Pages

Showing posts with label Ramzan Ahadith. Show all posts
Showing posts with label Ramzan Ahadith. Show all posts

Ramzan and Dua acceptance Special time and virtues states of Dua


۶۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْر ۃَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ثَلاَ ثَۃُ لا تُرَدُّ دَعْوَ تُھُمْ الصَّائِمُ حَتَّی یُفْطِرَ وَ الْاِمَامُ الْعَادِلُ و دَعْوَ ۃُ الُمظْلُوْمِ یَرْ فَعُھَا اﷲُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَ یُفْتَحُ لَھَا اَبْوَابُ السَّماَئِ وَ یَقُوْلُ الرَّبُّ وَ عِزَّتِیْ لَأ نْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔ (رواہ احمد فی حدیث و الترمزی و حسنۃ ابن خز یمہ و ابن حبان فی صحیحیھا کذا فی الترغیب۔)
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ۔دوسرے عادل بادشاہ کی۔تیسرے مظلوم کی جس کو حق تعالیٰ شانہ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا ، گو (کسی مصلحت سے ) کچھ دیر ہو جائے ۔
ف:در منثور میں حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے ، جب رمضان آتا تھا تو نبی کریم ﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب آجاتا تھا دوسری روایت میں فرماتی ہیں کہ رمضان کے ختم تک بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے ۔
ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان میں عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرما دیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو بہت سی روایات سے رمضان کی دعا کا خصوصیت سے قبول ہونا معلوم ہوتا ہے اور یہ بے تردّد بات ہے کہ جب اللہ کا وعدہ ہے ۔ اور سچے رسول کا نقل کیا ہوا ہے تو اس کے پورا ہونے میں کوئی تردد نہیں لیکن ا س کے بعد بھی بعض لوگ کسی غرض کے لئے دعا کرتے ہیں مگر وہ کام نہیں ہوتا، تو اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ دعا کے قبول ہونے کے معنی سمجھ لینا چاہیے ٔ۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب مسلمان دعا کرتا ہے بشرطیکہ قطع رحمی یا کسی گناہ کی دعا نہ کرے تو حق تعالیٰ شانہ کے یہاں سے تین چیزوں میں اسے ایک ضرور ملتی ہے یا خود وہی چیز ملتی ہے جس کی دعا کی ، یا اس کے بدلہ مین کوئی برائی یا مصیبت ہٹا دی جاتی ہے ، یا آخرت میں اسی قدر ثواب اس کے حصہ میں لگا دیا جاتا ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ بندہ کو بلا کر ارشاد فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں نے تجھے دعا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی ۔ وہ عرض کرے گا کہ مانگی تھی اس پر ارشاد ہو گا کہ تو نے کوئی دعا ایسی نہیں مانگی جس کو میں نے قبول نہ کیا ہوتو نے فلاں دعا مانگی تھی کہ فلاں تکلیف ہٹا دی جائے میں نے اس کو دنیا میں پورا کر دیا تھا اور فلاں غم کے دفع ہونے کی دعا کی تھی مگر اس کا اثر کچھ تجھے معلوم نہیں ہو میں نے اس کے بدلے میں فلاں اجر و ثواب تیرے لئے متعین کیا ۔حضور ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو ہر ہر دعا یاد کرائی جائے گی اور اس کا دنیا میں پورا ہونا یا آخرت میں اس کا عوض بتلایا جاوے گا ۔اس اجر و ثواب کی کثرت کو دیکھ کر وہ بندہ اس کی تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی پوری نہ ہوئی ہوتی کہ یہاں اس کا اس قدر اجر ملتا ۔ غرض دعا نہایت ہی اہم چیز ہے ۔ اس کی طرف سے غفلت بڑے سخت نقصان اور خسارہ کی بات ہے ۔ اور ظاہر میں اگر قبول کے آثار نہ دیکھے تو بد دل نہ ہونا چاہیے ٔ۔
اس رسالہ کے ختم پر جو لمبی حدیث آ رہی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی حق تعالیٰ شانہ بندہ ہی کے مصالح پر نظر فرماتے ہیں۔ اگر اس کے لئے اس چیز کا عطا فرمانا مصلحت ہوتا ہے تو مرحمت فرماتے ہیں ورنہ نہیں ۔یہ بھی اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہم لوگ بسا اوقات اپنی نافہمی سے ایسی چیز مانگتے ہیں جو ہمارے مناسب نہیں ہوتی ۔ اس کے ساتھ دوسری ضروری اور اہم بات قابل لحاظ یہ ہے کہ بہت سے مرد اور عورتیں تو خاص طور سے اس مرض میں مبتلا ہیں کہ بسا اوقات غصے اور رنج میں اولاد کو بد دعا دیتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اللہ جل شانہ کے عالی دربار میں بعض اوقات ایسے خاص قبولیت کے ہوتے ہیں کہ جو مانگو مل جاتا ہے ۔ یہ احمق اوّل تو غصہ میں اولاد کو کوستی ہیں اور جب وہ مر جاتی ہے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر روتی پھرتی ہیں اور اس کا خیال بھی نہیں آتا کہ یہ مصیبت خود ہی اپنی بد دعا سے مانگی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی جانوں اور اولاد کو نیز مال اور خادموں کو بد دعا نہ دیا کرو ، مبادہ اللہ کے کسی ایسے کاص وقت میں واقع ہو جائے جو قبولیت کا ہے کا ہے بالخصوص رمضان المبارک کا تمام مہینہ تو بہت ہی خاص وقت ہے اس میں اہتمام سے بچنے کی کوشش اشد ضروری ہے ۔
حضرت عمر ؓ حضور اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اللہ کو یاد کرنے والا شخص بخشا بخشایا ہے اور اللہ سے مانگنے والا نامراد نہیں رہتا۔ حضرت ابن مسعودؓ کی ایک رویت سے ترغیب میں نقل کیا ہے کہ رمضان کی ہر رات میں ایک منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ ۔ اور اے برائی کے طلب گار بس کر اور آنکھیں کھول اس کے بعد وہ فرشتہ کہتا ہے کوئی مغفرت چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے ، کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے ۔ اس سب کے بعد یہ امر بھی نہایت ضروری اور قابل لحاظ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے کچھ شرائط بھی وارد ہوئی ہیں کہ ان کے فوت ہونے سے بسا اوقات دعا رد کر دی جاتی ہے۔ منجملہ ان کے حرام غذا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دعا رد ہوجاتی ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے پریشان حال آسمان کی طر ف ہاتھ کھینچ کر دعا مانگتے ہیں اور یا رب یا رب کرتے ہیں مگر کھانا حرام ، پینا حرام ، لباس حرام ایسی حالت میں کہاں دعا قبول ہو سکتی ہے ۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں مستجاب الدعا لوگوں کی ایک جماعت تھی ۔ جب کوئی حکم ان پر مسلط ہوتا اس کے لئے بد دعا کرتے وہ ہلاک ہو جاتا ۔ حجاج ظالم کا جب وہاں تسلط ہوا تو اس نے ایک دعوت کی جس میں ان حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہوچکے تو اس نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بد دعا سے محفوظ ہو گیا کہ حرام کی روزی ان کے پیٹ میں داخل ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہمارے زمانہ کی حلال روزی پر بھی ایک نگاہ ڈالی جائے جہاں ہر وقت سود تک کے جواز کی کوششیں جاری ہوں، ملازمین رشوت کو اور تاجر دھوکہ دینے کو بہتر سمجھتے ہوں ۔

