern and accumulation of the needs for there hereafter. For this purpose, we have to go out in the path of Allah,practice good deeds and get accustomed to them. After coming back from khurooj, we must also continue the good deeds for there hereafter along with our daily lives, businessess and other engagements.

(insight into dawah and its understanding & cognition)

May Allah help us all to act upon the Quran and sunnah and follow the advices of our ulema past and present, who advise us through the quran and sunnah. May he accept the humble efforts of us all. Ameen.

JAZAKALLH FOR THOSE COPIED IT AND TRANSLATED IT AND finally who typed it. Special jazakallah for http://engagersindawah.blogspot.in/

To Ulama and elite of Islam message Mawlānā Muhammad Ilyās al-Kāndhalwi

A message by the late Mawlānā Muhammad Ilyās al-Kāndhalwi to an All-India Conference of the 'ulamā and Muslim political leaders held at Delhi in April, 1944.


"In the name of Allah, The Beneficent, The Merciful. We praise Him. We believe in Him. We place our trust in Him. And we invoke His choicest blessings and peace for Muhammad (a mercy, guide, bearer of glad tidings, and a warner for all times and all peoples), as do we invoke the same for all of his family, his companions, and his followers."
'Ulama and elite of Islam,
Upon you be peace, mercy, and the blessings of Allah! A most humble creature and a particle of dust as I am, I have for long been calling the Muslims toward a very important mission which alone could (in my humble opinion) bring them true success in this world as well as in the next. So far, but a few from the common Muslims have listened to my call and joined the mission. But, because of very little understanding, or on account of a lack of proper understanding, they started doing the job in a manner falling far short of its requirements. In spite of all this, the result achieved thus far did not remain unnoticed by those gifted with knowledge and understanding who have, thereafter, been commending the work and encouraging the people to take part in it.

However, on account of the limitations mentioned above, the work did not appeal to all of our elders in Islam so as to win their full approval. Some of them took it as a mere call to the kalimah, others took it as solely a call towards salāt, and so on. In short, the real worth of this mission remained obscure to them, and the program (mission) could not appear before our elders in such a lucid form as to have deserved their active participation, and so, unfortunately, they still prefer to stand aloof. But the “goods” can be delivered only when the work is taken up by those who are really worthy of doing it. It has, therefore, always been the burning desire of my heart to explain my mission to those who can most appropriately understand it and thus have the satisfaction of winning the attention of those who really matter and can judge its proper value. But, alas, this desire has so far remained unfulfilled and my submitting these lines to your auspicious gathering is a humble venture in that direction.

(Blogger Note)
Some of these point are still very relevant. 
1.Although ulemas are participating in large number in Tablighi jamaat. And 95 % of Ulema are supporting Tablighi jamaat.

2. But we are need of active participation and direct guidance at local level, while in khurooj. Maulana Ilyas wanted to send one Aalim in each Jamaat But it is becoming impossible as 
 general Muslims rate is much more compared to ulama and scholars in Jamaat.

3. Please go to the doorstep of ulema for benefitting yourself, do their khidmat, and Please do humble request to ulemas in your area for guiding you directly and for active participation 


(This letter translation was send by an unknown source. We say Jazakallah o khair and pray for their Akhirah. If he want can send name we will acknowledge them)



Urdu Hindi Transliteration in Roman Dawat O Tabligh Usool by Akabireen


(Below are some of Urdu Hindi Transliteration of Elders advice. It is a forwarded article . We acknowledge and Jazakallahu Khair. )

YE KAAM ALLAH KA KAM HE.

• KOI APNI KABILIYAT KE MUTABIK KAAM NAHI KAR SAKTA.

• ALLAH KA JAPTA HE KAAM LENE KA JO ALLAH KE EHKAAM PURA KARE USSE KAAM LENGE.

• KAAM KARNEWALO KI 2 ZIMMEDARI . 
INFARADI AUR 
IJTEMAI.

• IFARADI ALLAH KE SATH.

• IJTEMAI UMMAT KE SATH.

• IMAM SIRF NAMAZ PADA DENE WALA NAHI BALKE IMAM TO PESHWAE DEEN HE.

• ALLAH KI MADAD SUNNATO KE SATH HE.

• SUNNAT-E-DAWAT AAP KI DAWAT KA KYA MIJAZ HE. DAWAT KA KAM MIJAZE NUBUWAT PAR CHALEGA.


