Pages

Showing posts with label Islamic Ruling. Show all posts
Showing posts with label Islamic Ruling. Show all posts

Roza Zakat Aitakaf ke Masla Masael روزہ کے مسائل

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء


احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة

از:  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند      

                رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔
روزہ کی نیت:
                نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔
                روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔
                مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
                (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا اسی حکم میں ہیں، (۷) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا، (۸) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی، (۹) دن باقی تھا؛ مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
                تنبیہ: ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
                (۱۰) جان بوجھ کر بدون بھولنے کے بی بی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ بھی۔
                کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاوے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے؛ اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں؛ مگر مکروہ ہوجاتا ہے:
                (۱) بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
                (۲) تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
                (۳) فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
                (۴) غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
                (۵) روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا!
                (۱) مسواک کرنا ۔ (۲) سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔ (۳) آنکھوں میں دوا، یا سُرمہ ڈالنا۔ (۴) خوشبو سونگھنا۔ (۵) گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔ (۶) کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔ (۷) بھول کر کھانا پینا۔ (۸) حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔ (۱۰) خود بخود قے آجانا۔ (۱۱) سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔ (۱۲) دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔ (۱۳) اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
وہ عذر جن سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے:
                (۱) بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
                (۲) جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
                (۳) جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
                (۴) مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
                (۵) بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
                (۶) کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
                (۷) کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
                (۸) عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
روزہ کی قضا
                (۱) کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عُذر جاتا رہے جلد ادا کرلینا چاہیے۔ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں، قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک دودو کرکے رکھے۔
                (۲) اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہونے کے بعد اتنا وقت نہ پائے کہ جس میں قضا شدہ روزے ادا کرے تو قضا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں، اتنے ہی کی قضا لازم ہوگی۔
سحری
                روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔ اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
                آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
                کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ․
تراویح
                (۱)رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت سنت موٴکدہ ہے۔
                (۲) تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ محلہ کی مسجد میں جماعت ہوتی ہواور کوئی شخص علیحدہ اپنے گھر میں اپنی تراویح پڑھ لے تو سنت ادا ہوگئی، اگرچہ مسجد اور جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور اگر محلہ ہی میں جماعت نہ ہوئی تو سب کے سب ترک سنت کے گنہگار ہوں گے۔
                (۳) تراویح میں پورا قرآن مجید ختم کرنا بھی سنت ہے۔ کسی جگہ حافظِ قرآن سنانے والانہ ملے یا ملے؛ مگر سنانے پر اجرت ومعاوضہ طلب کرے تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں، اُجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔
                (۴) اگر ایک حافظ ایک مسجد میں بیس رکعت پڑھ چکا ہے، اس کو دوسری مسجد میں اسی رات تراویح پڑھنا درست نہیں۔
                (۵) جس شخص کی دوچار رکعت تراویح کی رہ گئی ہو تو جب امام وتر کی جماعت کرائے اس کو بھی جماعت میں شامل ہوجانا چاہیے، اپنی باقی ماندہ تراویح بعد میں پوری کرے۔
                (۶) قرآن کو اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں بڑا گناہ ہے، اس صورت میں نہ امام کو ثواب ہوگا، نہ مقتدی کو۔ جمہور علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ نابالغ کو تراویح میں امام بنانا جائز نہیں۔
اِعتکاف
                (۱) اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
                (۲) رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
                (۳) بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
                (۴) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