Aftar Dua Fast Breaking Supplication Arabic Text meaning


۵۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِنَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ عُتَقَائَ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ یَعْنِیْ فِیْ رَمَضَانَ وَاِنَّ لِکُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ دَعْوَۃً مُسْتَجَابَۃً۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کی ہر شب و روز میں اﷲ کے یہاں سے ( جہنم کے) قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ہرشب و روز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے ۔
ف: بہت سی روایات میں روزہ دار کی دعا کا قبول ہونا وارد ہوا ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے مگر ہم لوگ اس وقت کھانے پر اس طرح گرتے ہیں کہ دعا مانگنے کی تو کہاں فرصت ، خود افطار کی دعا بھی یاد نہیں رہتی ۔ افطار کی مشہور دعا ہے اَللَّہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ بِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ اَفْطَرتْ( ترجمہ) اے اللہ تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر بھروسہ ہے تیرے ہی رزق سے افطار کرتا ہوں ۔
حدیث کی کتابوں میں یہ دعا مختصر ملتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ افطار کے وقت یہ دعا کرتے تھے ۔ اَللَّہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ اَنْ تَغْفِرْلِی (ترجمہ) اے اللہ تیری اس رحمت کے صدقے جو ہر چیز کو شامل ہے یہ مانگتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما دے
 بعض کتب میں خود حضور ؐ سے یہ دعا منقول ہے۔ یَا وَاسِعَ الْفَضْلِ اغْفِرْلِی (ترجمہ) اے وسیع عطا والے میری مغفرت فرما ۔ اور بھی متعدد دعائیں روایات میں وارد ہوئی ہیں مگر کسی دعا کی تخصیص نہیں اجابت دعا کا وقت ہے اپنی اپنی ضرورت کے لئے دعا فرماویں یاد آ جاوے تو اس سیاکار کو بھی شامل فرمالیںکہ سائل ہوں اور سائل کا حق ہوتا ہے۔
چشمۂ فیض سے گر ایک اشارہ ہو جائے لطف ہو آپ کا اور کام ہمارا ہو جائے

Allah attention Ramzan forgiving sins accepting dua MALIKA Proud

۴۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ یَوْماً وَّ حَضَرَنَا رَمَضَانُ اَتَاکُمْ رَمَضَانُ شَہْرُ بَرَکَۃٍ یَغْشَاکُمُ اللّٰہُ فِیْہٖ فَیُنْزِلُ الرَّحْمَۃَ وَیَحُطُّ الْخَطَایَا وَیَسْتَجِیْبُ فِیْہِ الدُّعَائَ یَنْظُرُاللّٰہُ تَعَالیٰ اِلَی تَنَافُسِکُمْ فِیْہِ وَیُبَاہِی بِکُمْ مَلٰٓئِکَتَہ وَیَسْتَجِیْبُ فِیْہِ الدُّعَائَ یَنْظُرُاللّٰہُ تَعَالیٰ اِلَی تَنَافُسِکُمْ فِیْہِ وَیُبَاہِی بِکُمْ مَلٰٓئِکَتَہ فَاَرُوا اللّٰہَ مِن اَنْفُسِکُمْ خَیْرَاً فَاِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِمَ فِیْہِ رَحْمَۃَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ(رواہ الطبرانی ورواتہ ثقات الاان محمّد بن قیس لایحضرنی فیہ جرح ولا تعدیل کذا فی الترغیب)
حضرت عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺنے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ رمضان کا مہینہ آ گیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ، خطائوں کو معاف ہیں۔ دعا کو قبول کرتے ہیں ، تمہارے تنافس کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ سے فخر کرتے ہیں پس اللہ کو اپنی نیکی دکھلائو ۔ بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔
ف: تنافس اس کو کہتے ہیں کہ دوسرے کی حرص میں کام کیا جائے اور مقابلہ پر دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کیا جایت ، تفاخر اور تقابل ولے آویں اور یہاں اپنے اپنے جوہر دکھلاویں
 ،فخر کی بات نہیں تحدیث بالنعمۃ کے طور پر لکھتا ہوں، اپنی نااہلیت سے خود اگرچہ کچھ نہیں کر سکتا مگر اپنے گھرانہ کی عورتوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں کہ اکثروں کو اس کا اہتمام رہتا ہے کہ دوسرے سے تلاوت میں بڑھ جاوے ۔ خانگی کارو بار کے ساتھ پندرہ بیس پارے روزانہ بے تکلف پورے کر لیتی ہیں ۔ حق تعالیٰ شانہ اپنی رحمت سے قبول فرماویں اور زیادتی کی توفیق عطا فرماویں ۔

Darood e Pak Recitation Farz Wajib Sunnah Ruling Virtues blessing


دوسرا شخص جس کے لئے بد دعا کی گئی وہ ہے جس کے سامنے نبی کریم ﷺ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ پڑھے۔ اور بھی بہت سی روایات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے
 اسی وجہ سے بعض علماء کے نزدیک جب بھی نبی کریم ﷺ کا ذکر مبارک ہو تو سننے والوں پر درود شریف کا پڑھنا واجب ہے ۔حدیث بالا کے علاوہ بھی بہت سی وعیدیں اس شخص کے بارے میںوارد ہوئی ہیں
 جس کے سامنے حضورﷺکا تذکرہ ہو اور وہ درود نہ بھیجے بعض حدیث میں اس کو شکی اور بخیل تر لوگوں میں شمار کیا گیا ہے نیز جفا کار اور جنت کا راستہ بھولنے والا، حتی ٰ کہ جہنم میں داخل ہونے والا اور بد دین تک فرمایا ہے یہ بھی وارد ہوا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک نہ دیکھے گا محققین علماء نے ایسی روایات کی تاویل فرمائی ہو مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ درود شریف نہ پڑھنے والے کے لئے آپ کے ظاہر ارشادات اس قدرسخت ہیں کہ ان کا تحمل دشوار ہے اور کیوں نہ ہو کہ آپ کے احسانات امت پر اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ تحریر و تقریر اس کا احصاء کر سکے ، اس کے علاوہ آپ کے حقوق امت پر اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے درود شریف نہ پڑھنے والوں کے حق میں ہر وعید اور تنبیہ بجا اور موزوں معلوم ہوتی ہے خود درود شریف کے فضائل اس قدر ہیں کہ ان سے مھرومی مستقل بد نصیبی ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہو گی کہ جو شخص نبی کریم ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجے حق تعالیٰ شانہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں نیز ملائکہ کا اس کے لئے دعا کرنا ، گناہوں کا معاف ہونا ، درجات کا بلند ہونا ، احد پہاڑ کے برابر ثواب کا ملنا ، شفاعت کا اس کے لئے واجب ہونا وغیرہ وغیرہ امور مزید برآں ۔ نیز اللہ جل جلا لہ کی رضاء اس کی رحمت ، اس کے غصہ سے امان ، قیامت کے ہول سے نجات ، مرنے سے قبل جنت میں اپنے ٹھکانے کا دیکھ لینا وغیرہ بہت سے وعدے درود شریف کی خاص خاص مقداروں پر مقرر فرمائے گئے ہیں ان سب کے علاوہ درود شریف سے تنگی معیشت اور فقر دور ہوتا ہے اللہ اور اسکے رسولﷺ کے دربار میں تقرب نصیب ہوتا ہے دشمنوں پر مدد نصیب ہوتی ہے اور قلب کی نفاق اور زنگ سے صفائی ہوتی ہے لوگوں کو اس سے محبت ہوتی ہے اوربہت سی بشارتیں ہیں جو درود شریف کی کثرت پر احدیث میں وارد ہیںفقہاء نے اس کی تصریح کی ہے کہ ایک مرتبہ عمر بھر میں درود شریف کا پڑھنا عملاً فرض ہے اور اس پر علماء مذہب کا اتفاق ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا ذکر مبارک ہو ، ہر مرتبہ درود شریف کا پڑھنا واجب ہے یا نہیں ، بعض علماء کے نزدیک ہر مرتبہ درود شریف کا پڑھنا واجب ہے اور دوسرے بعض کے نزدیک مستحب۔

