Pages

Showing posts with label DUA for each occasion and its Importance. Show all posts
Showing posts with label DUA for each occasion and its Importance. Show all posts

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا Rabbana Atina fid Dunia Lord, give us good in this world and good in the Hereafter

BELOW IS VERY IMPORTANT DUA
 
وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 
(البقرة: 201
Rabbana Aatina fid-dunya hasanatan wa fil 'akhirati hasanataun waqina 'azaban-nar 
Yet there is another among them who says: 
Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and save us from the punishment of Fire.
(Translation by Mufti Taqi Usmani)



Tahajjud Prayer Namaz Method Fazilat Tarika Benefits Quran Hadith virtues



نمازِ تہجد کی فضیلت

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”وَمِنَ اللَّیلِ فَتَہَجَّدْ بِہ نَافِلَةً لَّکَ، عَسیٰ اَٴنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوْداً“۔ (بنی اسرائیل:۷۹)
ترجمہ:۔”اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد پڑھ لیاکرو جو آپ کے حق میں زائد چیز ہے، کیا عجب کہ آپ کا رب آپ کو ”مقام محمود“ میں جگہ دے“۔
”مقام محمود“ مقامِ شفاعتِ کبریٰ ہے، جس پر قیامت کے دن فائز ہوکر آپ ا اپنی امت کی بخشش 
کرائیں گے۔ (ابن کثیر واحمد)
دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:


”إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ، اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰہُمْ رَبُّہُمْ إِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ، کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالأَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ“۔ (الذاریات:۱۰تا۱۸)
ترجمہ:۔”بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے اور اپنے رب کی عطا کردہ نعمتیں لے رہے ہوں گے (اس بات پر کہ) بے شک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیکو کار تھے، رات کو (تہجد پڑھنے کی وجہ سے) بہت کم سوتے تھے اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے“۔ 
مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں رات کو جس وقت آنکھ کھل جائے، وضو کرکے دورکعت، چار رکعت، چھ رکعت یا آٹھ رکعت جس قدر طاقت اور فرصت ہو، دل کی رغبت ہو، پڑھ لیا کریں، تہجد کا ثواب مل جائے گا، خصوصاً رمضان المبارک میں زیادہ خیال رکھا کریں، تہجد کے لئے کوئی خاص سورتیں 
نہیں، جس جگہ سے یاد ہو اور دل چاہے پڑھ لیا کریں۔
تہجد کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں، یہاں چند احادیث کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے:

آپ ا نے ارشاد فرمایا:
”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے“۔ (مسلم وابوداؤد)

حضرت عبد اللہ بن سلام جو تورات کے زبردست عالم تھے، مدینہ منورہ میں حضور اقدس ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چہرہٴ انور دیکھ کر یقین ہوگیا کہ آپ ا اللہ کے سچے رسول ہیں، آپ ا جھوٹے نہیں ہوسکتے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلا کلام جو آپ ا کی زبان مبارک سے سنا، وہ یہ تھا:

”یا ایہا الناس! افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا الارحام وصلوا باللیل والناس نیام، تدخلوا الجنة بسلام“۔ (ترمذی)
ترجمہ:۔” اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داریوں کو جوڑو اور رات میں تہجد کی نماز پڑھو، جبکہ لوگ سورہے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے“۔
آپ ا نے ارشاد فرمایا: 
”جنت میں ایک محل ہے جس کا اندرونی حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہوگا ۔حضرت ابو مالک اشعری نے پوچھا: یہ کس کو ملے گا اے اللہ کے رسول!؟ فرمایا: اس کو جو شیریں کلام ہو اور لوگوں کو کھانا کھلاتا ہو اور نماز تہجد میں کھڑے ہوئے رات گذارتا ہو، جبکہ لوگ سورہے ہوں“۔ (طبرانی)
جناب رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ:
” جنت میں ایک درخت ہے، جس کے اوپر سے جوڑا اور نیچے سے سونے کا گھوڑا نکلے گا، اس کی زین اور لگام موتی اور یاقوت کے ہوں گے، وہ نہ تو”لید“ کرے گا، نہ پیشاب ،اس کے کئی پر ہوں گے، حد نظر پر اس کے قدم پڑیں گے، پھر اہل جنت اس پر سوار ہوں گے تو وہ ان کو لے کر اڑے گا، جہاں جانا چاہیں گے۔ یہ شان دیکھ کر ان سے نیچے درجے والے جنتی کہیں گے: اے رب! تیرے بندے اس مرتبہ پر کیونکر پہنچے؟ تو ان سے کہا جائے گا کہ یہ لوگ رات میں نماز (تہجد) پڑھتے تھے اور تم لوگ سوتے رہتے تھے، یہ لوگ روزہ رکھتے تھے اور تم کھاتے پیتے تھے، یہ خرچ کرتے تھے اور تم بخیلی کرتے تھے، یہ جان کی بازی لگاتے تھے اور تم بزدل بنے رہتے تھے“۔ (ابن ابی الدنیا)
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ا نے ارشاد فرمایاکہ: آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ:
” جس شخص کی رات میں نماز (تہجد) زیادہ ہوگی، اس کا چہرہ دن میں زیادہ حسین ہوگا“۔ (ابن ماجہ)
جناب رسول اللہا نے صحابہٴ کرام سے ارشاد فرمایا کہ:
” تمہیں تہجد ضرور پڑھنا چاہئے، اس لئے کہ یہ تمہارے سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے رب سے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے، گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے“۔ (ترمذی)
دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ:
” بدن سے بیماری کو دور کرنے والی ہے“۔ (طبرانی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ا نے فرمایا:
”جو شخص رات کو اٹھے اور اپنی گھر والی کو بیدار کرے اور دونوں نماز (تہجد) کی دورکعتیں پڑھیں تو ان دونوں کو کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھا جائے گا“۔ (نسائی)
ایک اور حدیث میں چند خوش نصیبوں کا ذکر ہے، جن کے تین انعامات ہیں:
۱… خدا ان سے محبت کرتا ہے۔
۲…ان کے سامنے ہنستا ہے۔
۳…ان سے خوش ہوتا ہے۔
ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس کی خوبصورت بیوی ہو، عمدہ نرم بستر ہو اور وہ ان کو چھوڑ کر رات کو نماز تہجد کے لئے اٹھے، اس کے بارے میں خدا خود فرمائے گا کہ اس نے اپنی خواہش چھوڑ دی اور میرا ذکر کیا، حالانکہ اگر یہ چاہتا تو سوجاتا“۔ (طبرانی)
اسی حدیث کی دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ:
” اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا: میرے بندے کو اس کام (تہجد پڑھنے) پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ فرشتے عرض کریں گے: اے رب! آپ کے پاس کی چیز (جنت ونعمت) کی امید نے اور آپ کے پاس کی چیز (دوزخ وعذاب)کے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تحقیق میں نے ان کو وہ چیز عطا کردی، جس کی امید کی تھی اور اس چیز سے محفوظ کردیا، جس سے وہ ڈرتے تھے“۔ (مسنداحمد)
حضرت عبد اللہ بن سلام  کہتے ہیں کہ: تورات میں لکھا ہے کہ:
” جن لوگوں کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں، ان کے لئے خدانے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر اس کا خیال گذرا، ان نعمتوں کو مقرب فرشتے اور نبی مرسل بھی نہیں جانتے“۔ (حاکم)

Zikr Dua after Salah Namaz Hadith Sunnah Arabic Text English Translation

Adhkaar and dua’s to be recited after salah:

و بهذه الاخبار اجمع العلماء على استحباب الذكر بعد الصلوة
“Maulana Abdul Hayy Lucknowi (RA) mentions that there is consensus amongst the Ulama that it is mustahab to make zikr after salah.” (al Si’aya 2/260 Suhail academy) 