• AAP KI DAWAT ME UMUMIYAT THI.

• NICHE KE TABKE KAAM KO BADANA YE SUNNAT HE.

• SABSE ZYADA KHATRA  IN TABKE KE MOORTAD HONE KA 
: GURBAT, JIHALAT, FURSAT.

• JITNA NICHE KE TABKE ME KAAM KAROGE UTNI TABIYAT HOGI.

• HAR FARD KO DAWAT DENA YE MIJAZE DAWAT HE.

• DAYI KE MIJAJ KE ANDAR NARMI AUR WUSAT HO.

• TANG NAZRI SE FIRKA BANTA HE.

• SALAM JAN PEHCHAN WALO KO KARNA YE KAYAMAT KI NISHANI HE.

• HAMARE UNDER KHUB WUSAT HO.

• HUM KISI TABKE KO NAHI JANTE HAME TO SARI UMMAT CHAHIYE.

• DAYI KA SABR USKI KABR SE WASI HE.

• IS RASTE ME NAGAVARI AAVEGI.

• JO NAGAVARI KO BARDASHT NA KARE WO NABIYOWALE KAAM KO KARNE KI TAYYARI ME NAHI

تبلیغی جماعت اعتراضات رد عمل کی مثبت مثال انعام خداوندی اللہ کی توفیق




فضيلة الشيخ للعلامة قاری محمّد طیّب رحیم اللہ

 انعام خداوندی
 یہ اللہ کی دی ہوئی توفیق اور آپ کی قسمت کی بات ہے کہ آپ کے حصہ میں کام کرنا آیا اور دوسروں کے نصیب میں اعتراض کرنا ۔ اس لیے آپ تو خوش نصیب رہیے کہ حق تعالیٰ نے آپ لوگوں کو کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
 اور اعتراضات سے بچالیا اور رہ گیا اوروں کا اعتراض کرنا اس کے لیے آپ لوگوں کا عمل خود جواب ہے ۔ 
مثل مشہور ہے کہ ایک چپ سو کو ہرادیتی ہے ، اور چپ سب سے بڑھ کر عمل ہے ، اس سے کچھ بھی اشکال قائم نہیں رہے گا۔ (خطبات حکیم الاسلام حصہ چہارم ص۴۰۰)


 ’’ ویسے بھی اعتراضات کا دائرہ وسیع اور نہایت آسان ہے ، سب سے آسان ہے اعتراض کا کردینا۔ جس پر چاہے اعتراض کردیجیے ، لطف کی بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے تھکتے نہیں۔ اور تھکیں بھی تو کیسے ، اس لیے کہ اس میں نہ تو کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ عقل کی ، بس یہ کہہ دیجئے کہ یہ غلط ہے ، اور اعتراض کے لیے علم کی بھی ضرورت نہیں۔


 تو بھائی اس سے آپ کا کیا نقصان ہوتا ہے ، آپ اپنے کام میں پورے طریقہ سے مشغول رہیے، کل قیامت کے میدان میں اعتراض کرنے والے بھی کھڑے ہوں گے اور کام کرنے والوں کی بھی صفیں ہوں گی۔ ہر ایک کی محنت کا ثمرہ اس کے سامنے آجائے گا۔ (خطبات حکیم الاسلام ، قاری طیب صاحب، جلد چہارم ، ۳۹۹)


اعتراضات کا دائرہ اور اعتراضات پر رد عمل کی ایک مثبت مثال 

 تبلیغی جماعت کوئی الگ جماعت نہیں ہے ، یہ مسلمانوں کی ایک ایمانی تحریک ہے ، اس کا کوئی نام نہیں رکھا گیا ، لیکن بر صغیر کے لوگوں نے اس کو اسی نام سے پکارا اور یہ اتنا مشہور ہوا کہ بعض دفعہ تبلیغ سے جڑے لوگ بھی اس کو اسی نام سے پکارتے ہیں ، 

یہ حضرات اپنے کام میں اخلاص واستخلاص کے ساتھ لگے رہتے ہیں ، اور اختلافی اور 
فروعی مسائل میں نہیں پڑتے ۔ بلکہ جو صفِ اول کا کام کرنے والا ساتھی ہوگا اسے 
اگر آپ کسی بحث میں شامل کرنا چاہیں تو بھی آسانی سے شامل نہیں ہوگا۔
 (ہاں جو حضرات کام میں جڑے رہتے ہیں ، لیکن پورے نظام عمل کے پابندنہیں  
 ہوتے ، وہ اس طرح کی بحثوں میں شامل ہوسکتے ہیں )
جیسے اس بلاگ میں لکھنے والے افراد بھی اسی زمرے کے ہیں  