Imprisonment of Iblees Shaitan in Ramzan and Sins in Ramzan


چوتھی خصوصیت سرکش شیاطین کا قید ہو جانا ہے کہ جس کی وجہ سے معاصی کا زور کم ہو جاتا ہے رمضان المبارک میں رحمت کے جوش اور عبادت کی کثرت کا مقتضی ٰیہ ہے کہ شیاطین بہکانے میں بہت ہی انتھک کوشش کیا کرتے اور پائوں چوٹی کا زورختم کر دیتے اور اس وجہ سے معاصی کی کثرت اس مہینہ میں اتنی ہو جاتی کہ حد سے زیادہ ۔ لیکن باوجود اس کے یہ مشاہدہ ہے اور محقق کہ مجموعی طور سے گناہوں میں کمی آ جاتی ہے کتنے شرابی کبابی ایسے ہیں کہ رمضان میں خصوصیت سے نہیں پیتے، اور اسی طرح گناہوں میں بھی کھلی کمی آ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود گناہ ہوتے ضرور ہیں مگر ان کے سر زد ہونے سے حدیث پاک میں تو کوئی اشکال نہیں ، اس لئے کہ اس کا مضمون ہی یہ ہے کہ سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیںاس بناء پر اگر وہ گناہ غیر سرکشوں کا اثر ہو تو کچھ خلجان نہیں البتہ دوسری روایات میں سرکش کی قید مطلقاً شیاطین کے مقعد ہونے کا ارشاد بھی موجود ہے پس اگر ان روایات سے بھی سرکش شیاطین کاہی قید ہونا مراد ہے کہ بعض اوقات لفظ مطلق بولا جاتا ہے مگر دوسری جگہ سے اس کی قیودات معلوم ہو جاتی ہیں تب بھی کوئی اشکال نہیں رہا البتہ اگر ان روایات سے سب شیاطین کا محبوس ہونا مراد ہو تب بھی ان معاصی کے صادر ہونے سے کچھ خلجان نہ ہونا چاہیے کہ اگر چہ معاصی شیاطین کے اثر سے ہوتے ہیں مگر سال بھی تک ان کے تلبس اور اختلاط اور زہریلے اثر کے جمائو کی وجہ سے نفس ا ن کے ساتھ اس درجہ مانوس اور متاثر ہو جاتا ہے کہ تھوڑی بہت غیبت محسوس نہیں ہو تی ، بلکہ وہی خیالات اپنی طبیعت بن جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بغیر رمضان کے جن لوگوں سے گناہ زیادہ سر زد ہوتے ہیں، رمضان میں بھی انہی سے زیادہ تر صدور ہوتے ہیں اور آدمی کا نفس چونکہ ساتھ رہتا ہے اسی لئے اس کا اثر ہے دوسری بات ایک اور بھی ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب میں ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے ورنہ لگا رہتا ہے اور اگر دوسری مرتبہ گناہ کرتا ہے تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا قلب بالکل سیاہ ہو جاتا ہے پھر خیر کی بات اس کے قلب تک نہیں پہنچتی۔ اسی کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کلام پاک میں کلا بل ران علی قلوبھم سے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کے قلوب زنگ آلود ہو گئے ایسی صورت میں وہ قلوب ان گناہوں کی طرف خود متوجہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک نوع کے گناہ کو بے تکلف کر لیتے ہیں لیکن اسی جیسا کوئی دوسرا گناہ سامنے ہوتا ہے تو قلب کو اس سے انکار ہوتا ہے ۔ مثلاً جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کو اگر سؤر کھانے کو کہا جائے تو ان کی طبیت کو نفرت ہوتی ہے حالانکہ معصیت میں دونوں برابر ہیں تو اسی طرح کہ غیر رمضان میں وہ ان گناہوں کو کرتے رہتے ہیں تو دل ان کے ساتھ رنگے جاتے ہیں جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں بھی ان کے سرزد ہونے کے لئے شیاطین کی ضرورت نہیں رہتی بالجملہ اگر حدیث پاک سے سب شیاطین کا مقید ہونا مراد ہے تب بھی رمضان المبارک میں گناہوں کے سرزد ہونے سے کچھ اشکال نہیں ، اوراگر متمرد اور خبیث شیاطین کا مقید ہونا مراد ہو تب تو کوئی اشکال ہے ہی نہیں، اور بندہ ناچیز کے نزدیک یہی توجیہ اولیٰ ہے اور ہر شخص اس پر غور کر سکتا ہے اور تجربہ کر سکتا ہے کہ رمضان المبارک میں نیکی کرنے کے لئے یا کسی معصیت سے بچنے کیلئے اتنے زور لگانے نہیں پڑتے جتنے کہ غیر رمضان میں پڑتے ہیں تھوڑی سی ہمت اور توجہ کافی ہو جاتی ہے
حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب ؒ کی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں حدیثیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے ہیں یعنی فساق کے حق میں صرف متکبر شیاطین قید ہوتے ہیں اور صلحا کے حق میں مطلقاً ہر قسم کے شیاطین محبوس ہو جاتے ہیں 

Taraweeh Suunat way and Ruling complete Quran recitation Sunnah


اللہ نے اس کے روزہ کوفرض کیا اور اس کے قیام یعنی تراویح کو سنت کیا اس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی حق سبحانہ و تقدس کی طرف سے ہے پھر جن روایات میں نبی کریم ﷺ نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا کہ میں نے سنت کیا ان سے مراد تاکید ہے کہ حضورﷺ اس کی تاکید فرماتے تھے اسی وجہ سے سب ائمہ اس کے سنت ہونے پر متفق ہیں برہان میں لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سے روافض کے سوا کوئی شخص اس کا منکر نہیں ۔
حضرت مولانا الشاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی ؒ ما ثبت بالسنۃ میں بعض کتب فقہ سے نقل کیا ہے کہ کسی شہر کے لوگ اگر تراویح چھوڑ دیں تو اس کے چھوڑنے پر امام ان سے مقاتلہ کرے ۔
اس جگہ خصوصیت سے ایک بات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جلدی سے کسی مسجد میں آٹھ دس دن میں کلام مجید سن لیں پھر چھٹی
یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دو سنتیں الگ الگ ہیں تمام کلام اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے پس اس صورت میں ایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی
البتہ جن لوگوں کو رمضان المبارک میں سفر وغیرہ یا کسی اور وجہ سے ایک جگہ تراویح پڑھنی مشکل ہو ان کے لئے مناسب ہے کہ اوّل قرآن شریف چند روز میں سن لیں تاکہ قرآن شریف ناقص نہ رہے پھر جہاں وقت ملا اور موقعہ ملا وہاں تراویح پڑھ لی کہ قرآن شریف بھی اس صورت میں ناقص نہیں ہو گا اور اپنے کام کا حرج بھی نہیں ہو گا حضورﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے باربر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستر فرائض کے برابر ہے اس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتا ہے اور نوافل میں کتنا اضافہ ہوتا ہے فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضا ہوگئی اور کم از کم جماعت تو اکثراں کی فوت ہو ہی جاتی ہے گویا سحر کھانے کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو یا بالکل قضا کر دیا یا کم از کم ناقص کر دیا کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہل اصول نے اداء ناقص فرمایا ہے اور حضور اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو گویا نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں ۔

Parents Care Obligation and certificate for Paradise Hadith Maa Baap ki Khidmat aur Jannat


