Pages

Showing posts with label The Elders Bayanat and Link. Show all posts
Showing posts with label The Elders Bayanat and Link. Show all posts

Buzurgon ki Batain Aqwal zareen Naseehat Malfoozat Irshadat

لوگ آج بهی روتے هیں مگر اپنے لۓ، امت کیلۓ رونے والا کوئ نہیں- مولانا الیاس رحمة الل
People cry today too, but only for themselves; there is no one to cry for the Ummah - 
Maulana Ilyas (رحمة الله عليه)


مرنا تو سب کو هے، میری مانو چار ماه لگا کر مر جاو- مولانا یوسف رحمة الله
Everyone must eventually die; accept my advice and die after spending four months - 
Maulana Yusuf (رحمة الله عليه)


زندگی ایسے گزارو جیسے رمضان، موت کے وقت یوں محسوس هوگا جیسے عید کا چاند- مولانا انعام الحسن رحمة الله
Spend your whole life as if it is Ramadhaan, and death will come feeling like the sighting of the Moon of Eid - 
Maulana In'aamul Hasan (رحمة الله عليه)


لوگ کہتےهیں حکومت بدلو انقلاب آۓ گا، هم کہتے هیں دل بدلو انقلاب آۓ گا- مولانا طارق جمیل
People say, "Change the government and revolution will come;" We say, "Change the heart and revolution will come" - Maulana Tariq Jameel (حفظه الله)


علم وه نهیں جو تمہیں ڈاکٹر بناۓ' علم وه هے جو تمہیں الله سے ملاۓ- مولانا سعد
Ilm (Knowledge) is not that which makes you a Doctor, Ilm is that which joins you with Allah - 
Maulana Saad (حفظه الله)

Principles in the Work of Tablīgh Wisdom and Farsightedness

[41:33] 
Who can be better in words than the one who calls towards Allah, and acts righteously and says, .I am one of those who submit themselves (to Allah)?

Nothing happens without the will of Allāh and
the life of our beloved Prophet 
Muḥammad sallallahu Alaihi wasallam
is the only way to eternal success...


For Reading and Downloading 


14818 200 square


Important Principles in the 
Work of Tablīgh

Molānā Saeed Aḥmed Khān 

Translated by Shaykh Abdul Mājid Iltāf

الدیوبندیہ أساس مذهب علماء ديوبندالشيخ محمد تقي العثماني قاضي الشرعي باكستان


أساس مذهب علماء ديوبند
بقلم : العلامة الشيخ محمد تقي العثماني - قاضي التمييز الشرعي بالمحكمة العليا بباكستان

الحمد الله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى، وبعد:
فلم تكن هناك أية حاجة في الواقع إلى كتاب مستقل يتناول مذهب علماء ديوبند بشرح أو إبانة؛ لأنهم ليسوا فرقة أو جماعة شقّتْ طريقًا فكريا أو عملياً يختلف عن طريق جمهور الأمة المسلمة، بل إنهم يتبعون في تفسير الإسلام وعرضه نفس المسلك الذي سلكه جمهور علماء الأمة عبر أربعة عشر قرنًا. إن الدين وتعاليمه الأساسية إنما تنبع من الكتاب والسنة، وإنها – تعاليم الكتاب والسنة – في شكلها الشامل هي أساس مذهب علماء ديوبند.

مولانا طارق جمیل بیان تقریر تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن


تبلیغی جماعت،  مدارس
 اوراہل تصوف
 مضبوط ربط ، احترام ورفاقت  اور آپسی تعاون کی ضرورت
انکے بیچ کوئی  غلط فہمی امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے
https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےاردو کتاب 

https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےا

مولانا ابراہیم مرکز نظام الدین نصیحت اردو

ایک گزارش اور درد مند اپیل
آجکل انٹرنیٹ پر کچھ حلقوں کی طرف سے یہ پھیلایا جا رہا ہے کی تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں۔راقم لگ بھگ 20 سال سے دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑا ہے۔اور پورےہندوستان میں جاتا رہا ہے۔اور خوانہ بدوش (کم پڑھے لکھے ) سے لیکر بڑے بڑے  تعلیم یافتہ جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ چلا ہوں ۔مجھے تو ایسے لوگ نہیں ملے۔اسکے بعد بھی میں انکار نہیں کر رہا ہوں کے ایسے لوگ بالکل نہیں ہیں۔ لیکن ایک بات صا ف ہے کی تبلیغی جماعت کا سواد اعظم ایسا نہیں ہے۔
اسلئے جو لوگ اپنے ذاتی تجربہ کے بنیاد پر یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں ان سے درخواست ہے کے وہ اس کی وضاحت کر دیں کہ تبلیغ کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔اور یہ تبلیغی جماعت کے بالکل بنیاد کے خلاف ہے۔اور انہیں  چاہیئے کہ وہ اپنی شکایت نظام الدین مرکز یا رایونڈ  مرکز لکھ دے ۔یہ دین کی بڑی خدمت  ہوگی ۔اور اگر کوئی  کسی اور وجہ  سے یا کسی فرد سے ذاتی  رنجش کی وجہ سے تبلیغی جماعت  کے کام کو بدنام کرے گا تو یہ آخرت کے اعتبار سے بڑا خطرہ ہے۔
نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔
تبلیغی جماعت غلطیوں  سے مبرہ  نہیں  ہے ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے  ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے  ۔ اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ  نہیں  ۔
تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ راست رابطہ کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی  ۔ کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاح  کا ثواب ملے گا ۔
تبلیغ سے جڑے لوگوں سے خاص  درخواست
اسی کے ساتھ تمام تبلیغ سے جڑے لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے۔اور اگر آپ کوئی تحریر ایسی  دیکھں تو  اسکی طح میں جائیں ۔اور اگر بات صحیح ہے تو اپنے ساتھی کی اصلاح کریں ۔اور فرد کی مراتب کے اعتبار سے اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔تاکہ سب کی اصلاح ہو جائے۔
اور اگر غلط ہو تو یہ بات الزام لگانے والے پر پہچائیں  کہ یہ بات غلط تھی ،اور صبر کریں۔میں نے اس طرح کی ایک واقعہ کی  تحقیق کی تو معلوم ہوا کی  دوشخص کی  آپسی رنجش اصل وجہ تھی۔اور وہ ساتھی کسی ترتیب سے نہیں جڑا تھا اور جماعت میں  یا مقامی کام میں کوئی پابند نہیں تھا۔بہر حال   اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے ۔

