Pages

Showing posts with label FAZAIL E AMAL. Show all posts
Showing posts with label FAZAIL E AMAL. Show all posts

يَايُّهَا الَّذِينَ ءامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ


اَعُوْذُ باِﷲ ِ مِنَ شَّیطَانِ الرَّجِیْم
بِسْمِ  اﷲ ِ  الرَّحمن  ِ الرَّحِیْم
يَايُّهَا الَّذِينَ ءامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:183)
اﷲ  تعالی  اپنے  فضل  و  رحمت  کا  اظہار  فرما  رہے  ہیں  کہ  ‘اے  ایمان  والو !  تم  پر  روزہ  فرض  کیا  جا رہا  ہے  ،  جیسا  کہ  تم  سے  پچھلے  لوگوں  پر  بھی  ہم  نے  فرض  کیا  ہے’۔ علّامہ  آلوسی  اور  سیّد  محمود  بغدادی  تفسیر  روح المعانی  میں  فرماتے  ہیں  کہ  یہ  آیت  آسان  کرنے  کے  لیے  نازل  ہوئی  ہے  کہ  روزہ  آسان  ہے۔  تم  رکھو  جیسا  کہ  پچھلے  لوگوں  نے  رکھا  ہے۔  یعنی  روزہ  رکھنے  سے  تمہیں  جو  یہ  وسوسہ  آتا  ہے  کہ  صبح  سے  شام  تک  بھوکوں  رہنے  سے  مر  جائوں  گا  تو  کوئی  مرا  نہیں۔  پچھلے  لوگوں  نے  بھی  رکھا  اور  زندہ  رہے۔
كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ
‘جیسا  کہ  فرض  کیا  گیا  تم  سے  پچھلے  لوگوں  پر’۔  پچھلے  لوگوں  نے  روزہ  رکھا  اور  سب  زندہ  رہے  ،  کوئی  مرا  نہیں۔  تو  تمہارا  یہ  وسوسہ  باطل  ہے  کہ  صبح  سے  شام  تک  بھوکوں  رہنے  سے مر  جائوں  گا۔  تم  کو  اور  زندگی  ملے  گی۔  کیونکہ  یہ  زندگی  دینے  والے  کا  حُکم  ہے۔  تو  اُن  کی  اطاعت  و  فرمانبرداری  سے  زندگی  میں  اِک  نئی  زندگی  آ جائیگی۔
لَعَلَّکُمْ  تَتَّقُونَ
یہ  روزہ  کیوں  فرض  کیا؟  تاکہ  تُم  میرے  دوست  ہوجائو  ،  ابھی  صرف  غلام  ہو۔  ایمان  والا  غلامی  میں  تو  داخل  ہوگیا  لیکن  میری  دوستی  کا  تاج  غلامی  کے  سر  پر  اُس  وقت  رکھا  جائے  گا  جب  تُم  روزہ  رکھو  گے۔  روزے  کا  انعام  سنا  آپ  نے؟  ابھی  تو  صرف  غلام  ہو  ،  اگر  روزہ  رکھو  گے  تو  تمہاری  غلامی  پر  ہم  اپنی  دوستی  کا  تاج  رکھ  دینگے۔  کیونکہ  دوسری  آیت  میں  اﷲ تعلی  نے فرمایا  کہ اِنا  اولیا ء الالمتقون کہ  ‘میرا  کوئی  ولی  نہیں  مگر  جو  متّقی  ہیں’۔  گناہوں  سے  بچتے ہیں

ماخوذ: تحفہ ماہ رمضان – الشیخ عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
Jazakallah for shaykh rahimullah and brother who typed it

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ فضائل درود شریف و سلام البخاری


مولف
شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ

۱۔عَن عَبدِ الرَّحمٰنِ اَبِی لَیلٰی قَالَ لَقِیَنِی کَعبُ بنُ عُجرَةَ فقَالَ اَلاَ اَھدٰی لَکَ ھَدیَةً سَمِعتُھَا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ علَیہِ وَسَلَّمَ فَقُلتُ بَلٰی فَاھدِھَا لِی فقَالَ سلنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ علَیہِ وَسَلَّمَ فَقُلنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ کَیفَ الصَّلٰوةُ عَلَیکُم اَھلَ البَیتِ فَاِنَّ اللّٰہ قَد عَلَّمَنَا کَیفَ نُسَلِّمُ عَلَیکَ قَالَ قُولُو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیتَ عَلٰی اِبرَھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبرَھِیم اِنَّکَ حَمِید مَجِید ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبرَھِیم اِنَّکَ حَمِید مَجِید
رواہ البخاری وبسط السخاوی فی تخریجہ واختلاف الفاظہ وقَالَ ھکذا لفظ البخاری علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم فی الموضعین
حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت کعبؓ کی ملاقات ہوئی وہ فرمانے لگے کہ میں تجھے ایک ایسا ہدیہ دوں جو میں حضورﷺسے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور مرحمت فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پر درود کن الفاظ سے پڑھا جائے یہ تو اللہ تعالی نے ہمیں بتلادیا کہ آپ پر سلام کس طرح بھیجیں۔حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح درود پڑھا کرو۔(اللّٰہُمَّ صَلِّ سے اخیر تک)یعنی اے اللہ درود بھیج محمد(ﷺ) پر اور ان کی آل پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل (اولاد) پر اے اللہ بیشک آپ ستودہ صفات اور بزرگ ہیں۔اے اللہ برکت نازل فرما محمد(ﷺ) پر اور ان کی آل (اولاد) پر جیسا کہ برکت نازل فرمائی آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل(اولاد)پر بیشک آپ ستودہ صفات بزرگ ہیں۔
ف:ہدیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کے ہاں (رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) مہمانوں اور دوستوں کے لئے بجائے کھانے پینے کی چیزوں کے بہترین ہدیے حضور اقدسﷺ کا ذکر شریف، حضورﷺکے حالات تھے۔ ان چیزوں کی قدر ان حضرات کے ہاں مادّی چیزوں سے کہیں زیادہ تھی جیسا کہ ان کے حالات اسکے شاہد عدل ہیں۔اسی بنا پر حضرت کعبؓ نے اسکو ہدیہ سے تعبیر کیا۔یہ حدیث شریف بہت مشہور حدیث ہے۔اور حدیث کی سب کتابوں میں بہت کثرت سے ذکر کی گئی ہے اور بہت سے صحابہ کرامؓ سے مختصر اور مفصل الفاظ میں نقل کی گئی ہے علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے قول بدیع میں اسکے بہت طریق اور مختلف الفاظ نقل کئے ہیں وہ ایک حدیث میں حضرت حسنؓ سے مرسلا نقل کرتے ہیں کہ جب آیت شریفہ ” اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ“ نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ سلام تو ہم جانتے ہیں کہ وہ کس طرح ہوتا ہے آپ ہمیں درود شریف پڑھنے کا کس طرح حکم فرماتے ہیں تو حضور نے فرمایا کہ اَلّٰھُمَّ اجعَل صَلوٰتِکَ وَبَرَکَاتِکَ الخ پڑھا کرو۔دوسری حدیث میں ابو مسعود بدریؓ سے نقل کیا ہے کہ ہم حضرت سعد ب عبادہؓ کی مجلس میں تھے کہ وہاں حضور اقدسﷺ تشریف لائے حضرت بشیرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ جل شانہ نے ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔پس ارشاد فرمائیے کہ کس طرح آپ پر درود پڑھا کریں حضورﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ وہ شخص سوال ہی نہ کرتا۔پھر حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ یوں کہا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ الخ یہ روای/spanAR-SAAR-SA lang=font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: ت مسلم و ابوداود وغیرہ میں ہے۔اسکا مطلب ”ہم اسکی تمنا کرنے لگے“یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو غایت محب lang=font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: quot;; color: #c00000; mso-bidi-language: FA;ت اور غایت احترام کی وجہ سے جس بات کے جواب میں نبی کریم ﷺ کا تامل ہوتا یا سکوت فرماتے تو ان کو یہ خوف ہوتا کہ یہ سوال کہیں منشاءمبارک کے خلا ف تو نہیں ہو گیا۔یا یہ کہ اسکا جواب نبی کریمﷺ کو معلوم نہیں تھا جس کی وجہ سے حضور اقدسﷺ کو تائل فرمانا پڑا۔بعض روایات سے اسکی تائید بھی ہوتی ہے۔حاف lang=quot;;font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: /pظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے طبری کی روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ حضور ۰۲mso-spacerun: yes;اقدسﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ حضورﷺپر وحی نازل ہوئی۔مسند احمد وابن حبان وغیرہ میں ایک اور روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک صحابیؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ہم لوگ مجلس میں حاضر تھے۔ ان صاحب نے سوال کیا یا رسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا جب ہم نماز پڑھا کریں تو اس میں آپ پر درود کیسے پڑھا کریں۔حضورﷺنے اتنا سکوت فرمایا کہ ہم لوگوں کی یہ خواہش ہونے لگی کہ یہ شخص سوال ہی نہ کرتا اسکے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ جب نماز پڑھا کرو تو یہ درود پڑھا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ الخ
