Pages

Showing posts with label Islamic Festival Sunnah Rulings. Show all posts
Showing posts with label Islamic Festival Sunnah Rulings. Show all posts

ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ

فضائل و مسائل قربانی اور تکبیرات عیدین

فضائل و مسائل قربانی اور تکبیرات عیدین
متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
قربانی کی اہمیت:
قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوئی اور اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا السلام تک مشروع چلی آرہی ہے، ہر مذہب وملت کا اس پرعمل رہا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے:
’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ‘‘الآیۃ
(سورۃ حج:34)
ترجمہ: ہم نےہر امت کےلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کےمخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نےعطاء فرمائے۔
قربانی کاعمل اگرچہ ہرامت میں جاری رہا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں خصوصی اہمیت اختیار کر گیا، اسی وجہ سے اسے ’’سنتِ ابراہیمی‘‘کہاگیاہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خدا کی رضامندی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کیلئے پیش کیا تھا۔ اسی عمل کی یاد میں ہر سال مسلمان قربانیاں کرتے ہیں۔
اس قربانی سے ایک اطاعت شعار مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ رب کی فرمانبرداری اور اطاعت میں ہرقسم کی قربانی کے لئے تیار رہے اورمال ومتاع کی محبت کو چھوڑ کرخالص اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرے۔نیز قربانی کرتے وقت یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ قربانی کی طرح دیگر تمام عبادات میں مقصود رضاء الٰہی رہے،غیر کےلیے عبادت کاشائبہ تک دل میں نہ رہے۔ گویا مسلمان کی زندگی اس آیت کی عملی تفسیر بن جا ئے.
’’اِنَّ صَلاَ تِی وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَا تِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘
(سورۃ انعا م:162)
تر جمہ: میری نماز، میری قربانی، میرا جینا ،میرامرنا،سب اللہ کی رضا مندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کاپالنے والا ہے۔
قربانی کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہمیشگی فرمائی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔
’’اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَسِنِیْنَ یُضَحِّیْ‘‘
(جامع الترمذی:ج 1، ص:409: ابواب الاضاحی)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا(اس قیام کے دوران) آپ قربانی کرتے رہے۔
قربانی کے فضائل:
کئی احادیث میں قربانی کے فضائل وارد ہیں، چند یہ ہیں:
(1):عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھٰذِہِ الاَضَاحِیُّ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلاَم قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ۔
(سنن ابن ماجہ ص 226 باب ثواب الاضحیہ)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا:یارسول اللہ!یہ قربانی کیا ہے؟(یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نےعرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کےبدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ!اون (کے بدلے میں کیا ملے گا) فرمایا:اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔
(2) ’’عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَاعَمِلَ آدَمِیٌ مِنْ عَمَلٍ یَوْ مَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ اَنَّہْ لَیَتَأ تِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلاَفِھَا وَاِنَّ الدَّمَّ یَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ مِنَ الْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْساً‘‘
(جا مع تر مذی ج1ص275 با ب ما جاء فی فضل الاضحیہ)
ترجمہ: عید الاضحیٰ کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نز دیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں،سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کےہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
(3) ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اُنْفِقَتِ الْوَرَقُ فِیْ شَئْیٍ اَفْضَلُ مِنْ نَحِیْرَۃٍ فِیْ یَوْ مِ الْعِیْدِ۔‘‘
(سنن الدارقطنی ص774باب الذبا ئح ،سنن الکبریٰ للبیہقی ج9 ص 261)
تر جمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:کسی خرچ کی فضیلت اللہ تعا لیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن قربانی پر کیا جا ئے ہرگز نہیں۔
قربانی کے مسائل:
(1)قربانی واجب ہے:
ہر صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ اس بارے میں قر آن وسنت میں کئی دلائل موجود ہیں۔ چند یہ ہیں:
(1)’’فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘‘
(الکوثر:2)
ترجمہ: آپ اپنے رب کی نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
مشہورمفسر قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں۔
’’قَالَ عِکْرَمَۃُ وَعَطَا ئُ وَقَتَا دَۃُ فَصَلِّ لِرَ بِّکَ صَلوٰۃُ الْعِیْدِ یَوْمَ النَّحْرِ وَنَحْرُ نُسُکِکَ فَعَلیٰ ھٰذَا یَثْبُتُ بِہِ وُجُوْبُ صَلوٰۃِ الْعِیْدِ وَ الْاُضْحِیَّۃِ ‘‘
(تفسیرمظہری :ج:10:ص:353)
ترجمہ: حضرت عکرمہ،حضرت عطاء اورحضرت قتادۃ رحمہم اللہ فرماتےہیں کہ ’’فَصَلِّ لِرَ بِّکَ‘‘ میں’’فصل‘‘سے مراد’’عید کی نماز‘‘ اور ’’وانحر‘‘سے مراد ’’قربانی ‘‘ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور قربانی واجب ہے۔
(2)علامہ ابو بکر جصاص رحمہ اللہ اپنی تفسیر’’احکام القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں۔
’’قَالَ الْحَسَنُ صَلوٰۃُ یَوْمِ النَّحْرِ وَنَحْرُ الْبَدَنِ …قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ھٰذَاالتَّاوِیلُ یَتَضَمَّنُ مَعْنَیَیْنِ؛اَحَدُھُمَا اِیْجَابُ صَلوٰۃِ الْاَضْحیٰ وَالثَّانِیْ وُجُوْبُ الْاُضْحِیَّۃِ‘‘
(احکا م القر آن للجصا ص ج3ص 419 تحت سورۃ الکوثر)
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فر مایاکہ اس آیت ’’فَصَلِّ لِرَ بِّکَ‘‘ میں جو نماز کا ذکر ہے اس سے عید کی نماز مراد ہے اور ’’وانحر‘‘سےقربانی مراد ہے۔ حضرت ابو بکر جصا ص رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ اس سے دو با تیں ثا بت ہو تی ہیں :
1: عید کی نماز واجب ہے۔ 2: قربانی واجب ہے۔
(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَا نَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلَّا نَا‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،مسنداحمد ج2ص321 رقم8254، السنن الکبریٰ ج9ص260کتاب الضحایا،کنز العمال رقم 12261)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کر ے تو وہ ہما ری عید گاہ کے قر یب نہ بھٹکے۔
وسعت کے با وجود قربانی نہ کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت وعید ارشاد فر ما ئی اور وعید ترک واجب پر ہو تی ہے۔ تومعلوم ہوا قربانی واجب ہے۔
(4) حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’کُنَّاوُ قُوْفاً عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ یَااَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ عَلٰی کُلِّ اَہْلِ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَۃً وَعَتِیْرَۃً‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،سنن نسا ئی ج2ص 188)
تر جمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:اے لوگو ! ہرگھروالوں پر ہر سال قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔
اس حدیث سے دوقسم کی قربانیوں کا حکم معلوم ہوا ایک عید الاضحیٰ کی قربانی اور دوسرا عتیرہ۔
فا ئدہ: ’’عتیرہ ‘‘اس قربانی کو کہا جاتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں بتوں کے نام پر ہوتی تھی پھراسلام آنے کے بعد اللہ تعالی کے نام پر ہونے لگی، لیکن بعد میں اسے منسوخ فرمادیاگیا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’نَھیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرْعِ وَالْعَتِیْرَۃِ‘‘
(سنن النسائی ج2 ص188 کتا ب الفرع والعتیرہ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرع اور عتیرہ سے منع فرما دیا۔
فائدہ: ’’فرع‘‘ اس بچہ کو کہا جاتا تھا جو اونٹنی پہلی مرتبہ جنتی تھی اور اس کو بتوں کے نام پر قربان کیا جاتا تھا، ابتدا اسلام میں یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح ہوتی رہی لیکن بعداسے میں منسوخ کر دیا گیا۔
(زھر الربیٰ علی النسائی للسیوطی ج2 ص188)
(5) حضرت جندب بن سفیا ن البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں۔