                (۵) جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
                (۶) اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
                (۷) اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
                (۸) غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
شبِ قدر
                چونکہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے چھوٹی ہیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رات ایسی مقرر فرمادی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے؛ لیکن اس کو پوشیدہ رکھا؛ تاکہ لوگ اس کی تلاش میں کوشش کریں اور ثواب بے حساب پائیں۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ احتمال ہے یعنی ۲۱ ویں، ۲۳ ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں شب۔ اور ۲۷ویں شب میں سب سے زیادہ احتمال ہے۔ ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر تمام رات جاگنے کی طاقت یا فرصت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگے اور نفل نماز یا تلاوتِ قرآن یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، حدیث میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہوجاتا ہے، ان راتوں کو صرف جلسوں تقریروں میں صرف کرکے سوجانا بڑی محرومی ہے، تقریریں ہر رات ہوسکتی ہیں، عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔
                البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
ترکیب نمازِ عید
                اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔ دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلاہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ․
مسائل زکوٰة
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّکوٰةَ
                مسئلہ: اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہے یا اس میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر روپیہ یا نوٹ ہے تو اس پر زکوٰة فرض ہے۔ نقد روپیہ بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے (شامی) اور سامانِ تجارت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوٰة فرض ہے۔
                مسئلہ: کارخانے اور مِل وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰة فرض نہیں؛ لیکن ان میں جو مال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰة فرض ہے ، اسی طرح جو خام مال کارخانہ میں سامان تیار کرنے کے لیے رکھا ہے اس پر بھی زکوٰة فرض ہے (درمختار وشامی)
                مسئلہ: سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰة واجب ہے، زیور، برتن؛ حتی کہ سچاگوٹہ، ٹھپہ، اصلی زری، سونے چاندی کے بٹن، ان سب پر زکوٰة فرض ہے، اگرچہ ٹھپہ گوٹہ اور زری کپڑے میں لگے ہوئے ہوں۔
                مسئلہ: کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا یا چاندی اور کچھ مالِ تجارت ہے؛ لیکن علیحدہ علیحدہ بقدر نصاب ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے تو سب کو ملاکر دیکھیں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے توزکوٰة فرض ہوگی اور اگر اس سے کم رہے تو زکوٰة فرض نہیں (ہدایہ)
                مسئلہ: مِلوں اور کمپنیوں کے شیئرز پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ بشرطیکہ شیئرز کی قیمت بقدر نصاب ہو یا اس کے علاوہ دیگر مال مِل کر شیئرہولڈر مالک نصاب بن جاتا ہو؛ البتہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں؛ چونکہ مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ کی لاگ بھی شامل ہوتی ہے جو درحقیقت زکوٰة سے مستثنیٰ ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص کمپنی سے دریافت کرکے جس قدر رقم اس کی مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ میں لگی ہوئی ہے، اُس کو اپنے حصے کے مطابق شیئرز کی قیمت میں سے کم کرکے باقی کی زکوٰة دے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔ سال کے ختم پر جب زکوٰة دینے لگے اس وقت جو شیئرز کی قیمت ہوگی وہی لگے گی۔ (درمختار وشامی)
                مسئلہ: پراویڈنٹ فنڈ جو ابھی وصول نہیں ہوا اُس پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ لیکن ملازمت چھوڑنے کے بعد جب اس فنڈ کا روپیہ وصول ہوگا، اس وقت اس روپیہ پر زکوٰة فرض ہوگی، بشرطیکہ یہ رقم بقدرِ نصاب ہو یا دیگر مال کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہوجاتی ہو وصولیابی سے قبل کی زکوٰة پراویڈنٹ کی رقم پر واجب نہیں، یعنی پچھلے سالوں کی زکوٰة فرض نہیں ہوگی۔
                مسئلہ: صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰة پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے؛ البتہ اگر بعد میں سال پورا ہونے کے اندر مال بڑھ گیا تو اس بڑھے ہوئے مال کی زکوٰة علیحدہ دینا ہوگی۔ (درمختار وشامی)
                جس قدر مال ہے اس کا چالیسواں حصہ(۴۰---۱) دینا فرض ہے یعنی ڈھائی فیصد مال دیا جائے گا۔ سونے، چاندی اور مال تجارت کی ذات پر زکوٰة فرض ہے اس کا ۴۰---۱ دے اگر قیمت دے تو یہ بھی جائز ہے؛ مگر قیمتِ خرید نہ لگے گی، زکوٰة واجب ہونے کے وقت جو قیمت ہوگی اس کا ۴۰---۱دینا ہوگا (درمختار،ج:۲)
                مسئلہ: ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰة فرض ہوتی ہے، مکروہ ہے؛ لیکن اگر دے دیا تو زکوٰة ادا ہوگئی اور اس سے کم دینا بغیر کراہت کے جائز ہے۔ (ہدایہ ج۱)
                مسئلہ: زکوٰة ادا ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جو رقم کسی مستحقِ زکوٰة کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔
                مسئلہ: ادائیگی زکوٰة کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰة کی رقم کسی مستحق زکوٰة کو مالکانہ طور پر دے دی جائے، جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو، اس کے مالکانہ قبضہ کے بغیرزکوٰة ادا نہ ہوگی۔

اجماع قیاس Ijma qiyas ki sharaee haisiat

فقہ اسلامی کے بنیادی مآخذ کا تحقیقی جائزہ

(۲/۲)