رح یہ مضمون اس طرح کی بات اور تبلیغ اور مدارس سے جڑے تمام پہلوئوں پر ہمارے مضامین کا حصہ ہے۔اس سلسلے کا کوئی مضمون بھی بھیج سکتے ہیں۔ دعا کی خصوصی درخواست ہے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مسلمان نبی پاک کے بتائے دعوت و تبلیغ کے طریقے پر عمل کئے بغیر ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے':     مولانا  طارق جمیل
 رائے ونڈ :رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوسرے مرحلے میںپہلے روز نماز جمعہ سے قبل امیر جماعت رائے ونڈ حاجی عبدالوہاب نے ہدایات پر مبنی بیان کیا ،نماز جمعہ مولا نا محمد ابراہیم نے پڑھائی جس کے بعد 
 ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن کے بارے تفصیلی خطاب کیا ،
انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان عالم اسلام دعوت و تبلیغ کے کام کو اسی طریقے سے شروع نہیں کریں گے جو حضور اکرم نے بتایا ہے وہ اسی طرح ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے ،کفار ان پر غالب آجائیں گے ،دین سے دور ہونے والے مسلمانوں کے ضمیر کی آواز انہیں سنائی نہیں دے گی ،بزدلی چھا جائے گی ہر غیر سے ڈریں گے اور انہیں ہی سب کچھ مانیں گے ،مسلمانوں کی حالت بداعمالیوں کا نتیجہ ہے ،بم دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے اسلام کے خیر خواہ نہیں،یہ کفر کا ہتھیار بننے والے نامکمل مسلمان ہیں جن کی برین واشنگ کی گئی ہے ،لیکن ان پر غلبہ پانے کیلئے صحیح مسلمان بننا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے سے زیادہ اہم کام مسلمانوں کو مسلمان بنانا ، نام کے مسلمانوں کو کام کے مسلمان، اور قومی مسلمانوں کو دینی مسلمان بنانا ہے۔ حق ہے کہ آج مسلمانوں کو حالت دیکھ کر قرآن پاک کی یہ ندا(اے مسلمانوں ! مسلمان بنو!!) کو پورے زورو شور سے بلند کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کا انتظام ہر زمانے میں جاری رکھا ہے اور اپنی حکمت اور اپنے علم کے ما تحت کبھی قوم در قوم کبھی قبیلہ در قبیلہ اس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہدایت کی محنت کرنے والوں کو انبیا اور رُسل کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور جس قوم کیلئے جن اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا وہی اصول محنت کرنے والوں کو بذریعہ وحی یا الہام عطا فرماتے رہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح حضور اکرم ا تک جاری رہا۔ اور آپ کی بعثت پر سابقہ ترتیب کو ختم فرما کر پورے انسانوں اور قیامت تک کیلئے آقائے نامدار سرور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کا ہادی اور امام قرار دے دیا گیا۔ اس رہبر کامل کوحق تعالیٰ شانہ کی جانب سے کارِ نبوت کے تین فرائض عطا کئے گئے۔ اوّل تلاوت احکام، دوم تعلیم کتاب و حکمت ، سوم تزکیہ، رسول اکرم لوگوں کو پیغام الٰہی پڑھ کر سناتے، حکمت الٰہی کی باتیں سکھاتے، پھر اپنی صحبت فیض اثر سے پاک صاف کرتے، نفوس کا تزکیہ فرماتے، قلوب کے امراض کا علاج کرتے، برائیوں کا زنگ اور میل دور کر کے اعلیٰ اخلاق انسانی کو سنوارتے۔ آپ دوران تبلیغ تالیفِ قلب کا بڑا خیال رکھتے۔ لطف و محبت ، عفوودرگزر اور ہمدردی سے آپ انے بہت سے لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام بنایا۔ حضور اکے طریقہ تبلیغ میں صبرواستقامت کا عنصر بڑا نمایاں تھا۔ دائمی حق و صداقت کی مخالفت اور سختی جس قدر بڑھتی اسی قدر تبلیغ کی شدت زیادہ ہو جاتی۔ باطل کی قوتیں حق کو دبانے کیلئے چاروں طرف سے پورش کر کے آجاتیں تو دائمی انقلاب ایک مضبو چٹان کی طرح جم کر کھڑے ہو جاتے اس ہادی برحق نے خفیہ طور پر بھی پیغام حق دوسروں تک پہنچایا اور پھر اعلانیہ تبلیغ کے مراحل بھی طے کئے غیر ممالک میں تبلیغ کا فریضہ خطوط لکھوا کر پورا کیا غرضیکہ ظاہرو باطنی فرائض یکساں اہمیت سے ادا ہوتے رہے۔ چنانچہ صحابہ اکرام ؓ اور ان کے تابعین اور اولیاءاکرام تک یہ فرائض اسی طرح انجام پاتے رہے۔ اور پھر وہ دور شروع ہوا جس مین مسندِ ظاہر کے درس گو باطن کے کورے اور باطن کے روشن دل ظاہر سے عاری ہونے لگے۔ اور عہد بہ عہد ظاہرو باطن کی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ علوم ظاہرہ کیلئے مدارس کی چاردیواری اور تعلیم و تزکیہ باطن کیلئے خانقاہوں اور رباطوں کی تعمیر عمل میں آئی اور وہ مسجد نبوی جس مین یہ دونوں جلوے یکجا تھے اس کی تجلیات ، مدرسوں اور خانقاہوں کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس سے علماءدین کی بجائے علمائے دنیا برآمد ہونے لگے اور باطن کے مدعی علم شریعت کے اسرار و کمالات سے غافل ہو کر رہ گئے۔ اس دور زبوں میں بھی عالم اسلام میں ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں جو آرائش ظاہر اور جمالِ باطن سے آراستہ و پیراستہ تھیں ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت امام غزالی ؒ، شیخ عبد القادر جیلانی ؒ، حضرت امام بخاری ؒ ، اور حضرت سفیان ثوری نمایاں ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ بھی اسی سلسلہ ولی الٰہی کی ایک کڑی ہیں جس مبارک دینی ماحول میں مولانا محمد الیاس ؒ کی عمر کا ابتدائی حصہ گزرا تھا اس کی مخصوص دینی و روحانی فضا کی وجہ سے بمشکل اس بات کا احساس ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایمان و یقین کی دولت سرعت کے ساتھ نکلتی جارہی ہے۔ دین کی طلب اور قدر سے دل تیزی کے ساتھ خالی ہوتے جارہے ہیں۔ اس ماحول میں چونکہ صرف خواص اہل دین اور اہل طلب سے واسطہ پڑتا تھا اور احساس نہ ہونابے موقع نہ تھا۔ وہاں رہ کر ہی تصور کیا جاسکتا تھا کہ مسلمانوں کی زندگی دعوت و تبلیغ اور دین کی ابتدائی جدوجہد کی منزل سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب صرف مدنی زندگی کے تکمیلی مشاغل کی ضرورت ہے۔ اس لئے وہاں رہ کر مدارس دینیہ کے قیام و اہتمام ، کتاب و سنت کی اشاعت ، درس حدیث، دینی تصانیف و تالیف، قضا افتائ، ردِّ بدعات، اہل باطل سے مناظرہ واحقاقِ حق اور سلوک و تربیت باطنی کے علاوہ کسی اور طرف ذہن کا منتقل ہونا بہت مشکل تھا وہاں کام کی نوعیت یہ تھی گویا زمین ہموار دیتا رہے صرف اس پر پودے اور درخت بٹھانا باقی ہے۔ اس ماحول کا طبعی تقاضا تو یہ تھا کہ آپ بھی انہیں میں سے کسی شعبے کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی خداد استعداد صلاحیت سے اس میں کمال پیدا کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ کی خاص رہنمائی فرمائی اور آپ کی بصیرت پر یہ حقیقت منکشف کر دی کہ جس سرمایا کے اعتماد پر یہ سارا جمع خرچ ہے وہ سرمایا ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے جس زمین پر دین کے یہ درخت نصب کرنا ہیں وہ زمین ریت کی طرح پاں کے نیچے سے کھسکتی جارہی ہے۔ امّہات عقائد میں ضعف پیدا ہو گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے خدا کی خدائی اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کا یقین کمزور ہوتا جارہا ہے اور اجر و ثواب کا شوق (ایمان و احتساب) دل سے اٹھتا جارہا ہے۔ یہ انکشاف اس وضاحت اور قوت کے ساتھ ہو اکہ اس سے مولانا کی زندگی کا رخ بالکل ہی تبدیل ہو گیا۔ طبائع رحجانات کے سیلاب کے رخ کو خداد بصیرت و فراست سے پہچان کر آپ نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ نئے دینی اداروں کا قیام تو الگ رہا پرانے اداروں اور دینی مرکزوں کی حالت بھی خطرے سے باہر نہیں۔ اس لئے کہ وہ رگیں اور شریانیں جس سے ان میں خون زندگی آتا تھا مسلمانوں کے جسم میں برابر خشک ہوتی جارہی ہیں ان کی طلب اور ضرورت کا احساس ہوا کہ اس وقت کا احساس ، ان کی قدر کم ہو رہی ہے مولانا کو اس بات کا پوری شدت سے احساس ہوا کہ ا س وقت سب سے مقدم اور ضروری کام قلب کی تبلیغ اور مسلمانوں میں اپنے مسلمان ہونے کااحساس پیدا کرنا ہے اور یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں کے بجائے اسے سیکھنے کی ضرورت زیادہ ہے یہ احساس اور طلب پیدا ہو گئی تو باقی مراحل خود طے ہو جائیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے ان میں مشغول ہو گئے۔ حالانکہ سرے سے ہی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت باقی ہے اس احساس و طلب اور اسلام کے اصول اپنانے کی تلقین کے طریقہ کار کے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کا کلمہ طیبہ ہی اللہ کی رسی کا وہ سرا ہے جوہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی سرے کو پکڑ کو آپ پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ اس لئے مسلمان جب تک کلمہ کا اقرار کرتا ہے اسے دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی ہے اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اس کا فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔ اس لئے کلمہ کے ذریعے ہی ان میں تقریب پیدا کی جائے کلمہ یاد نہ ہو تو یاد کرایا جائے غلط ہوتو اس کی تصحیح کی جائے کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ خدا کی بندگی اور غلامی اور رسول کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی پابندی پر لایا جائے۔ نیز یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کیلئے اللہ کی مرضی و منشاءاوراس کے احکام و فرائض معلوم ہونے کی ضرورت ہے دنیا کا کوئی ہنر سیکھے اور کچھ وقت ضائع کئے بغیر نہیں آتا۔ دین بھی بے طلب نہیں آتا اس کے لئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔ ان نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا الیاس ؒ نے بستی نظام الدین سے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اس زمانے میں یہ بستی غیر آباد تھی۔ ایک چھوٹی سے کچی مسجد اور حجرے کے سوا یہاں کچھ نہ تھا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے جنوب میں مختصر سی آبادی تھی۔ مسجد میں چند میواتی غریب طالبعلم ہر وقت موجود رہتے تھے یہ زمانہ نہایت تنگدستی اور فقروفاقہ کا تھا۔ عرصہ تک یہ مجاہدہ جفاکشی اور ریاضیت جاری رہی۔ وہ مروجہ تمام ذرائع ابلاغ کو جائز تو سمجھتے تھے مگر انبیاءوالے کام کیلئے اسی سادہ فہم سینہ بہ سینہ، انسان بہ انسان ، زندگی بہ زندگی والے طریق دعوت کو اصل اور افضل سمجھتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اطاعت حق ، حفاظت حق اور اشاعت حق کو ہی اپنا مقصد حیات بنانا چاہیے اور اپنی جان اپنا مال اپنا وقت اور اپنا خون پسینہ اور آنسو بہا کر گمراہ لوگوں کیلئے نفرت اور دشمنی کی بجائے خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ یہ فریضہ انجام دینا چاہیے تاکہ دین کی قدر و قیمت دل میں آ جائے کیونکہ جو چیز مقصد حیات بن جائے اس پر سب کچھ قربان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کو کسی پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔

 Taken with Jazakallah https://groups.google.com/forum/#!topic/dineislam/0IsfPsaxwOY
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مولانا مجیب الرحمن انقلابی
بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ شرک و بدعت، جہالت اور ضلالت و گمراہی کے ”بحرظلمات“ میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپؒ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ”اخص الخواص“ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ”رشد و ہدایت“ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ”مرکزیت“ ختم ہوتی جارہی ہے جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں اب وہ بے نور ہیں، دوسری بات انہوں نے یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقہ تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپؒ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میںپھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک دین سیکھے، کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کا طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں اس لیے مولانا الیاس کاندھلویؒ ضروری سمجھتے تھے کہ اس ”دعوت و تبلیغ“ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص و للہیت کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کے ”احیائ‘ کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہوا اور یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاءکرام علیہم السلام کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ جیسی مقدس اور فرشتہ صفت جماعت پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب ہوئی اور پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فیضاءدینی بنے گی تو لوگوں میںدین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا بلکہ ہر شخص مجسمِ دعوت اور مدرسہ و خانقاہ بن جائے گا۔۔۔
حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی دین کے لیے تڑپ و بے چینی اور درد وبے قراری دیکھنے میں نہیں آتی تھی ، مسلمانوں کی دین سے دوری پر آپؒ انتہائی غمگین و پریشان اوراس فکر میں ڈوبے رہتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر کسی طرح دین دوبارہ زندہ ہو جائے۔۔۔ بعض اوقات اسی فکر میں آپؒ ”ماہی بے آب“ کی طرح تڑپتے آہیں بھرتے اور فرماتے تھے میرے اللہ میں کیا کروں کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ کبھی دین کے اس درد وفکر میں بستر پر کروٹیں بدلتے اور جب بے چینی بڑھتی تو راتوں کو فکر سے اٹھ کر ٹہلنے لگتے۔۔۔ ایک رات اہلیہ محترمہؒ نے آپ ؒ سے پوچھا کہ کیا بات ہے نیند نہیں آتی؟۔۔۔ کئی راتوں سے میں آپؒ کی یہی حالت دیکھ رہی ہوں۔۔۔، جواب میں آپؒ نے فرمایا کہ! کیا بتلاو¿ں اگر تم کو وہ بات معلوم ہو جائے تو جاگنے والا ایک نہ رہے دو ہو جائیں۔۔۔ صرف آپؒ کی اہلیہ محترمہؒ ہی نہیں بلکہ آپؒ کے سوز و درد کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی کے ساتھ لگا سکتا تھا جو آپؒ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور باتیں سنتا تھا، آپؒ کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب لوگوں کے دلوں میں وہی آگ پھونک دیں جس میںوہ عرصہ سے جل رہے تھے۔۔۔ سب اس غم میں تڑپنے لگیں جس میں وہ خود تڑپ رہے تھے، سب میں وہی سوز و گداز پیدا ہو جائے جس کی لطیف لمس سے آپؒ کی روح جھوم اٹھتی تھی جب ایک جاننے والے نے خط کے ذریعہ آپ سے خیریت دریافت کی تو آپؒ نے سوز ودرد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ”طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے“۔
اور پھر مولانا محمد الیاسؒ خود سراپا دعوت بن کر ”دعوت و تبلیغ “ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ”میوات“ کے ہر علاقہ میں پھرے ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دی کئی کئی وقت فاقے کیے، گرمی و سردی سے بے پرواہ ہو کر تبلیغی گشت کیے۔۔۔ اور جب لوگوں نے آپؒ کی حسب خواہش آپؒ کی آواز پر ”لبیک“ نہ کہا تو آپؒ بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کو خدا کے حضور روتے گڑگڑاتے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے دعا کرتے۔۔۔ اور پھر اپنی اہمت و طاقت ، مال ودولت سب کچھ ان میواتیوں پر اور ان کے ذریعہ اس تبلیغی کام پر لگا دیا۔۔۔ اس دوران اپنے رفقاءاور ساتھیوں کو ایک خط میں آپؒ تحریر فرماتے ہیں کہ! تم غور کرو، دنیائے فانی میں کام کےلئے تو گھر کے سارے افراد ہوں او ر اس دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے صرف ایک آدمی کو کہا جائے اور اس پر بھی نباہ نہ ہو تو آخرت کو دنیا سے گھٹایا ،یا نہیں گھٹایا؟۔
    حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اپنے ایک مکتوب میں میواتی حضرات کو تحریر فرماتے ہیں کہ ”میں اپنی قوت و ہمت کو تم میواتیوں پر خرچ کر چکا ، میرے پاس بجز اس کے کہ تم لوگوں کو قربان کردوں کوئی اور پونجی نہیں ہے۔۔۔
    اور پھر دنیا نے دیکھا کہ میواتی حضرات نے اپنے جان و مال اور زندگیوں کو اس کام پر قربان کر دیا۔۔۔ اور پھر ایک ایک گھر سے ایک ہی وقت میں کئی کئی افراد دین کے کام کے لیے باہر نکلنے لگے۔۔۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ابتداءمیں یہی میواتی لوگ جن کو اپنے گھر اور گاو¿ں سے نکلنا مشکل تھا اب وہ مولانا الیاسؒ کی محنت سے اس دعوت و تبلیغ کی فکر لے کر ملک ملک، شہر شہر دین کی خاطر پھرنے لگے۔۔۔
        مولانا الیاسؒ کی یہ عالمگیر”احیائے اسلام کی تحریک“ جیسے ظاہر میں لوگ صرف کلمہ و نماز کی تحریک کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوش کرتے ہیں یہ کوئی معمولی کام اور تحریک نہیں بلکہ یہ پورے دین کو عملی طور پر زندگی میں نفاذ کی تحریک ہے۔۔۔ اس تحریک اور جماعت کے بانی حضرت مولانا الیاس ؒ خود اپنی اس تحریک کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میرا مدعا کوئی پاتا نہیں“ لوگ سمجھتے ہیںیہ”تحریکِ صلوٰة“ ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ہر گز تحریکِ صلوٰة نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت اور تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضورﷺ کا لایا ہوا دین پورا کا پورا سیکھا دیں یہ تو ہماری تحریک کا مقصد، رہی تبلیغی قافلوں کی چلت پھرت، تو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ و نماز کی تلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے۔۔۔۔
    ہماری تبلیغی تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے جذبات پر دین کے جذبہ کو غالب کر کے اور اس راستہ سے مقصد کی دعوت کو پیدا کرتے ہوئے اور اکرام مسلم کے اصول کو رواج دے کر پوری قوم کو اس حدیث کے مصداق بنایا جائے۔
    ترجمہ: ”تمام مسلمان ایک جسم و جان کی مانند ہیں“۔ اور ہمارے تبلیغی کام میں اخلاص، صدقِ دل کے ساتھ اجتماعیت اور مل جل کر باہمی مشورے کے ساتھ کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے اور اس کے بغیر بڑا خطرہ ہے۔۔۔
    مولانا الیاسؒ نے اس دعوت و تبلیغ والے کام کے طریقہ کار اور چھ اصولوں کے علاوہ کچھ مطالبے اور دینی تقاضے بھی رکھے ہیں جس کے تحت اس دعوت و تبلیغ والے کام کی محنت و ترتیب اور مشورہ کے لیے روزانہ کم از کم دو سے تین گھنٹے وقت دینا، ذکر و اذکار اور اعمال کی پابندی کرناروزانہ دو تعلیمیں کروانا ایک مسجد میں اور ایک گھر میں، ہفتہ میںدو گشت کرنا، جس کے تحت کچھ وقت نکال کر اپنے ماحول میں ضروریات دین کی تبلیغ کےلئے باقاعدہ جماعت بنا کرایک امیر اور ایک نظام کی ماتحتی میں اپنی جگہ اور قرب و جوار میں تبلیغی گشت کرنا، ہر مہینہ میں تین دن اس دعوت و تبلیغ والے کام میں لگاتے ہوئے اپنے شہر یا قرب و جوار کے علاقہ میں گشت و اجتماع کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اس دعوت و تبلیغ والے کام پر نکلنے کےلئے امادہ اور تیار کرنا، سال میں ایک ”چلہ“ یعنی چالیس دن اللہ کے راستہ میں دعوت و تبلیغ کےلئے لگانا، اور پھر چار مہینے(تین چلے) اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نکل کر لگاتے ہوئے دین اور اس دعوت و تبلیغ والے کام کو سیکھے اور پھر ساری زندگی اسی کام میں صرف کرنا۔ بقول حضرت مولانا پالن پوری رحمة اللہ علیہ کے کہ ”اس دعوت و تبلیغ والے کام کو کرتے کرتے مرنا اور مرتے مرتے کرناہے“۔