’’شَھِدْتُّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْ مَ النَّحْرِ فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا اُخْریٰ وَمَنْ لَّمْ یَذْ بَحْ فَلْیَذْبَحْ‘‘
(صحیح البخاری ج2ص843 باب من ذبح قبل الصلوٰۃ اعاد)
ترجمہ: میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عید الاضحی کےدن حاضر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے ) ذبح نہیں کیا تو اسے چا ہئے کہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کر ے۔
اس میں آپ علیہ السلام نے عید سے پہلے قربانی کرنے کی صورت میں دوبارہ لوٹانے کا حکم دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی واجب ہے۔
(2)قربانی کس پر واجب ہے؟
جس مرد وعورت میں قربانی کے ایام میں درج ذیل باتیں پائی جاتی ہوں اس پر قربانی واجب ہے:
(1) مسلمان ہو۔
دلیل:
’’ لِاَنَّھَا قُرْ بَۃٌ وَالْکَافِرُ لَیْسَ مِنْ اَہْلِ الْقُرَبِ‘‘
(بدائع الصنائع:ج4،ص195)
قربانی عبادت و قربت کا نام ہے اور کافر عبادت اور قربت کا اہل نہیں۔
(2) آزاد ہو۔
دلیل:
’’لِاَنَّ الْعَبْدَ لَا یَمْلِکُ‘‘
(البحر الرائق:ج2 ،ص:271)
تر جمہ:قربانی غلام پر واجب نہیں کیو ں کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔
(3) صاحب نصاب ہو۔
دلیل:
’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا ‘‘
(سنن ابن ماجہ:ص226)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:جس شخص کو وسعت ہو اس کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
معلوم ہوا کہ قربانی کےلیے صاحب ِوسعت ہونا ضروری ہےجسے ’’صاحب نصاب‘‘ سےتعبیر کیاجاتا ہے۔ (اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)
(4) مقیم ہو،مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
دلیل:
’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ لَیْسَ عَلَی الْمُسَا فِرِ اُضْحِیَّۃٌ‘‘
(المحلیٰ بالآثار لابن حزم:ج6،ص37،مسئلہ نمبر979)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
(3)قربانی کا نصا ب:
قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو نصاب صدقۃ الفطر کے واجب ہونے کا ہے۔
(الفتاویٰ الہندیہ:ج5ص360، کتاب الاضحیہ)
پس جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردو عورت پر قربانی کرنا واجب ہے۔ (الجوہرۃ النیرۃ:ج1ص160،باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لایجوز)
یاد رہے کہ وہ اشیاء جو ضرورت و حاجت کی نہ ہوں بلکہ محض نمود ونمائش کی ہوں یا گھروں میں رکھی ہوئی ہوں اور سارا سال استعمال میں نہ آتی ہوں تو وہ بھی نصاب میں شامل ہوں گی۔
(بدائع الصنائع ج2ص،158،ردالمحتارج3ص346باب مصرف الزکوٰۃ والعشر)
(4)قربانی کے جانور:
جوجانور قربانی کے لیے ذبح کئے جا سکتے ہیں :بھیڑ،بکری،گائے، بھینس،اونٹ(نر،مادہ) ہیں۔
دلیل :
قال اللہ تعالیٰ: ’’ثَمَانِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَاْ نِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ … وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ‘‘
(انعام: 143، 144)
ترجمہ: آٹھ جانور ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے ، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔
فائدہ: قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے ،لہذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔
اجماع امت :
’’وَاَجْمَعُوْا عَلیٰ اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسِ حُکْمُ الْبَقَرِ۔‘‘
(کتاب الاجماع لابن المنذر:ص37)
ترجمہ: ائمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔
لغت:
’’اَلْجَا مُوْسُ ضَرْبٌ مِّنْ کِبَا رِ الْبَقَرِ‘‘
(المنجد:ص101)
ترجمہ: بھینس گائے کی ایک قسم ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے۔
’’اَلْجَا مُوْسُ بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ:ج7،ص65 رقم:10848)
تر جمہ: بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔
امام مالک بن انس مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’اِنَّمَا ھِیَ بَقَرٌ کُلُّہَا‘‘
(مؤطا امام مالک:ص294 ،باب ما جا ء فی صدقۃ البقر)
ترجمہ: یہ بھینس گائے ہی ہے(یعنی گائے کے حکم میں ہے)
ایک مقام پرفرماتے ہیں۔
’’اَلْجَوَامِیْسُ وَالْبَقَرُ سَوَائٌ‘‘
(کتاب الاموال لابن عبید:ج2،ص385،رقم:812)
ترجمہ: گائے اور بھینس برابر ہیں (یعنی ایک قسم کی ہیں)
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’تُحْسَبُ الْجَوَا مِیْسُ مَعَ الْبَقَرِ‘‘
(مصنف عبدالرزاق:ج4ص23،رقم الحدیث:6881)
ترجمہ: بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔
فائدہ: حلال جانور کے سات اعضاء کھانا مکروہ ہیں۔
دلیل:
عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْرَہُ مِنَ الشَّاۃِ سَبْعًا،اَلدَّمَ وَالْحَیَائَ وَالْاُنْثَیَیْنِ وَالْغُدَّ وَالذَّکَرَ وَالْمَثَانَۃَ وَالْمَرَارَۃَ
(مصنف عبدالرزاق ج4ص409،سنن الکبری للبیہقی:ج10،ص7)
ترجمہ: حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بکری کے سات اعضاء کھانے کوپسند نہیں کرتے تھے۔
(1)خون(2)مادہ جانور کی شرمگاہ (3)خصیتین (4)غدود(5)نرجانورکی پیشاب گاہ (6)مثانہ (7)پِتَّہ
(5)جانورکی عمر:
قربانی کے جانوروں میں بھیڑ،بکری ایک سال،گائے،بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے،البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔
دلیل:
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃً اِلَّا اَنْ یُّعْسَرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْ بَحُوْا جَذْ عَۃً مِّنَ الضَأنِ‘‘
(صحیح مسلم:ج2،ص155باب سن الاضحیہ)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قربانی کے لیے عمر والا جانور ذبح کرو ،ہاں اگر ایسا جانور میسر نہ ہو تو پھر چھ ما ہ کا دنبہ ذبح کرو جو سال کا لگتا ہو۔
اس حدیث میں دو باتیں قابل غور ہیں:
نمبر1: اس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کے جانور کے لیے لفظ ’’مسنہ‘‘ استعمال فرمایا ہے،بقول امام ترمذی رحمہ اللہ فقہاء کرام احادیث کے معانی ومطالب زیادہ جانتے ہیں۔ (جامع الترمذی:ج1،ص193 باب غسل المیت)
چنانچہ جمہور فقہاء کرام رحمہم اللہ نے ’’مسنہ ‘‘ کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اس سے مراد ’’الثنی‘‘ یعنی وہ جانور ہے جس میں عمر کا لحاظ رکھا گیا ہو، چنانچہ بھیڑ،بکری ایک سال کی ہو،گائے اوربھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا ہو۔ چند تصریحات ملاحظہ ہوں:
(1)مشہور محدث وفقیہ علامہ ابوالحسین القدوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
’’اِنَّ الْفُقَہَائَ قَالُوْا…وَالثَّنی[مِنَ الْغَنَمِ اِبْنُ سَنَۃٍ] وَالثَّنی مِنْہُ [مِنَ الْبَقَرِ ]اِبْنُ سَنَتَیْنِ وَالثَّنی[مِنَ الْاِبِلِ ] اِبْنُ خَمْسٍ‘‘
(الفتاویٰ عالمگیریہ:ج5،ص367)
ترجمہ: حضرات فقہاء کرام یہ فرماتے ہیں کہ بھیڑ،بکری ایک سال کی، گائے دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہو۔
(2)محدث وفقیہ علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’وَالثَّنی مِنَ الضَّأ نِ وَالْمَعْزِ اِبْنُ سَنَۃٍ وَمِنَ الْبَقَرِ اِبْنُ سَنَتَیْنِ وَمِنَ الْاِبِلِ اِبْنُ خَمْسِ سِنِیْنَ‘‘
(البحر الرائق:ج8ص201 کتاب الاضحیہ)
ترجمہ: بھیڑاوربکری ایک سال کی،گائے دوجبکہ اونٹ پانچ سال کا ہو۔
اور یہی تعریف مندرجہ ذیل کتب میں بھی موجود ہے:
(1)
بذل المجہود:ج4ص71 (2) تکملہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم:ج3ص558
نمبر2: مذکورہ حدیث میں’’مسنہ‘‘ نہ ملنے کی صورت میں’’جَذْعَۃٌ مِّنَ الضَّأنِ‘‘ کا حکم فرمایا اس سے مراد وہ دنبہ ہے جو چھ ماہ کا ہو۔مگر دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو۔چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
’’وَقَالُوْا ھٰذَا اِذَاکَانَ الْجَذَعُ عَظِیْماً بِحَیْثُ لَوْخَلَطَ بِالثَّنِیَّاتِ یَشْتَبِہُ عَلَی النَّا ظِرِیْنَ وَالْجَذَعُ مِنَ الضَّأ نِ مَا تَمَّتْ لَہُ سِتَّۃُ اَشْھُرٍ عِنْدَ الْفُقَہَائِ‘‘
(البحر الرائق:ج8ص202 کتاب الاضحیہ)
ترجمہ: حضرات فقہاء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دنبہ ہے جو اتنا بڑا ہو اگراس کوسال والے دنبوں میں ملا دیا جائے تو دیکھنے میں سال والوں کے مشابہ ہو اور حضرات فقہاء کے نزدیک جذع (دنبہ) وہ ہے جو چھ ماہ مکمل کر چکا ہو۔
(6)شرکاء اوران کی تعداد:
قربانی کا جانور اگر اونٹ گائے یا بھینس ہو تو اس میں سات آ دمی شریک ہو سکتے ہیں:
دلیل(1):
’’عَنْ جَا بِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ خَرَ جْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُھِلِّیْنَ بِا لْحَجِّ فَاَمَرَنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِکَ فِی الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَۃٍ مِّنَّا فِیْ بَدَنَۃٍ‘‘