۳۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ َ احْضُرُوْا الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا فَلَمَّا ارْتَقٰی دَرَجَۃً قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرَجَۃَ الثَّانِیَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرَجَۃَ الثَّالِثَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْئًا مَّا کُنَّا نَسْمَعُہٗ قَالَ اِنَّ جِبْرَئِیْلَ عَرَضَ لِیْ فَقَالَ بَعُدَ مَنْ اَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ قُلْتُ اٰمِیْنَ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَۃَ قَالَ بَعُدَ مَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ قُلْتُ اٰمِیْنَ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَۃُ قَالَ بَعُدَ مَنْ اَدْرَکَ اَبَوَیْہِ الْکِبَرُ عِنْدَہٗ اَوْ اَحَدَھُمَا فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ قُلْتُ اٰمِیْنَ۔ (رواہ الحاکم و قال صحیح الاسناد کذا فی الترغیب و قال السخاوی رواہ ابن حبان فی ثقتہو صححہ و الطبرانی فی الکبیر والبخاری فی بر الوالدین لہ و البیھقی فی الشعب و غیرھم و رجالہ ثقات و بسط طرقہ و روی الترمذی عن ابی ہریرۃ بمعناہ وقال ابن حجرطرقہ کثیرۃ کما فی المرقاۃ)
کعبؓ بن عجیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیء کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جائو ہم لوگ حاضر ہو گئے جب حضورﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا آمین ۔جب دوسرے پر درجہ پر قدم مبارک رکھا توپھر فرمایا آمین۔ جب تیسرے درجہ پر قدم مبارک رکھا توپھر فرمایا آمین۔ جب آپ ﷺخطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ سے (منبر پر چڑھتے ہوئے ) ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبرئیلںمیرے سامنے آئے تھے جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جسنے رمضان کا مبارک مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی میں نے کہا آمین، پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو جائے وہ شخص جسکے سامنے آپکا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے میں نے کہا:آمین،جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا
تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے ا سکے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پاوے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں ۔۔ میں نے کہا :آمین ۔
ف: اس حدیث میں حضرت جبرئیل ںنے تین بد دعائیں دی ہیں اور حضور اقدسﷺ نے ان تینوں پر آمین فرمائی ۔ اول تو حضرت جبرئیل جیسے مقرب فرشتے کی بد دعا ہی کیا کم تھی اور پھرحضورر اقدس ﷺ کی آمین نے تو جتنی سخت بد دعا بنا دی وہ ظاہر ہے اللہ ہی اپنے فضل سے ہم لوگوں کوان تینوں چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ان برائیوں سے محفوظ رکھیں، ورنہ ہلاکت میں کیا تردد ہے در منثور کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت جبرئیل نے حضور ﷺسے کہا کہ آمین کہو۔تو حضور ﷺ نے فرمایا آمین ، جس سے اور بھی اہتمام معلوم ہوتا ہے ۔
تیسرے وہ شخص جس کے بوڑھے والدین میں سے دونوں یا ایک موجود ہوں اور وہ ان کی اس قدر خدمت نہ کر سکے کہ جس کی وجہ سے جنت کا مستحق ہو جائے ۔ والدین کے حقوق کی بھی بہت سی احادیث میں تاکید فرمائی ہے ۔ علماء نے ان کے حقوق میں لکھا ہے کہ مباح امور میں ان کی اطاعت ضروری ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی بے ادبی نہ کرے ، تکبر سے پیش نہ آئے اگر چہ وہ مشرک ہوں اپنی آواز کہ ان کی آواز سے اونچی نہ کرے ان کا نام لے کر نہ پکارے ، کسی کام میں ان کی پیش قدمی نہ کرے ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں نرمی کرے اگر قبول نہ کریں تو سلوک کرتا رہے اور ہدایت کی دعا کرتا رہے غرض ہر بات میں ان کا احترام ملحوظ رکھے ایک روایات میں آیا ہے کہ جنت کے بہترین دروازوں میں سے ایک دروازہ باپ ہے تیرا جی چاہے اس کی حفاظت کر یا ضائع کر دے ۔ایک صحابی ؓ نے حضور ﷺسے دریافت کیا کہ والدین کا کیا حق ہے ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ وہ تیری جنت ہیں یا جہنم یعنی ان کی رضا جنت ہے اور ان کی ناراضگی جہنم ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ مطیع بیٹے کی محبت اور شفقت سے ایک نگاہ والد کی طرف ایک مقبول حج کا ثواب رکھتی ہے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ شرک کے سوا تمام گناہوں کو جس قدر دل چاہے اللہ معاف فرما دیتے ہیں مگر والدین کی نافرمانی کا مرنے سے قبل دنیا میں بھی وبال پہنچاتے ہیں ۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ میں جہاد میں جانے کا ارادہ کرتا ہوں حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تیری ماں بھی زندہ ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہیں ۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ ان کی خدمت کر کہ ان کے قدموں کے نیچے تیرے لئے جنت ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے اور بھی بہت سی روایات میں اس کا اہتمام اور فضل وارد ہوا ہے ۔ جو لوگ کسی غفلت سے اس میں کوتاہی کر چکے ہیں اور اب ان کے والدین موجود نہیں۔ شریعت مطہرہ میں ان کی تلافی بھی موجود ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس کے والدین اس حالت میں مر گئے ہوں کہ وہ ان کی نافرمانی کرتا ہو تو ان کے لئے کثرت سے دعا اور استغفار کرنے سے مطیع شمار ہوجاتا ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں وارد ہے کہ بہترین بھلائی باپ کے بعد اس کے ملنے والوں سے حسن سلوک ہے۔

Hadith smell of Rozedar,opening of Paradise Jailed Shaitan Last night Ramzan Fish in sea praying