ایک اور روایت میں عبد الرحمن بن بشیرؓ سے نقل کیا ہے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ جل شانہ نے ہمیں صلوٰة وسلام کا حکم دیا ہے سلام تو ہمیں معلوم ہو گیا۔آپ پر درود کیسے پڑھا کریں تو حضور نے فرمایا یوں پڑھا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ ۔مسند احمد ترمذی بیہقی وغیرہ کی روایات میں ذکر کیا گیا ہے کہ جب آیت شریفہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ا لآیہ نازل ہوئی تو ایک صاحب نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! سلام تو ہمیں معلوم ہے آپ پر درود کیسے پڑھا کریں تو حضورﷺنے ان کو درود تلقین فرمایا۔ اور بھی بہت سی روایات میں اس قسم کے مضمون ذکر کئے گئے ہیں۔اور درودوں کے الفاظ میں اختلاف بھی ہے جو اختلاف روایات میں ہوا ہی کرتا ہے جس کی مختلف وجوہ ہاتی ہیں۔اس جگہ ظاہر یہ ہے حضور اقدس ﷺ نے مختلف صحابہ jکو مختلف الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ کوئی لفظ خاص طور سے واجب نہ بن جائے۔نفس درود شریف کا وجوب علیحدہ چیز ہے جیسا کہ فصل رابع میں آرہا ہے اور درود شریف کے کسی خاص لفظ کا وجوب علیحدہ چیز ہے کوئی خاص لفظ واجب نہیں۔یہ درود شریف جو اس فصل کے شروع میں نمبر۱ پر لکھا گیا ہے یہ بخاری شریف کی روایے ہے جو سب سے زیادہ صحیح ہے اور حنفیہ کے نزدیک نماز میں اسی کا پڑھنا اولی ہے جیسا کہ علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا ہے کہ حضورﷺ پر درود کن الفاظ سے پڑھے؟ تو انہوں نے یہی درود شریف ارشاد فرمایا جو فصل کے شروع میں لکھا گیا اور یہ درود موافق ہے اسکے جو صحیحین(بخاری و مسلم) وغیرہ میں ہے۔علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ عبارت شرح منیّة سے نقل کی ہے۔شرح منیّة کی عبارت یہ ہے کہ یہ درود موافق ہے اسکے جو صحیحین میں کعب بن عجرہؓ سے نقل کیا گیا ہے انتہیٰ۔ اور کعب بن عجرہؓ کی یہی روایت ہے جو اوپر گذری۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت کعبؓ وغیرہ کی حدیث سے ان الفاظ کی تعیین ہوتی ہے جو حضورﷺ نے اپنے صحابہؓ کو آیت شریفہ کے امتثال امر میں سکھلائے۔اور بھی بہت سے اکابر سے اس کا افضل ہونا نقل کیا گیا ہے۔ایک جگہ علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے صحابہؓ کے اس سوال پر کہ ہم لوگوں کو اللہ جل شانہ نے صلوٰة و سلام کا حکم دیا ہے تو کون سا درود پڑھیں، حضورﷺنے یہ تعلیم فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب سے افضل ہے۔امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب روضہ میں تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھا بیٹھے کہ میں سب سے افضل درود پڑھوں گا تو اس درود کے پڑھنے سے قسم پوری ہو جائے گی۔حصن حصین
تکملہ
کے حاشیہ پر حرزثمین سے نقل کیا ہے کہ وہ درود شریف سب سے زیادہ صحیح ہے اور سب سے زیادہ افضل ہے نماز میں اور بغیر نماز کے اسی کا اہتمام کرنا چاہیے۔یہاں ایک بات قابل تنبیہ یہ ہے کہ زاد السعید کے بعض نسخوں میں کاتب کی غلطی سے حرزثمین کی یہ عبارت بجائے اس درود شریف کے ایک دوسرے درود کے نمبر پر لکھ دی گئی اس کا لحاظ رہے۔اس کے بعد اس حدیث شریف میں چند فوائد قابل ذکر ہیں۔اول یہ کہ صحابہ کرامؓ کا یہ عرض کرنا کہ سلام ہم جان چکے ہیں اس سے مراد التحیات کے اندر اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِّیُ وَرَحمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ ہے۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ یعنی حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہی مطلب زیادہ ظاہر ہے۔اور اوجز میں امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے اور اس میں بھی متعدد علماءسے یہی مطلب نقل کیا گیا ہے (۲)ایک مشہور سوال کیا جاتا ہے کہ جب کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے مثلا یوں کہا جائے کہ فلاں شخص حاتم طائی جیسا سخی ہے تو سخاوت میں حاتم کا زیادہ سخی ہونا معلوم ہوتا ہے۔اس وجہ سے اس حدیث پاک میں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کے درود کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے۔اسکے بھی ”اوجز “میں کئی جواب دئیے گئے ہیں اور حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں دس جواب دئیے ہیں۔کوئی عالم ہو تو خود دیک لے غیر عالم ہو تو کسی عالم سے دل چاہے تو دریافت کر لے۔ سب سے آسان جواب یہ ہے کہ قاعدہ اکثر یہ تو وہی ہے جو اوپر گذرا لیکن بسا اوقات بعض مصالح سے اسکا الٹا ہوتا ہے جیسے قرآن پاک کے درمیان میں اللہ جل شانہ کے نور کی متعلق ارشاد ہے۔
(مَثَلُ نُورِہ کَمِشکٰوةٍ فِیھَا مِصبَاح الایة)
ترجمہ:۔ اس کے نور کی مثال اس طاق کی سی ہے جس میں چراغ ہو۔اخیر آیت تک۔
حالانکہ اللہ جل شانہ کے نور کو چراغوں کے نور کے ساتھ کیا مناسبت(۳) یہ بھی مشہور اشکال ہے کہ سارے انبیاءکرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰة والسلام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے درود کو کیوں ذکر کیا؟اسکے بھی ”اوجز“ میں کئی جواب دئیے گئے ہیں۔حضرت اقدس تھانوی نور اللہ مرقدہ نے بھی زاد السعید میں کئی جواب ارشاد فرمائے ہیں۔بندے کے نزدیک تو زیادہ پسند یہ جواب ہے کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ جل شانہ نے اپنا خلیل قرار دیا۔چنانچہ ارشاد ہے”وَاتَّخَذَ اِبرَاھِیمَ خَلِیلاً“ لہٰذا جو درود اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہو گا وہ محبت کی لائن کا ہو گا اور محبت کی لائن کی ساری چیزیں سب سے اونچی ہوتی ہیں۔لہٰذا جو درود محبت کی لائن کا ہو گا وہ یقینا سب سے زیادہ لذیذ اور اونچا ہو گا۔چنانچہ ہمارے حضور اقدس ﷺ کو اللہ جل شانہ نے اپنا حبیب قرار دیا اور حبیب اللہ بنایا اور اسی لئے دونوں کا درود ایک دوسرے کے مشابہ ہوا۔مشکوٰة میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے قصہ نقل کیا گیا ہے کہ صحابہؓ کی ایک جماعت انبیاءکرام علیہ السلام کا تذکرہ کر رہی تھی کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور حضرت موسی علیہ السلام سے کلام کیااور حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے اپنا صفی قرار دیاہے ۔اتنے میں حضور تشریف لائے۔حضورﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہاری گفتگو سنی۔بیشک ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور موسٰی علیہ السلام کلیم اللہ ہیں اور ایسے ہی عیسٰی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور آدم اللہ کے صفی ہیں لیکن بات یوں ہے غور سے سنو کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس جھنڈے کے نیچے آدم علیہ السلام اور سارے انبیائ علیہ السلام ہونگے اور اس پر فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن سب سے پہلے میں شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی وہ میں ہوں گا اور اس پر بھی میں کوئی فخر نہیں کرتا اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوانے والا میں ہوں گا اور سب سے پہلے جنت میں میں اور میری امت کے فقراءداخل ہونگے اور اس پر بھی کوئی فخر نہیں کرتا اور میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہوں اولین اور آخرین میں اور کوئی فخر نہیں کرتا۔اور بھی متعدد روایات سے حضور کا حبیب اللہ ہونا معلام ہوتا ہے۔محبت اور خلت میں جو مناسبت ہے وہ ظاہر ہے اسی لئے ایک کے درود کو دوسرے کے درود کے ساتھ تشبیہ دی اور چونکہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام حضور اقدس ﷺ کے آباءمیں ہیں اسلئے بھی مَن اشبہ اباہ فما ظلم آباءواجداد کے ساتھ مشابہت بہت ممدوح ہے۔مشکوة کے حاشیہ پر لمعات سے اس میں ایک نکتہ بھی لکھا ہے وہ یہ کہ حبیب اللہ کا لقب سب سے اونچا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ حبیب اللہ کا لفظ جامع ہے خلت کو بھی اور کلےم اللہ ہونے کو بھی اور صفی اللہ ہونے کو بھی بلکہ ان سے زائد چیزوں کو بھی جو دیگر انبیاءکے لئے ثابت نہیں اور وہ اللہ کا محبوب ہونا ہے۔ایک خاص محبت کے ساتھ میں جو حضور اقدسﷺ ہی کیساتھ مخصوص ہے۔

taken with thanks from
http://www.ownislam.com/articles/fazil-e-ammal-urdu/2036-fazail-e-durood-shareef-by-sheikh-ul-hadith-zakariyya-kandhelvi

Fazail e Quran in Urdu word file book Fazail e Amaal


 مولف
Reproduced in urdu word format with thanks from www.ownislam.com.MAY ALLAH GIVE THEM JAZAE KHAIR.