(صحیح مسلم:ج1،ص424 باب جواز الاشتراک الخ)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات ( آدمی)شریک ہوجا ئیں۔
دلیل(2):
’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَا مَ الْحُدَ یْبِیَۃِ اَلْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَ عَنْ سَبْعَۃٍ‘‘
(صحیح مسلم ج1ص424 باب جوا ز الاشتراک الخ)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ والے سال آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قربانی کی۔چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آ دمیوں کی طرف سے قربان کی۔
اگر قربانی کا جانور بکری یا بھیڑ ہو تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے:
دلیل(1): حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’اَنَّ النَّبِیَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتَا ہُ رَجُلٌ فَقَالَ اِنَّ عَلَیَّ بَدَ نَۃً وَاَنَا مُوْ سِرٌ بِھَا وَلاَ اَجِدُ ھَا فَاَشْتَرِ یْھَا فَاَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّبْتَاعَ سَبْعَ شِیَاۃٍ فَیَذْبَحُھُنَّ‘‘
(سنن ابن ماجہ:ص 226،کتا ب الاضاحی باب کم یجزی من الغنم عن البدنۃ)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ مجھ پر ایک بڑا جانور (اونٹ یا گا ئے) واجب ہو چکا ہے اور میں ما لدار ہوں اورمجھے بڑا جانور نہیں مل رہا کہ میں اسے خر ید لوں (لہٰذا اب کیا کرو ں؟) توآ پ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سات بکریاں خریدلو اور انہیں ذبح کرلو۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے جانور کو سات بکریوں کے برابر شمارکیا اور بڑے جانور میں قربانی کے سات حصے ہوسکتے ہیں اس سے زیا دہ نہیں۔معلوم ہوا کہ ایک بکری یا ایک دنبہ کی قربانی ایک سے زیادہ افراد کی طرف سے جا ئز نہیں۔
دلیل(2):حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشادہے:
’’اَلشَّا ۃُ عَنْ وَاحِدٍ‘‘
(اعلاء السنن:ج 17،ص210،باب ان البدنۃ عن سبعۃ)
ترجمہ:بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔
(7)قربانی کےدن:
قربانی کے تین دن ہیں: 12.11.10ذوالحجہ۔
دلیل(1):
قال اللہ تعالیٰ:’’لِیَشْھَدُوْا مَنَا فِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ‘‘
(الحج:28)
ترجمہ: تاکہ اپنے فوائد کیلئے آموجود ہوں اور ایام مقررہ میں ان مخصوص چوپائیوں پر اللہ کا نام لیں۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’فَا لْمَعْلُوْمَاتُ یَوْ مُ النَّحْرِ وَیَوْ مَانِ بَعْدَہُ ‘‘
(تفسیرابن ابی حاتم الرازی:ج6،ص261)
ترجمہ:ایام معلومات سےمرادیوم نحر(10ذوالحجہ)اوراس کے بعد دو دن ہیں۔
دلیل(2):
’’عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحیّٰ مِنْکُمْ فَلاَ یُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ وَبَقِیَ فِیْ بَیْتِہِ مِنْہُ شَئْیٌ‘‘
(صحیح بخاری: ج2،ص835،باب ما یؤکل من لحوم الاضاحی)
ترجمہ:حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:تم میں جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہ رہناچا ہئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں، اس لئے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گو شت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانورذبح کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟
فائدہ:تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی مما نعت ابتدائے اسلام میں تھی،بعد میں اجازت دی گئی کہ اسے تین دن کے بعد بھی رکھا جا سکتاہے۔
(مستدرک حا کم ج4ص259)
اس سے یہ نہ سمجھیں ’’جب تین کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد بھی قربانی کی جاسکتی ہے‘‘ اس لیے کہ گوشت تو سارا سال بھی رکھا جا سکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت سا را سال ہو گی،ہر گز نہیں۔ تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔
دلیل(3): حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں۔
(مؤطا امام ما لک ص497، کتاب الضحایا)
دلیل(4):
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبِّا سٍ :النَّحْرُیَوْمَانِ بَعْدَیَوْمِ النَّحْرِوَاَفْضَلُہَا یَوْمُ النَّحْرِ‘‘
(احکام القرآن للطحاوی ج2ص205 )
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد کے دو دن ہیں،البتہ یوم النحر(دس ذوالحجہ) کو قربانی کرنا افضل ہے۔
(8)قربانی کا وقت:
قربانی کا وقت شہروالوں کے لیے نماز عید ادا کر نے کے بعد اور دیہات والوں کے لیے جن پر نماز جمعہ فرض نہیں ،صبح صادق سے شروع ہوجاتاہےلیکن سورج طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنابہتر ہے۔
(فتاویٰ قاضیخان، فتاویٰ شامی)
چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فَقَالَ:اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِہِ مِنْ یَوْ مِنَا ھٰذَا اَنْ نُّصَلِیَّ ثُمَّ نَرْ جِعَ وَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ نَحَرَفَاِنَّمَا ھُوَ لَحْمٌ یُقَدِّمُہُ لِاِھْلِہِ لَیْسَ مِنَ النُّسِکِ فِیْ شَئْیٍ‘‘۔
(صحیح البخا ری:ج 2،ص834 کتا ب الاضاحی باب الذبح)
ترجمہ:میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ہمارےاس عید کے دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آکر قربانی کریں جس نے ہمارے اس طریقہ پر عمل کیا یعنی عید کے بعد قربانی کی تو اس نے ہما رے طریقے کے مطابق درست کام کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی تو وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیاہے اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز عید سے پہلے قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے، دیہات میں چونکہ نماز عیدکا حکم نہیں ہے،اس لئے وہاں اس شرط کا وجود ہی نہیں تو ان کے لیے یہ حکم نہ ہوگا۔ وہاں قربانی کے وقت کا شروع ہونا ہی کافی ہوگا اور اس کا آغاز طلوع فجر سے ہو جاتا ہے۔
(9)عمومی مسائل:
(1) خصی جانور کی قربانی کرنا جائز بلکہ افضل ہے۔
(سنن ابی داؤد ج2ص386 باب ما یستحب من الضحایا)
(2)
اگر کوئی آ دمی عقیقہ کی نیت سے قربانی کے جانور میں اپنا حصہ رکھ لے تو یہ جائز ہے۔
(3)
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص375)
(4)
ایسا لنگڑا جانور جو چلتے وقت پاؤں زمین پر بالکل نہ رکھ سکتا ہو اس کی قربانی جائز نہیں البتہ اگر وہ چلنے میں اس پاؤں سے کچھ سہارا لیتا ہوتو اس کی قربانی جائز ہے۔
(5)
(سنن ابی داؤد:ج2،ص387،ردالمحتار:ج9:ص 536 کتا ب الاضحیہ)
(4) اگر جانور کے اکثر دانت ٹوٹے ہوئے ہوں کہ چارہ بھی نہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، ہا ں اگر چارہ کھا سکتا ہو تو قربانی جائز ہے۔
(ردالمحتار ج9 ص 537 کتا ب الاضحیہ)
(5) جس جانور کی پیدائشی طور پر ایک یا دونوں کان نہ ہوں یا کان کا تیسرا یا اس سے زیادہ حصہ کٹا یا چرا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر تیسرے سے کم حصہ کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
(جامع الترمذی:ج1،ص275،باب الاضاحی، ردالمحتار:ج9،ص537)
(6) اگر جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے لیکن جڑ سے نہیں اکھڑا تو اس کی قربانی جائزہےاوراگر جڑ سے اکھڑ چکا ہو تو اس کی قربانی جا ئز نہیں۔
(سنن الطحاوی:ج2،ص271باب العیوب التی لایجوزالھدایاوالضحایا،ردالمحتار:ج9 ص535 کتاب الاضحیہ)
(7) جانور کی دم اگر تہائی سے کم کٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے اگر تہائی یا اس سے زائد کٹی ہوئی ہو تو قربانی جا ئز نہیں ہے۔
(اعلاءالسنن:ج17ص237، فتاویٰ عالمگیریہ:ج5ص368)
(8) گائے یا بھینس وغیرہ کا ایک تھن خراب اور باقی تین ٹھیک ہوں تو قربانی جائز ہے اور اگر دو تھن خراب ہوں تو قربانی جا ئز نہیں۔ اسی طرح بکری وغیرہ کا ایک تھن خراب ہو تو قربانی جائز نہیں۔
(المعجم الاوسط:ج2ص374 رقم 3578،فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص683)
(9) جانور اگر اندھا ہو یا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زائد روشنی نہ ہو تو اس کی قربانی جا ئز نہیں ہاں اگر روشنی تہائی سے کم جاتی رہے تو قربانی جائز ہے۔
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص368)
(10) ذبح کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ہو، لہٰذا مشرک ، مجو سی، بت پرست، اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے۔ (بدائع الصنائع ج4ص164)
گوشت کا حکم:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے گھر کے لیے،ایک حصہ رشتے داروں اور دوست واحباب کے لیے اور ایک حصہ فقرا ء ومساکین میں تقسیم کیا جائے، ہاں اگر عیال زیادہ ہوں تو سارا گوشت خودبھی رکھ سکتے ہیں۔
(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص370)