۲۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اُعْطِیَتْ اُمَّتِیْ خَمْسَ خِصَالٍ فِیْ رَمَضَانَ لَمْ تُعْطِہِنَّ اُمَّۃٌ قَبْلَہُمْ خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اطْیَبُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَ تَسْتَغْفِرْلَہُمْ الْحِیْتَانُ حَتَّی یُفْطِرُوا وَ یَزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّتَہٗ ثُمَّ یَقُوْلُ یُوْشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ أَنْ یُلْقُوْا عَنْہُمُ الْمَؤُنَۃَوَ یَصِیْرُوْا اِلَیْکَ وَتُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدۃُ الشَّیَاطِیْنِ فَلَا یَخْلُصُوْا فِیْہِ اِلیٰ مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ اِلَیْہِ فِی غَیْرِہٖ وَیُغْفَرُلَہُمْ فِیْ آخِرِ لَیْلَہٍ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَکِنَّ الْعَامِلَ اِنَّمَا یُوَفّٰی أجْرَہُ اِذَا قَضٰی عَمَلَہٗ۔ (رواہ احمد والبزار والبیہقی ورواہ اباالشیض ابن حبان فی کتاب الثواب الا ان عندہ و تستغفرلہم الملائکۃ بدل الحیتان۔ کذا فی الترغیب)
ابو ہریرۃ ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئیںہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں ہیں (۱) یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے (۲) یہ کہ ان کیلئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں (۳)جنت ہر روز ان کیلئے آراستہ کی جاتی ہے پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں (۴)اس میں سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں (۵) رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے صحابہؓ نے کیا
کہ یہ شب مغفرت شب قدرہے فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث پاک میں پانچ خصوصیتیں ارشاد فرمائی ہیں جو اس امت کے لئے حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے مخصوص انعام ہوئیں اور پہلی امت کے روزہ داروں کو مرحمت نہیں ہوئیں کاش ہمیں اس نعمت کی قدر ہوتی اور ان خصوصی عطایا کے حصول کی کوشش کرتے ۔
اوّل یہ کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو جو بھوک کی حالت میں ہو جاتی ہے حق تعالیٰ شانہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔ شراح حدیث کے اس لفظ کے مطلب میں آٹھ قول ہیں جن کو موطا کی شرح میں بندہ مفصل نقل کر چکا ہے مگر بندہ کے نزدیک ان میں سے تین قول راجح ہیں اول یہ کہ حق تعالیٰ شانہ آخرت میں اس بد بو کا بدلہ اور ثواب خوشبو سے عطا فرمائیں گے جو مشک سے زیادہ عمدہ اور دماغ پرور ہو گی یہ مطلب تو ظاہر ہے اور اس میں کچھ بعد بھی نہیںنیز در منثور کی ایک روایت میں اس کی تصریح بھی ہے اس لئے یہ بمنزلہ متعین کے ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت میں جب قبروں سے اٹھیں گے تو یہ علامت ہو گی کہ روزہ دار کے منہ سے ایک خوشبو جو مشک سے بھی بہتر ہو گی آئے گی تیسرا مطلب جو بندہ کی ناقص رائے ان دونوں سے اچھا ہے وہ یہ کہ دنیا ہی میں اللہ کے نزدیک اس بد بو کی قدر مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے اور یہ امر باب المحبت سے ہے جس کو کسی سے محبت و تعلق ہوتا ہے اس کی بد بو بھی فریفتہ کے لئے ہزار خوشبوئوں سے بہتر ہوا کرتی ہے ۔
اے حافظ مسکین چہ کنی مشک ختن را از گیسوئے حمد بستان عطر عدن را
مقصود روزہ دار کا کمال تقرب ہے کہ بمنزلہ محبوب کے بن جاتا ہے روزہ حق تعالیٰ شانہ کی محبوب ترین عبادتوں میں سے ہے اسی وجہ سے ارشاد ہے کہ ہر نیک عمل کا بدلہ ملائکہ دیتے ہیں مگر روزہ کا بدلہ میں خود اد ا کرتا ہوں اس لئے کہ وہ خالص میرے لئے ہے بعض مشائخ سے منقول ہے کہ یہ لفظ اجز بہٖ ہے یعنی اس کے بدلہ میں میں خود اپنے کو دیتا ہوں اور محبوب کے ملنے سے زیادہ اونچا بدلہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ساری عبادتوں کا دروازہ روزہ ہے یعنی روزہ کی وجہ سے قلب منور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر عبادت کی رغبت پیدہ ہوتی ہے مگر جب ہی کہ روزہ بھی روزہ ہو ،صرف بھوکا رہنا مراد نہیں ، بلکہ آداب کی رعایت رکھ کر جن کا بیان حدیث نمبر ۹ کے ذیل میں مفصل آئے گا ۔
اس جگہ ایک ضروری مسئلہ قابل تنبیہ یہ ہے کہ اس منہ کی بدبو والی حدیثوں کی بناء پر بعض ائمہ روزہ دار کو شام کے وقت مسواک کرنے کو منع فرماتے ہیں حنفیہ کے نزدیک مسواک ہر وقت مستحب ہے اس لئے کہ مسواک سے دانتوں کی بو زائل ہوتی ہے اور حدیث میں جس بو کا ذکر ہے وہ معدہ کے خالی ہونے کی ہے نہ کہ دانتوں کی ۔ حنفیہ کے دلائل اپنے موقع پر کتب ِ فقہ وحدیث میں موجود ہیں ۔
دوسری خصوصیت مچھلیوں کے استغفار کرنے کی ہے اس سے مقصود کثرت سے دعا کرنے والوں کا بیان ہے ۔ متعدد روایات میں مضمون وارد ہے بعض روایات میں ہے کہ ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں میرے چچا جان کا ارشاد ہے کہ مچھلیوں کی خصوصیت بظاہر اس وجہ سے ہے کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَعَمِلُو االصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدَّاً } (سورۂ مریم،آیہ۹۶) ’’ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے حق تعالیٰ شانہ ان کے لئے دنیا ہی میں محبوبیت فرما دیں گے اور حدیث پاک میں ارشاد ہے جب حق تعالیٰ شانہ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرئیل سے ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں شخص پسند ہے تم بھی اس سے محبت کرو، وہ خود محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان پر آواز دیتے ہیں کہ فلاں بندہ اللہ کا پسندیدہ ہے تم سب اس سے محبت کرو پس اس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور پھر اس کے لئے زمین پر قبولیت رکھ دی جاتی ہے اور عام قاعدہ کی بات ہے کہ ہر شخص کی محبت اس کے پاس رہنے والوں کو ہوتی ہے لیکن اس کی محبت اتنی عام ہوتی ہے کہ آس پاس رہنے والوں ہی کو نہیں بلکہ دریا کے رہنے والے جانوروں کو بھی اس سے محبت ہوتی ہے کہ وہ بھی دعا کرتے ہیں اور گویا بر سے متجاوز ہو کر بحر تک پہنچنا محبوبیت کی انتہا ہے ۔ نیز جنگل کے جانوروں کا دعا کرنا بطریق اولیٰ معلوم ہو گیا ۔
تیسری خصوصیت جنت کا مزین ہونا ہے۔ یہ بھی بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ سال کے شروع ہی سے جنت کو آراستہ کرنا شروع کر دیا جاتاہے اور قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے آنے کا جس قدر اہتمام ہو تا ہے اتنا ہی پہلے سے اس کا انتظام چوتھی خصوصیت سرکش شیاطین کا قید ہو جانا ہے کہ جس کی وجہ سے معاصی کا زور کم ہو جاتا ہے رمضان المبارک میں رحمت کے جوش اور عبادت کی کثرت کا مقتضی ٰیہ ہے کہ شیاطین بہکانے میں بہت ہی انتھک کوشش کیا کرتے اور پائوں چوٹی کا زورختم کر دیتے اور اس وجہ سے معاصی کی کثرت اس مہینہ میں اتنی ہو جاتی کہ حد سے زیادہ ۔ لیکن باوجود اس کے یہ مشاہدہ ہے اور محقق کہ مجموعی طور سے گناہوں میں کمی آ جاتی ہے کتنے شرابی کبابی ایسے ہیں کہ رمضان میں خصوصیت سے نہیں پیتے، اور اسی طرح گناہوں میں بھی کھلی کمی آ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود گناہ ہوتے ضرور ہیں مگر ان کے سر زد ہونے سے حدیث پاک میں تو کوئی اشکال نہیں ، اس لئے کہ اس کا مضمون ہی یہ ہے کہ سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیںاس بناء پر اگر وہ گناہ غیر سرکشوں کا اثر ہو تو کچھ خلجان نہیں البتہ دوسری روایات میں سرکش کی قید مطلقاً شیاطین کے مقعد ہونے کا ارشاد بھی موجود ہے پس اگر ان روایات سے بھی سرکش شیاطین کاہی قید ہونا مراد ہے کہ بعض اوقات لفظ مطلق بولا جاتا ہے مگر دوسری جگہ سے اس کی قیودات معلوم ہو جاتی ہیں تب بھی کوئی اشکال نہیں رہا البتہ اگر ان روایات سے سب شیاطین کا محبوس ہونا مراد ہو تب بھی ان معاصی کے صادر ہونے سے کچھ خلجان نہ ہونا چاہیے کہ اگر چہ معاصی شیاطین کے اثر سے ہوتے ہیں مگر سال بھی تک ان کے تلبس اور اختلاط اور زہریلے اثر کے جمائو کی وجہ سے نفس ا ن کے ساتھ اس درجہ مانوس اور متاثر ہو جاتا ہے کہ تھوڑی بہت غیبت محسوس نہیں ہو تی ، بلکہ وہی خیالات اپنی طبیعت بن جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بغیر رمضان کے جن لوگوں سے گناہ زیادہ سر زد ہوتے ہیں، رمضان میں بھی انہی سے زیادہ تر صدور ہوتے ہیں اور آدمی کا نفس چونکہ ساتھ رہتا ہے اسی لئے اس کا اثر ہے دوسری بات ایک اور بھی ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب میں ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے ورنہ لگا رہتا ہے اور اگر دوسری مرتبہ گناہ کرتا ہے تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا قلب بالکل سیاہ ہو جاتا ہے پھر خیر کی بات اس کے قلب تک نہیں پہنچتی۔ اسی کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کلام پاک میں کلا بل ران علی قلوبھم سے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کے قلوب زنگ آلود ہو گئے ایسی صورت میں وہ قلوب ان گناہوں کی طرف خود متوجہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک نوع کے گناہ کو بے تکلف کر لیتے ہیں لیکن اسی جیسا کوئی دوسرا گناہ سامنے ہوتا ہے تو قلب کو اس سے انکار ہوتا ہے ۔ مثلاً جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کو اگر سؤر کھانے کو کہا جائے تو ان کی طبیت کو نفرت ہوتی ہے حالانکہ معصیت میں دونوں برابر ہیں تو اسی طرح کہ غیر رمضان میں وہ ان گناہوں کو کرتے رہتے ہیں تو دل ان کے ساتھ رنگے جاتے ہیں جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں بھی ان کے سرزد ہونے کے لئے شیاطین کی ضرورت نہیں رہتی بالجملہ اگر حدیث پاک سے سب شیاطین کا مقید ہونا مراد ہے تب بھی رمضان المبارک میں گناہوں کے سرزد ہونے سے کچھ اشکال نہیں ، اوراگر متمرد اور خبیث شیاطین کا مقید ہونا مراد ہو تب تو کوئی اشکال ہے ہی نہیں، اور بندہ ناچیز کے نزدیک یہی توجیہ اولیٰ ہے اور ہر شخص اس پر غور کر سکتا ہے اور تجربہ کر سکتا ہے کہ رمضان المبارک میں نیکی کرنے کے لئے یا کسی معصیت سے بچنے کیلئے اتنے زور لگانے نہیں پڑتے جتنے کہ غیر رمضان میں پڑتے ہیں تھوڑی سی ہمت اور توجہ کافی ہو جاتی ہے
حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب ؒ کی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں حدیثیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے ہیں یعنی فساق کے حق میں صرف متکبر شیاطین قید ہوتے ہیں اور صلحا کے حق میں مطلقاً ہر قسم کے شیاطین محبوس ہو جاتے ہیں ۔
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آخری رات میں سب روزہ داروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے یہ مضمون پہلی روایت میں بھی گزر چکا ہے چونکہ رمضان المبارک کی راتوں میں شب قدر سب سے افضل رات ہے اس لئے صحابہ کرام ؓ نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کے لئے ہو سکتی ہے مگر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے فضائل مستقل علیحدہ چیز ہیں یہ انعام تو ختم رمضان کا ہے ۔