1 )   عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا وقال اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام مسلم 1/218مكتبة تهانوي
Thawban (RA)  narrates that when Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)  used to finish salah He صلى الله عليه و سلم used to recite Istighfaar thrice and then recite:
« اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ »
“O Allah You are peace and from You is peace. Blessed are You o the being of Majesty and Honour”
 2)  قال حدثني أبو الزبير قال سمعت عبد الله بن الزبير يحدث على هذا المنبر وهو يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم يقول لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون مسلم 1/218
Abdullah bin Zubayr (RA) reports that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)   after making salam would recite:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
“There is no deity but Allah, He has no partner, for Him is the kingdom, for Him is all praise and He has power over all things. We do not worship except Him, the Being of bounty, virtue and praise. There is no deity but Allah with sincere devotion to Him even though the disbelievers detest it.”
 3 ) قال سمعته من عبدة بن أبي لبابة وسمعته من عبد الملك بن أعين كلاهما سمعه من وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال
كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة أخبرني بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قضى الصلاة قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد مسلم 1/218
Mughira (RA) narrates that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam)   used to recite after Salah:
»لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِىَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ «
“There is no deity but Allah, He has no partner, for Him is the kingdom, for Him is all praise and He has power over all things. O Allah none can prevent what You give and none can give what You prevent and no wealthy persons wealth can benefit from You.”
4) عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا جلس مجلسا أو صلى تكلم بكلمات فسألته عائشة عن الكلمات فقال إن تكلم بخير كان طابعا عليهن إلى يوم القيامة وإن تكلم بغير ذلك كان كفارة له سبحانك اللهم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك سنن النسائي - (ج 1 / ص 196)
Aisha (RA) narrates the after every salah or gathering Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) used to recite some dua. So I asked Him (Sallaho Alaihe Wassallam) as to what He صلى الله عليه (Sallaho Alaihe Wassallam) recites? Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) replied if the gathering was of good this dua seals it and if the gathering was other than good it is a means of atonement.
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
“Glory O Allah and all praise, I seek Your pardon and return to You.”
 5 ) عن عقبة بن عامر قال أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقرأ المعوذات دبر كل صلاة سنن النسائي   (ج 1 / ص 196) قديمي
Uqba (RA)  reports that Nabi (Sallaho Alaihe Wassallam) ordered me to recite Surah Ikhlas, Surah Falaq and Surah Nas after every salah.
 There are many other dua’s and tasbeehat to be recited after salah, for example Ayat al Kursi, Tasbeeh Fatimi etc but we shall suffice on the above mentioned narrations.

Zikr Dua after Salat Prayer Hadith Arabic Text english Tranlation Namaz Translitration


Masnoon Dua After Prayer

 Zikr/ Dhikr is very important. Many Fazail virtues are for it.These Dua zikr and Remberance of Allah are reported from our beloved prophet Sallallahu Alaihi Wasallam in Hadith. Please try to complete as far as possible and dua for more taufeeq. In Fazail e zikr Hazrat sheikhul Hadeeth Rahimullah has mentioned that after Namaz/ Salat Ibless do Waswasa for important work, So try to resist Shaitan .JAZAKALLAH
 First arabic text then english translitration and then translation.
 
أَسْـتَغْفِرُ الله . (ثَلاثاً)
Astaghfirul-lah (three times)
‘I ask Allah for forgiveness
 
اللّهُـمَّ أَنْـتَ السَّلامُ ، وَمِـنْكَ السَّلام ، تَبارَكْتَ يا ذا الجَـلالِ وَالإِكْـرام .    [مسلم 1/414]
Allahumma antas-salam waminkas-salam, tabarakta ya thal-jalali wal-ikram.

‘O Allah, You are As-Salam and from You is all peace, blessed are You, O Possessor of majesty and honour.’ AS-Salam: The One Who is free from all defects and deficiencies. 

 - سُـبْحانَ اللهِ، والحَمْـدُ لله ، واللهُ أكْـبَر . (ثلاثاً وثلاثين)
Subhanal-lah walhamdu lillah, wallahu akbar (thirty-three times).


- ( قُـلْ هُـوَ اللهُ أَحَـدٌ …..) [ الإِخْـلاصْ ]
( قُـلْ أَعـوذُ بِرَبِّ الفَلَـقِ…..) [ الفَلَـقْ ]
( قُـلْ أَعـوذُ بِرَبِّ النّـاسِ…..)[ الـنّاس ] (ثلاث مرات بعد صلاتي الفجر والمغرب. ومرة بعد الصلوات الأخرى)   
[أبو داود 2/86 والنسائي 3/68]
{Qul huwa Allahu ahad…} [SurahIkhlas]
{Qul aAAoothu birabbi alfalaq…..} [Surah Falaq]
{Qul aAAoothu birabbi alnnas…..} [Surah Nas]
(After morning and evening prayers,  times. After the other prayers 1 time.) 

 لا إلهَ إلاّ اللّهُ وحدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ المُـلْكُ ولهُ الحَمْد، وهوَ على كلّ شَيءٍ قَدير، اللّهُـمَّ لا مانِعَ لِما أَعْطَـيْت، وَلا مُعْطِـيَ لِما مَنَـعْت، وَلا يَنْفَـعُ ذا الجَـدِّ مِنْـكَ الجَـد.
    [البخاري 1/255 ومسلم 414]
La ilaha illal-lahu wahdahu la shareeka lah, lahul-mulku walahul-hamd, wahuwa AAala kulli shayin qadeer, allahumma la maniAAa lima aAAtayt, wala muAAtiya lima manaAAt, wala yanfaAAu thal-jaddi minkal-jad.