    مولانا محمد الیاسؒ نے اس دعوتی سفر اور نقل و حرکت کے ایام کا ایک مکمل نظام الاوقات مرتب کیا جس کے تحت یہ تبلیغی جماعتیں اپنا وقت گزراتی ہیں۔۔۔ ایک وقت میں گشت، ایک وقت میں اجتماع، ایک وقت میں تعلیم، ایک وقت میں حوائج ضروری کا پورا کرنا اور پھر ان سارے کاموں کی ترتیب و تنظیم۔۔۔ گویا کہ یہ تبلیغی جماعت ایک چلتی پھرتی خانقاہ، متحرک دینی مدرسہ، اخلاقی و دینی تربیت گاہ بن جاتی ہے۔ مولانا الیاسؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے طریقہ کار میں دین کے واسطہ جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیّت حاصل ہے، اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک دینی ماحول میں آجاتا ہے۔۔۔ اور پھر اس دعوت و تبلیغ والے سفر اور ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اللہ کے لیے برداشت کرنا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہوتی ہیں۔
    بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ ایک موقعہ پر فرماتے ہیں ”یہ امت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی زبان کا حامی نہ تھا، مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی نہ تھا بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھتا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کیا فرماتے ہیں؟۔۔۔ امت جب ہی بنتی ہے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مقابلہ میں سارے رشتے اور سارے تعلقات کٹ جائیں، جب مسلمان ایک امت تھے تو ایک مسلمان کہیں قتل ہوتا تو ساری امت ہل جاتی اور تڑپ اٹھتی، اب ہزاروں، لاکھوں مسلمانوں کے گلے کٹتے ہیں اور کانوں میں جوں نہیں رینگتی“۔
    آج پوری دنیا میں تبلیغی جماعت اس دعوت و تبلیغ والے کام کو پوری محنت، اخلاص وللہیت اور ایک نظم کے ساتھ کر رہی ہے اور اس کام کے اثرات و ثمرات سے آج کوئی بھی ذی ہوش انسان انکاری نہیں۔۔۔۔ اللہ کی مدد و نصرت سے ناقابل یقین حد تک کامیابی ہو رہی ہے۔۔۔ دن رات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و معصیت اور فسق و فجور میں زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد اس تبلیغی جماعت کی بدولت تہجد گزار، متقی، پرہیز گار اور دین کے داعی بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں، دعوت و تبلیغ والے اس کام کی مثال پوری دنیا میں کسی مذہب والے کے پاس نہیں ہے۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمة اللہ علیہ اس تبلیغی جماعت کی افادیت و ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اصلاح نفس کے چار طریقے ہیں اور حُسنِ اتفاق سے ”تبلیغ“ کے اندر یہ چاروں طریقے جمع ہیں، صحبتِ صالح بھی ہے، ذکر و فکر بھی، مواخات فی اللہ بھی ہے، دشمن سے عبرت و موعظت بھی اور محاسبہ نفس بھی ہے۔۔۔ اور انہی چاروں کے مجموعہ کا نام ”تبلیغی جماعت“ ہے عام لوگوں کے لیے اصلاح نفس کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ، اس طریقہ کار سے دین عام ہوتا جا رہا ہے اور ہر ملک کے اندر یہ صدا پہنچتی چلی جا رہی ہے اور اس کے ذریعہ لوگوں کے عقائد درست ہو رہے ہیں، لوگ تیزی کے ساتھ اعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو حضورﷺ کی زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ تبلیغی جماعت مخلوق کو مخلوق کی غلامی سے نکال کرخالق کی بندگی و غلامی میں لانے، صحابہ کرامؓ جیسی پاکیزہ صفات و عادات کو اپنانے اور پیدا کرنے، صبح جاگنے سے لے کر رات سونے تک، کھانے پینے سے لے کر بیت الخلاءتک۔۔۔ گویا کہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک پوری زندگی میں دین لانے کی کوشش اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے اور خالق ہی سے سب کچھ ہونے کا یقین دلوں میں پیدا کرنے میں مصروف ہے، حقیقت یہ ہے کہ جس کام مین بھی جان و مال اور وقت یہ تین قیمتی چیزیں خرچ ہو جائین تو وہ کام بھی قیمتی ہو جاتاہے۔۔۔ تبلیغی جماعت بھی آج دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام میں جان و مال اور وقت لگا کر یہ کام پوری دنیا میں کرنے اور پھیلانے میں مصروف ہے۔۔۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/09-Nov-2012/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%BA%DB%8C-%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%88---%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%B1%DA%A9%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92
تبلیغ کی ضرورت و اہمیت
/http://shaheedeislam.com