Four Ramzan Special seeking paradise liberation from Kalima Recitation,Istaghfar,


اس کے بعد نبیٔ کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم فرمایا اول کلمہ شہادت ، احادیث میں اس کا افضل الذکر ارشاد فرمایا ہے مشکوٰۃ میں بروایت ابو سعید خدری ؓ نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے ایک مرتبہ اللہ جل جلالہ کی بار گاہ میں عرض کیا کہ یا اللہ تو مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دے کہ اس کے ساتھ میں تجھے یاد کیا کروں اور دعا کیا کروں وہاں سے لآ الہ الا اللہ ارشاد ہوا حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ یہ کلمہ تو تیرے سارے بندے ہی کہتے ہیں میں تو کوئی دعا یا ذکر مخصوص چاہتا ہوں وہاں سے ارشاد ہوا کہ موسیٰ ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے میرے سوا یعنی ملائکہ اور ساتوں زمین ایک پلڑا میں رکھ دییٔ جاویں اور دوسرے میں کلمہ طیبہ رکھ دیا جائے تو وہی جھک جائے گا ۔
ایک حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص اخلاص سے اس کلمہ کو کہے آسمان کے دروازے اس کے لئے فوراً کھل جاتے ہیں اور عرش تک پہنچنے میں کسی قسم کی روک نہیں ہوتی بشرطیکہ کہنے والا کبائر سے بچے عادت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ضرورت عامہ کی چیز کو کثرت سے مرحمت فرماتے ہیں دنیا میں غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ چیز جس قدر ضرورت کی ہوتی ہے اتنی ہی عام ہوتی ہے مثلاً پانی ہے کہ عام ضرورت کی چیز ہے حق تعالیٰ شانہ کی بے پایاں رحمت نے اس کو کس قدر عام کر رکھا ہے اور کیمیا جیسی لغو اور بے کار چیز کو عنقا کر دیا ۔ اسی طرح کلمہ طیبہ افضل الذکر ہے متعدد احادیث اس کی تمام اذکار پر افضلیت معلوم ہوتی ہے اس کو سب سے عام کر رکھا ہے کہ کوئی محروم نہ رہے پھر بھی اگر کوئی محروم رہے تو اس کی بد بختی ہے بالجملہ بہت سی احادیث اس کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں جن کو اختصاراً ترک کیا جاتا ہے دوسری چیز جس کی کثرت کرنے کو حدیث بالا میں ارشاد فرمایا وہ استغفار ہے احادیث میں استغفار کی بھی بہت ہی فضیلت وارد ہوئی ہے ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص استغفار کی کثرت رکھتا ہے حق تعالیٰ شانہ ہر تنگی میں اس کے لئے راستہ نکال دیتے ہیں اور ہر غم سے خلاصی نصیب فرماتے ہیں اور ایسی طرح روزی پہنچاتے ہیں کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ایایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی گناہ گار تو ہوتا ہی ہے بہترین گناہ گار وہ ہے جو توبہ کرتا رہے ایک حدیث قریب آنے والی ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو ایک کالا نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے اگر توبہ کرتا رہے تو وہ دھل جاتا ہے ورنہ باقی رہتا ہے اس کے بعد حضورﷺ نے دو چیز کے مانگنے کا امر فرمایا ہے جن کے بغیر چارہ ہی نہیں جنت کا حصول اور دوزخ سے امن ۔ اللہ اپنے فضل سے مجھے بھی مرحمت فرمائے اور تمہیں بھی ۔

Ramzan fasting Special Relaxation Care for Laborer worker Servants Hadith command

اس کے بعد حضور ﷺنے ایک اور چیز کی طرف رغبت دلائی ہے کہ آقا لوگ اپنے ملازموں پر اس مہینہ میں تخفیف رکھیں اس لئے کہ آخر وہ بھی روزہ دار ہیں ان کو روزہ میں دقت ہو گی البتہ اگر کام زیادہ ہو تو اس میں مضائقہ نہیں کہ رمضان کے لئے ہنگامی ملازم ایک آدھ بڑھا لے مگر جب ہی کہ ملازم روزہ دار بھی ہو ورنہ اس کے لئے رمضان بے رمضان برابر اور اس ظلم و بے غیرتی کا تو ذکر ہی کیا کہ خود رروزہ خور ہو کر بے حیا منہ سے روزہ دار ملازموں سے کام لے اور نماز روزہ کی وجہ سے اگر تعمیل میں کچھ تساہل ہو تو برسنے لگے وَسَیَعْلَمُ اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْ اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ( ترجمہ) اور عنقریب ظالم لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسی (مصیبت ) کی جگہ لوٹ کر جائیں گے (مراد جہنم ہے )

Special Quality Amaal Action of Qutub and Abdaals Charity Sabr Pardoning love concern


روح البیان میں سیوطی ؒ کی جامع الصغیر اور سخاوی ؒ کی مقاصد سے بروایت حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت میں ہر وقت پانسو برگزیدہ بندے اور چالیس ابدال رہتے ہیں جب کوئی شخص ان سے مر جاتا ہے فوراً دوسر اس کی جگہ لے لیتا ہے
 صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ان لوگوں کے خصوصی اعمال کیا ہیں تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ظلم کرنے والوں سے در گزر کرتے ہیں اور برائی کا معاملہ کرنے والوں سے بھی احسان کا برتائو کرتے ہیں اور اللہ کے عطا فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا برتائو کرتے ہیں ایک دوسری حدیث سے نقل کیا ہے کہ جو شخص بھوکے کو روٹی کھلائے یا ننگے کو کپڑے پہناے یا مسافر کو شب باشی کی جگہ دے حق تعالیٰ شانہ قیامت کے ہولوں سے اس کو پناہ دیتے ہیں یحییٰ برمکی ؒ حضرت سفیان ثوری ؒ پر ہر ماہ ایک ہزار درہم خرچ کرتے تھے تو حضرت سفیان ؒ سجدے میں ان کے لیے دعا کرتے تھے کہ یا اللہ یحییٰ نے میری دنیا کی کفایت کی تو اپنے لطف سے اس کی آخرت کی کفایت فرما جب یحییٰ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے خواب میں ان سے پوچھا کہ کیا گزری انہوں نے کہا کہ سفیان ؒ کی دعا کی بدولت مغفرت ہوئی اس کے بعد حضور ﷺنے روزہ افطار کرانے کی فضیلت ارشاد فرمائی ایک اور روایت میں آیا ہے کہ شخص حلال کی کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے گا اس پر رمضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اور شب قدر میں جبرئیل ں اس سے مصافحہ کرتے ہیں اور جس سے جبرئیلں مصافحہ کرتے ہیں (اس کی علامت یہ ہے کہ ) اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں ۔ عاد بن سلمہ ؒ ایک مشہور محدث ہیں روزانہ پچاس آدمیوں کے روزہ افطار کرانے کا اہتمام کرتے تھے ۔

Ramzan Patience charity food offer for Poor Servants Yarmook Abu Jaham R.A. story


اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اس مہینہ کی خصوصq
یات اور آداب ارشاد فرمائے اولاًیہ کہ یہ صبر کا مہینہ ہے یعنی اگر روزہوغیرہ میں کچھ تکلیف ہوتو اسے ذوق و شوق سے برداشت کرنا چایئے یہ نہیں کہ مار دھاڑ ہولی پکار کہ جیسے اکثر لوگوں کی گرمی کی رمضان میں عادت ہوتی ہے اسی طرح اگر اتفاق سے سہر نہ کھائی گئی تو صبح ہی سے روزہ کا سوگ شروع ہو گیا اسی طرح رات کی تراویح میں اگر دقت ہو تو اس کو بڑی بشاشت سے برداشت کرنا چاہیئے اس کو مصیبت اور آفت نہ سمجھیں کہ یہ بڑی سخت محرومی کی بات ہے ہم لوگ دنیوی معمولی اغراض کی بدولت کھانا پینا راحت و آرام سب چھوڑ دیتے ہیں تو کیا رضائے الٰہی کے مقابلہ میں ان چیزوں کی کوئی وقعت ہو سکتی ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ یہ غمخواری کا مہینہ ہے یعنی غرباء اور مساکین کے ساتھ مدارات کا برتائو کرنا اگر دس چیزیں اپنی افطاری کے لئے تیار کی ہیں تو دو چار غرباء کے لئے بھی ہونی چاہیں ورنہ اصل تو یہ تھا کہ ان کے لئے اپنے سے افضل نہ ہوتا تو مساوات ہی ہوتی غرض جس قدر بھی ہمت ہو سکے اپنے افطار و سحر کے کھانے میں غرباء کا حصہ بھی ضرور لگانا چاہیئے صحابہ کرام ؓ امت کے لئے عملی نمونہ تھے اور دین کے ہر جز و کو اس قدر واضع عمل فرما کر دکھلا گئے کہ اب ہر نیک کام کے لئے ان کی شاہرہ عملی کھلی ہوئی ہے ایثار و غمخواری کے باب میں ان حضرات کا اتباع بھی دل گردہ والے کا کام ہے سینکڑوں ہزاروں واقعات ہیں جن کو دیکھ کر بجز حیرت کے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔
ایک مثالاً لکھتا ہوں ابو جہم ؓ کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں میں اپنے چچا زاد بھائی کو تلاش کرنے چلا اور اس خیال سے پانی کا مشکیزہ بھی ساتھ لے لیا کہ اگر اس میں کچھ رمق باقی ہو ئی تو پانی پلا دوں گا اور ہاتھ منہ دھو دوں گا وہ اتفاق سے پڑے ہوئے ملے میں نے ان سے پانی کے لئے پوچھا انہوں نے اشارہ سے مانگا کہ اتنے میں برابر سے دوسرے زخمی نے آہ کی چچا زاد بھائی نے پانی پینے سے پہلے اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا اس کے پاس گیا اور پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی پیاسے ہیں اور پانی مانگتے ہیں کہ اتنے میں ان کے پاس والے نے اشارہ کر دیا انہوں نے بھی خود پانی پینے سے قبل اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا اتنے میں وہاں پہنچا تو ان کی روح پرواز کر چکی تھی واپس دوسرے صاحب کے پاس پہنچا تو وہ بھی ختم ہو چکے تھے تو لوٹ کر چچا زاد کے پاس آیا تو دیکھا ان کا وصال بھی ہو گیا ہے یہ ہیں تمہارے اسلاف کے ایثار کہ خود پیاسے جان دے دی اور اجنبی بھائی سے پہلے پانی پینا گوارہ نہ کیارَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ اَرْضَاھُمْ وَ رَزَقَنَا اِتِّبَاعَھُمْ۔ اٰمین۔

Ramzan and Holy Quran Revelation Recitation Strong Relation Jibraeel and Prophet hearing each other


اسی وجہ سے عموماً اللہ جل شانہ‘ کی تمام کتابیں اسی ماہ میں نازل ہوئی ہیں چنانچہ قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر تمام کا تمام اسی ماہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس سال کے عرصہ میں نازل ہوا اس کے علاوہ حضرت ابراہیم کے صحیفے اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو عطا ہوئے اور حضرت دائودں کو زبور ۱۸ یا ۱۲ رمضان کو ملی اور حضرت موسیٰ کو تورات ۶ رمضان المبارک کو عطا ہوئی اور حضرت عیسیٰ کو انجیل ۱۲ یا ۱۳ رمضان المبارک کو ملی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کو کلام الٰہی کے ساتھ خاص مناسبت ہے اسی وجہ سے تلاوت کی کثرت اسی مہینہ میں منقول ہے اور مشائخ کا معمول ۔حضرت جبرائیلں ہر سال رمضان میں تمام قرآن شریف نبیٔ کریم ﷺ کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سنتے تھے ۔ علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآن پاک کو دَور کرنے کا جو عام طور پر رائج ہے استحباب نکالا ہے بالجملہ تلاوت کا خاص اہتمام جتنا بھی ممکن ہو سکے کرے اور جو وقت تلاوت سے بچے اس کو بھی ضائع کرنا مناسب نہیں کہ نبی کریم ﷺ اسی حدیث کے آخر میں چار چیزوں کی طرف خاص طور سے متوجہ کیا ہے اور اس مہینہ مہینہ میں ان کی کثرت کا حکم فرمایا کلمہ طیبہ اور استغفار اور جنت کے حصول اور دوزخ سے بچنے کی دعا اس لئے جتنا بھی وقت مل سکے ان چیزوں میں صرف کرنا سعادت سمجھے اور یہی نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک کی قدر ہے کیا دقت ہے کہ اپنے دنیوی کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے زبان سے درود شریف یا کلمہ طیبہ کا ورد رہے اور کل کو یہ کہنے کا منہ باقی رہے ۔
میں گورہا رہین ستم ہائے روز گار لیکن تیری یاد سے غافل نہیں رہا

Taraweeh importance Shab e Qadr Nafil Prayer Ibadat in Ramzan


نبی کریم ﷺ کا اہتمام کہ شعبان کی آخیر تاریخ میں خاص طور سے اس کا وعظ فرمایا اور لوگوں کو تنبیہ فرمائی تاکہ رمضان المبارک کا ایک سیکنڈ بھی غفلت سے نہ گزر جائے پھر اس وعظ میں تمام مہینہ کی فضیلت بیان فرمانے کے بعد چند اہم امور کی طرف خاص طور پر متوجہ فرمایا سب سے اول شب قدر کہ وہ حقیقت میں بہت ہی اہم رات ہے ان اوراق میں اس کا بیان دوسری فصل میں مستقل آئے گا اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ نے اس کے روزہ کوفرض کیا اور اس کے قیام یعنی تراویح کو سنت کیا اس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی حق سبحانہ و تقدس کی طرف سے ہے پھر جن روایات میں نبی کریم ﷺ نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا کہ میں نے سنت کیا ان سے مراد تاکید ہے کہ حضورﷺ اس کی تاکید فرماتے تھے اسی وجہ سے سب ائمہ اس کے سنت ہونے پر متفق ہیں برہان میں لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سے روافض کے سوا کوئی شخص اس کا منکر نہیں ۔
حضرت مولانا الشاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی ؒ ما ثبت بالسنۃ میں بعض کتب فقہ سے نقل کیا ہے کہ کسی شہر کے لوگ اگر تراویح چھوڑ دیں تو اس کے چھوڑنے پر امام ان سے مقاتلہ کرے ۔اس جگہ خصوصیت سے ایک بات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جلدی سے کسی مسجد میں آٹھ دس دن میں کلام مجید سن لیں پھر چھٹی یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دو سنتیں الگ الگ ہیں تمام کلام اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے پس اس صورت میں ایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی البتہ جن لوگوں کو رمضان المبارک میں سفر وغیرہ یا کسی اور وجہ سے ایک جگہ تراویح پڑھنی مشکل ہو ان کے لئے مناسب ہے کہ اوّل قرآن شریف چند روز میں سن لیں تاکہ قرآن شریف ناقص نہ رہے پھر جہاں وقت ملا اور موقعہ ملا وہاں تراویح پڑھ لی کہ قرآن شریف بھی اس صورت میں ناقص نہیں ہو گا اور اپنے کام کا حرج بھی نہیں ہو گا حضورﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے باربر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستر فرائض کے برابر ہے اس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتا ہے اور نوافل میں کتنا اضافہ ہوتا ہے فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضا ہوگئی اور کم از کم جماعت تو اکثراں کی فوت ہو ہی جاتی ہے گویا سحر کھانے کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو یا بالکل قضا کر دیا یا کم از کم ناقص کر دیا کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہل اصول نے اداء ناقص فرمایا ہے اور حضور اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو گویا نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں ۔
مظاہر حق میں لکھا ہے کہ جو شخص بغیر عذر کے بدون جماعت نماز پڑھتا ہے اس کے ذمہ فرض تو ساقط ہو جاتا ہے مگر اس کو نماز کا ثواب نہیں ملتا ۔ اسی طرح دوسری نماز مغرب کی بھی جماعت اکثروں کی افطار کی نظر ہو جاتی ہے اور رکعت اولی ٰ یا تکبیر اولیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے اور بہت سے لوگ تو عشاء کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے پڑھ لیتے ہیں یہ تو رمضان المبارک میں ہماری نماز کا حال ہے جو اہم ترین فرائض میں ہے کہ ایک فرض کے بدلے میں تین کو ضائع کیا یہ تین تو اکثر ہیں ورنہ ظہر کی نماز قیلولہ کی نذر اور عصر کی جماعت افطاری کا سامان خریدنے کی نذر ہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھا گیا ہے اسی طرح اور فرائض پر آپ خود غور فرما لیں کہ کتنا اہتمام رمضان المبارک میں ان کا کیا جاتا ہے اور جب فرائض کا یہ حال ہے تو نوافل کا کیا پوچھنا اشراق اور چاشت تو رمضان المبارک میں سونے کی نذر ہو ہی جاتے ہیں اور اوابین کا کیسے اہتمام ہو سکتا ہے جب کہ ابھی روزہ کھولا ہے اور آئندہ تراویح کا سہم ہے اور تہجد کا وقت تو ہے ہی عین سحر کھانے کا وقت پھر نوافل کی گنجائش کہاں لیکن یہ سب باتیں بے توجہی اور نہ کرنے کی ہیں کہ ع
توہی اگر نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں
کتنے اللہ کے بندے ہیں کہ جن کے لئے انہی اوقات میں سب چیزوں کی گنجائش نکل آتی ہے 