از: مولانا محمد انس حسان

گورنمنٹ ڈگری کالج جہانیاں، پاکستان


اجماع
(فقہ اسلامی کا تیسرا ماخذ)
فقہ اسلامی کا تیسرا ماخذ اجماع ہے۔ اجماع کا لغوی معنی ہے کسی بات پر متفق ہوجانا؛ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَاَجْمِعُوا أمْرَکُمْ شُرَکَاءَ کُمْ﴾ (۱۷)
”تم اپنی بات طے کرلو اور اپنے شریکوں کو اکٹھا کرلو۔“
فقہاء کی اصطلاح میں اجماع کسی معاملہ پر امت اسلامیہ کے اہل علم طبقہ کے اتفاق کرنے کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ اصول کی کتابوں میں ہے:
وَہُو اِتِّفَاقُ أہْلِ الْحِلِّ وَالْعَقْدِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ  صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی أمْرٍ مِنَ الأُمُوْرِ(۱۸)
”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اہلِ حل و عقد کے کسی معاملہ میں اتفاق کا نام اجماع ہے۔“
جمہور علماء نے اجماع کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
”اِتِّفَاقُ الْمُجْتَہِدِیْنَ مِنْ أمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِہ فِیْ عَصْرٍ مِنَ الْعُصُوْرِ عَلٰی حُکْمٍ شَرْعِیٍ(۱۹)
”رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی بھی زمانہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر اتفاقِ رائے کرلینے کو اجماع کہتے ہیں۔“
علامہ علی بن محمد الآمدی(متوفی ۶۳۱ھ) فرماتے ہیں:
اِتَّفَقَ أَکْثَرُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی أنَّ الاجْمَاعَ حُجَّةٌ شَرْعِیَّةٌ یَجِبُ الْعَمَلُ بِہ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ خِلاَفًا لِلشِّیْعَةِ وَالْخَوَارِجِ وَالنِّظَامِ مِنَ الْمُعْتَزِلَةِ․(۲۰)
”اکثر مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ اجماع حجت شرعیہ ہے اور تمام مسلمانوں کا اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ ماسوائے شیعہ، خوارج اور معتزلہ میں سے نظام کے کہ وہ اس کو نہیں مانتے۔“
امام شافعی رحمة اللہ علیہ اجماع کو حجتِ شرعیہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”حجتِ شرعیہ صرف اللہ کی کتاب، سنتِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور ائمہ کا اجماع ہے۔ علم کے تین درجات ہیں کتاب، حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم اور اس مسئلہ میں ائمہ کا اجماع جس کے بارے میں کوئی نصِ شرعی موجود نہیں ہے۔“ (۲۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازی (۱۹۵۰ء۔۲۰۱۰ء)نے اجماع کی جامع تعریف بیان کی ہے؛ چنانچہ فرماتے ہیں:
”اجماع سے مراد یہ ہے کہ کسی نئے پیش آنے والے فقہی اور شرعی نوعیت کے معاملے پر امت کے فقہاء اور مجتہدین تفصیل کے ساتھ آزادانہ یعنی کسی حکومتی، سرکاری یا بیرونی اثر و رسوخ کے بغیر محض دلائل کی روشنی میں غور و فکر کریں اور قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں اس کا حل تلاش کریں۔ پھر ان کے آپس کے تبادلہٴ خیال سے جب وہ متفقہ طور پر کسی ایک نتیجہ پر پہنچ جائیں تو وہ متفقہ نتیجہ اور فیصلہ اجماع کہلائے گا۔“ (۲۲)
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہٴ حیات میں اجماع کا ثبوت نہیں ملتا؛ کیونکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ لوگوں میں موجود تھی اور کسی بھی مسئلہ میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلمسے ہی رجوع کیاجاتا تھا۔ جیسا کہ ڈاکٹر حمید اللہ( ۱۹۰۸ء۔۲۰۰۲ء)لکھتے ہیں:
”عہد نبوی میں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی؛ اس لیے کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوتا تو لوگ فوراً رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ فرمادیتے جو قطعی اور آخری ہوتا تھا۔ آپس میں مشورہ کرکے کسی پر متفق ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتاتھا۔“(۲۳)