تبلیغ کی ضرورت و اہمیت
س… میرا مسئلہ تبلیغ سے متعلق ہے، قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھتا ہوں: “تم بہترین اُمت ہو، لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو، تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے ہو اور بُرے کام سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔” دُوسری آیت کا ترجمہ: “اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی ضروری ہے جو خیر کی طرف بلائے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کرے اور بُرے کام سے منع کرے، ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔” ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “جو شخص کسی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھے، اگر اس پر قدرت ہو تو اس کو ہاتھ سے بند کردے، اتنی قدرت نہ ہو تو دِل میں بُرا جانے، اور یہ ایمان کا بہت کم درجہ ہے۔” ایک دُوسری حدیث کا مفہوم ہے: “تمام نیک اعمال جہاد کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں، اور تبلیغِ دِین ایک سمندر ہے، اور جہاد، تبلیغ کے مقابلے میں پس ایک قطرہ ہے” آیت اور حدیث کی روشنی میں ان کا جواب دیں۔
ج… آپ نے صحیح لکھا ہے، دِین کی دعوت دینا، لوگوں کو نیک کاموں پر لگانا اور بُرے کاموں سے روکنا بہت بڑا عمل ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرے اور بقدرِ استطاعت ان کو نیکیوں پر لگائے اور بُرائیوں سے بچائے۔ آخری حدیث جو آپ نے لکھی ہے، یہ میری نظر سے نہیں گزری۔

کیا تبلیغی جماعت سے جڑنا ضروری ہے؟
س… جماعت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کام میں جڑنے کے علاوہ بھی اصلاح اور ایک مخصوص ذمہ داری بحیثیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مسلمان اُمتی ہونے کے ادا ہوسکتی ہے؟ ایک مسلمان کے ذمے کیا ہے؟ وہ کیسے اپنی زندگی کا رُخ صحیح کرے؟ اور ساری انسانیت کے لئے فکرمند کیونکر ہو؟
ج… جماعت بہت مبارک کام کر رہی ہے، اس میں جتنا وقت بھی لگایا جاسکے ضرور لگانا چاہئے، اس سے اپنی اور اُمت کی اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے، اور اپنے نفس کی اصلاح کے لئے کسی شیخِ کامل محقق کے ساتھ اصلاحی تعلق رکھنا چاہئے۔

طائف سے واپسی پر آنحضرت ﷺ کا حج کے موقع پر تبلیغ کرنا
س… کیا طائف سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ سے روک دیا گیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حج کے موقع پر ہی دِین کی تبلیغ کرسکتے تھے؟
ج… کفار کی جانب سے تبلیغ پر پابندی لگانے کی ہمیشہ کوشش ہوتی رہی، لیکن یہ پابندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی قبول نہیں فرمائی، البتہ جب یہ دیکھا کہ اہلِ مکہ میں فی الحال قبولِ حق کی استعداد نہیں اور نہ یہاں رہ کر آزادانہ تبلیغ کے مواقع ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسمِ حج میں باہر سے آنے والے قبائل کو دعوت پیش کرنے کا زیادہ اہتمام فرمایا، جس سے یہ مقصد تھا کہ اگر باہر کوئی محفوظ جگہ اور مضبوط جماعت میسر آجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ہجرت کرجائیں۔

کیا نماز کی دعوت اور سنت کی تلقین ہی تبلیغ ہے؟
س… تبلیغ کے کیا معنی ہیں؟ اور اس کا دائرہٴ کار کیا ہے؟ کیا نماز کی دعوت اور سنت کی تلقین ہی تبلیغ ہے؟ اگر کوئی شخص معاشرے کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ اقتدار کے لئے ایسا کرتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کریں تو دُنیا قدموں میں خودبخود آجائے گی، حالانکہ مقصد اصلاحِ معاشرہ ہے اور معاشرے کو ان بُرائیوں سے بچانا مقصود ہے جو اسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص یا جماعت کا یہ فعل کس حد تک اسلام کے مطابق ہے؟ کیا یہ تبلیغ کی مد میں شامل ہے؟
ج… معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے، افراد کی اصلاح ہوگی تو معاشرے کی اصلاح ہوگی، اور جب تک افراد کی اصلاح نہیں ہوتی، اصلاحِ معاشرہ کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ پس جو حضرات بھی افراد سازی کا کام کر رہے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔
          تبلیغ کا دائرہٴ کار تو پورے دِین پر حاوی ہے، مگر نماز دِین کا اوّلین ستون ہے، جب تک نماز کی دعوت نہیں چلے گی اور لوگ نماز پر نہیں آئیں گے، نہ ان میں دِین آئے گا اور نہ ان کی اصلاح ہوگی، اور ہر کام میں سنتِ نبوی کو اپنانے کی دعوت، درحقیقت پورے دِین کی دعوت ہے، کیونکہ سنت ہی دِین کی شاہراہ ہے، اس لئے بلاشبہ نماز اور سنت کی دعوت ہی دِین کی تبلیغ ہے۔

Tawheed kiya Hai Yeh dil mein Allah ki Uluhiat Rububiat aur Asma o sifat ko bithana hai

Daawat e emaan-o-amal
(Umoomi bayaan)
(Hazrat maulaanaa mohammad yousuf saahab ki ek taqreer)
Zilaa bastee ke ek ijtemaa se waapas hote hue hazra maulaanaa mamdooh 29/may 1962 ko luckhnow tashreef laaye aur us din yahin qeyaam farmaayaa -  subah 8 baje ke baad  yahaan ke tableeghi markaz mein aap ne ek aam ijtemaa ko khitaab farmaayaa -  is naa cheez ne maulaanaa ki taqreer sunne ke saath saath qalamband karne ki koshish bhi ki thee -  isi ko mai ne naazreen “alfurqaan”ke liye mandarjaa zeil mazmoon ki shakal mein murtib kar diyaa h ai – ab ye jis shakal mein naazreen ke saamne hai hazrat mamdooh ki taqreer to nahin hai , lekin ye woh zaroor hai  jo main ne samjh kar adaa karne ki koshish ki hai -  jahan tak musjh se ban padaa , main ne hazrat maulaanaa ke andaaz ko bhi bibahne ki koshish ki hai – bahar-e-haal ab his soorat mein is ko ishaa-at ke liye de rahaa hoon , iskaa zimmedaar main hoon – (khaksaar muhammad naqee faarooqi)
Khutbaa masnoonah ke baad
Deenee bhaiyo aur dosto:
Allah taalaa kaa qaanoon hai ke is dunyaa mein jo koyee jis maqsad ke liye bhi is ke tareeqe par mehnat karega , use woh maqsad kisi na kisi darjah mein zaroor haasil hogaa – ab jo shakhs dunyaa ki ksisi cheez ko maqsad banaa kar dunyawee tareeqe par iske liye mehnat kare , Allaah taalaa jis had chahte hain usko woh cheez ataa farmaa dete hain , aur jo shakhs aakhirat ko mauzoo-o-maqsad banaa kar iske liye sahih mehnat kare , usko Allaah taalaa aakhirat ki nematein  bharpoor inaayat farmaayenge aakhirat ki mehnat ke 2 darje hain-
1- ek ye ke aadmi poori zindagi to is tarah na guzaare  jis tarah aakhirat ke taalib ko guzaarani cahahiye  aur apne aap ko deen kaa pooraa pooraa taabe to na banaaye magar kcuhh kaam Allaaah ki razaa waale kare, iski misaal us shakhs ki see hai jo ksisi kaarkhaane mein thodaa saa hissaa  daal kar shareek ho jayee , ye aadmi kaarkhaana mein hissa daar to zaroor ho jaataa hai lekin ise apne hisse kaa nafaa bhi jab hi milegaa jab kaarkhaana kaa hisaab ho aur munaafe ki taqseem kaa waqt aaye , darmiyaan mein agar ise zaroorat ho tab bhi nahin mil saktaa, hattaa ke agar apni ksii zaroorat ke liye apnaa sirmaayaa hi ismein se nikaalnaa chaahe  to usko nikalwaanaa bhi iske ikhteyaar mein nahi hai ,  isi tarah jo shakhs aakhirat ke kcuhh aamaal kartaa hai ke nematon mein hissaa dar to zaroor bangayaa  lekin is hisaab mein isko usi waqt  kuchh milegaa jab aakhirat mein poori zindagi kaa hisaab kitaab hogaa aur jo shakhs apnee poori zindagi deen ke tahat kar de aur apne har kaam mein Allaah ki razaa aur aakhirat ko saamne rakhe , iski misaal us shakhs ki see hai jo apne zaati sarmaayaa se apnaa karkhaanaa qaaim kare , woh jab chaahe kaarkhaanaa ke munaafe mein se aur asal sarmaayaa mein se bhi nikaal saktaa hai –
Momin kaamil kaa haal hai ha wo apne eemaan aura mal kaa phal aakhirat se pahle dunyaa mein bhi paataa hai aur Allaah taalaa isko is dunyaa mein bhi “hayat-e-taiyabah “ataa kartaa hai woh duaa kar ke bhi Allaah taalaa se apne masaail hal karaa letaa hai – Allaah aur uske rasool ki asal daawat isi darje ke liye hai-
"یا ایھااللذین اٰمنواد خلو فی السلم کافۃ"
Ae eemaan walo; poore poore islaam mein aajao aur apni poori zindagi ko khudaa ki farmaan bardaari mein de do)
Jo log aisaa kareinge unke liye Allaah kaa waadah hai ke Allaah taalaa ghaib se unke masaail hal karegaa –
"ومن یتق اللہ یجعل لھ مخرجا ویرزقھ من لا یحتسب"
Zindagi ke masaail ke liye mehnat ke 2 tareeqe hain –
1-  ek tareeqaa ye hai ke is kaainaat ki jin cheezon se masaail hal hote naza aayein barah-e-raast in cheezon par hi mehnat ki jaaye jaise ghallaa haasil karne ke liye zameen par (yaani ziraa-at pr)  mehnat ki jaaye – daulat haasil karn ke liye dukaanon par (yaani tijaarat par) mehnat kee jaaye – yaani jo chee is dunyaa mein jhaan se haasil hoti huee nazar aaye , uske haasil karne ke liye bas isi shai par mehnat ki jaaye – ye tareeqaa aam insaanon kaa balke haiwaanon kaa bhi hai -  dunyaa ke saare haiwaanaat kaa yahi haal hai ke unko jo cheez jahaan se nikalti huee dikhaayee deti hai usko waheein se haasil karne ki woh koshish karte hain uske aage peechhe woh kuchh nahin jaante __
2-  doosraa tareeqa anbiyaa alaihimussalaam aur unke motabaeen kaa hai woh ye yaqeen rakhte hain ke sab kuchh Allah ke qabzaa-o-ikhteyaar mein hai aur uske zer-e-hukm hai ghallah jo zameen se nikaltaa huaa dikhaayee detaa hai woh Allaah ke hukm se nikaltaa hai-    
الزارعوننحن ام عونھ تزر انتم
Sehat-o-shifaa jo bazaahir do use haasil hoti huee maloom hai dar asal Allaah ke hum se haasil hoti hai –
"واذا مرضت فھو یشفین"
Isee tarah jo nafaa jo bazaahir  tijaarat  aur dukaan daari se haasil hota huaa nazar aataa hai woh Allaah hi ke hum se miltaa hai , agar Allaah na chaahe to na mile –
Algharz is kaainaat ki kisi cheez se kuchh hotaa huaa nazar aata hai ,  anbiyaa alaihimussalaam ne batlaayaa ke woh dar asal is cheez se nahin hotaa , balke Allaah ke hukm se hotaa hai –
(قل االلھم مٰلک الملک تؤتی الملک من تشاءوتنزع الملک ممن تشاء وتعزمن (تشاء وتذ ل من تشاء بیدک الخیرانک علیٰ کل شیء قدیر

