Pages

Showing posts with label THE COMPANION. Show all posts
Showing posts with label THE COMPANION. Show all posts

Maqam Sahaba Definition Status of Prophet companion in Quran

Reproduced with jazakallah o khair from urdu Monthly Darul Uloom Published from Deoband India.It is Very good Islmic Magazine.For reading this Magazine click here
 مقام صحابہ قرآن کریم کی روشنی میں

از: مولانا شفیق احمد اعظمی
امام وخطیب مسجد وزارةِ اوقاف، ابو ظبی
 صحابی کی تعریف 
علماء متقدمین ومتاخرین نے صحابی کی تعریف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر اس صاحب ایمان شخص کو صحابی کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد عربی صلى الله عليه وسلم سے شرف ملاقات حاصل کیا اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی،اور ظاہر ہے کہ وہ نابینا حضرات یا صحابہ کے نومولود بچے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی خدمت مبارکہ میں لائے گئے ان سب کو ملاقات حاصل ہے لہٰذا بلا تردد جماعت صحابہ میں ان کا شمار ہوگا۔

اس طرح کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کا پاکیزہ گروہ اس زمرہ میں شما رکیا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء اہل سنت والجماعت اور ائمہ سلف کا بالاتفاق قول ہے کہ سب کے سب نجوم ہدایت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: اَصْحَابی کالنُّجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم. (ترمذی) گروہ صحابہ کا وجود، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب صلى الله عليه وسلم کے عالمگیر پیغام رسالت کو خطہٴ ارضی کے ہرگوشہ تک اس کی حقیقی روح کے ساتھ پھیلایا اور اس طرح آنحضور صلى الله عليه وسلم کا رحمة للعالمین ہونا بھی ثابت کردیا اور وما ارسلناک الا کافة للناس (سورہ فاطر:۲۴) کی تفسیر بھی دنیا کے سامنے پیش کردی گئی۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ برگزیدہ جماعت کے ذریعہ اسلام کا تعارف بھی کرادیاگیا اور رسول عربی صلى الله عليه وسلم کی سیرتِ طیبہ اور سنت کو عام کیاگیا اگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کوعام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کرکے غیر معتبر قرار دیا جائے گا تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی نہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رسالت معتبر رہے گی نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا کیونکہ اللہ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے خود معلم انسانیت محمد عربی نے اپنے جاں نثار اطاعت شعار صحابہ کی تربیت فرمائی تھی۔ صحابہ کرام نے اوّل اوّل، زبان رسالت سے آیات اللہ کو ادا ہوتے سنا تھااور کلام رسول کی سماعت کی تھی پھر دونوں کو دیانت وامانت کے ساتھ اسی لب ولہجہ اور مفہوم ومعانی کے ساتھ محفوظ رکھا اور بحکم رسول عربی صلى الله عليه وسلم اس کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ حجة الوداع کے موقع پر آنحضور صلى الله عليه وسلم نے ان کو تبلیغ کا مکلف بنایا تھا... بَلِّغُوْ عَنِّی وَلَوْ آیةً (بخاری ومسلم) میری جانب سے لوگوں کو پہنچادو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درسگاہ نبوت میں حاضری کا مکلف ایک خاص حکم کے ذریعہ بنایا تھا کہ ہر وقت ایک متعدبہ جماعت اللہ کے رسول کی خدمت میں اسلام سیکھنے کیلئے حاضر رہے اس لئے کہ کب کوئی آسمانی حکم اور شریعت کا کوئی قانون عطا کیا جائے، لہٰذا ایک جماعت کی آپ کی خدمت میں حاضری لازمی تھی اور ان کو بھی حکم تھا کہ جو حضرات خدمت رسالت میں موجود نہیں ہیں ان تک ان نئے احکام اور آیات کو پہنچائیں۔

وَمَا کَانَ الْمُوٴْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّةً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُم طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُم اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْہِمْ لَعَلََّہُمْ یَحْذَرُوْنَ (سورہ توبہ:۱۲۲)