اگر قربانی کے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جا ئے اندازے سے تقسیم کر نا جائز نہیں۔
(البحرالرائق:ج8ص198)
قربانی کا گو شت فروخت کرنا یا اجرت میں دینا جائز نہیں۔
(بدائع الصنائع ج4ص225)
قربانی کی کھال:
اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں مثلاً مصلیٰ، مشکیزہ وغیرہ بنا سکتے ہیں البتہ اس کو فروخت کرکے قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ فقراء کو دینا واجب ہے۔
(عالمگیری ج3 ص 372)
نیزکھال کی قیمت مسجد کی تعمیر میں نہیں لگا ئی جا سکتی اسی طرح کسی فلاحی ادارہ میں بھی اس کا خرچ کرنا درست نہیں کیو ں کہ اس میں ضروری ہے کہ اس کا فقرا ء ومساکین کو مالک بنا دیا جا ئے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھال کسی دینی مدرسہ اور جامعہ کے طلبا ء کو دی جائے کیوں کہ اس میں ان کی امداد کر نے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا سبب بھی۔
تکبیراتِ عیدین
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کر یہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کر چار۔گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمار ہوں گی۔
بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کرچاربتایا گیا ہے اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھ ہی بنتی ہیں۔
1: عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَصْحَاب رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیْدٍ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا وَاَرْبَعًا ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ حِیْنَ انْصَرَفَ فَقَالَ لَاتَنْسَوْا کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہٖ وَقَبَضَ اِبْھَامَہٗ۔
(شرح معانی الآثار ج2 ص 371 باب صلوۃ العیدین)
ترجمہ: ابو عبدالرحمن قاسم فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی تو چار چار تکبیریں کہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوکرفرمایا: بھول نہ جاناعید کی تکبیریں جنازہ کی طرح (چار) ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں کا اشارہ فرمایا اور انگوٹھا بند کر لیا۔
2: عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَائِشَۃَ جَلِیْسٌ لِّاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَأَلَ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یُکَبِّرُاَرْبَعًا تَکْبِیْرَۃً عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَدَقَ فَقَالَ اَبُوْمُوْسیٰ کَذٰلِکَ کُنْتُ اُکَبِّرُ فِی الْبَصْرَۃِ حَیْثُ کُنْتُ عَلَیْھِمْ۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص170باب التکبیر فی العیدین ،السنن الکبریٰ للبیہقی ج3ص 289)
ترجمہ: حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ کے ہمنشین ابو عائشہ نے بتایاکہ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر میں کتنی تکبیریں کہتے تھے ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا چار تکبیریں کہتے تھے،جیسا کہ آپ جنازہ میں کہتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سچ کہتے ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب میں بصر ہ کا گورنر تھا تو وہاں بھی اسی طرح تکبیریں کہا کرتا تھا۔
3: عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسَوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَا کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جاَلِسًا وَعِنْدَہٗ حُذَیْفَۃُ وَاَبُوْمُوْسَیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا فَسَألَھُمْ سَعِیْدُ بْنُ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلٰوۃِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأضْحٰی فَجَعَلَ ھٰذَا یَقُوْلُ: سَلْ ھٰذَا وَ ھٰذَا یَقُوْلُ:سَلْ ھٰذَا حَتّٰی قَالَ لَہٗ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَلْ ھٰذَا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَسَألَہٗ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَأ ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْکَعُ ثُمَّ یُکَبِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ فَیَقْرَأثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ج4 ص 593 رقم 9402،مصنف عبدالرزاق ج3ص167،رقم 5704)
ترجمہ: علقمہ اور اسود بن یزیدکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ تو ان سے حضرت سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی تکبیروں کے متعلق سوال کیا۔ حضرت حذیفہ نے کہا: ان( حضرت ابوموسیٰ) سے پوچھو، اور حضرت ابوموسیٰ نے کہا:ان( حضرت حذیفہ) سے پوچھو،پھرحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مسئلہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نمازی چار تکبیریں (ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ)کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر تکبیر کہ کر رکوع کرے دوسری رکعت میں تکبیر کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر قرأت کے بعد چار تکبیریں کہے۔(تین تکبیرات زائدہ اور ایک تکبیر رکوع کے لیے)
4: عَنْ کُرْدُوْسٍ قَالَ:اَرْسَلَ الْوَلِیْدُاِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ َو حُذَیْفَۃَ وَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ بَعْدَ الْعَتَمَۃِفَقَالَ: اِنَّ ہٰذَا عِیْدُالْمُسْلِمِیْنَ،فَکَیْفَ الصَّلٰوۃُ؟ فَقَالُوْا:سَلْ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَسَاَلَہُ فَقَالَ:یَقُوْمُ فَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ سُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ وَ یَرْکَعُ فَتِلْکَ خَمْسٌ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا یَرْکَعُ فِیْ آخِرِہِنَّ فَتِلْکَ تِسْعٌ فِی الْعِیْدَیْنِ فَمَا اَنْکَرَہُ وَاحِدٌ مِّنْہُمْ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص392)
ترجمہ: حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یعنی عبد اللہ بن مسعود سے پوچھو۔
چنانچہ قاصد نے ان سے پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر چار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورت فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحی میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبر دست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]
5: حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تکبیراتِ جنازہ کے چارہونے پر تمام صحابہ اورکا اتفاق ہوا۔ حدیث کے الفاظ ہیں:
فَاجْمَعُوْا اَمْرَھُمْ عَلٰی اَنْ یَجْعَلُوْا التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ مِثْلَ التَّکْبِیْرِ فِی الْاَضْحیٰ وَالْفِطْرِ اَرْبَعَ تَکْبِیْرَات۔
(شرح معانی الآثار ج1ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)
ترجمہ: تو انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نماز عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی چار تکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں۔
6: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ:فِی الْاُوْلٰی خَمْسُ تَکْبِیْرَاتٍ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ وَ بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِسْتِفْتَاحِ وَ فِی الرَّکْعَۃِ [الْاُخْرٰی] اَرْبَعَۃٌ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ
(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص166رقم الحدیث 5702باب التکبیر فی صلوۃ العید)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں رکوع اور تحریمہ کی تکبیر کو ملا کرپانچ تکبیریں ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع والی تکبیر کو ملا کر چار تکبیریں بنتی ہیں[خلاصہ یہ کہ ہر رکعت میں زائد تکبیروں کی تعداد تین ہے۔]
7: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ اَنَّہُ صَلّٰی خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْعِیْدِ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا ثُمَّ قَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ۔
(سنن الطحاوی: ج2 ص372باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن الحارث رحمہ ا للہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے عید کی نماز پڑھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پہلے چار تکبیریں کہیں، پھر قراء ت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔ پھر جب آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے قراء ت کی پھر تین تکبیریں کہیں، پھر (چوتھی) تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔

تراویح کے ضروری مسائل Taraweeh Namaz Dua Niyat Masael


تراویح اور اس کے ضروری مسائل
 مفتی محمود حسن گنگوہی

مسئلہ:1…کُل تراویح حنفیہ کے نزدیک بیس رکعت ہیں اوران کو جماعت سے پڑھنا سنت ہے، اگر تمام اہل محلہ تراویح چھوڑ دیں تو سب ترکِ سنت کے وبال میں گرفتار ہوں گے ۔( کبیری)

مسئلہ:2 … گھر پر تراویح کی جماعت کرنے سے بھی فضیلت حاصل ہوجائے گی لیکن مسجد میں پڑھنے کا جو ستائیس درجہ ثواب ہے وہ نہیں ملے گا۔ ( کبیری)

مسئلہ:3 … تراویح کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے(لہذا عشاء کی جماعت سے پہلے جائز نہیں) اور جس مسجد میں عشاء کی جماعت نہیں ہوئی وہاں پر تراویح کو بھی جماعت سے پڑھنا درست نہیں۔ (کبیری)

مسئلہ:4 … ایک شخص تراویح پڑھ چکا امام بن کر یا مقتدی ہو کر، اب اسی شب میں اس کو امام بن کر تراویح پڑھنا درست نہیں، البتہ دوسری مسجد میں اگر تراویح کی جماعت ہورہی ہو تو وہاں (بنیتِ نفل ) شریک ہونا بلا کراہت جائز ہے ۔( کبیری)

مسئلہ:5 … ایک امام کے پیچھے فرض اور دوسرے کے پیچھے تراویح اور وتر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ( کبیری)

مسئلہ:6 … کسی مسجد میں ایک مرتبہ تراویح کی جماعت ہوچکی تو دوسری مرتبہ اُسی شب میں وہاں تراویح کی جماعت جائز نہیں لیکن تنہا تنہا پڑھنا درست ہے۔ (بحر)

مسئلہ:7 … نابالغ کو تراویح کے لیے امام بنانا درست نہیں۔ (کبیری)۔ البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے تو جائز ہے۔ (خانیہ)۔

مسئلہ:8 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف غلط پڑھتا ہو تو دوسری مسجد میں تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(عالم گیری )

مسئلہ:9 … اجرت مقرر کر کے امام کو تراویح کے لیے بُلانا مکروہ ہے۔ (عالم گیری )

مسئلہ:10 … ہر ترویحہ پر یعنی چار رکعت پڑھ کر اتنی ہی دیر یعنی چار رکعت کے موافق جلسہٴ استراحت مستحب ہے، (اسی طرح پانچویں ترویحہ کے بعد وتر سے پہلے بھی جلسہ مستحب ہے، لیکن اگر مقتدیوں پر اس سے گرانی ہو تو نہ بیٹھے، (عالم گیری) اور اتنی دیر تک اختیار ہے کہ تسبیح ، قرآن شریف، نفلیں جو دل چاہے پڑھتا رہے، اہلِ مکہ کا معمول طواف کرنے اور دو رکعت نفل پڑھنے کا ہے اور اہلِ مدینہ کا معمول چار رکعت پڑھنے کا ۔( کبیری) اور یہ دعا بھی منقول ہے:
”سبحان ذي الملک والملکوت، سبحان ذي العزة والعظمة والقدرة والکبریاء و الجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح، قدوس، رب الملائکة والروح، لاإلہ إلا الله، نستغفر الله نسألک الجنة، و نعوذ بک من النار“․ (شامي)

مسئلہ :11 … دس رکعت پر جلسہٴ استراحت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (کبیری)

مسئلہ:12 … ہر شفعہ کے بعد دو رکعت علیحدہ علیحدہ پڑھنا بدعت ہے۔(کبیری)

مسئلہ:13 … کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت پہونچا کہ تراویح کی جماعت شروع ہوگئی تھی تو اس کو چاہیے کہ پہلے فرض اور سنتیں پڑھے اس کے بعد تراویح میں شریک ہو اور چُھوٹی ہوئی تراویح دو ترویحوں کے درمیان جلسہ کے وقت پوری کرلے، اگر موقعے نہ ملے تو وتروں کے بعد پڑھے اور وتروں یا تراویح کی جماعت چھوڑ کر تنہا نہ پڑھے۔(کبیری)

مسئلہ:14 … اگر بعد میں معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض صحیح نہیں ہوئے، مثلاً: امام نے بغیر وضو پڑھائے یا کوئی رکن چھوڑ دیا تو فرضوں کے ساتھ تراویح کا بھی اعادہ کرنا چاہیے، اگر چہ یہاں وہ وجہ موجود نہ ہو۔ (کبیری)

مسئلہ:15 … قیامِ لیلِ رمضان یا تراویح یا سنتِ وقت یا صلوة امام کی نیت کرنے سے تراویح ادا ہوجائیں گی۔ (خانیہ)

مسئلہ:16 … مطلقاً نماز یا نوافل کی نیت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ (خانیہ)

مسئلہ:17 … اگر کسی نے عشا کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور امامِ تراویح کے پیچھے سنتِ عشاء کی نیت کر کے اقتدا کیا، تو یہ جائز ہے ۔(خانیہ)

مسئلہ:18 … اگر امام دوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہا ہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے پہلے شفعہ کی نیت کی، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (خانیہ)

مسئلہ:19 … اگر تراویح کسی وجہ سے فوت ہوجائیں تو ان کی قضاء نہیں، نہ جماعت کے ساتھ، نہ بغیر جماعت کے، اگرکسی نے قضاء کی تو تراویح نہ ہونگی ،بلکہ نفلیں ہونگی۔ (بحر)

مسئلہ:20 … اگر یاد آیا کہ گذشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کا فوت ہوگیا یا فاسد ہوگیا تھا تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضاء کرنا مکروہ ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:21 … اگر امام نے دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا، بلکہ چار پڑھ کر قعدہ کیا تو یہ اخیر کی د ورکعت شمار ہوں گی۔(کبیری)

مسئلہ:22 … اگر وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا، ایک شفعہ مثلاً رہ گیا، تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ:23 … اگر بعد میں یاد آیا کہ ایک مرتبہ صرف ایک ہی رکعت پڑھی گئی اور شفعہ پورا نہیں ہوا اور کل تراویح انیس ہوتی ہیں تو دو رکعت اَور پڑھ لی جائے، یعنی صرف شفعہ فاسدہ کا اعادہ ہوگا اور اس کے بعد کی تمام تراویح کا اعادہ نہ ہوگا۔ (کبیری)

مسئلہ:24 … جب شفعہٴ فاسدہ کا اعادہ کیا جائے تو اس میں جس قدر قرآن شریف پڑھا تھا، اس کا بھی اعادہ کرنا چاہیے تاکہ تمام قرآن شریف صحیح نماز میں ختم ہو۔ (خانیہ)

مسئلہ:25 … اگرتمام نمازیوں اور امام کو شک ہوا کہ18 تراویح ہوئی ہیں یا بیس پوری ہوگئیں تو دو رکعت بلا جماعت اَور پڑھ لی جائیں۔ (کبیری)

مسئلہ:26 … اگر تمام مقتدیوں کو تو شک ہوا، لیکن امام کو شک نہیں ہوا، بلکہ کسی ایک بات کا یقین ہے تو وہ اپنے یقین پرعمل کرے اور مقتدیوں کے قول کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ (کبیری)

مسئلہ:27 … اگر بعض کہتے ہیں کہ بیس پوری ہوگئیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ اٹھارہ ہوئی ہیں، تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پر عمل کرے ۔ (کبیری)

مسئلہ:28 … اگر اٹھارہ پڑھ کر امام سمجھا کہ بیس پوری ہوگئیں اور وتروں کی نیت باندھ لی ،مگر دو رکعت پڑھ کر یاد آیا کہ ایک شفعہ تراویح کا باقی رہ گیا ہے، جب ہی دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو یہ شفعہ تراویح کا شمار نہ ہوگا۔ (خانیہ)

مسئلہ:29 … اگر کسی کی صبح کی نماز قضاء ہوگئی تھی، اس کی نیت سے تراویح پڑھی ،تو یہ تراویح ادا نہ ہوں گی۔(خانیہ)

مسئلہ:30 … اگرتین رکعت پر سلام پھیر دیا تو دو رکعت پر اگر بیٹھ چکا تھا تب تو ایک شفعہ صحیح ہوگیا اور چوں کہ دوسرا شفعہ شروع کر چکا تھا، اس لیے اس کی قضاء ہوگی۔

مسئلہ:31 … اگر دو رکعت پر نہیں بیٹھا تو پہلا شفعہ بھی صحیح نہیں ہوا، لہٰذا اس کی قضاء ضروری ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:32 … بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے تراویح ادا ہوجائے گی، مگر ثواب نصف ملے گا۔ (عالم گیری)

مسئلہ:33 … اگر امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھائے، تب بھی مقتدیوں کو کھڑے ہوکر پڑھنا مستحب ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:34 … جماعت ہورہی ہے اور ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، جب امام رکوع میں جاتا ہے تو فوراً یہ بھی نیت باندھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہوجاتا ہے، یہ فعل مکروہ ہے اور تشبہ بالمنافقین ہے۔(کبیری)