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مقدمہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ الْاِنْسَانَ وَعَلَّمَہُ الْبَیَانَ وَاَنْزَلَ لَہُ الْقُرْاٰنَ وَجَعَلَہ‘ مَوْعِظَۃً وَّشِفَائً وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّذَوِی الْاِیْمَانِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہ‘ عِوَجًاوَّاَنْزَلَہ‘ قَیِّماً حُجَّۃً نُوْرَاًلِّذَوِی الْاِیْقَانِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ الْاَتَمَّانِ الْاَکْمَلَانِ عَلٰی خَیْرِالْخَلَائِقِ مِنَ الْاِنْسِ وَالْجَٓانِ الَّذِیْ نَوَّرَ الْقُلُوْبَ وَالْقُبُوْرَ نُوْرُہ‘ وَرَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ظُھُوْرُہ‘ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَصَحْبِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ نُجُوْمُ الْھِدَایَۃِ وَنَاشِرُو الْفُرْقَانِ وَعَلٰی مَنْ تَبِعَھُمْ بِالْاِیْمَانِ وَبَعْدُ فَیَقُوْلُ الْمُفْتَقِرُاِلٰی رَحْمَۃِ رَبِّہِ الْجَلِیْلِ عَبْدُہُ الْمَدْعُوُّ بِزَکَرِیَّابِنِ یَحْیٰی بِنِ اِسْمٰعِیْلَ ھٰذِہِ الْعُجَالَۃُ اَرْبَعُوْنَۃٌ فِیْ فَضَائِلِ الْقُراٰنِ اَلَّفْتُھَا مُمْتَثِلًا لِاَمْرِ مَنْ اِشَارَتُہ‘ حُکْمٌ وَّطَاعَتُہٗ غُنْمٌ۔
تمام تعریف اس ذات پاک کیلئے ہے جس نے انسان کو پید ا کیا اور اسکو وضاحت سکھائی اور اس کیلئے وہ قرآن پاک نازل فرمایا جس کو نصیحت اور شفا اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کیلئے بنایا جس میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کسی قسم کی کجی بلکہ وہ بالکل مستقیم ہے اور حجت و نور ہے یقین والوں کیلئے اور کامل و مکمل درودو سلام اس بہترین خلائق پر ہو جیو، جس کے نور نے زندگی میں دلوں کو اور مرنے کے بعد قبروں کو منور فرما دیا اور جسکے ظہور تمام عالم کیلئے رحمت ہے اور آپکی اولاد اور اصحاب پر جو ہدایت کے ستارے ہیں اور کلام پاک کے پھیلانے والے نیز ان مومنین پر بھی جو ایمان کیساتھ انکے پیچھے لگنے والے ہیں حمد صلوۃ کے بعد اﷲ کی رحمت کا محتاج بندہ زکریا بن یحییٰ بن اسمٰعیل عرض کرتا ہے کہ یہ جلدی میں لکھے ہوے۔
چند اوراق فضائل قرآن میں ایک چہل حدیث ہے جسکو میں نے ایسے حضرات کے امتشال حکم میں جمع کیا ہے جن کا اشارہ بھی حکم ہے اور انکی اطاعت ہر طرح مغتنم ہے۔
حق سبحانہ و تقدس کے ان انعامات خاصہ میں سے جو مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارن پور کے ساتھ ہمیشہ مخصوص رہے ہیں مدرسے کا سالانہ جلسہ ہے جو ہر سال مدرسے کے اجمالی حالات سنانے کے لئے منعقد ہوتا ہے مدرسے کے اس جلسہ میں مقررین واعظین اور مشاہیر اہل ہند کے جمع کرنے کا اس قدر اہتمام نہیں کیا جاتا جتنا کے اﷲ والے قلوب والے کمنامی میں رہنے والے مشائخ کے اجتماع کی سعی کی جاتی ہے وہ زمانہ اگرچہ دور ہو گیا ہے جب کہ حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس اﷲ سترہ العزیز اور قطب الارشاد حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور اﷲ مرقدہ کی تشریف آوری حاضرین جلسہ کے قلوب کو منور فرمایا کرتی تھی مگر وہ منظر ابھی آنکھوں سے زیادہ دور نہیں ہوا جب کہ ان مجد دین اسلام اور شموس ہدایت کے جانشین حصرت شیخ الہند رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب رحمتہ اﷲ علیہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اﷲ علیہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب نور اﷲ مرقدہ مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں مجتمع ہو کر مردہ قلوب کیلئے زندگی و نورانیت کیلئے چشمے جاری فرمایا کرتے تھے اور عشق کے پیاسوں کو سیراب فرماتے تھے۔
دور حاضر میں مدرسے کا جلسہ ان بدور ہدایت سے بھی گو محروم ہو گیا مگر ان کے سچے جانشین حضار جلسہ کو اب بھی اپنے فیوض و برکات سے مالا مال فرماتے ہیں جو لوگ امسال جلسے میں شریک رہے ہیں وہ اس کے لئے شاہد عدل ہیں آنکھوں والے برکات دیکھتے ہیں لیکن ہم سے بے بصر بھی اتنا ضرور محسوس کرتے ہیں کہ کوئی بات ضرور ہے۔
مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں اگر کوئی شخص شستہ تقاریر زور دار لیکچروں کا طالب بن کے آئے تو شاید وہ اتنا مسرور نہ جائے جس قدر کہ دورائے دل کا طالب کامگار و فیض یاب جائے گا فللہ الحمد و المنۃ۔
اسی سلسلہ میں سال رواں ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۴۸ ھ کے جلسہ میں حضرت الشاہ حافظ محمد یسین صاحب نگینوی نے قدم رنجہ فرما کر اس سیہ کار پر جس قدر شفقت و لطف کا مینہ برسایا یہ ناکارہ اس کے تشکر سے بھی قاصر ہے ممدوح کے متعلق یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ آپ حضرت گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ کے خلفاء میں سے ہیں پھر آپ کے اوصاف جلیلہ یک سوئی تقدس مظہر انوار و برکات وغیرہ کے ذزکر کی صرورت نہیں رہتی جلسہ سے فراغت کے بعد ممدوح جب مکان واپس تشریف لے گئے تو گرامی نامہ مکرمت نامہ عزت نامہ سے مجھے اس کا حکم فرمایا کہ فضائل قرآن میں ایک چہل حدیث جمع کر کے اس کا ترجمہ خدمت میں پیش کروں اور نیز یہ کہ اگر ممدوح کے حکم سے میں نے انحراف کیا تو وہ میرے جانشین شیخ اور مثیل والد چچا جان مولانا الحافظ مولو ی محمد الیاس صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے اپنے اس حکم کو مؤکد کرائیں گے اور بہرحال یہ خدمت ممدوج کو مجھ جیسے ناکارہ ہی سے لینا ہے یہ افتخار نامہ اتفاقا ایسی حالت میں پہنچا کہ میں سفر میں تھا اور میرے چچا جان یہاں تشریف فرما تھے انھوں نے میری واپسی پر یہ گرمی نامہ اپنے تاکیدی حکم کے ساتھ میرے حوالے فرمایا کہ جس کے بعد نہ مجھے کسی معذرت کی گنجائش رہی اور نہ اپنی عدم ایلیت کے پیش کرنے کا موقع رہا میرے لئے شرح موطاامام مالک کی مشغولیت بھی ایک قوی عذر تھا مگر ارشادات عالیہ کی اہمیت کی وجہ سے اس کو چند روز کے ملتوی کر کے ما حضر خدمات عالیہ میں پیش کرتا ہوں اور ان لغزشوں سے جن کا وجود میری نا اہلیت کے لئے لازم ہے معافی کا خواستگار ہوں ۔
رَجَائَ الْحَشْرِفِیْ سِلْکِ مَنْ قَالَ فِیْھِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا فِیْ اَمْرِدِیْنِھَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْھًا وَکُنْت لَہ‘ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ شَافِعًا وَّشَھِیْدًاقَالَ الْعَلْقَمِیُّ اَلْحِفْظُ ضَبْط الشَّیْ وَمَنْعُہ مِنَ الضِّیَاعِ فَتَارَۃً یَکُوْنُ حِفْظُ الْعِلْمِ بِالْقَلْب وَاِن لَّمْ یَکْتُبْ وَتَارَۃً فی الْکِتَابِ وَاِنْ لَّمْ یَحْفَظْہُ بِقَلْبِہٖ فَلَوْ حَفِظَ فِیْ کِتَابٍ ثُمَّ نَقَلَ اِلَی االنَّاسِ دَخَلَ فِیْ وَعْدِ الْحَدِیْثِ وَقَالَ الْمُنَاوِیُّ قَوْلُہ‘ مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَیْ نَقَلَ اِلَیْھِمْ بِطَرِیْقِ التَّخْرِیْجِ وَالْاِسنَادِ وَقِیْلَ مَعْنٰی حَفِظَھَا اَنْ یَنْقُلَھَا اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَاِنْ لَّمْ یَحْفَظْھَا وَلَا عَرَفَ مَعْنَاھَاوَقَوْلُہ‘ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا صِحَاحًا اَوْحِسَانَا قِیْلَ اَوْضِعْافًا یُعْمَلُ بِھَا فِی الْفَضَائِلِ اھ فَلِلَّہِ دَرُّ الْاِسْلَامِ مَا اَیْسَرَہ‘ وَلِلّٰہِ دَرُّاَھْلِہٖ مَا اَجْوَدَ مَا اسْتَنْبَطُوْا، رَزَقَنِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَاِیَّاکُمْ کَمَالَ الْاِسْلَامِ وَمِمَّالَابُدَّ مِنَ التَّنْبِیْہِ عَلَیْہِ اَنِّیْ اِعْتَمَدْتُّ فِی التَّخْرِیْجِ عَلَی الْمِشْکٰوۃِ وَتَخْرِیْجِہٖ وَشَرْحِہِ الْمِرْقَاۃِ وَشَرْحِ الْاِحْیَائِ لِلسَّیِّدِ مُحَمَّدِن الْمُرْتَضٰی وَالتَّرْغِیْبِ لِلْمُنْذِرِیِّ وَمَا عَزَوْتُ اِلَیْھَا لِکَثْرَۃِ الْاَخْذ عَنْھَا وَمَا اَخَذْتُ عَنْ غَیْرِھَاعَزَوْتُہ‘اِلٰی مَاْخَذِہ وَیَنْبَغِیْ لِلْقَارِیْ مُرَاعَاتُ اٰدَابِ التِّلَاوَ ۃِ عِنْدَ الْقِرَائَ ۃِ ۔