 اب سے لگ بھگ پانچ سال قبل سہ روزہ دعوت جو جماعت اسلامی کا اخبار ہے ، اس نے ہندوستانی مسلمان نمبر شائع کیا تھا، جس میں تبلیغی جماعت پر بھی ایک مضمون تھا ، اس کے اداریے میں لکھا تھا کہ اس مضمون کے سلسلے میں کئی بار مرکز نظام الدین جانا ہوا ، اور ان سے اپنے بارے میں ایک مضمون کی درخواست کی گئی ، لیکن کوئی مضمون کو لکھنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ لہٰذا تبلیغی جماعت کے بارے میں مضمون کسی اور کی طرف سے لکھا گیا۔

 کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سوال وجواب کے معاملات وغیرہ سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔
 مجھے خود بھی ان کا یہ موقف پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا، میں نے دعوت کے کام 
کے ایک پرانے ساتھی سے اس کی وجہ پوچھی تو کافی اصرار پر انہوں نے بتایا :

 (۱) ہر خیر وشر کا فیصلہ قیامت کے میدان میں ہونا ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑے فیصلہ کرنے والے ہیں ، وہ سب ظاہر وباطن کو جاننے والے ہیں ، اس لیے دنیا والوں کو جواب دے کر مطمئن کر بھی دیا تو کیا فائدہ حاصل ہوا ۔ اصل فیصلہ تو قیامت کے میدان میں ہے ۔
 (۲) میں نے ان سے کہا کہ الزامات سے آپ کی بدنامی ہوسکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی الگ جماعت ہے ہی نہیں ، تو ہماری جماعت کے نام یا بدنام کو کوئی سوال ہی نہیں ۔ رہی افراد کی بدنامی تو ہماری حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم اس کا غم لے کر بیٹھیں۔
 (۳) میں نے کہا لیکن چند غلط فہمیوں کی وجہ سے بہت سے لوگ اس اہم خیر کے کام اور مؤثر دعوت سے دور ہوسکتے ہیں ، یا عملی طور پر حصہ نہیں لے پارہے ہیں ، اس لیے اس کو دور کرنا چاہیے۔
 جواب:۔ غلط فہمی تھوڑے لوگوں میں ہے ۔ اکثریت کام کو خیر مانتی ہے ، اس سے محبت کرتی ہے ، اس کی ستائش کرتی ہے اور اس میں حصہ لیتی ہے ۔ تبھی تو اجتماعات میں اتنی کثیر تعداد میں شریک ہوتی ہے ، کہ لوگ حج کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع سے تعبیر کرتے ہیں۔  ۔ لوگ اپنے خرچ پر اور اپنی تکلیف اور آرام برداشت کرکے شریک ہوتے ہیں۔
 اور جو لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں ، ان میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو مخلص ہیں ، اور ان کا اجتہاد ہے اور اخلاص کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں ، تو انشاء اللہ اخلاص کی وجہ سے ان کو مخالفت کرنے کے بعد بھی کوئی نقصان اور گناہ نہیں ہوگا ، کیونکہ اس میں ان کا نفس شامل نہیں ہے ۔
 دوسرے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ کہ ماننا نہیں ہے جیسے 2+2=4ہوتا ہے ، لیکن کوئی کہے کہ میں نہیں مانتا کہ یہ چار ہوتا ہے تو ایسے لوگوں 
کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ اور ان کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔

 رہی بات الزامات کا جواب دینے کی تو بہت سے لوگوں نے ان الزامات کے جوابات 
بہت مدلل اور تشفی بخش دیے ہیں ، لیکن چونکہ یہ جوابات ایک منظم اندا ز میں نہیں دیے گئے ہیں اس لیے ایک جگہ موجود نہیں ہیں۔ جوابات لوگوں نے الگ الگ انفرادی طور پر دیے ہیں ، اس لیے اس کا ایک جگہ ملنا مشکل ہوتا ہے ، لیکن تمام اعتراضات کے بہت کافی وشافی جوابات موجود ہیں۔