ترجمہ: اور مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ سب کے سب چلے جائیں۔ تو کیوں نہ ہر فرقہ میں سے نکلی ایک جماعت جو مہارت ورسوخ حاصل کرتی دین میں اور تاکہ ڈرائیں اپنی قوم کو جب کہ وہ لوٹ کر آئیں ان کے پاس ہوسکتا ہے کہ وہ ڈریں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال وجمال، عقیدہ کی پختگی، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح وتقویٰ کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت صلى الله عليه وسلم نے اپنے قولِ پاک سے اپنے جاں نثاروں کی تعریف وتوصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت وسعادت قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انسان تھے ان سے بھی بہت سے مواقع پر بشری تقاضوں کے تحت لغزشیں ہوئی ہیں لیکن لغزشوں، خطاؤں، گناہوں کو معاف کرنے والی ذات اللہ کی ہے اس نے صحابہ کرام کی اضطراری، اجتہادی خطاؤں کو صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس معافی نامہ کو قرآن کریم کی آیات میں نازل فرماکر قیامت تک کیلئے ان نفوس قدسیہ پر تنقید و تبصرہ اور جرح و تعدیل کا دروازہ بند کردیا اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ایمان کی صداقت اور اپنی پسندیدگی کی سند بھی بخشی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی فرد یا جماعت صحابہ کرام پر نقد و تبصرہ کی مرتکب ہوتی ہے تواس کو علماء حق نے نفس پرست اور گمراہ قرار دیا ہے ایسے افراد اور جماعت سے قطع تعلق ہی میں خیر اورایمان کی حفاظت ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت (خواہ کبار صحابہ ہوں یا صغار صحابہ) عدول ہے اس پر ہمارے ائمہ سلف اور علماء خلف کا یقین و ایمان ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق آیات پر ایک نظر ڈالئے پھر ان کے مقام ومرتبہ کی بلندیوں کا اندازہ لگائیے اس کے بعد بھی اگرکسی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کی جرأت کی ہے تواس کی بدبختی پر کفِ افسوس ملئے۔

صحابہ سراپا ادب اور پیکر تقویٰ تھے

اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)

ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔

کفروفسق سے محفوظ تھے

وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)

ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔

عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب سورہ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن جلد۸ میں تحریر کرتے ہیں:

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں جن میں چند آیات اسی سورة میں آچکی ہیں: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ، اور، اَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَقْوٰی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہا وَاَہْلَہا، انکے علاوہ بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے، یَومَ لاَ یُخْزِ اللّٰہُ النَّبِیَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مَعَہ وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اِتَّبَعَہُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَّدَ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحتَہَا الْاَنْہٰرَ اور سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا ہے: وَکُلاَّ وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنٰی.

یعنی ان سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے پھر سورہ انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق فرمایا انَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنا الحُسْنٰی اولئک عَنہَا مُبْعَدُوْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے ہماری طرف سے حسنیٰ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے وہ جہنم کی آگ سے دور رکھے جائیں گے۔

صحابہ پر طعنہ زنی جائز نہیں

امام المفسرین علامہ قرطبی اپنی مشہور ومعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲ پر رقم طراز ہیں: یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیاتھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کررکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔ بحوالہ معارف القرآن،ج:۸۔

ہرمشکل کا حل اتباع صحابہ

آج ہم مسلمانوں کو عالمگیر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے ہر محاذ پر ناکامی اور پسپائی ہے دشمنان اسلام متحد اوراسلام کو مٹانے پرمتفق ہیں مسلمانوں پر طرح طرح سے الزامات اور بہتان تراشی ہورہی، پوری دنیا میں اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا سرگرم ہے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی ہے ہم ایک خطرناک اور نازک دور سے گذر رہے ہیں ان حالات میں صحابہ کرام کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان پاکیزہ نفوس کو بھی ان حالات کا سامنا تھا بلکہ بعض اعتبار سے آج کے حالات سے زیادہ خطرناک صورتِ حال تھی مکہ میں ابتلاء و آزمائش کے شدید دور سے گذرتے تھے تعداد بھی کم تھی اور وسائل بھی نہیں، حدیبیہ میں یہودیوں اور منافقوں کی فتنہ انگیزیاں اور سازشیں تھیں، مشرکین مکہ کے حملے اور یہودی قبائل سے لڑائیاں تھیں پھر دائرہ وسیع ہوا تو قیصر روم اور کسریٰ کے خطرناک عزائم تھے ان سب حالات کا مقابلہ صحابہ کرام نے جس حکمت عملی اور صبر واستقامت سے کیا وہی تاریخ ہم کو دہرانی پڑے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم سیرتِ صحابہ کا مطالعہ کریں ان کو اپنا رہنما و مقتدا جان کر اِس محبت وعقیدت سے ان کی پیروی کریں کہ ان کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گذشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔

میں نے چند آیات کے ذکر پر اکتفاء کیاہے ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں ان کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں جبکہ کتب احادیث میں مناقب صحابہ ایک مستقل باب ہوتا ہے جس میں انفرادی طور پر کبار صحابہ کے مناقب بھی ہیں اور مجموعی طورپر تمام اصحاب رسول کی عظمت و جلالت کا ذکر بھی ہے۔

Hadhrat Bilal (R.A.) and his Sufferings a lesson for muslim ummah


Hadhrat Bilal (Radhiyallaho anho) and his Sufferings

Hadhrat Bilal (Radhiyallaho anho) is one of the best known of the galaxy of Sahabah as moazzin of the Prophet's (Sallallaho alaihe wasallam) masjid. He was an Abyssinian slave of a disbeliever in Mecca. His conversion to Islam was, naturally, not liked by his master and he was, therefore, persecuted mercilessly. Ummayah bin Khalaf, who was the worst enemy of Islam, would make him lie down on the burning sand at midday and would place a heavy stone on his breast, so that he could not even move a limb. He would then say to him:
"Renounce Islam or swelter and die."

Even under these afflictions, Bilal (Radhiyallaho anho) would exclaim:-

"Ahad"-The One (Allah). "Ahad"-The One (Allah).

He was whipped at night and with the cuts thus received, made to lie on the burning ground during the day to make him either forsake Islam or to die a lingering death from wounds. The torturers would get tired and take turns (Abu Jahl, Umayyah and others) and vie with one another in afflicting more and more painful punishment, but Hadhrat Bilal (Radhiyallaho anho) would not yield. At last Abu Bakr (Radhiyallaho anho) bought his freedom, and he became a free Muslim.

As Islam taught implicitly the oneness of the Almighty Creator, while the idolaters of Mecca believed in many gods and goddesses with minor godlings, therefore Bilal (Radhiyallaho anho) repeated:

"Ahad (The One), Ahad (The One)."

This shows his love and devotion to Allah. Allah was so dear to him that no amount of persecution could distract him from reciting His Holy name. It is said that the urchins of Mecca would drag him in the streets, with his words "Ahad!, Ahad!" ringing in their wake.

Look how Allah rewarded his steadfastness! He was to have the honour of becoming the Prophet's moazzin. He was always to remain with him at home and abroad to call out the Azaan for his Salaat. After the Prophet's death it became very hard for him to continue his stay in Madinah where he would miss him at every step and in every corner. He therefore left Madinah, and decided to pass the rest of his life striving in the path of Allah. Once he beheld the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) in his dream saying to him:
"O, Bilal! How is it that you never visit me."

No sooner did he get up than he set out for Madinah. On reaching there, Hadhrat Hasan and Hadhrat Husain (Radhiyallaho anhuma) (The Prophet's (Sallallaho alaihe wasallam) grandsons) requested him to call out the Azaan. He could not refuse them, for they were very dear to him. But as soon as the Azaan was called, the people of Madinah cried openly out of their anguish at the memory of the happy old days of the Prophet's (Sallallaho alaihe wasallam) time. Even the women came out of their houses weeping. Hadhrat Bilal (Radhiyallaho anho) left Madinah again after a few days and died in Damascus in 20 A.H.

The Truce of Hudeybiah and Story of Hadhrat Abu Jandal and Hadhrat Abu Basir R.A.