مسئلہ: 35 … جس شخص پر نیند کا غلبہ ہو اس کو چاہیے کہ کچھ دیر سو رہے، اس کے بعد تراویح پڑھے۔ (شامی)

مسئلہ: 36 … تراویح کو شمار کر تے رہنا مکروہ ہے، کیوں کہ یہ اُکتا جانے کی علامت ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 37 … مستحب یہ ہے کہ شب کا اکثر حصہ تراویح میں خرچ کیا جائے ۔ (بحر )

مسئلہ: 38 … ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا(پڑھ کر یا سن کر) سنت ہے، دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے، لہٰذا اگر ہر رکعت میں تقریباً دس آیتیں پڑھی جائیں، تو ایک مرتبہ بسہولت ختم ہوجائے گا اور مقتدیوں کو بھی گرانی نہ ہوگی ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 39 … جو لوگ حافظ ہیں ان کے لیے فضیلت یہ ہے کہ مسجد سے واپس آکر بیس رکعت اَور پڑھا کریں تاکہ دو مرتبہ ختم کرنے کی فضیلت حاصل ہوجائے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:40 … ہر عشرہ میں ایک مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 41 … اگر مقتدی اس قدر ضعیف اور کاہل ہوں کہ ایک مرتبہ بھی پورا قرآن شریف نہ سن سکیں بلکہ اس کی وجہ سے جماعت تک چھوڑدیں تو پھر جس قدر سننے پر وہ راضی ہوں اُس قدر پڑھ لیاجائے، یا ”ألم ترکیف“ سے پڑھ لیا جائے ، ب(بحر) لیکن اس صورت میں ختم کی سنت کے ثواب سے محروم رہیں گے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 42 … ستائیسویں شب کو ختم کرنا مستحب ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 43 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف ختم نہ کرے تو پھر کسی دوسری مسجد میں جہاں پر ختم ہو، تراویح پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (کبیری )، کیوں کہ ختم کی سنت وہیں حاصل ہوگی۔

مسئلہ: 44 … تراویح میں ایک مرتبہ سورت کے شروع میں ”بسم الله الرحمن الرحیم“کو بھی زور سے تمام قرآن شریف کی طرح پڑھنا چاہیے، آہستہ پڑھنے سے امام کا تو قرآن شریف پورا ہوجائے گا مگرمقتدیوں کا پورا نہ ہوگا۔ (أحکام البسملة)․

مسئلہ: 45 … اگر کوئی آیت چھوٹ گئی اور کچھ حصہ آگے پڑھ کر یاد آیا کہ فلاں آیت چھوٹ گئی ہے تو اس کے پڑھنے کے بعد آگے پڑھے ہوئے حصہ کااعادہ بھی مستحب ہے۔ (عالم گیری)

مسئلہ: 46 … امام نے جب سلام پھیرا تو مقتدیوں میں اختلاف ہواکہ دو رکعت ہوئی ہیں، یا تین؟ تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پرعمل کرے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 47 … کسی چھوٹی سورت کا فصل کرنا دو رکعت کے درمیان فرائض میں مکروہ ہے، تراویح میں مکروہ نہیں۔ (بحر)

مسئلہ: 48 … اگر مقتدی ضعیف اور سست ہوں کہ طویل نماز کا تحمل نہ کرسکتے ہوں، تو درود کے بعد دعاء چھوڑ دینے میں مضائقہ نہیں، لیکن درود کو نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ (عالم گیری )

مسئلہ: 49 … کوئی شخص ایسے وقت جماعت میں شریک ہوا کہ امام قراء ت شروع کرچکا تھا، تو اب اس کو ”سبحانک اللہم“ نہیں پڑھنا چاہیے۔(کبیری)

مسئلہ: 50 … اگر مسبوق نے امام کے ساتھ یا امام سے کچھ پہلے بھول کر سلام پھیردیا تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں اور امام کے لفظ ”السلام“ کہنے کے بعد سلام پھیرا ہے تو اس پر سجدہٴ سہو واجب ہے۔ (محیط )

مسئلہ: 51 … مسبوق اپنی نماز تنہا پوری کرنے کے لیے نہ اٹھے، جب تک کہ امام کی نماز ختم ہونے کا یقین نہ ہوجائے ،( محیط) کیوں کہ بعض دفعہ امام سجدہٴ سہو کے لیے سلام پھیرتا ہے اور مسبوق اس کو ختم کا سلام سمجھ کر اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں فوراً لوٹ کر امام کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیے ۔

مسئلہ: 52 … اگر کوئی شخص ایسے وقت آیا کہ امام رکوع میں تھا، یہ فوراً تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں شریک ہوا اور جب ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا، پس اگر سیدھا کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں گیا تھا اور رکوع میں جھکنے سے پہلے پہلے الله اکبر کہہ چکا تھا اور کمر کو رکوع میں برابر کرلیا تھا اس کے بعد اما م نے رکوع سے سر اٹھایا ہے، تب تورکعت مل گئی، تسبیح اگر چہ ایک مرتبہ بھی نہ کہی ہو اور اگر امام کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع میں کمر کو برابر نہیں کرسکا، تو رکعت نہیں ملی۔ اور اگرتکبیر سیدھے کھڑے ہوکر نہیں کہی، بلکہ جھکتے ہوئے کہی اور رکوع میں پہنچ کر ختم کی ہے، تو یہ شروع کرنا ہی صحیح نہیں ہوا۔(محیط )

مسئلہ: 53 … اگر کوئی شخص رکوع میں آکر شریک ہوا، مگررکوع اس کو نہیں ملا، تب بھی سجدہ میں امام کے ساتھ شریک ہونا اس پر واجب ہے لیکن اگر سجدہ میں شریک نہ ہوا، بلکہ سجدہ کے بعد امام کے ساتھ شریک ہوا ، تب بھی اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔( بحر)

مسئلہ: 54 … اگر قیام میں امام کے ساتھ شریک ہوگیا مگر رکوع امام کے ساتھ نہیں کیا ، بلکہ رکوع امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا تب بھی رکعت مل گئی۔ (محیط )

مسئلہ: 55 … اگر رکوع میں امام کے ساتھ آکر شریک ہوا اور صرف ایک ہی تکبیر کہی، تب بھی نماز صحیح ہوگئی ، اگر چہ اس تکبیر سے رکوع کی تکبیر کی نیت کی ہو اور تکبیر تحریمہ کی نیت نہ کی ہو، اس نیت کا اعتبار نہ ہوگا۔( فتح القدیر)۔ بشرطیکہ تکبیر کھڑے ہوکر کہی ہو رکوع میں نہ کہی ہو۔

مسئلہ: 56 … آیت سجدہ پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ ٴ تلاوت واجب ہوتا ہے۔( محیط)

مسئلہ: 57 … سورہ حج میں پہلا سجد ہ واجب ہے ، دوسرا نہیں۔ (محیط)

مسئلہ: 58 … اگر خارجِ نماز آیتِ سجدہ کی تلاوت کی، مگر سجدہ نہیں کیا، نماز میں وہی آیت پڑھی اور سجدہ کیا تو یہ سجدہ دونوں دفعہ کی تلاوت کے لیے کافی ہے اگر پہلے سجدہ کرلیا تھا تو اب دوبارہ بھی سجدہ کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 58 … اگرامام نے آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا اور کوئی شخص آیتِ سجدہ سن کر امام کے ساتھ اس سجدہ کے بعد اسی رکعت میں شریک ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے یہ سجدہ ساقط ہوگیا، اگر اس رکعت میں شریک نہیں ہوا تو اس کو خارجِ صلوة علیحدہ سجدہ کرنا چاہیے۔( محیط)

مسئلہ: 59 … آیتِ سجدہ کے بعد فورا ً ہی سجدہ کرنا افضل ہے، لیکن اگر نماز میں آیتِ سجدہ کے بعدسجدہ نہ کیا، بلکہ رکوع کیا اور اس میں اس سجدہ کی نیت کرلی، تب بھی سجدہ ادا ہوجائے گا، اگر رکوع میں نیت نہیں کی، تو اس کے بعد سجدہ نماز سے بلا نیت بھی ادا ہوجائے گا، یہ جب ہے کہ آیتِ سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ نہ پڑھا ہو، اگر آیت سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو، تو اب اس سجدہ کا وقت جاتا رہا، نہ نماز میں اداہوسکتا ہے نہ خارج نماز، توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 60 … اگرآیت سجدہ (جو کہ سورت کے ختم پر ہے) پڑھ کر سجدہ کیا تو اب سجدہ سے اٹھ کر فوراً رکوع نہ کیا جائے (اس خیال سے کہ سورت تو ختم ہوہی گئی ) بلکہ تین آیت کی مقدار پڑھ کر رکوع کرنا چاہیے۔ 
(محیط)




 سب سے پہلےتو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ مشہور حدیث علیکم بسنتی وسنت خلفاالراشیدین المہدیین کی روشنی میں خلفاء راشیدین کے زمانے میں جاری اعمال بھی سنت کے دائرے میں اتے ہیں.تراویح بھی ان ہی اعمال میں سے ہے.جمعہ کےنماز کے لئے ایک اور اذان بھی اس کی ایک مثال ہے.دونوں سنت ہیں.
جن صحابہ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ وہ عموما مساجد کی تراویح میں نہیں ہوتے تھے .ان کے بارے میں دیگر روایات بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں طویل قیام کے ساتھ رات بھر تراویح ونوافل میں مشغول رہتے تھے.
آج بھی اگر کوئی عشا کئ نماز مسجد میں ادا کر کے اپنے گھر میں تراویح کا اہتمام کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے.