لیکن نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے محروم ہوجانے کے بعد عہدِ صحابہ میں اجماع کی بنیاد پڑی۔ جس طرح تمام فقہاء کے نزدیک اجماع شریعت میں حجت ہے اور شریعت کا بنیادی ماخذ ہے، اسی طرح صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع پر بھی سب کا اتفاق ہے اور تمام اس پر عمل کو لازم قرار دیتے ہیں اور اگر صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال متعدد ہوں تو جس قول کو پسند کرتے اختیار کرلیتے ہیں؛ لیکن تابعین اور تبع تابعین کے اقوال میں اس اصول کے پابند نہیں تھے۔
صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سب سے پہلے اس ضرورت کو محسوس کیا؛ چنانچہ اس مقصد کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہٴ خلافت میں کبار صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم ا جمعین کو باہر جانے سے روک دیاگیاتھا؛ تاکہ پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے اور جس پر یہ تمام متفق ہوجائیں اسے اجماعِ امت سمجھا جائے۔
چنانچہ عہدِ صحابہ میں اجماع کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہے:
(۱) مثال کے طور پر صحابہ کرام نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی شخص زکوٰة کا منکر ہے تو اس کو اسی طرح سمجھا جائے گا، جیسے کوئی شخص نماز کا منکر ہو اور جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلا م سے خارج ہے۔ لہٰذا زکوٰة کے منکر کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔ صحابہٴ کرام نے سیدنا صدیق اکبر کی سربراہی میں ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا جنہوں نے زکوٰة کا انکار کیاتھا۔ شروع میں بعض صحابہ کو یہ سمجھنے میں تامل ہوا کہ نماز اور زکوٰة کو ایک سطح پر کیسے رکھا جائے اور کسی ایک جزوی حکم کو نہ ماننے کو پوری شریعت کے انکار کے برابر کیسے مانا جائے؛ لیکن سیدنا صدیق اکبر نے قسم کھا کر فرمایا کہ قسم خدا کی میں نماز اور زکوٰة کے درمیان کوئی فرق نہیں کروں گا اور جس نے یہ فرق کیا میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا، یہاں تک کہ میری جان چلی جائے۔ (۲۴)
(۲)اسی طرح حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام اور عراق کی مفتوحہ زمینوں کوفوج میں تقسیم کرنے کی بجائے وقف قرار دیا اور اس پر صحابہ کا اجماع ہوگیا (۲۵) اور اس کی سند یہ تھی کہ زمین ان کے اصل باشندوں کے پاس رکھی جائیں اور ان پر خراج عائد کردیاجائے؛ تاکہ مسلمانوں کو آمدنی ہو اور بیت المال مضبوط ہو جس کے نتیجے میں فوجیوں ، سرکاری ملازمین، ضرورتمندوں کے اخراجات کا بندوبست ہوسکے اور دیگر رفاہی کام بھی انجام دیے جاسکیں۔
(۳)واقعہ یمامہ میں قرّاء کی بڑی تعداد کی شہادت کے بعد اس اندیشہ کے پیشِ نظر کہ اگر قراء یونہی شہید ہوتے رہے تو کہیں قرآن ضائع نہ ہوجائے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قرآن کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے پر اصرار کیا اور تمام صحابہٴ کرام نے اس رائے سے اتفاق کیا اور اس طرح صحابہٴ کرام کے اس اجماع کی صورت میں قرآنِ کریم کی تدوین عمل میں آئی۔(۲۶)
(۴)تیسری مرتبہ چوری کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول پر تمام صحابہٴ کرام کا اجماع ہوا۔ (۲۷)
(۵)حضرت عمر نے ۲۰ /تراویح کے حوالے سے کبار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع اور باقاعدہ ان کی مشاورت سے اس کا حکم جاری فرمایا۔ (۲۸)یہ بھی صحابہٴ کرام کے اجماع کی ایک واضح مثال ہے۔
اجماع کا دین میں حجت ہونا تین امور پر مبنی ہے۔ گویا اجماع کی اساس ان تین امور پر قائم ہے۔