‘None has the right to be worshipped except Allah, alone, without partner, to Him belongs all sovereignty and praise and He is over all things omnipotent.O Allah, none can prevent what You have willed to bestow and none can bestow what You have willed to prevent, and no wealth or majesty can benefit anyone, as from You is all wealth and majesty.’ 

 لا إلهَ إلاّ اللّه, وحدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ الملكُ ولهُ الحَمد، وهوَ على كلّ شيءٍ قدير، لا حَـوْلَ وَلا قـوَّةَ إِلاّ بِاللهِ، لا إلهَ إلاّ اللّـه، وَلا نَعْـبُـدُ إِلاّ إيّـاه, لَهُ النِّعْـمَةُ وَلَهُ الفَضْل وَلَهُ الثَّـناءُ الحَـسَن، لا إلهَ إلاّ اللّهُ مخْلِصـينَ لَـهُ الدِّينَ وَلَوْ كَـرِهَ الكـافِرون.    [مسلم 1/415]
La ilaha illal-lah, wahdahu la shareeka lah, lahul-mulku walahul-hamd, wahuwa AAala kulli shayin qadeer. la hawla wala quwwata illa billah, la ilaha illal-lah, wala naAAbudu illa iyyah, lahun-niAAmatu walahul-fadl walahuth-thana-ol- hasan, la ilaha illal-lah mukhliseena lahud-deen walaw karihal-kafiroon.
‘None has the right to be worshipped except Allah, alone, without partner, to Him belongs all sovereignty and praise and He is over all things omnipotent. There is no might nor power except with Allah, none has the right to be worshipped except Allah and we worship none except Him. For Him is all favour, grace, and glorious praise. None has the right to be worshipped except Allah and we are sincere in faith and devotion to Him although the disbelievers detest it.’
4
لا إلهَ إلاّ اللّهُ وَحْـدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ الملكُ ولهُ الحَمْد، وهُوَ على كُلّ شَيءٍ قَـدير .   
[مسلم 1/418]

La ilaha illal-lahu wahdahu la shareeka lah, lahul-mulku walahul-hamd, wahuwa AAala kulli shayin qadeer. ‘How perfect Allah is, all praise is for Allah, and Allah is the greatest.’ (thirty-three times)
‘None has the right to be worshipped except Allah, alone, without partner, to Him belongs all sovereignty and praise and He is over all things omnipotent.’
5
6- ( اللّهُ لا إلهَ إلاّ هُـوَ الـحَيُّ القَيّـومُ لا تَأْخُـذُهُ سِنَـةٌ وَلا نَـوْمٌ …..) [آية الكرسي - البقرة:255]    [النسائي في عمل اليوم والليلة برقم 100]
{Allahu la ilaha illa huwa alhayyu alqayyoomu la ta/khuthuhu sinatun wala nawm…} [Al-Baqarah:255]
7- لا إلهَ إلاّ اللّهُ وحْـدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ المُلكُ ولهُ الحَمْد، يُحيـي وَيُمـيتُ وهُوَ على كُلّ شيءٍ قدير . (عَشْر مَرّات بَعْدَ المَغْرِب وَالصّـبْح )    [الترمذي 5/515]
La ilaha illal-lahu wahdahu la shareeka lah, lahul-mulku walahul-hamd, yuhyee wayumeet, wahuwa AAala kulli shayin qadeer.(ten times after the maghrib & fajr prayers)
‘None has the right to be worshipped except Allah, alone, without partner, to Him belongs all sovereignty and praise, He gives life and causes death and He is over all things omnipotent.’ (ten times after the maghrib and fajr prayers)
7- اللّهُـمَّ إِنِّـي أَسْأَلُـكَ عِلْمـاً نافِعـاً وَرِزْقـاً طَيِّـباً ، وَعَمَـلاً مُتَقَـبَّلاً . (بَعْد السّلامِ من صَلاةِ الفَجْر )    [صحيح ابن ماجه 1/152]
Allahumma innee as-aluka AAilman nafiAAan, warizqan tayyiban, waAAamalan mutaqabbalan.(after salam from fajr prayer).
‘O Allah, I ask You for knowledge which is beneficial and sustenance which is good, and deeds which are acceptable.’ (To be said after giving salam for the fajr prayer)

Dua after Ablution Wudu Arabic Text english Translation Hadith Wazu Translitration


Dua on Completing Wudu (Ablution,Wazu) 

1- أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَـهَ إِلاّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَريـكَ لَـهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمّـداً عَبْـدُهُ وَرَسـولُـه.  
  [مسلم 1/209]
Ashhadu an la ilaha illal-lahu wahdahu la shareeka lah, wa-ashhadu anna Muhammadan AAabduhu warasooluh.