اس جماعت کیساتھ حشر ہونے کے امید میں جن کے بارے میں حضور ﷺکا ارشاد ہے کہ جو شخص میری امت کیلئے ان کے دینی امور میں چالیس حدیثیں محفوظ کرے گا حق تعالی شانہ اس کو قیامت میں عالم اٹھائے گا اور میں اس کیلئے سفارشی اور گواہ بنوں گا علقمی کہتے ہیں کہ محفوظ کرنا شے کے منضبط کرنے اور ضائع ہونے سے حفاظت کا نام ہے چاہے بغیر لکھے بر زبان یاد کر لے یا لکھ کر محفوظ کر لے اگرچہ یاد نہ ہو پس اگر کوئی شخص کتاب میں لکھ کر دوسروں تک پہنچا دے وہ بھی حدیث کی بشارت میں داخل ہو گا مناوی کہتے ہیں میری امت پر محفوظ کر لینے سے مراد ان کی طرف نقل کرنا ہے سند کے حوالے کیساتھ اور بعض نے کہا ہے کہ مسلمانوں تک پہنچانا ہے اگرچہ وہ برزبان یاد نہ ہوں نہ انکے معنی معلوم ہوں اسی طرح چالیس حدیثیں بھی عام ہیں کہ سب صحیح ہوں یا حسن یا معمول درجہ کی ضعیف جن پر فضائل میں عمل جائز ہو اﷲ اکبر اسلام میں بھی کیا کیا سہولتیں ہیں اور تعجب کی بات ہے کہ علماء نے بھی کس قدر باریکیاں نکالی ہیں حق گ کمال اسلام مجھے بھی نصیب فرماویں اور تمہیں بھی اس جگہ ایک ضروری امر پر متنبہ کرنا بھی لا بدی ہے وہ یہ کہ میں نے احادیث کا حوالہ دینے میں مشکوۃ تنقیح الرواۃ مرقاۃ اور احیاء العلوم کی شرح اور منذری کی ترغیب پر اعتما کیا ہے اور کثرت سے ان سے لیا ہے اسلئے انکے حوالہ کی ضرورت نہیں سمجھی۔ البتہ انکے علاوہ کہیں سے لیا ہے تو اسکا حوالہ نقل کر دیا نیزقاری کیلئے تلاوت کے وقت اسکے آداب کی رعایت بھی ضروری ہے ۔مقصود سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کلام مجید پڑھنے کے کچھ آداب بھی لکھ دئے جائیں کہ
بے ادب محروم گشت از فضل رب
مختصر طور پر آداب کا خلاصہ یہ ہے کلام اﷲ شریف معبود کا کلام ہے محبوب و مطلوب کے فرمودہ الفاظ ہیں ۔
جن لوگوں کو محبت سے کچھ واسطہ پڑا ہے وہ جانتے ہیں کہ معشوق کے خط کی محبوب کی تقریر و تحریر کی کسی دل کھوئے ہوئے کے یہاں کیا وقعت ہوتی ہے اس کے ساتھ جو شیفتگی و فریفتگی کا معاملہ ہوتا ہے اور ہونا جاہئے وہ قواعد و ضوابط سے بالاتر ہے ۔ ع
محبت تجھ کو آداب محبت خود سکھا دے گی
اس وقت اگر جمال حقیقی اور انعامات غیر متناہی کا تصور ہو تو محبت موجزن ہو گی اس کے ساھ ہی وہ احکم الحاکمین کا کلام ہے سلطان السلاطین کا فرمان ہے اس سطوت و جبروت والے باشاہ کا قانون ہے کہ جس کی ہمسری نہ کسی بڑے سے بڑے سے ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے جن لوگوں کو سلاطین کے دربار سے کچھ واسطہ پڑ چکا ہے وہ تجربے سے اور جن کو سابقہ نہیں پڑا وہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سلطانی فرمان کی ہیبت قلوب پر کیا ہو سکتی ہے کلام الٰہی محبوب و حاکم کا کلام ہے اسلئے دونوں آداب کا مجموعہ اس کے ساتھ برتنا ضروری ہے ۔
حضرت عکرمہs جب کلام پاک پڑھنے کے لئے کھولا کرتے تھے تو بے ہوش ہو کر گر جاتے تھے اور زبان پر جاری ہو جاتا تھا ھذا کلام ربی ھذا کلام ربی ( یہ میرے رب کا کلام ہے یہ میرے رب کا کلام ) یہ ان آداب کا اجمال ہے اور ان تفصیلات کا اختصار ہے جو مشائخ نے آداب تلاوت میں لکھے ہیں جب کی کسی قدر توضیح بھی ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جن کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ بندہ نوکر بن کر نہیں چاکر بن کر نہیں بلکہ بندہ بن کر آقا و مالک محسن و منعم کا کلام پڑھے صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص اپنے کو قرات کے آداب سے قاصر سمجھتا رہے گا وہ قرب کے مراتب میں ترقی کرتا رہے گا اور جو اپنے کو رضا و عجب کی نگہ سے دیکھے گا وہ ترقی سے دور ہو گا۔
آداب
مسواک اور وضو کے بعد کسی یک سوئی کی جگہ میں نہایت وقار و تواضع کے ساتھ روبہ قبلہ بیٹھے اور نہایت ہی حضور قلب اور خشوع کے ساتھ اس لطف سے جو اس وقت کے مناسب ہے اس طرح پڑھے کہ گویا خود حق سبحانہ و عزاسمہ کو کلام پاک سنا رہا ہے اگر وہ معنی سمجھتا ہے تو تدبر و تفکر کے ساتھ آیات وعدہ رحمت پر دعائے مغفرت و رحمت مانگے اور آیات عذاب و وعیدپر اﷲ سے پناہ چاہے کہ اس کے سوا کوئی بھی چارہ ساز نہیں آیات تنزیہ و تقدیس پر سبحان اﷲ کہے اور از خود تلاوت میں رونا نہ آوے تو بہ تکلف رونے کی سعی کرے۔
والذحالات الغرابم لمغرم
شکوی الھوی بالمدمع المھراق
ترجمہ: کسی عاشق کے لئے سب سے زیادہ لذت کی حالت یہ ہے کہ محبوب سے اس کا گلہ ہو رہا ہو اس طرح کہ آنکھوں سے بارش ہو ۔
پس اگر یاد کرنا مقصود نہ ہو تو پڑھنے میں جلدی نہ کرے کلام پاک کو رحل یا تکیہ یا کسی اونچی جگہ پر رکھے تلاوت کے درمیان میں کسی سے کلام نہ کرے اگر کوئی ضرورت پیش ہی آ جا وے تو کلام پاک بند کر کے بات کرے اور پھر اس کے بعد اعوذ پڑھ کر دوبارہ شرو ع کرے اگر مجمع مین لوگ اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تو آہستہ پڑھنا افضل ہے ورنہ آواز سے پڑھنا اولے ہے مشائخ نے تلاوت کے جھ آداب ظاہری اور چھ باطنی ارشاد فرمائے ہیں ۔
ظاہری آداب
اول غایت احترام سے با وضو روبہ قبلہ بیٹھے دوم پڑھنے میں جلدی نہ کرے ترتیل و تجوید سے پڑھے سوم رونے کی سقی کرے چاہے بہ تکلف ہی کیوں نہ ہو چہارم آیات رحمت و آیات عذاب کا حق ادا کرے جیسا کہ پہلے گذر چکا پنجم اگر ریا کا احتمال ہو یا کسی دوسرے مسلمان کی تکلیف و حرج کا اندیشہ ہو تو آہستہ پڑھے ورنہ آواز سے ششم خوش الحانی سے پڑھے کہ خوش الحانی سے کلام پاک پڑھنے کی بہت سی احادیث میں تاکید آئی ہے
باطنی آداب
اول کلام پاک کی عظمت دل میں رکھے کہ کیسا عالی مرتبہ کلام ہے دوم حق سبحانہ و تقدس کی علو شان اور رفعت و کبریائی کو دل مًن رکھے جس کا کلام ہے سوم دل کو وساوس و خطرات سے پاک رکھے چہارم معانی کا تدبر کرے اور لذت کے ساتھ پڑھے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک شب تمام رات اس آیت کو پڑھ کر گذار دی۔
اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْم (سورۃ مائدہ آیہ ۱۶۴(
اے اﷲ! اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر مغفرت فرمادے تو عزت و حکمت والا ہے
سعید بن جبیر ؒنے ایک رات اس آیت کو پڑھ کر صبح کر دی۔وَامْتَازُوالْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْن )سورۃ یٰس آیہ ۱۴(
او مجرمو! آج قیامت کے دن فرماں بر داروں سے الگ ہو جاؤ۔
پنجم: جن آیات کی تلاوت کر رہا ہے دل کو ان کے تابع بنا دے مثلا اگر آیت رحمت زبان پر ہے دل سرور محص بن جائے اور آیت عذاب اگر آگئی ہے تو دل لرز جائے ششم کانوں کو اس درجہ متوجہ بنا دے کہ گویا خود حق سبحانہ و تقدس کلام فرما رہے ہیں اور یہ سن رہا ہے حق تعالی شانہ محص اپنے لطف و کرم سے مجھے بھی ان آداب کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمہیں بھی۔