(۱) اجماع کی اساسِ اول یہ ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام سیاسی امور میں صحابہٴ کرام کو جمع کرکے ان سے مشورہ طلب کرتے تھے۔ جب تمام لوگ ایک بات پر متفق ہوجاتے تو اس کو قانون کا حصہ بناتے اور اگر اختلاف رونما ہوتا تو اکثریت کا ساتھ دیتے۔
(۲)اجماع کی دوسری اساس یہ ہے کہ دور اجتہاد میں ہر امام کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان سے کوئی ایسا شاذ قول صادر نہ ہو جو ان کے یہاں فقہاء کے خلاف ہو؛تاکہ اس کے طرزِ فکر کو اجنبی نہ سمجھا جائے؛ چنانچہ تمام ائمہ اپنے علاقہ کے اجماع کی بڑی سختی سے پابندی کرتے تھے۔
(۳)اجماع کی تیسری بنیاد وہ دلائل ہیں جن سے حجیت اجماع ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول : ”انَّ أُمَّتِيْ لاَ تَجْتَمِعُ عَلَی الضَّلاَلَةِ“ (۲۹) یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی۔
اسی طرح ایک اثر میں آتا ہے: ”مَا رَاہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ“(۳۰) ”جس بات کو مسلمان بہتر سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہتر ہے۔“
اجماع کی حجیت کے حوالہ سے فقہاء نے اس کی درجہ بندی کی ہے کہ کونسا اجماع کس نوعیت کا ہوگا؛ چنانچہ اسے تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔
(۱) سب سے اعلیٰ درجہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع کا ہے۔ جو حدیثِ متواتر اور دلیل قطعی کا درجہ رکھتا ہے۔
(۲)دوسرے نمبر پر تابعین کا اجماع ہے جو کسی غیر اجتہادی مسئلہ میں منعقد ہو۔ یہ حدیث مشہور کا درجہ رکھتا ہے۔
(۳)تیسرے درجہ کا اجماع وہ ہے جو کسی اجتہادی مسئلہ میں منعقد ہوا ہو یہ خبرِ واحد کی طرح ظنی ہے۔
اجماع کے اختیارات کی وسعت اور باقاعدہ اجماع منعقد ہوجانے کے بعد معاشرتی حالات و واقعات کے مطابق اس میں ترمیم و تنسیخ کے حوالے سے مولانا محمد تقی امینی رحمة اللہ علیہ درج ذیل نکات بیان فرماتے ہیں:
(۱) حالات اور تقاضوں کی مناسبت سے نئے قوانین وضع کرنا۔
(۲)پرانے اجماعی فیصلے جو مصلحت کے تابع تھے، ان میں موجودہ حالات و مصلحت کے پیشِ نظر مناسب ترمیم کرنا۔
(۳)وہ احکام جو بتدریج نازل ہوئے ہیں، معاشرتی حالات کے لحاظ سے انھیں مقدم و موٴخر کرنا۔
(۴)وہ احکام جن میں عرب کے مقامی حالات، رسم و رواج، خصائل و عادات مخلوط ہیں، ان کی روح اور پالیسی برقرار رکھتے ہوئے جدید حالات کے پیشِ نظر ان کے لیے نئے قالب تیار کرنا۔
(۵)وہ احکام جو وقتی تقاضہ اور مصلحت کے تحت ہیں، موجودہ تقاضے اور مصلحت کے تحت ان میں مناسب ترمیم کرنا۔
(۶)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جن احکام میں مختلف الرائے ہیں، معقول دلیل کی بناء پر ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا۔
(۷)فقہاء کی مختلف رایوں میں معاملات و تقاضوں کی مناسبت سے ترجیحی صورت پیدا کرنا وغیرہ۔(۳۱)
جہاں تک اجماع کے شرعی حکم کا تعلق ہے تو یہ واضح ہے کہ اس کا فیصلہ نہایت مستند اور واجب العمل ہے، جیسا کہ صاحبِ توضیح کا یہ قول ہے کہ :
فَانِ اسْتَنْبَطَ الْمُجْتَہِدُوْنَ فِیْ عَصْرٍ حُکْمًا وَاتَّفَقُوْا عَلَیْہِ یَجِبُ عَلٰی أہْلِ ذٰلِکَ الْعَصْرِ قُبُوْلُہ فَاِتِّفَاقُہُمْ صَارَ بَیِّنَةً عَلٰی ذٰلِکَ الْحُکْمِ فَلاَ یَجُوْزُ بَعْدَ ذٰلِکَ مُخَالَفَتُہُمْ․(۳۲)
”جب مجتہدین نے کسی زمانہ میں کسی حکم کا استنباط اور اس پر اتفاق کیا تو اس زمانہ والوں پر اس کا قبول کرنا واجب ہے، اس کی مخالفت جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اتفاق اس حکم پر بطور دلیل کے ہے۔“
عصرِ حاضر میں اجماع کی واضح مثال مسئلہٴ ختم نبوت ہے۔ جس پر تمام علماء و فقہاء کا اجماع ہوچکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء و فقہاء دورِ حاضر میں اسلام کو درپیش چیلنجز پر بھی اس اصول کا اطلاق کرتے ہوئے امت کی درست سَمت پر رہنمائی کریں۔