‘I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah, alone without partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.’ 


2- اللّهُـمَّ اجْعَلنـي مِنَ التَّـوّابينَ وَاجْعَـلْني مِنَ المتَطَهّـرين.    [الترمذي 1/78]
Allahummaj-AAalnee minat-tawwabeena wajAAalnee minal-mutatahhireen.
‘O Allah, make me of those who return to You often in repentance and make me of those who remain clean and pure.’ 


3- سُبْحـانَكَ اللّهُـمَّ وَبِحَمدِك أَشْهَـدُ أَنْ لا إِلهَ إِلاّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتوبُ إِلَـيْك.    [النسائي في عمل اليوم والليلة ص 173]
Subhanakal-lahumma wabihamdika ashhadu an la ilaha illa anta astaghfiruka wa-atoobu ilayk.
‘How perfect You are O Allah, and I praise You, I bear witness that none has the right to be worshipped except You, I seek Your forgiveness and turn in repentance to You.’

Ramzan and Dua acceptance Special time and virtues states of Dua


۶۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْر ۃَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ثَلاَ ثَۃُ لا تُرَدُّ دَعْوَ تُھُمْ الصَّائِمُ حَتَّی یُفْطِرَ وَ الْاِمَامُ الْعَادِلُ و دَعْوَ ۃُ الُمظْلُوْمِ یَرْ فَعُھَا اﷲُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَ یُفْتَحُ لَھَا اَبْوَابُ السَّماَئِ وَ یَقُوْلُ الرَّبُّ وَ عِزَّتِیْ لَأ نْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔ (رواہ احمد فی حدیث و الترمزی و حسنۃ ابن خز یمہ و ابن حبان فی صحیحیھا کذا فی الترغیب۔)
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ۔دوسرے عادل بادشاہ کی۔تیسرے مظلوم کی جس کو حق تعالیٰ شانہ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا ، گو (کسی مصلحت سے ) کچھ دیر ہو جائے ۔
ف:در منثور میں حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے ، جب رمضان آتا تھا تو نبی کریم ﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب آجاتا تھا دوسری روایت میں فرماتی ہیں کہ رمضان کے ختم تک بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے ۔
ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان میں عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرما دیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو بہت سی روایات سے رمضان کی دعا کا خصوصیت سے قبول ہونا معلوم ہوتا ہے اور یہ بے تردّد بات ہے کہ جب اللہ کا وعدہ ہے ۔ اور سچے رسول کا نقل کیا ہوا ہے تو اس کے پورا ہونے میں کوئی تردد نہیں لیکن ا س کے بعد بھی بعض لوگ کسی غرض کے لئے دعا کرتے ہیں مگر وہ کام نہیں ہوتا، تو اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ دعا کے قبول ہونے کے معنی سمجھ لینا چاہیے ٔ۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب مسلمان دعا کرتا ہے بشرطیکہ قطع رحمی یا کسی گناہ کی دعا نہ کرے تو حق تعالیٰ شانہ کے یہاں سے تین چیزوں میں اسے ایک ضرور ملتی ہے یا خود وہی چیز ملتی ہے جس کی دعا کی ، یا اس کے بدلہ مین کوئی برائی یا مصیبت ہٹا دی جاتی ہے ، یا آخرت میں اسی قدر ثواب اس کے حصہ میں لگا دیا جاتا ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ بندہ کو بلا کر ارشاد فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں نے تجھے دعا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی ۔ وہ عرض کرے گا کہ مانگی تھی اس پر ارشاد ہو گا کہ تو نے کوئی دعا ایسی نہیں مانگی جس کو میں نے قبول نہ کیا ہوتو نے فلاں دعا مانگی تھی کہ فلاں تکلیف ہٹا دی جائے میں نے اس کو دنیا میں پورا کر دیا تھا اور فلاں غم کے دفع ہونے کی دعا کی تھی مگر اس کا اثر کچھ تجھے معلوم نہیں ہو میں نے اس کے بدلے میں فلاں اجر و ثواب تیرے لئے متعین کیا ۔