Izzat aur zillat ke maailk khudaa hain

 is liye unkaa aur unke maanne waalon kaa tareeqaa ye hai ke woh tamaam masaail ki kunjee Allaah taalaa ke haath mein yaqeen karte hue un aamaal-o-ikhlaaq par zor dete hain jin se Allaah taalaa ki razaa waa bastaa hai woh poore yaqeen ke saath kahte hain ke Allaah ki razaa waale aamaal-o-ikhlaaq ikhtiyaar karo taa ke iraadah-e-ilaahiyaa tumhaare masaail ke hal ki taraf motawajjah ho , is liye kabhi kabhi to woh zaahiree aur dunyawee asbaab ko haath lagaaye beghair hi bilkul mojizaanah taur par Allaah taalaa se badee badee tabdilyaan karaa lete hain -  masalan hazrat nooh alaihissalaam aur un par eemaan lane waalon ko jab unki qaum ne bahut sataayaa aur unpar arsah hayaat tang kar diyaa to unhon ne bas Allaah ki janaab mein haath uthaaye aur poori qaum ki tabaahi maangi –
"رب انی مغلوب فا نتصر رب لا تزر علی الارض من الکافرین دیارا"
Allaah taalaa ne ek sakht tabaah kun sailaab bhejaa jisne ek zaalim ko bhi zindah na chhodaa –
"فاغرقنٰھم اجمعین۔  وقیل بعد القوم الظالمین "
Isee tarah jab hazrat moosaa alaihissalaam aajiz aagaye to unhon ne firon aur uski hukoomat kaa zor todne ke liye koyee dunyawee aur maadeer to nahi kee , na unke haalaat aise the balke Allaah taalaa ki qudrat aur taaqat par kaamil yaqeen karte hue namaazon ke baad duaa kee ke ; firon jis daulat-o-hukoomat ke bal par muzaalim dhaa rahaa hai , aur tere bandon ko teree bandagee ke raastah se rok rahaa hai , Ae Allaah ; too us maal-o-daulat aur taaqat-o-hukoomat ko mitaa de aur jhaadoo pher de—
(ربنا انک اٰتیت فرعون وملاہ زینۃ و اموالا فی الحیوٰۃ الدنیا  ربنا لیضلو عن سبیلک ربنا اطمس علیٰ اموالھم واشدد علیٰ قلوبھیم فلا یؤمنو حتیٰ یروالعذاب العلیم)
Isee tarah quam-e-samood,qaum-e-aad,quam-e-madyan,qaum-e-loot ye sab bhi baraah-e-raast Allaah taalaa ke hukm se tabaaho huee in , unko khatam karne ke liye koyee dunyawee aur maadee koshish unmein aane waale paighambaron ne aur unke saathiyoun ne nahi kit hi -  isee tarah hazrat ibraaheem alaihissalaam ne jab apni biwee aur nau maulood bachche hazrat ismaaeel alaihissalam  ko Allaah ke hukm se us waadee ghari zee zaraa mein chhodaa , jis mein insaani zindagi kaa koyee saamaan nahin thaa , hattaa ke paani kaa ek qatrah bhi nahi thaa to un ke liye hazrat ibraaheem alaihissalaam ne saamaan hayaat paidaa karne ki koyee dunyawee aur asbaabi koshish nahin kee balke bas apne maalik aur parwardigaar se duaa kee ."ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموالصلٰوۃ فااجعل افئدۃ من الناس تقوی الیھم ورزقھم من الثمٰراۃ لعلھم  یشکرون)