The Truce of Hudeybiah and Story of Hadhrat Abu Jandal and Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anhu-ma)

In the 6th year of Hijrah, the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam] along with his companions left for Mecca to perform Umrah. The Qureysh heard of the news and decided to resist his entry into Mecca even as a pilgrim, and so he had to encamp at Hudeybiah. The devoted Sahabah, 1 400 in number, were however determined to enter, even if it involved an open fight; but the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) viewed the matter differently and in spite of the Sahabah's eagerness to fight, entered into a treaty with the Qureysh, accepting their conditions in full.

This one-sided and seemingly ungraceful truce was a very bitter pill for the Sahabah to swallow, but their devotion to the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) would not allow them to demur, and even the most valiant man like Hadhrat Umar (Radhiyallaho anho) could not but submit to his decision. According to one of the articles of the treaty, converts to Islam during the period of the truce were to be returned, but not so the deserters from Muslims to Qureysh.

Hadhrat Abu Jandal (Radhiyallaho anho) a Muslim in Mecca, was suffering great persecution at the hands of Qureysh. They kept him constantly in chains. On hearing about the arrival of the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) in Hudeybiah, he escaped somehow and managed to reach the Muslim camp at a time when the truce was about to be signed. His father, Suhail (till then a non-Muslim) was the envoy of Qureysh in the negotiations for the truce. He smote Hadhrat Abu Jandal (Radhiyallaho anho) on his face and insisted on taking him back to Mecca. The Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) represented that, since the truce had not till then been written, its application in Abu Jandal's case was premature. Suhail, however, would not listen to any argument and was not inclined to leave his son with the Muslims even at the personal request of the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam), and would have forgone the truce even. Abu Jandal (Radhiyallaho anho) counting his hardships remonstrated at the top of his voice but, much to the grief of the Sahabah, the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) agreed to his return. He however enjoined patience on him saying:

"Do not be distressed, Hadhrat Abu Jandal (Radhiyallaho anho), Allah will shortly open a way for you."

After the truce was signed and the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) had returned to Madinah, another Meccan Muslim Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anho) escaped to Madinah and besought the Prophet's (Sallallaho alaihe wasallam) protection. The Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) refused to accept his implorations and, in deference to the truce condition, handed him over to the two persons who had been deputed by the Qureysh to claim him. He, however, advised him as he had advised Hadhrat Abu Jandal (Radhiallaho anho) to be patient and to hope for the help of Allah. When Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anho) and his escort were on their way back to Mecca, Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anho) said to one of them:
"Friend, your sword is extremely fine."

The man was flattered and took it out from the sheath and said:

"Yes it is really very fine, and I have tried it on so many persons. You can have a look at it."

Most foolishly he made over the sword to Abu Basir (Radhiyallaho anho), who immediately 'tried' it on its owner and killed him. The other man took to his heels and reached Madinah to report to the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam). In the meantime Abu Basir (Radhiyallaho anho) also arrived. He said to the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam):
"0, Prophet of Allah, you once returned me and absolved yourself of the truce obligations. I had no obligations to fulfil and I managed my escape from them by this trick, as I was afraid of their forcing me to forsake my faith."
The Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) remarked: "You are a war-monger. I wish you could be helped."

Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anho) came to understand from this that he would be returned to Qureysh again when they demanded him. He therefore left Madinah and fled to a place in the desert on the sea shore. Abu Jandal (Radhiyallaho anho) also managed his escape and joined him there. More Muslims of Mecca followed, and in a few days quite a small group of such fugitives gathered in the wilderness. They had to undergo untold sufferings in the desert, where there was neither habitation nor vegetation. They, however, being bound by no treaty proved a great nuisance for the Qureysh by dealing blows after blows on their caravans passing that way. This compelled the Qureysh to approach the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) and beseech him to intervene and call the fugitives to Madinah, so that they might be bound by the terms of the treaty like other Muslims, and the caravans might pass in safety. It is said that Hadhrat Abu Basir (Radhiyallaho anho) was on his deathbed when the letter sent by the Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) permitting his return to Madinah reached him. He died while holding the Prophet's (Sallallaho alaihe wasallam) letter in his hand.

No power on the earth can make a person forsake his faith, provided it is a true faith. Moreover, Allah has given an assurance to help those who are genuine Muslims.