مسئلہ: اتنے قرآن شریف کا حفظ کرنا جس سے نماز ادا ہو جائے ہر شخص پر فرض ہے اور تمام کلام پاک کا حفظ کرنا فرص کفایہ ہے اگر کوئی بھی العیذ باﷲ حافظ نہ رہے تو تمام مسلمان گناہ گار ہیں بلکہ زرکشی سے ملا علی قاری نے نقل کیا ہے کہ جس شہر یا گاؤںمیں کوئی قرآن پاک پڑھنے والا نہ ہو تو سب گناہ گار ہیں اس زمانہ ضلالت و جہالت میں جہاں ہم مسلمانوں میں اور بہت سے دینی امور میں گمراہی پھیل رہی ہے وہاں ایک عام آواز یہ بھی ہے کہ قرآن شریف کے حفظ کرنے کو فضول سمجھا جا رہا ہے اس کے الفاظ رٹنے کو حماقت بتلایا جاتا ہے اس کے الفاظ یاد کرنے کو دماغ سوزی اور تضییع اوقات کہا جاتا ہے اگر ہماری بد دینی کی یہی ایک وبا ہوتی تو اس پر کچھ تفصیل سے لکھا جاتا مگر یہاں ہر ادا مرض ہے اور ہر خیال باطل ہی کی طرف کھینچتا ہے اس لیے کس کس چیز کو رویے اور کس کس کا شکوہ کیجئے۔ فالی اﷲ المشتکی و اﷲ المسستعان ۔
۱۔ عَنْ عُثْمَاؓنَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہ‘۔)رواہ البخاری وابوداؤدو الترمذی والنسائی وابن ماجۃ ھٰذافی الترغیب وعزاہ الٰی مسلم ایضًالکن حکی الحافظ فی الفتح عن ابی العلائِ اَنَّ مسلمًا سکت عنہ)۔
حضرت عثمان سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن شریف کو سیکھے اور سکھائے اکثر کتب میں یہ روایت واو کے ساتھ ہے جس کا ترجمہ لکھا گیا ہے اس صورت میں فضیلت اس شخص کے لئے ہے جو کلام پاک سیکھے اور اس کے بعد دوسروں کو سکھائے لیکن بعص کتب میں یہ روایت او کے ساتھ وارد ہوئی ہے اس صورت میں بہتری اور فضیلت عام ہو گی کہ خود سیکھے یا دوسروں کو سکھائے دونوں کے لئے مستقل خیر و بہتری ہے ۔
کلام پاک چونکہ اصل دین ہے اس کی بقاء اشاعت پر ہی دین کا مدار ہے اس لیے اس کے سیکھنے اور سکھانے کا افضل ہونا ظاہر ہے کسی توضیح کا محتاج نہیں البتہ اس کی انواع مختلف ہیں کمال اس کا یہ ہے کہ مطالب و مقاصد سمیت سیکھے اور ادنی درجہ اس کا یہ ہے کہ فقط الفاظ سیکھے نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد حدیث مذکور کی تائید کرتا ہے جو سعید بن سلیم سے مرسلا منقول ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو حاصل کر لے اور پھر کسی دوسرے شخص کو جو کوئی اور چیز عطا کیا گیا ہو اپنے سے افضل سمجھے تو اس سے حق تعالیٰ شانہ کے اس انعام کی جو اپنے کلام پاک کی وجہ سے اس پر فرمایا ہے تحقیر کی ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب کلام الی سب کلاموں سے افضل ہے جیسا کہ مستقل احادیث میں انے والا ہے تو اس کا پڑھنا پڑھانا یقینا سب چیزوں سے افضل ہونا ہی چاہئے ایک دوسری حدیث سے ملا علی قاری نے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کلام پاک کو حاصل کر لیا اس نے علوم نبوت کو اپنی پیشانی میں جمع کر لیا سہل تستری فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کے کلام پاک کی محبت قلب میں ہو شرح احیاء میں ان لوگوں کی فہرست میں جو قیامت کے ہولناک دن میں عرش کے سایہ کے نیچے رہیں گے ان لوگوں کو بھی شمار کیا ہے جو مسلمانوں کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہیں نیز ان لوگوں کو بھی شمار کیا ہے جو بچپن میں قرآن شریف سیکھتے ہیں اور بڑے ہو کر اس کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں ۔
۲۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الرَّب تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْاٰنُ عَنْ ذِکْرِیْ وَ مَسْئَلَتِیْ اَعْطَیْتُہ‘ اَفْضَلَ مَا اُعْطِی السِّائِلِیْنَ وَفَضْلُ کَلَامِ اللّٰہِ عَلٰی سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ اللّٰہِ عَلٰی خَلْقِہٖ (رواہ الترمذی والدرامی والبیھقی فی الشعب(
ابو سعیدؓ سے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ حق سبحانہ و تقدس کا یہ فرمان ہے کہ جس شخص کو قرآن شریف کی مشغولی کی وجہ سے ذکر کرنے اور دعائیں مانگنے کی فرصت نہیں ملتی میں اسکو سب دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور اﷲ تعالی شانہ کے کلام کو سب کلاموں پر ایسی فضیلت ہے جیسی کہ خود حق تعالیٰ شانہ کو تمام مخلوق پر۔
یعنی جس شخص کو قرآن پاک کے یاد کرنے یا جاننے اور سمجھنے میں اس درجہ مشغولی ہے کہ کسی دوسری دعا وغیرہ کے مانگنے کا وقت نہیں ملتا میں دعا مانگنے والوں کے مانگنے سے بھی افضل چیز اس کو عطا کروں گا دنیا کا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی شخص شیرینی وغیرہ تقسیم کر رہا ہو اور کوئی مٹھائی لینے والا اس کے ہی کام میں مشغول ہو اور اس کی وجہ سے نہ آ سکتا ہو تو یقینااس کا حصہ پہلے ہی نکلا لیا جاتا ہے ایک دوسری حدیث میں اسی موقہ پر مذکور ہے کہ میں اس کو شکر گزار بندوں کے ثواب سے افضل ثواب عطا کروں گا ۔
۳۔ عَنْ عُقْبَۃَؓ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْل اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَنَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ فَقَالَ اَیُّکُمْ یُحِبُّ اَنْ یَّغْدُوَکُلَّ یَوْمٍ اِلٰی بُطْحَانَ اَوِالْعَقِیْقِ فَیَاْتِیْ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَا وَیْنِ فِیْ غَیْرِ اِثْم وَلَا قَطِیْعَۃِ رَحِم فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ کُلُّنَا نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ اَفَلَا یَغْدُو اَحَدُ کُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَیُعَلِّمَ اَوْ یَقْرَائَ اٰیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌلَّہ‘ مِنْ نَّاقَتَیْنِ وَ ثَلٰثٌ خَیْرٌلَّہٗ مِنْ ثَلٰثٍ وَاَربَعٌ خَیْرٌ لَّہُ مِنْ اَرْبَعٍ وَمِنْ اَعْدَادِھِنَّ مِنَ الْاِ بِلِ ۔)راوہ مسلم وا بوداود(
عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے ہم لوگ صفہ میں بیٹھے تھے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس کو پسند کرتا ہے کہ علی الصبح بازار بطحان یا عقیق میں جاوے اوردو اونٹنیاں عمدہ سے عمدہ بلا کسی قسم کے گناہ اور قطع رحمی کے پکڑ لائے صحابہ نے عرض کیا کہ اس کو تو ہم میں سے ہر شخص پسند کرے گا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو آیتون کا پڑھنا یا پڑھا دینا دو اونٹنیوں سے اور تین آیات کا تین اونٹنیوں سے اسی طرح چار کا چار سے افضل ہے اور ان کے برابر اونٹوں سے افضل ہے
صفہ :مسجد نبوی میں ایک خاص معین چبوترہ کا نام ہے جو فقراء مہاجرین کی نشست گاہ تھی اصحاب صفہ کی تعداد مختلف اوقات میں کم و بیش ہو تی رہتی تھی علامہ سیوطی نے ایک سو ایک نام گنوائے ہیں اور مستقل رسالہ ان کے اسماے گرامی میں تصنیف کیا ہے بطحان اور عقیق مدینہ طیبہ کے پاس دو جگہ ہیں جہاں اونٹوں کا بازار لگتا تھا عرب کے نزدیک اونٹ نہایت پسندہ چیز تھی بالخصوص وہ اونٹنی جس کا کوہان فربہ ہو بغیر گناہ کا مطلب یہ ہے کہ بے محنت چیز اکثر یا جھین کر کسی سے لی جاتی ہے یا یہ کہ میراث وعیرہ میں کسی رشتہ دار کے مال پر قبضہ کر لے یا کسی کا مال چرا لے اس لئے حصور اکرمﷺ نے ان سب کی نفی فر ما دی کہ بالکل بلا مشقت اور بدون کسی گناہ کے حاصل کر لینا جس قدر پسندیدہ ہے اس سے زیادہ بہتر و افضل ہے چند آیات کا حاصل کر لینا اور یہ یقینی امر ہے کہ ایک دو اونٹ در کنار ہفت اقلیم کی سلطنت بھی اگر کسی کو مل جاوے تو کیا آج نہیں تو کل موت اس سے جبراً جدا کر دے گی لیکن ایک آیت کا اجر ہمیشہ کے لئے ساتھ رہنے والی چیز ہے دنیا ہی میں دیکھ لیجئے کہ آپ کسی شخص کو ایک روپیہ عطا فر ما دیجئے اس کی اس کو مسرت ہو گی بمقابلہ اس کے کہ ایک ہزار روپیہ اس کے حوالے کر دیں کہ اس کو اپنے پاس رکھ لے میں ابھی واپس آ کر لے لوں گا کہ اس صورت میں بوجز اس پر بار امانت