حضور ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو ہر ہر دعا یاد کرائی جائے گی اور اس کا دنیا میں پورا ہونا یا آخرت میں اس کا عوض بتلایا جاوے گا ۔اس اجر و ثواب کی کثرت کو دیکھ کر وہ بندہ اس کی تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی پوری نہ ہوئی ہوتی کہ یہاں اس کا اس قدر اجر ملتا ۔ غرض دعا نہایت ہی اہم چیز ہے ۔ اس کی طرف سے غفلت بڑے سخت نقصان اور خسارہ کی بات ہے ۔ اور ظاہر میں اگر قبول کے آثار نہ دیکھے تو بد دل نہ ہونا چاہیے ٔ۔
اس رسالہ کے ختم پر جو لمبی حدیث آ رہی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی حق تعالیٰ شانہ بندہ ہی کے مصالح پر نظر فرماتے ہیں۔ اگر اس کے لئے اس چیز کا عطا فرمانا مصلحت ہوتا ہے تو مرحمت فرماتے ہیں ورنہ نہیں ۔یہ بھی اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہم لوگ بسا اوقات اپنی نافہمی سے ایسی چیز مانگتے ہیں جو ہمارے مناسب نہیں ہوتی ۔ اس کے ساتھ دوسری ضروری اور اہم بات قابل لحاظ یہ ہے کہ بہت سے مرد اور عورتیں تو خاص طور سے اس مرض میں مبتلا ہیں کہ بسا اوقات غصے اور رنج میں اولاد کو بد دعا دیتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اللہ جل شانہ کے عالی دربار میں بعض اوقات ایسے خاص قبولیت کے ہوتے ہیں کہ جو مانگو مل جاتا ہے ۔ یہ احمق اوّل تو غصہ میں اولاد کو کوستی ہیں اور جب وہ مر جاتی ہے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر روتی پھرتی ہیں اور اس کا خیال بھی نہیں آتا کہ یہ مصیبت خود ہی اپنی بد دعا سے مانگی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی جانوں اور اولاد کو نیز مال اور خادموں کو بد دعا نہ دیا کرو ، مبادہ اللہ کے کسی ایسے کاص وقت میں واقع ہو جائے جو قبولیت کا ہے کا ہے بالخصوص رمضان المبارک کا تمام مہینہ تو بہت ہی خاص وقت ہے اس میں اہتمام سے بچنے کی کوشش اشد ضروری ہے ۔
حضرت عمر ؓ حضور اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اللہ کو یاد کرنے والا شخص بخشا بخشایا ہے اور اللہ سے مانگنے والا نامراد نہیں رہتا۔ حضرت ابن مسعودؓ کی ایک رویت سے ترغیب میں نقل کیا ہے کہ رمضان کی ہر رات میں ایک منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ ۔ اور اے برائی کے طلب گار بس کر اور آنکھیں کھول اس کے بعد وہ فرشتہ کہتا ہے کوئی مغفرت چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے ، کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے ۔ اس سب کے بعد یہ امر بھی نہایت ضروری اور قابل لحاظ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے کچھ شرائط بھی وارد ہوئی ہیں کہ ان کے فوت ہونے سے بسا اوقات دعا رد کر دی جاتی ہے۔ منجملہ ان کے حرام غذا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دعا رد ہوجاتی ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے پریشان حال آسمان کی طر ف ہاتھ کھینچ کر دعا مانگتے ہیں اور یا رب یا رب کرتے ہیں مگر کھانا حرام ، پینا حرام ، لباس حرام ایسی حالت میں کہاں دعا قبول ہو سکتی ہے ۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں مستجاب الدعا لوگوں کی ایک جماعت تھی ۔ جب کوئی حکم ان پر مسلط ہوتا اس کے لئے بد دعا کرتے وہ ہلاک ہو جاتا ۔ حجاج ظالم کا جب وہاں تسلط ہوا تو اس نے ایک دعوت کی جس میں ان حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہوچکے تو اس نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بد دعا سے محفوظ ہو گیا کہ حرام کی روزی ان کے پیٹ میں داخل ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہمارے زمانہ کی حلال روزی پر بھی ایک نگاہ ڈالی جائے جہاں ہر وقت سود تک کے جواز کی کوششیں جاری ہوں، ملازمین رشوت کو اور تاجر دھوکہ دینے کو بہتر سمجھتے ہوں ۔