رمضان عید مبارک کا پیغام Ramzan O Eid Mubarak ka Paigham

Tamam Musalmanon Ko Eid e Saeed ki Purkhuloos Mubarakabad. Allah paak Hamre Rozon ko Qabool Kare Aur Gunaho ko Maaf kare.






‬: خادمانِ دین اور ملت کا فریضہ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 

جیسے جسم انسانی کا باقی رہنا روح پر موقوف ہے اور بظاہر جان کی حفاظت معالجین سے وابستہ ہے ، اسی طرح مسلمان سماج کی روح دین ہے اور دین کی حفاظت اور اس کی بقاء علماء اور دینی خدمت گزاروں پر موقوف ہے ، مساجد کے ائمہ اور مؤذنین نہ ہوں ، تو مسجدیں کیوں کر آباد رہیں گی ؟ خطباء و واعظین اور داعیان و مبلغین نہ ہوں ، تو کس طرح لوگوں کی زندگی میں دین باقی رہے گا ؟ 

اگر فتاویٰ دینے والے اہل افراد موجود نہ ہوں ، تو حلال و حرام کے بارے میں کس طرح امت کی رہنمائی ہو سکے گی ؟

 اگر مدارس و مکاتب کا نظام نہ ہوتا تو کیا یہ بات ممکن بھی تھی کہ مسلمانوں کی حکومت گم ہو جانے کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس ملک میں مسلمان اپنے مذہبی تشخصات کے ساتھ باقی رہتے ؟ 

دینی جماعتیں اورتنظیمیں اگر موجود نہ ہوتیں تو بہت سے قومی و ملی کام کس طرح انجام پاسکتے تھے ؟ 

اگر اسلامی نقطۂ نظر کی ترجمانی کرنے والے علمی و تحقیقی ادارے ، تصنیفات و تالیفات اور رسائل و جرائد موجود نہ ہو تے تو کیسے اسلامی فکر کی اشاعت ہوتی 
اور کس طرح مخالفِ اسلام افکار و نظریات کی تردید کی خدمت انجام پاتی ؟ 

یہ تمام شخصیتیں ، درس گاہیں ، تحریکیں ، تنظیمیں و ادارے اور کا وشیں اسلام کی خدمت کا حصہ ہیں اور ان کے ذمہ داران و کار کنان دینی خدمت گذار ہیں ، جیسے کسی انسانی معاشرہ کے لئے ہسپتال اور اسکول ضروری ہیں ، اسی طرح کسی قوم اور ملت کی بقاء کے لئے ان اداروں اورشخصیتوں نے معمولی خس پوش عمارتوں میں بیٹھ کر وہ خدمات انجام دی ہیں جو ہمارے بادشاہوں اور امراء و رؤساء نے قصور و محلات میں رہ کر بھی انجام نہیں دیں ،

 کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آج اس ملک میں نوجوانوں کے اندر اسلام سے جو وابستگی اور شعائر اسلام کی جو محبت اور اسلام کے لئے کٹ مرنے اور نثار ہو جانے کا جو جذبہ موجود ہے ، وہ مسلم سلطنتوں میں بھی موجود نہیں تھا ؟ ایوانِ اقتدار سے محرومی اور اسبابِ عیش و عشرت سے مہجوری کے اس دور میں اسلام کی اشاعت و حفاظت کی جو خدمت انجام پارہی ہے اور علم و تحقیق کا جو کام سامنے آرہا ہے ، مسلمان حکومتیں بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ، ہندوستان سے کئی عالمگیر اسلامی تحریکیں اٹھی ہیں ، آج مشرق سے مغرب تک چپہ چپہ پر اس کے نقوش موجود ہیں اور ان تحریکات نے پوری دنیا میں احیاء دین اور رجوع الی الاسلام کے ایک نئے جذبہ کو وجود بخشا ہے ، بلکہ ان جذبات کو شورش و تلاطم سے ہم کنار بھی کیا ہے ، مسلمانوں کے عہد ِحکومت میں اس خطہ 
سے ایسی فکری کشور کشائی اور جہاں بانی کی مثالیں نہیں دیکھی گئیں ۔ 

ظاہر ہے یہ سب بظاہر ان ہی دینی خدمت گزاروں اور مذہب و ملت کے وفا شعاروں کی سعی مسلسل اور کاوشِ بے غرض سے عبارت ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے معاشی وسائل محدود سے محدود تر اور کم سے کم تر ، بلکہ بعض اوقات کمترین ہوتے ہیں ، ان کے لئے شہر کے پر سکون اور بیش قیمت مقامات پر سکونت کا تصور کرنا بھی دشوار ہوتا ہے ، یہ اپنے بچوں کو ذہنی استعداد بہم پہنچنے کے باوجود اعلی عصری تعلیم کے بعض شعبوں میں داخل نہیں کرسکتے ، انھیں سادہ رہن سہن اور معمولی اسبابِ زندگی پر قناعت کرنا پڑتا ہے ، یہ بس اس لئے کہ وہ عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں ، بلکہ ایک مشن اور تحریک کا حصہ ہیں ، یہ مشن ہے اسلام کی حفاظت واشاعت کا ،یہ مشن ہے دین کی سربلندی اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ، یہ تحریک ہے اسلام کی بقاء اور اس کے احیاء کی اور یہ تحریک ہے نفس کی بندگی پر اللہ کی بندگی کو غالب رکھنے کی ۔ 

کیا ہم نے کبھی اس پر بھی غور کیا کہ اس طبقہ کے تئیں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ ہمارا ان کے ساتھ کیا سلوک و رویہ ہونا چاہئے ؟ اور جو سلوک ہوناچاہئے کیا واقعی ہمارا عمل اس کے مطابق ہے ؟ باپ سے بڑا حق دینی خدمت گزاروں کی توقیر اور ان کا احترام و اکرام ہے ، 

حضرت ابو امامہ ص راوی ہیں ، رسول اللہا نے ارشاد فرمایا : 
تین اشخاص وہ ہیں کہ جن کے ساتھ منافق ہی استخفاف اور بے توقیری کے ساتھ پیش آسکتا ہے : بوڑھا مسلمان، عالم اور منصف مزاج امام۔ ( مجمع الزوائد : ۱؍ ۷۲۱ ، باب معرفۃ حق العالم ) 
’’منصف مزاج امام‘‘ (امام مقسط ) میں اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں کے وہ ذمہ داران بھی شامل کئے جاسکتے ہیں جو انصاف اور دیانت پر قائم ہوں ۔
حضرت ابو امامہ باہلی ص کے واسطہ سے آپ ا کا ارشاد منقول ہے کہ جس نے کسی شخص کو قرآن کی ایک آیت بھی سکھا دی وہ اس کا مالک ہے ’’ من علم عبدا آیۃ من کتاب اﷲ فہو مولاہ‘‘ اب نہ اس کے لئے اس کی تحقیر کی کوئی گنجائش ہے اور نہ یہ کہ وہ دوسروں کو اس پر ترجیح دے ، ( مجمع الزوائد : بحوالہ طبرانی : ۱؍ ۸۲۱ ) 