Aulia Allah Buzurg Akabir ka Ramzan Routine Nawafil Quran Recitation Taraweeh


اسی طرح اور فرائض پر آپ خود غور فرما لیں کہ کتنا اہتمام رمضان المبارک میں ان کا کیا جاتا ہے اور جب فرائض کا یہ حال ہے تو نوافل کا کیا پوچھنا اشراق اور چاشت تو رمضان المبارک میں سونے کی نذر ہو ہی جاتے ہیں اور اوابین کا کیسے اہتمام ہو سکتا ہے جب کہ ابھی روزہ کھولا ہے اور آئندہ تراویح کا سہم ہے اور تہجد کا وقت تو ہے ہی عین سحر کھانے کا وقت پھر نوافل کی گنجائش کہاں لیکن یہ سب باتیں بے توجہی اور نہ کرنے کی ہیں کہ ع
توہی اگر نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں
کتنے اللہ کے بندے ہیں کہ جن کے لئے انہی اوقات میں سب چیزوں کی گنجائش نکل آتی ہے میں نے اپنے آقا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کو متعدد رمضانوں میں دیکھا ہے کہ با وجود ضعف اور پیرانہ سالی کے مغرب کے بعد نوافل میں سوا پارہ پڑھنا یا سنانا اور اس کے بعد آدھ گھنٹہ کھانا وغیرہ ضروریات کے بعد ہندوستان کے قیام میں تقریبا دو سوا دو گھنٹے تراویح میں خرچ ہوتے تھے اور مدینہ پاک کے قیام میں تقریبا تین گھنٹے میں عشاء اور تراویح سے فراغت ہوتی اس کے بعد آپ حسب اختلاف مو سم دو تین گھنٹے آرام فرمانے کے بعد تہجد میں تلاوت فرماتے اور صبح سے نصف گھنٹہ قبل سحر تناول فرماتے ۔اس کے بعد صبح کی نماز تک کبھی ــحفظ تلاوت فرماتے اور کبھی اور ادو ار ووظائف میں مشغول رہتے اسفار یعنی چاندنی میں صبح کی نماز پڑھ کر اشراق تک مراقبہ میں رہتے اور اشراق کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ آرام فرماتے اس کے بعد تقریباًبارہ بجے تک اور گرمیوں میں ایک بجے تک بذل المجہود تحریر فرماتے اور ڈاک وغیرہ ملاحظہ فرما کر جواب لکھواتے ۔ اس کے بعد ظہر کی نماز تک آرام فرماتے اور ظہر سے عصر تک تلاوت فرماتے عصر سے مغرب تک تسبیح میں مشغول رہتے اور حاضرین سے بات چیت بھی فرماتے بذل المجود ختم ہو جانے کے بعد صبح کا کچھ حصہ تلاوت اور کچھ کتب بینی میں بذل المجہود اور وفاء الوفاء زیادہ تر اس وقت زیر نظر رہتی تھی ۔یہ اس پر تھا کہ رمضان المبارک میں معمولات میں کوئی خاص تغیر نہ تھا کہ نوافل کا یہ معمول دائمی تھا اور نوافل مذکورہ تمام سال بھی اہتمام رہتا تھا البتہ رکعت کے طول میں رمضان المبارک میں اضافہ ہو جاتا تھا ورنہ جن کے اکابر کے یہاں رمضان المبارک کے خاص معمولات مستقل تھے ان کا اتباع تو ہر شخص سے نبھنا بھی مشکل ہے ۔
حضرت اقدس مولانا شیخ الہند ؒ تراویح کے بعد سے صبح کی نماز تک نوافل میں مشغول رہتے تھے اور یکے بعد دیگرے متفرق حفاظ سے کلام مجید ہی سنتے رہتے تھے اور مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری قدس سرہ کے تو رمضان المبارک کا مہینہ دن و رات تلاوت کا ہی ہوتا تھا کہ ا س میں ڈاک بھی بند اور ملاقات بھی ذرا گوارا نہ تھی بعض مخصوص خدام کو اتنی اجازت ہوتی تھی کہ تراویح کے بعد جتنی دیر حضرت سادی چائے کے ایک دو فنجان نوش فرمائیں اتنی دیر حاضر خدمت ہو جایا کریں

بزرگوں کے یہ معمولات اس لئے نہیں لکھے جاتے کہ سرسری نگاہ سے ان کو پڑھ لیا جائے ، یا کوئی تفریح فقرہ ان پر کہہ دیا جائے

بلکہ اس لئے ہیں کہ اپنی ہمت کے موافق ان کا اتباع کیا جائے اور حتی الوسع پورا کرنے کا اہتمام کیا جائے کہ ہر لائن اپنے مخصوص امتیازات میں دوسرے پر فائق ہے ۔ جو لوگ دنیاوی مشاغل سے مجبور نہیں ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ گیارہ مہینے ضائع کر دینے کے بعد ایک مہینہ مر مٹنے کی کوشش کر لیں
 ملازم پیشہ حضرات جو دس بجے سے چار بجے تک دفتر میں رہنے کے پابند ہیں اگر صبح دس بجے تک کم از کم رمضان المبارک کا مہینہ تلاوت میں خرچ کر دیں تو کیا دقت ہے آخر دنیوی ضروریات کے لئے دفتر کے علاوہ اوقات میں سے وقت نکالا ہی جاتا ہے اور کھیتی کرنے والے تو نہ کسی کے نوکر ، نہ اوقات کے تغیر میں ان کو ایسی پابندی کہ اس کو بدل نہ سکین یا کھیتی پر بٹھے بیٹھے تلاوت نہ کر سکیں اور تاجروں کے لئے تو اس میں کوئی دقت ہی نہیں کہ اس مبارک مہینہ میں دوکان کا وقت تھوڑا سا کم کر دیں یا کم از کم دوکان پر ہی تجارت کے ساتھ تلاوت بھی کرتے رہیں کہ اس مبارک مہینہ کو کلام الہیٰ کے ساتھ بہت ہی خاص مناسبت ہے ۔
Taken from pages of Fazail e Amaal book of Ramzan .
Urdu unicode version taken with thanks from ownislam.com