لاالٰہ الااللہ
                                                                                                        Allah taalaa baraah-e-raast apni khaas qudrat se unke liye zamzam kaa chashmaa jaaree kiyaa jis kaa paani aaj bhi mashriq-o-maghrib tak piyaa jaataa hai aur  us be aab-o-gayaah waadee ko aisaa markaz banaa diyaa ke har taraf se khaane peene ki cheezein wahaan pahunchne lagein aur aaj tak pahunch rahee hain –ye sab kuchh Allaah taalaa ne hazrat ibraaheem alaihissalaam ne uske liye duaa ke siwaa koyee asbaabi mehnat nahin kee thi-
Aur kabhi aisaa bhi hotaa hai ke ambiyaa alaihimussalaam aur unke motabaeen Allaah hi ke hum se asbaab ke raastaa se bhi mehnat karte hain – lekin is mehnat mein bhi inke dil ki nigaah rabb-ul-asbaab hi par jamee hoti hai -  woh yaqeen rakhte hain aur zabaan se kahte bhi hain ke jo kuchh ham kar sakte hain woh Allaah ke hukm se kar rahe hain aur kareinge  lekin asal karne waalaa Allaah hi hai wajood mein wahi aayega jo uskaa faislaa ho—
Hamaare dil mein ye baat baith jaaye k asal karne waale Allaah hain
Ghazwaye badar se lekar fatah-e-makkah tak jitney ghazwaat hue un sab mein rasoolallaah sallallaahu alaihi wasallam aur Aaap ke sahaabaa keraam(R A)  ne imkaan bhar asbaabi jadd-o-jehad bhi ki aur jo kuchh us waqt kar sakte the woh sab kuchh kiyaa lekin har lamhaa dil is yaqeen se maamoor rahaa ke asal karne waalaa Allaah taalaa hi hai jo kuchh hogaa use ke iraadah aur faislaa se hogaa chunanchahtamaam ghazwaat mein jab Aap ko fatah haasil huee Aap sallallaahu alaihi wasallam ne Allaah taalaa ki hamd-o-shukr ke saath bar  bar iskaa eilaan farmaayaa ke jo kuchh huaa hai Allaah ki madad se balke sirf usee ke karne se huaa hai –
Bahr-e-haal ambiyaa alaihimussalaam aur unke saathiyoun kaa tareeqaa ye hai ke woh aakhirat aur jannat ki tarah dunyaa ki cheezon ke baare bhi yaqeenkarte hain ke unkaa denaa na denaa Allaah ke haathon mein hai -  is liye yahaan  kee cheezon  ke liye bhi  unki asal aur awwaleen mehnat Allah ki razaa waale aamaal par hoti hai -  khudaa se ghaafil hokar woh dunyaa ki kisi cheez par mehnat  qatan nahi karte ambiya-o-siddeeqeen aur shohdaa-o-saaliheen kaa tareeqaa yahee hai aur isee tareeqe se Allaah ki madad  ke darwaaze khulte hain-
Dunyaa ki cheezon ke liye baraah-e-raast sirf in cheezon par mehnat karnaa jaisaa ke main ne kahaa aam insaanon kaa balke aam jaanwaron kaa tareeqaa hai unke paas apne tajurbe aur mushaahide ke siwaaa ilm-o-yaqeen ka koyee zariyaa nahi hai aur hamaare paas haqeeqi ilm aur yaqeen kaa zariyaa ambiyaa alaihimussalaam  ki ittelaaaat hain -  kaainaat mein se cheezon kaa nikalnaa jo ham ko nazar aataa hai  ambiyaa alaihimussalaam   لاالٰہ الااللہ ke zariyaa uski nafee karte hain woh farmaate  hain ke ;
“cheezon ka wajood nazar aane waali cheezon se nahin hai . balke Allaah ke hukm se hai , jo nazar nahi aataa” –
Woh farmaate hain ke : asal woh nahin hain jo aankhon ko nazar aarahaa hai , balke Allaah kaa woh hukm aur iraadah hai jo nazar nahin aarahaa -  yahee eemaan bilghaib hai, is liye ambiyaa alaihimussalaam par eemaan lane waalon kaa tareeqaa qiyaamat tak ke liye yahee honaa chaahiye ke inki nazar mein asal ahmiyat ashyaa waali mehnat kee na ho , balke us se ziyaadah fikr is eemaan aur in aamaal-o-ikhlaaq ki ho jin par Allaah taalaa ki madad hoti hai –

Aaj musalmaanon ki pareshaani kaa sabab kiyaa hai?
Badqismati  se is waqt musalmaanon kaa haal ye hai ke apne masaail  ke liye inkee saree mehnatein is tareeqe par ho rahi hai jo aam insaanon aur jaanwaron kaa tareeqaa hai -  hamaaraa kahnaa ye hai ke musalmaan is tarz-e-amal ko badlein aur rasoolallaah sallallaahu alaihi wasallam aur digar ambiyaa alaihimussaalaam aur unke motabaeen  kaa tareeqaa ikhtiyaar karein –
Us tareeqaa par mehnat karne se Allaah ki ghaibi taqatein saath ho jaati hain  ye wo taaqatein hain  jo roos yaa America ke aaitam bamon ya raakiton se bhi shikasht nahin khaa sakteein  balke ye raaket aur aaitam bam Allaah ki ghaibi taaqaton ke muqaable mein machhchhar aur makhkhi ki tarah be haqeeqat hain – jo log Allaah ko aur uski taaqaton ko nahin jaante unko ye baatein ajeeb see maaloom hongi , lekin haqeeqat bilkul yahi hai  (      وماقدرا للہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتھ یوم القیمۃ والسموت مطویات بیمینھ سبحانھ وتعالی عما یشرکون ،انما امرہ اذا اراد شیئاان یقول لھ کن فیکون
Musalmaan jab rasoolallaah sallallaahu alaihi wasallam aur digar ambiyaa alaiimussalaam waale is tareeqaa ko ikhtiyaar karne kaa faislaa kareinge , to sab se pahla kaam ye hogaa ke woh apne andar ke yaqeen ko theek karein aur cheezon se aur madah se kuchh hone ke bajaaye Allaah ke hukm se hone kaa yaqeen paidaa karein, ye yaqeen is zamaanah ke haaltaat mein khaas mashq aur mujaahidah ke beghair aur dunyawee inhamaak aur maadiyaat ki mashghooliyaat mein kami kiye beghair haasil nahin ho saktaa –
Iske ilaawah bhi zindagi ke naqshe mein bahut bade tabdeelyaan karnee padeingi -  nafs ki khaahish ke bajaaye Allaah ke ahkaam ke tehat zindagi guzaarni padegi -  sahaabaa keraam R A ki zindagi ke naqshaa ko saamne rakh kar tai karnaa padegaa ke zindagi mein se kitnaa waqt musalmaan kaa kamaane mein lagnaa chaahiye  aur kitnaa ibaadat aur taaleem-o-ta-allum mein aur kitnaa zindagi ko sahih karne waale mashq-o-mehnat mein?
Phir kamaayee ko Allaah ke ahkaam kaa paband karnaa padegaa ,rishwat chhodni padegi , ziyaadah nafaa haasil karn ke liye jhoot  jiskaa ab aam riwaj ho gayaa hai  bilkul chhodnaa padegaa -  iske ilaawah jo naa jaaiz taur tareeqe aaj kal kamaayee mein aam taur se raaij hogayee hain in sab ko chhodnaa padegaa -  phir iski wajah se kamaaiyoun mein kami aayegi -  isko bhi bardaasht karnaa padegaa -  phir ye bhi tai karnaa hogaa ke apni kamaayee mein se kitnaa  apne ooper kharch k iyaa jaaye aur kitnaa Allaah ke doosre zaroorat mand bandon par ;
Aaj haalat ye hai ke jis shakhs ki kamaayee ziyaadah hai woh yaa to qaroon ki tarah apnaa khazaana badhaaye jaa rahaa hai yaa aiyaashon ki tarah apni fuzool kharchiyoun mein izaafah kiye jaa rahaa hai , ek makaan maujood hai to us se aali shaan doosraa makaan banaanaa chaahtaa hai sawaaree ke liye ek motar maujood hai to doosree us se badhyaa khareedna chaahtaa hai -  huzur sallaallaahu alaihi wasallam dunyaa se in buraaiyoun ko mitaane ke liye aaye the , jab musalmaan apni zindagi huzur sallallaahu alaihi wasallam ke tareeqaa par lane kaa faislaa kareinge to unhein ye karnaa padegaa ke khud chhote maamoolee makaan mein guzaaraa karein aur apni faazil kamaayee se Allaah ke be ghar bandon ke liye makaan banwayein , khud saadah aur maamoolee khaayein aur is tarah jo bachat ho us se un bhookon kee rote kaa intezaam karein jin ke pass pet bharne kaa saamaan nahi hai -  apne beton aur betiyoun ki shaadi mein huzur sallallaahu alaihi wasallam ke tareeqee par kam se kam kharch karein-  aur jin ghareebon ki betiyaan naadaaree ki wajah se ghar batihee huee hain apni kamaayee se unki shaadiyoun ka band-o-bast karein – phir un maamlaat mein muslim aur ghair muslim ki bhi tafreeq nahin hogi , Allaah taaalaa ne ye huqooq sab haajat mandon ke liye rakhe hain – is liye ye sulook sab ke saath karnaa hogaa-