کے اور کوئی فائدہ اس کو حاصل نہیں ہو گا در حقیقت اس حدیث شریف میں فانی و باقی کے تقابل پر تنبیہ بھی مقصود ہے کہ آدمی اپنی حرکت و سکون پر غور کرے کہ کسی فانی چیز پر اس کو ضائع کر رہا ہوں یا باقی رہنے والی چیز پر اور پھر حسرت ہے ان اوقات پر جو باقی رہنے والا وبال کماتے ہوں حدیث کا اخیر جملہ اور ان کے برابر اونٹوں سے افصل ہے تین مطالب کا متحمل ہے اول یہ کہ چار کے عدد تک بالتفصیل ارشاد فرمایا اور اس کے مافوق کو اجمالاً فرما دیا کہ جس قدر آیات کوئی شخص حاصل کرے گا اس کے بقدر اونٹوں سے افضل ہے اس صورت میں اونٹون سے جنس مراد ہے خواہ اونٹ ہوں یا اونٹنیاں اور بیان ہے چار سے زیادہ کا اس لئے کہ چار تک کا ذکر خود تصریحاً مذکور ہو چکا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں اعداد کا ذکر ہے جو پہلے مذکور ہو چکے اور مطلب یہ ہے کہ رغبات مختلف ہوا کرتی ہیں کسی کو اونٹنی پسند ہے تو کوئی اونٹ کا گرویدہ ہے اس لئے حضور نے اس لفظ سے یہ ارشاد فرما دیا کہ ہر آیت ایک اونٹنی سے بھً افضل ہے اور اگر کوئی شخص اونٹ سے محبت رکھتا ہو تو ایک آیت ایک اونٹ سے بھی افضل ہے تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ بیان انہیں اعداد کا ہے جو پہلے ذکر کئے گئے چار سے زائد کا نہیں ہے مگر دوسرے مطلب میں جو تقریر گذری کہ ایک اونٹنی یا ایک اونٹ سے افضل ہے یہ نہیں بلکہ مجموعہ مراد ہے کہ ایک آیت ایک اونٹ اور ایک اونٹنی دونوں کے مجموعہ سے افضل ہے اسی طرح ہر آیت اپنے موفق عدد اونٹنی اور اونٹ دونوں کے مجموعے سے افضل ہے تو گویا فی آیت کا مقابلہ ایک جوڑا سے میرے والد صاحب نور اﷲ مرقدہ نے اسی مطلب کو پسند فرمایا ہے کہ اس میں فضیلت کی زیادتی ہے اگرچہ یہ مراد نہیں کہ ایک آیت کا اجر ایک اونٹ یا دو اونٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے یہ صرف تنبیہ اور تمثیل ہے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ایک یت جس کا ثواب دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے ہفت اقلیم کی بادشاہت سے جو فنا ہو جانے ولی ہے افضل اور بہتر ہے ۔
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے بعض تجارت پیشہ احباب نے ان سے درخواست کی کہ جہاز سے اترنے کے وقت حضرت جدہ تشریف فرما ہوں تا کہ جناب کی برکت سے ہمارے مال میں نفع ہو اور مقصود یہ تھا کہ تجارت کے منافع سے حضرت کے بعض خدام کو کچھ نفع حاصل ہو اول تو حضرت نے عذر فرمایا مگر جب انھوں نے اصرار کیا تو حضرت نے دریافت فرمایا کہ تمہیں زائد سے زائد جو نفع مال تجارت میں ہوتا ہے وہ کیا مقدار ہے انھوں نے عرض کیا کہ مختلف ہوتا ہے زائد سے زائد ایک کے دو ہو جاتے ہیں حضرت نے فرمایا کہ اس قلیل نفع کے لئے اس قدر مشقت اٹھاتے ہو اتنی سے بات کے لئے ہم حرم محترم کی نماز کیسے چھوڑ دیں جہاں ایک کے لاکھ ملتے ہیں در حقیقت مسلمانوں کے غور کرنے کی جگہ ہے کہ وہ ذرا سے دنیوی متاع کی خاطر کس قدر دینی منافع کو قربان کر دیتے ہیں ۔
۴۔ عَنْ عَاشَۃَ قَا لَتْ قَا لَ رَ سُوْلُ اللّٰہِ  اَلَمُاھِرُ بِا لْقُرْاٰنِ مَعَ السَّفَرَۃِ ا لْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرُآنَ وَیِتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَھُوَ عَلَیْہِ شَاقّ’‘ لَہ‘ اَجْرَانِ۔ (راوہ البخاری و مسلم و بوداود والترمذی والنسا ئی وابن ما جۃ(
حضرت عائشہ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ قرآن کا ماہر ان ملائکہ کے ساتھ ہے جو میر منشی ہیں اور نیک کار ہیں اور جو شخص قرآن شریف کو اٹکتا ہوا پڑھتا ہے اور اس میں دقت اٹھاتا ہے اس کو دوہرا اجر ہے ۔
قرآن شریف کا ماہر وہ کہلاتا ہے جس کو یاد بھی خوب ہو اور پڑھتا بھی خوب ہو اور اگر معانی و مراد پر بھی قادر ہو تو پھر کیا کہنا ملائکہ کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی قرآن شریف کے لوح محفوظ سے نقل کرنے والے ہیں اور یہ بھی اس کا نقل کرنے والا اور پہنچانے والا ہے تو گویا دونوں ایک ہی مسلک پر ہیں یا یہ کہ حشر میں ان کے ساتھ اجتماع ہو گا اٹکنے والے کو دوہرا اجر ایک اس کی قرآئت کا دوسرا اس کی اس مشققت کا جو اس بار بار کے اٹکنے کی وجہ سے برداشت کرتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اس ماہر سے بٹھ جا وے ماہر کیلئے جو فضیلت ارشاد فرمائی گئی ہے وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے کہ مخصوص ملائکہ کے ساتھ اس کا اجتماع فرمایا ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کے اٹکنے کی وجہ سے اس مشقت کا اجر مستقل ملے گا لہٰذا اس عذر کی وجہ سے کسی چھوڑنا نہیں چاہئے ملا علی قاری نے طبرانی اور بیہقی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن شریف پڑھتا ہے اور وہ یاد نہیں ہوتا تو اس کیلئے دوہرا اجر ہے اور جو اس کو یاد کرنے کی تمنا کرتا رہے لیکن یاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگروہ پڑھنا بھی ً نہیں چھوڑتا تو حق تعالی شانہ اس کا حفاظ ہی کے ساتھ حشر فرمائیں گے ۔
۵۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ اِلَّا عَلٓیٰ اثُنَیْنِ رَجُل’‘ اٰتَاہُٓ اللّٰہُ الْقُرْاٰنَ فَھُوَ یَقُوْمُ بِہٖ اٰنَآئَ اللَّیْلِ وَ اٰنَآئَ النَّھَارِ وَرَجُل’‘ اٰتاَہُ اللّٰہُ مَا لًا فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ اٰنَآَء ا للَّیْلِ وَاٰنَآئَ النَّھَار (راوہ البخاری والترمذی والنسائی(
ابن عمرؓ سے حضور اقدس ﷺکا یہ ارشاد منقول ہے کہ حسد دو شخصوں کے سوا کسی پر جائز نہیں ایک وہ جس کو حق تعالیٰ شانہ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس میں مشغول رہتا ہے دوسرے وہ جس کو حق سبحانہ نے مال کی کثرت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس کو خرچ کرتا ہے ۔
قرآن شریف کی آیات اور احادیث کثیرہ کے عموم سے حسد کی برائی اور ناجائز ہونا مطلقاً معلوم ہوتا ہے اس حدیث شریف سے دو آدمیوں کے بارے میں جواز معلوم ہوتا ہے چونکہ وہ روایات زیادہ مشہور و کثیر ہیں اس لئے علماء نے اس حدیث کے دو مطلب ارشاد فرمائے ہیں اول یہ کہ حسد اس حدیث شریف میں رشک کے معنی میں ہے جس کو عربی میں غبطہ کہتے ہیں حسد اور غبطہ میں یہ فرق ہے کہ حسد میں کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو ہوتی ہے کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے خواہ اپنے پاس حاصل ہو یا نہ اور رشک میں اپنے پاس اس کے حصول کی تمنا و آرزو ہوتی ہے عام ہے کہ دوسرے سے زائل ہو یا نہ ہو چونکہ حسد بالاجماع حرام ہے اس لئے علما ء نے اس لفظ حسد کو مجازاً غبطہ کے معنی میں ارشاد فرمایا ہے جو دنیوی امور میں مباح ہے اور دینی امور میں مستحب دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ بسا اوقات کلام علی سبیل الفرض و التقدیر مستعمل ہوتا ہے یعنی اگر حسد جائز ہوتا تو یہ دو چیزیں ایسی تھیں کہ ان میں جائز ہوتا ۔
۶۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ المُوُمِنِ الَّذِیْ یَقْرَاُ اُلْقُرْاَنَ مَثَلُ الْاُ تْرُجَّۃ  رِیْحُھَا طَیِّبٌ وَّطَعْمُھَا طَیِّبٌ وَّمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِیٰ لَا یَقْرأُالْقُرُاٰنَ مَثَلُ الْتَّمْرَۃِ لَا رِیْحَ لَھَا وَطَعْمُھَا حُلُوٌّ وَمَّثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِیْ لَا یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ لَیْسَ لَھَا رِیْحٌ وَّطَعْمُھَا مُرُّوَّمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِیْ یَقْرَأُالْقُرْاٰنَ مَثَل  الرَّیْحَانَۃِ رِیْحُھَا طَیِّبٌ وَّ طَعْمُھَا مُرٌّ۔ (رواہ البخاری و مسلم والنسائی وابن ماج(