ایک حدیث میں آپ ا نے عالم کو بہ چشم محبت دیکھنے کو بھی باعث ِاجر قرار دیا ، اس سے معلوم ہوا کہ علماء اور دینی کاموں کے ذمہ داروں کے بارے میں ہمارا رویہ توقیر و احترام اور جہاں تک ممکن ہو اعتبار و اعتماد کا ہونا چاہئے ۔ 
احترام میں یہ بات داخل ہے کہ کسی شرعی ضرورت کے بغیر ان کی غیبت اور ان کی کوتاہیوں کے اظہار و اشاعت سے بچا جائے ، کیوں کہ کوئی انسان غلطی سے پاک نہیں ، لیکن جو لوگ دین کی خدمت انجام دے رہے ہوں ، اگر ان کی کمزوریوں کو اچھالا جائے ، تو اس سے نہ صرف ان کا اعتماد مجروح ہوگا ، بلکہ خود دین پر لوگوں کا یقین متزلزل ہو جائے گا ، علامہ ابن عبد البرؒ نے حضرت علی ص کا ایک تفصیلی ارشاد نقل کیا ہے ، جس میں عالم کے حقوق بتائے گئے ، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان ان کی کمزوریوں کا متلاشی نہ رہے ، ’’ أن لا تطلب زلتہ ‘‘ ان کے راز کا افشاء نہ کرے اور نہ ان کی غیبت کرے ’’ و أن لا تفشی لہ سرا ۔۔۔ و أن تحفظہ شاہدا و غائبا‘‘ (کنز العمال ، حدیث : ۰۲۵۹۲ ) افسوس کہ آج کل دینی کام کرنے والوں پر بے اعتباری ، ان کے بارے میں افواہوں کا پھیلا نا اور بلا تحقیق تبصرے کرنا ، مسجد کی خدمت کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور اونٹ کو نگل جانے والے مصلیوں کا ان کے اندر تنکے تلاش کرنا ایک عام سماجی مرض ہو چکا ہے اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض دینی کاموں میں لگے ہوئے لوگ بھی علماء اور دینی اداروں کے خدمت گزاروں کی غیبت کرنے ، بلا تحقیق تبصرے کرنے اور خوردہ گیری کرنے سے نہیں چوکتے ۔ و إلی اﷲ المشتکی ۔
ایک اہم مسئلہ دینی کام کرنے والوں کی معاشی ضروریات کا ہے ، ضروریات ہر انسان کے ساتھ ہیں ، یہ دنیا تمناؤں اور آرزوؤں سے سجائی ہوئی ہے ، اس سے کسی بھی شخص کو مفر نہیں ، اگر مرد زہد و قناعت کو اپنا شعار بنالے اور مادّیت کے خارزار سے دامن بچا کر نکلنے کی کوشش کرے ، تب بھی کیا گھر کی عورتوں اور بچوں سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ سب کے سب اسی رنگ میں رنگ جائیں گے ؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک ناقابل عمل بات ہے ، اس لئے امت کا فریضہ ہے کہ وہ ان کی ضروریات کو اپنی ضرورت سمجھیں اور ان کی معاشی سطح کو اونچا اٹھانے کی کوشش کریں ، انھیں اس بات سے خوشی ہو کہ جو لوگ ان کی دینی خدمت انجام دینے والے ہیں ، وہ بہتر حالت میں ہیں ، ایسا نہ ہو کہ اگر انھوں نے کسی امام ، کسی دینی تنظیم یا جماعت کے سربراہ کو جو اچھے مکان میں رہتے ، اچھے لباس میں ملبوس اور اچھی گاڑی پر چلتے ہوئے دیکھے تو اسے گھٹن ہونے لگے اور دل خوش ہونے کے بجائے رنجیدہ ہو کہ کچھ سال پہلے تو اس کے پاس جھونپڑی بھی نہیں تھی اور آج یہ بہتر مکان میں ہیں ، کچھ دنوں پہلے سائیکل بھی میسر نہیں تھی اوراب آرام دہ کاریں ان کے قدموں میں ہیں ، جیسے انسان اپنے اعزہ اوراہل تعلق کے بارے میں نیک جذبات رکھتا ہے اور ان کو بہتر معاشی موقف میں دیکھنا چاہتا ہے ،علماء اور خادمین دین کے بارے میں بھی اس کے یہی جذبات ہونے چاہئیں ، حضرت علیؓ نے عالم کا ایک حق یہ بھی قرار دیا ہے کہ اگر اسے کوئی حاجت پیش آئے تو لوگ اس کی خدمت میں سبقت کرنے کی کوشش کریں ’’ وإن کانت لہ حاجۃ سبقت کل القوم إلی خدمتہ‘‘ ۔ ( کنز العمال ، حدیث نمبر : ۰۲۵۹۲ ) 
رسول اللہ ا نے ایک دینی خدمت گذار سے فرمایا کہ ہم پر اتنا واجب ہے کہ تمہارے خوردو نوش کا نظم ہو جائے ، رہائش کا انتظام ہو جائے ، تم شادی کرلو اور خادم رکھ لو ، اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی شخص کو اتنا حق المحنت ملنا چاہئے کہ خورد و نوش اور رہائش کا نظم کرسکے ، جو کام انسان خود نہ کرسکے اس کے لئے خادم کا نظم ہو ، خادم انسان بھی ہو سکتا ہے اور خدمت گذار مشینیں بھی ہو سکتی ہیں ، اور نکاح کرنے میں بیوی بچوں کے اخراجات اور ضروریات بھی شامل ہیں ، لیکن بنظر انصاف دیکھا جائے کہ آج مساجد میں ائمہ و مؤذنین کو ، مدارس و مکاتب میں اساتذہ و معلمین کو اور مختلف دینی جماعتوں میں خدام و کارکنان کو کیا تنخواہیں میسر ہیں ؟ پھر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ کیا ہم اپنی کم سے کم ضروریات معمولی سطح پر بھی اس قلیل و حقیر حق المحنت سے پوری کرسکتے ہیں ؟ 
اس کوتاہی میں مساجد و مدارس اور تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کا قصور کم ہے اور امت کے اصحابِ ثروت کا قصور زیادہ ہے ، ہمارا مزاج یہ بن گیا ہے کہ ہم مسجد کے پرشکوہ میناروں اور جاذبِ نظر گنبدوں کی تعمیر کے لئے تو پیسے دیتے ہیں ، جلسوں اور جلوسوں اور کانفرنسوں اورریلیوں کے لئے تو تعاون کرتے ہیں ، لیکن دین کی خدمت کرنے والے افراد و اشخاص جو ہمارے تعاون کے اصل مستحق ہیں ، ان پر خرچ کرنے اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے تعاون کی توفیق نہیں ہوتی ، بلکہ بعض لوگ تو اسے مد ِفضول یا کم اجر والا کام خیال کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انفاق کی خاص مد کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : 
… ان حاجت مندوں کے لئے جو اللہ کے راستہ میں گھرے ہوئے ہیں ، زمین میں آنا جانا نہیں کرسکتے ، نا واقف انھیں ان کی خود داری کی وجہ سے مالدار خیال کرتے ہیں ، تم انھیں ان کے چہرے کے نقوش سے سمجھ سکتے ہو ، وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر نہیں مانگتے اور جو بھی تم خرچ کروگے ، اللہ اس سے خوب آگاہ ہیں ۔ (البقرہ : ۳۷۲ )
یہ اللہ کے راستے میں روکے ہو ئے کون لوگ ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس میں وہ دینی کام کرنے والے بھی شامل ہیں ، جو کاروبار اور معاشی تگ و دو کے لئے اپنے وقت کو خالی نہیں کرتے ، اور اللہ کی زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ، اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ محتاج عالم پر صدقہ کرنے کا ثواب زیادہ ہے ’’ التصدق علی الفقیر العالم أفضل من التصدق إلی الجاہل‘‘ ( ہندیہ : ۱؍ ۷۸۱ ) اسی طرح مشہور فقیہ علامہ حصکفیؒ نے علماء کے ساتھ ساتھ زاہدوں کا بھی ذکر فرمایا ہے ۔ ( درّ مختار مع الرد : ۳ ؍ ۴۰۳ ) 
آج کل بعض حضرات یہ مہم چلا رہے ہیں کہ مدارس میں عام قسم کی ٹکنیکل تعلیم دی جانی چاہئے ، تاکہ ہنر مند علماء پیدا ہوں اوراس طرح ان کے معاشی حالات بہتر ہوں ، اس سے قطع نظر کہ اس کے بعد ہنر مند حفاظ و علماء آئندہ اپنے ہنر کی خدمت کریں گے یا دین کی ؟ اس پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی کہ ہم اپنی قوم کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ اپنے علماء اور دینی خدمت کرنے والوں کے معاشی معیار کو بہتر بنائیں اور اس کیلئے حسب ضرورت قربانی دیں ؟ آخر میں حضرت ابو مالک اشعری صکی ایک روایت نقل کرنے کو جی چاہتا ہے کہ آپ انے ارشاد فرمایا :مجھے اپنی اُمت پر تین باتو ںکا خوف ہے ، ان میںسے تیسری بات یہ ہے کہ لوگ صاحب ِعلم کو دیکھیں گے ، اسے ضائع کردیں گے اور اس سے بے توجہی برتیں گے ، وأن یروا ذا علمہم فیضیعونہ ولا یبالون علیہ ۔( مجمع الزوائد : ۱ ؍ ۸۲۱ ) ضائع کرنے سے مراد ان کو اہمیت نہ دینا اور ان کی ضروریات سے بے توجہی برتنا ہے ۔بصیرت فیچرس)