Apni zindagi mein huzur ke tareeqa ko qaaim karein

Aaj maal-o-daulat  ke baare mein aur kamaayee aur uske kharch ke maamlah mein hamaaraa tareeqaa hazrat mohammad sallallaahu alaihi wasallam waalaa tareeqaa nahin hai  abu bakar(R A) -w-umar(R A)  waalaa tareeqaa nahin hai balke yahoodiyoun aur mahaajanon waalaa tareeqaa hai jis par Allaah taalaa ki taraf se laanat aur ghazab kaa faislaa ho chukaa hai – algharz hazrat mohammad sallallaahu alaihi wasallam ke tareeqe par aane ke liye musalmaanon ko apni pooree zaahree aur baatnee zindagee kaa naqshaa badalnaa hogaa aur us sab ke saath eemaan-o-saaleh aur ikhlaaq waalee zindagi ko dunyaa mein phailaane aur furoogh dene ke liye mehnat-o-mojaahidah bhi karnaa padegaa aur is mein niyat sirf Allaah ki razaa aur uske bandon ki khair khaahi aur nafaa resaani ki hogi jab jaakar zindagi woh banegi jisko lekar hazrat mohammad sallallaahu alaihi wasallam dunyaa mein aaye the –
Ye zindagi agar kuchh afraad ikhtiyaar kar leinge to Allaah taalaa unke infiraadi masle is dunyaa mein bhi hal farmaayegaa aur aakhirat mein bhi unko khaas-ul-khaas nematon  se nawaazaa jaayegaa ,aur agar ye zindagi musalmaanon ki ijtemaaee zindagi ban jaaye aur unkaa muaashirah us rang mein rangaa jaayegaa to Allaah taalaa inke ijteemaaee masaail bhi apni khaas qudrat se hal karegaa jin ke dilon mein unkee dushmani hai ya to unke dost aur fidaayee banaadiye jaayeinge  , aur jo uske baad bhi dushmani par qaaim rahe to ya to tabaah-o-barbaad kar diye jaayeinge , ya zillat kaa azaab un par musallat hogaa  yahee Allaah kaa waadah hai  aur yahee sunnatullaah hai –
"فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا"
Ham musalmaan isi zindagi ke haasil karne aur apnaane ki daawat dete hain, na sirf is liye ke inke maujoodah masaail-o-mushkilaat hal hon balke is iye ke dar asal yahee maqsad takhleeq hai aur isee ke liye tamaam ambiyaa alaihimussalaam ki bhi bosat huyee –
Hamaaraa eemaan hai ke agar ham ne rasulallah sallallaahu alaihi wasallam  waalaa ye raastah ikhtiyaar kiyaa to dunyaa ke bade se bade taaqatein hamaare saamne jhukne par majboor hongi , aur dunyaa kaa har maslaa hamaare maslaa ke taabe kar diyaa jaayegaa -  Allaah taalaa ke wade mulk-o-maal par nahi hain balke eemaan aura amal-e-saaleh par hain , isliye ambiyaa alaihimussalaam aur unke motabaeen ke nazdeek sab se aham aur muqaddam eemaan aur aamaal ki durustee ki fikr aur jad-o-jehad hai khaas kar hamaari kaamyaabi aur falaah isee se waabastaa hai -  masjidon ke meenaaron se paanchon waqt  rasoolallaah sallallaahu alaihi wasallam  ki ye daawat aur pookaar aaj bhi dohraayee jaati hai ke ;
حی علی الصلاۃ                          :        حی علی الفلاح
(namaaz ko aao , yahan tumhaari falaah kaa saamaan hai , isko yahaan masjid mein aakar haasil karo)
Masjid dar asal eemaan haasil karne ki jagah aur eemaani zindagi ki taaleem-o-tarbiyat kaa markaz tha wahaan har waqt eemaan  afroz maahaul aur eemaan aafreein  tazkire rahte the , aur namaaz Allaah taalaa ke saath zindah ta-alluq qaaim karne aur pooree zindagi mein yaani zindagi ki har naql-o-harkat mein Allaah taalaa ki farmaan bardaari aur hazrat mohammad sallallaahu alaihi wasallam  ki pairwee ki mashq-o-tarbiyat  ka ek nezaam thaa  lekin ab masjid mahallaa ke sarmaayaa daaron ka ek taabedaar idaarah hai  kiyoun ke mo-azzin aur imaam saahab ko wahee tankhaah dete hain aur doosre intezaamaat bhi wahee karte hain -  is liye wahaan bhi inhin ki chaltee hai  aur is liye qudratee taur par masjidon mein bhi inhin kaa mizaaj  aur tareeqaa muta-addi ho jaataa hai – ab masjidon aur namaazon ke saath logon kaa ta-allauq sirf itnaa hai ke ghadee dekh kar chand mint ke liye aate hain aur jin taqaazon aur mashghalon se nikal kar aaye the  bas jaldee jaldee be jaan qism ki chand rik-atein  padh kar apne inhin taqaazon aur mashghalon mein waapas chale jaate hain -  mai ye nahi kahtaa ke ye masjidein ab masjidein nahin hain aur namaazein  namaazein nahin hain , haan ye kahtaa hoon ke in masjidon aur namaazon se Allaah taalaa ke saath zindah   ta-alluq  aur woh eemaani zindagi haasil nahin ho rahi  aur nahin ho saktee jsi se hamaari falaah waabastaa hai aur jis ke liye ham ko
حی علی الفلاح" “  kah kar pookaaraa jaataa hai –
Huzur sallallaahu alaihi wasallam ne ham ko kisee mulk yaa hukoomat ke sahaare nahin chhodaa tha balke bataayee thaa ke tumhaaree asal taaqat eemaan aur ikhlaaq hai , tumhaaree kaamyaabee  inhin se waabastaa hai aur eemaan-o-aamaal-o-ikhlaaq paidaa karne aur unkee tarbiyat haasil karne ke liye Aap sallallaahu alaihi wasallam masjid ko ek markaz banaa gaye the  aur apnea mal se iskaa ek khaas maahaul aur naqshaa bhi banaa gaye the jo Aap sallallaahu alaihi wasallam  ke zamaanah mein masjid-e-nabwee(S)  kaa maahaul  aur naqshaa thaa , aur baad mein hazraat khulfaaye raashid bin(R A)   ke zamaanaa mein bhi wahee maahaul aur naqshaa rahaa –
Ham is jadd-o-jehad ke zariyaa jis kaa naam tableegh pad gayaa hai yahee koshish karna chaahte hain ke masjidon ka phir wahee maahaul-o-naqshaa bane  jo masjid-e-nabwee sallallaahu alaihi wasallam  ka thaa -  wahaan eemaani tazkire aur eemaani majlisein hoon taaleem-o-ta-allum  ke halqe hon zikr-o-ibaadat –o-khashyat-o-anaabat ki fizaa ho,  dinee taqaazon ki fikrein aur unke baare mein mashware hon dinee jadd-o-jehad  aur dinee taqaazon ke liye naql-o-harkat kaa woh markaz hon –
Algharz huzur sallallaahu alaihi wasallam ke zamaana-e-mubaarak mein masjid-e-nabwee(S)aur doosree masjidon mein 24 ghante jo kuchh hotaa thaa aur jo nizaam chaltaa thaa ahee hamaaree masjidon mein huaa kare  lekin ye jab hee ho sakega  jab masjidon waale is zindagi aur is naqshe ke aadi ban jaayeinge  aur ye jab hi mumkin hai jab log lambe waqton ke liye apne gharon aur mshghalon  se nikal kar is zindagi ki mashq aur tarbiyat haasil karein aur doosron  par bhi is ke liye mehnat karein—
Ham bas isee kee daawat dete hain  na ham apnee taraf bulaate hain na apnee qaaim ki huyee tanzeem aur paartee mein shaamil hne ke liye kahte hain balke mashq aur mujaahidah ke zariye huzr sallallaahu alaihi wasallam kee laayee huyee eemaani zindagi haasil karne aur dunyaa mein usko furoogh dene ke waste mehnat karne kee daawat dete hain –
فبشر عبادی الذی یستمعون القول  فیتبعون احسنھ
اولئک الذین ھداھم اللہ واولٰئک ھم اولوالالباب ۔
*********************************************************