ابو موسیؓ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو مؤمن قرآن شریف پڑھتا ہے اس ما مثال ترنج کی سی ہے اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور مزہ بھی لذیذ اور جو مومن قرآن شریف نہ پڑھے اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ خوزبو کچھ نہیں مگر مزہ شیریں ہوتا ہے اور جو منافق قرآن شریف نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل کے پھل کی سی ہے کہ مزہ کڑوا اور خوشبو کچھ نہیں اور جو منافق قرآن شریف پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبودار پھول کی سی ہے کہ خوشبو عمدہ اور مزہ کڑوا۔
مقصود اس حدیث سے غیر محسوس شے کو محسوس کے ساتھ تشبیہ دینا ہے تا کہ ذہن میں فرق کلام پاک کے پڑھنے اور نہ پڑھنے میں سہولت سے آ جاوے ورنہ ظاہر ہے کہ کلام پاک کی حلاوت و مہک سے کیا نسبت ترنج و کھجور کو اگرچہ ان اشیاء کے ساتھ تشبیہ میں خاص نکات بھی ہیں جو علوم نبویہ سے تعلق رکھتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے علوم کی وسعت کی طرف مشیر ہیں مثلاً ترنج ہی کو لے لیجئے منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے معدہ کو صاف کرتا ہے ہضم میں قوت دیتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ منافع ایسے ہیں کہ قرآت قرآن شریف کے ساتھ خاص مناسبت رکھتے ہیں مثلاً منہ کا خوشبودار ہونا باطن کا صاف کرنا روحانیت میں قوت پیدا کرنا یہ منافع تلاوت میں ہیں جو پہلے منافع کے ساتھ بہت ہی مشابہت رکھتے ہیں ایک خاص کا اثر ترنج میں یہ بھی بتلایا جاتا ہے جس گھر میں ترنج ہو وہاں جن نہیں جاسکتا اگر یہ صحیح ہے تو پھر کلام پاک کے ساتھ خاص مشابہت ہے بعض اطباء سے میں نے سنا ہے کہ ترنج سے حافظہ بھی قوی ہوتا ہے اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے احیاء میں نقل کیا ہے کہ تین چیزیں حافظہ کو بڑھاتی ہیں ۔
(1) مسواک اور (2) روزہ اور (3) تلاوت کلام اﷲ شریف
ابو داؤد کی روایت میں اس حدیث کے ختم پر ایک اور مضمون نہایت ہی مفید ہے کہ بہترہم نشیں کی مثال مشک والے آدمی کی سی ہے اگر تجھے مشک نہ مل سکا تو اس کی خوشبو تو کہیں گئی نہیں اور بدتر ہم نشین کی مثال آگ کی بھٹی والے کی طرح سے ہے کہ اگر سیاہی نہ پہنچے تب بھی دھواں تو کہیں گیا ہی نہیں نہایت ہی اہم بات ہے آدمی کو اپنے ہم نشینوں پر بھً نظر کرنا چاہئے کہ کس قسم کے لوگوں میں ہر وقت نشست و برخاست ہے ۔
۷۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ (رواہ مسلم (
حضرت عمرحضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند مرتبہ کرتا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے ۔
یعنی جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں عمل کرتے ہیں حق تعالی شانہ ان کو دنیا و آخرت میں رفعت و عزت عطا فرماتے ہیں اور جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے حق سبحانہ و تقدس ان کو ذلیل کرتے ہیں کلام اﷲ شریف کی آیات سیً بھی یہ مضمون ثابت ہوتا ہے ایک جگہ ارشاد ہے یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا حق تعالیٰ شانہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت فرماتے ہیں اور بہت سے لوگوبں کو کمراہ دوسری جگہ ارشاد ہے وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَشِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْ مِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَا رًا( بنی اسرائیل ۔۹)حضور اکرمﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ اس امت کے بہت سے منافق قاری ہوں گے بعض مشائخ سے احیاء میں نقل کیا ہے کہ بندہ ایک سورت کلام پاک کی شروع کرتا ہے تو ملائکہ اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ فارغ ہو اور دوسرا شخص ایک سورت شروع کرتا ہے تو ملائکہ اس کے ختم تک اس پر لعنت کرتے ہیں بعض علماء سے منقول ہے کہ آدمی تلاوت کرتا ہے اور خود اپنے اوپر لعنت کرتا ہے اور اس کو خبر بھی نہیں ہوتی قرآن شریف میں پڑھتا ہے اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلیَ الظَّالِمیْن( ہود ۔۲)اور خود ظالم ہونے کی وجہ سے اس وعید میں داخل ہوتا ہے اسی طرح پڑھتا ہے لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلیَ الْکٰذِبِیْن (سورہ آل عمران۔(۶) اور خود جھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا مستحق ہوتا ہے ۔
عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے نافع بن عبدالحارث کو مکہ مکرمہ کا حاکم بنا رکھا تھا ان سے ایک دفعہ دریافت فرمایا کہ جنگلات کا ناظم کس کو مقرر کر رکھا ہے انھوں نے عرض کیا کہ ابن ابزٰی ؓکو حضرت عمر نے پوچھا کہ ابن ابزٰی کون شخص ہے انہوں نے عرض کیا کہ ہمارا ایک غلام حضرت عمر نے اعتراضاً فرمایا کہ غلام کو امیر کیوں بنا دیا انہوں نے کہا کہ کتاب اﷲ کا پڑھنے والا ہے حضرت عمر ؓنے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اس کلام کی بدولت بہت سے لوگوں کے رفع درجات فرماتے ہیں اور بہت سوں کو پست کرتے ہیں۔
۸۔عَنْ عَبْدِ الرّحَمْنٰؓ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ  قَالَ ثَلٰثُ تَحْتَ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ اَلْقُرْاٰنُ یُحَاُّج الْعِبَادَلَہٗ ظَھْرٌوَّبَطْنٌ وَّالْاَمَانَۃُ وَالرَّحِم ُ تُنَادِیْ اَلَا مَنْ وَّصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللَّہُ وَمَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللَّہُ (رواہ فی شرح السنۃ)
عبدالرحمن بن عوف حضور اقدس ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی ایک کلام پاک کہ جھگڑے گا بندوں سے قرآن پاک کیلئے ظاہر ہے اور باطن دوسری چیز امانت ہے اور تیسری رشتہ داری جو پکارے گی کہ جس شخص نے مجھ کو جوڑا اﷲ اسکو اپنی رحمت سے ملاوے اور جس نے مجھ کو توڑا اﷲ اپنی رحمت سے اسکو جدا کرے۔
ان چیزوں کے عرش کے نیچے ہونے سے مقصود ان کا کمال قرب ہے یعنی حق سبحانہ و تقدس کے عالی دربار میں بہت ہی قریب ہوں گی کلام اﷲ شریف کے جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کی رعایت کی اس کا حق ادا کیا اس پر عمل کیا ان کی طرف سے دربار حق سبحانہ میں جھگڑے گا اور شفاعت کرے گا ان کے درجے بلند کرائے گا ملا علی قاری نے بروایت ترمذی نقل کیا ہے کہ قرآن شریف بارگاہ الی میں عرص کرے گا کہ اس کو جوڑا مرحمت فرمائیں تو حق تعالی شانہ کرامت کا تاج مرحمت فرماویں گے پھر وہ زیادتی کی درخواست کرے گا تو حق تعالیٰ شانہ اکرام کا پورا جوڑا مرحمت فرماویں گے پھر وہ درخواست کرے گا کہ یا اﷲ آپ اس شخص سے راضی ہو جائیں تو حق سبحانہ و تقدس اس سے رضا کا اظہار فرماویں گے اور جب کہ دنیا میں محبوب کی رضا سے بڑھ کر کوئی بھی بڑی سے بڑی نعمت نہیں ہوتی تو آخرت میں محبوب کی رصا کا مقابلہ کون سے نعمت کر سکتی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حق تلفی کی ہے ان سے اس بارے مطالبہ کرے گا کہ میری کیا رعایت کی میرا کیا حق ادا کیا شرح احیاء میں امام صاحب سے نقل کیا ہے کہ سا میں دو مرتبہ ختم کرنا قرآن شریف کا حق ہے اب وہ حضرات جو کبھی بھول کر بھی تلاوت نہیں کرتے ذرا غور فرمالیں کہ اس قوی مقابل کے سامنے کیا جواب دہی کریں گے موت بہر حال آنے والی چیز ہے اس سے کسی طرح مفر نہیں قرآن شریف کے ظاہر اور باطن ہونے کا مطلب ظاہر یہ ہے کہ ایک ظاہری معنی ہیں جن کو ہر شخص سمجھتا ہے اور ایک باطنی معنی ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھتا جس کی طرف حضور اقدس ﷺ نے اس ارشاد نے اشارہ کیا ہے جو شخص قرآن پاک میں اپنی رائے سے کچھ کہے اگر وہ صحیح بھی ہو تب بھی اس شخص نے خطا کی بعض مشائخ نے ظاہر سے مراد اس کے الفاظ فرمائے ہیں کہ جن کی تلاوت میں ہر شخص برابر ہے اور باطن سے مراد اس کے معنی اور مطالب ہیں جو حسب استعداد مختلف ہوتے ہیں ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر علم چاہتے ہو تو قرآن پاک کے معانی میں غورو فکر کرو کہ اس میں اورلین و آخرین کا علم ہے مگر کلام پاک کے معنی کے لئے جو شرائط و آداب ہیں ان کی رعایت ضروری ہے یہ نہیں کہ ہمارے زمانے کی طرح سے جو شخص عربی کے چند الفاظ کے معنی جان لے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بغیر کسی لفظ کے معنی جانے اردو ترجمے دیکھ کر اپنی رائے کو اس میں داخل کر دے اہل فن نے تفسیر کے لیے پندرہ علوم پر مہارت ضروری بتلائی ہے وقتی ضرورت کی وجہ سے مختصراً عرص کرتا ہوں جس سے معلوم ہو جاوے گا کہ بطن کلام پاک تک رسائی ہر شخص کو نہیں ہو سکتی اول لغت جس سے کلام پاک کے مفر الفاظ کے معنی معلوم ہو جاویں مجاہد کہتے ہیں کہ جو شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو جائز نہیں کہ بدوں معرفت لغات عرب کے کلام پاک میں کجھ لب کشائی کرے اور چند لعات کا معلوم ہوجانا کافی نہیں اس لیے کہ بسا اوقات لفظ چند معانی میں مشترک ہوتا ہے اور وہ ان میں سے ایک دو معنی جانتا ہے اور فی الواقع اس جگہ کوئی اور معنی مراد ہوتے ہیں دوسری نحو کا جاننا صروری ہے اس لئے کہ اعراب کے تعیر و تبدل سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں اور اعراب کی معرفت نحو پر موقوف ہے تیسرے صرف کا جاننا ضروری ہے اس لئے کہ بنا اور صیغوں کے اختلاف سے معانی بالکل مختلف ہو جاتے ہیں ابن فارس کہتے ہیں کہ جس شخص سے کلم صرف فوت ہو گیا اس سے بہت خچھ فوت ہو گیا علامہ زمخشری اعجوبات تفسیر مین نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کلام پاک کی آیت یوم ندعوا کل اناس بامامھم ترجمہ: ( جس دن کہ پکاریں گے ہم ہر شخص کو اس کے مقتدا اور پیش رو کے ساٹھ ) اس کی تفسیر صرف کی ناواقفیت کی وجہ سے یہ کی کہ جس دن پکاریں گے ہر شخص کو ان کی ماؤں کے ساٹھ امام کا لفظ جو مفرد تھا اس کو ام کی جمع سمجھ گیا اگر وہ صرف سے واقف ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ ام کی جمع امام نہیں جوتھے اشتقاق کا جاننا ضروری ہے اس لئے کہ لفظ جب کہ دو مادوں سے مشتق ہو تو اس کے معنی مختلف ہو ں گے جیسا کہ مسیح کا لفظ ہے کہ اس کا اشتقاق مسح سے بھی ہے جس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہیں اور مساحت سے بھی ہے جس کے معنی پیمائش کے ہیں پانچویں علم معانی کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کی ترکیبیں معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی چھٹے علم بیان کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کا ظہور و خفا تشبیہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے ساتویں علم بدیع جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں یہ تینوں فن علم بلاغت کہلاتے ہیں مفسر کے اہم علوم میں سے ہیں اس لیے کہ کلام پاک جو سراسر اعجاز ہے اس سے اس کا اعجاز معلوم ہوتا ہے اٹھویں علم قرائت کا جاننا بھی ضروری ہے اس لیے کہ مختلف قرائتوں کی وجہ سے مختلف معنی معلوم ہوتے ہیں بعض معنی کی دوسرے معنی پر ترجیح معلوم ہو جاتی ہے نویں علم عقائد کا جاننا بھی ضروری ہے اس لئے کہ کلام پاک میں بعض ایات ایسی بھی ہیں جن کے ظاہری معنی کا اطلاق حق سبحانہ و تقدس پر صحیح نہیں اس لئے ان میں کسی تاویل کی ضرورت پڑے گی جیسے کہ ید اﷲ فوق ایدیھم دسویں اصول فقہ کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ جس سے وجوہ استدلال و استنباط معلوم ہو سکیں گیارھوین اسباب نزول کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ شان نزول سے آیت کے معنی زیادہ وصح ہوں گے اور بسا اوقات اصل معنی کا معلوم ہونا بھی شان نزول پر موقوف ہوتا ہے بارہویں ناسخ و منسوخ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے تا کہ منسوخ شدہ احکام ’’معمول بہا‘‘ سے ممتاز ہو سکیں تیرھویں علم فقہ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں چودھویں ان حادیث کا جاننا ضروری ہے جو قرآن پاک کی مجمل آیات کی تفسیر واقع ہوئی ہیں ۔
ان سب کے بعد پندرھواں وہ علم وہبی ہے جو حق سبحانہ و تقدس کا عطیہ خاص ہے اپنے مخصوص بندوں کو عطا فرماتا ہے جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہے من عمل بما علم ورث اﷲ علم مال یعلم ( جب کہ بندہ اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو جانتا ہے تو حق تعالی شانہ ایسی چیزوں کا علم عطا فرماتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتا ) ۔
اسی کی طرف حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے اشارہ فرمایا جب کہ ان سے لوگوں نے پوچھا کہ حضور اکرم ﷺ نے آپ کو کچھ خاص علوم عطا فرمائے ہیں یا خاص وصایا جو عام لوگوں کے علاوہ آپ کے ساتھ مخصوص ہیں انہوں نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے جنت بنائی اور جان پیدا کی اس فہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس کو اﷲ تعالیٰ شانہ نے اپنے کلام پاک کے سمجھنے کے لئے کسی کو عطا فرمادیں ابن ابی الدنیا کا مقولہ ہے کہ علوم قرآن اور جو اس سے حاصل ہو وہ ایسا سمندر ہے کہ جس کا کنارہ نہیں یہ علوم جو بیان کئے گئے مفسر کے لیء بطور آلہ کے ہیں اگر کوئی شخص ان علوم کی واقفیت بغیر تفسیر کرے تو وہ تفسیر بالرائے میں داخل ہے جس کی ممانعت آئی ہے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے لئے علوم عربیہ طبعاً حاصل تھے اور بقیہ علوم مشکوۃ نبوت سے مستفاد تھے۔ علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ شاید تجھے یہ خیال ہو کہ علم وہبی کا حاصل کرنا بندہ کی قدرت سے باہر ہے لیکن حقیقت ایسی نہیں بلکہ اس کے حاصل کرنے کا طریقہ ان اسباب کا حاصل کرنا ہے جس پر حق تعالی شانہ اس کو مرتب فرماتے ہیں مثلاً علم پر عمل اور دنیا سے بے رغبتی وغیرہ وغیرہ۔
کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی تفسیر تین شخصوں پر ظاہر نہیں ہوتی اول وہ جو علوم عربیہ سے واقف نہ ہو دوسرے وہ شخص جو کسی کبیرہ پر مصر ہو یا بدعتی ہو کہ اس گناہ اور بدعت کی وجہ سے اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معرفت قرآن سے قاصر رہتا ہے تیسرے وہ شخص کہ کسی اعتقادی مسئلہ میں ظاہر کا قائل ہو اور کلام اﷲ کی جو عبارت اس کے خلاف ہواس طبیعت اچٹتی ہو اس شخص کو بھی فہم قرآن سے حصہ نہیں ۔ اللھم احفظنا منھم۔
۹۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍؓ وقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِقْرَأ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَاکُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَافَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَاَخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَأُھَا (رواہ احمد والترمذی وابوداود و النسائی واابن ماجۃ وابن حبان فی صحیحہ)