قیاس
(فقہ اسلامی کا چوتھا ماخذ)
فقہ اسلامی کا چوتھا ماخذ قیاس ہے۔ قیاس کے لغوی معنی اندازہ کرنا، پیمائش کرنا، مطابق اور مساوی کرنا ہیں، چنانچہ ”قَاسَ الثَّوْبَ بِالذِّرَاعِ“ کے معنی ”قَدَّرَ أجْزَائَہ بِہ “ (کپڑے کی ذراع سے پیمائش کی) اسی طرح”یُقَاسُ فُلاَنٌ بِفُلاَنٍ فِي الْعِلْمِ وَالنَّسَبِ“ کے معنی ”یُسَاوِیْہِ فِی الْعَلْمِ وَالنَّسَبِ“ (علم اور نسب میں وہ اس کے برابر ہے) ۔(۳۳)
قیاس کا لفظ دو چیزوں میں مساوات و برابری نیز دو چیزوں کے مابین موازنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (۳۴)
اصطلاح ِ فقہ میں قیاس کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
الْحَاقُ أمْرٍ غَیْرِ مَنْصُوْصٍ عَلٰی حُکْمِہ الشَّرْعِیِّ بِأمْرٍ مَنْصُوْصٍ عَلٰی حُکْمِہ لِاِشْتِرَاکِہِمَا فِیْ عِلَّةِ الْحُکْمِ․(۳۵)
”حکم کی علت میں اشتراک کے سبب اس معاملہ کو جس کے شرعی حکم کے بارے میں نص وارد نہیں ہوئی، ایسے معاملہ کے ساتھ ملحق کرنا جس کے حکم کی بابت نص وارد ہوئی ہے (فقہ کہلاتی ہے)“۔
محمد بن صالح العثیمن  کے مطابق:
تَسْوِیَةُ فَرْعٍ بِأصْلٍ فِیْ حُکْمٍ لِعَلَّةٍ جَامِعَةٍ بَیْنَہُمَا (۳۶)
”فرع اور اصل میں حکم کی علت کی بنیاد پر برابری کرنا جو ان دونوں میں یکساں ہیں“۔
مولانا محمد تقی امینی فرماتے ہیں کہ علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے قیاس کی اصطلاحی تعریف یوں بیان کی ہے:
فَالْقِیَاسُ الصَّحِیْحُ مِثْلُ أنْ تَکُوْنَ الْعِلَّةُ الَّتِيْ عُلِّقَ بِہَا الْحُکْمُ فِی الْأصْلِ مَوْجُوْدَةٌ فِی الْفَرْعِ مِنْ غَیْرِ مُعَارِضٍ فِی الْفَرْعِ یَمْنَعُ حُکْمَہَا․(۳۷)
 ”قیاسِ صحیح مثلاً یہ ہے کہ جس علت پر اصل میں حکم کا مدار ہے وہی علت فرع میں موجود ہو اور فرع میں کوئی رکاوٹ ایسی نہ ہو جو اس میں حکم جاری ہونے کو روک سکے“۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے قیاس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
”شریعت اور فقہاء کی اصطلاح میں قیاس سے مراد یہ ہے کہ اصل حکم میں پائے جانے والی علت کو دوسرے نئے حکم پر منطبق کرنا (قیاس کہلاتا ہے) ۔(۳۸)
جمہور علماء و فقہاء اسے حجتِ شرعی تسلیم کرتے ہیں؛ بلکہ ڈاکٹر محمود احمد غازی تو اسے فقہی ترتیب میں تیسرے درجے پر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ اس کی اجازت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دی تھی؛ اس لیے اس کا درجہ اجماع سے زیادہ ہونا چاہیے۔ (۳۹)
محمد بن صالح العثیمن کے مطابق قیاس تمام علماء کے نزدیک دلیلِ شرعی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
وَأمَّا جُمْہُوْرُ الأُمَّةِ فَقَالُوْا: انَّ الْقِیَاسَ دَلِیْلٌ شَرْعِيٌّ ثَابِتٌ فِی الْکِتَابِ وَفِی السُّنَّةِ وَ فِیْ أقْوَالِ الصَّحَابَةِ․(۴۰)
”جمہور امت کے بقول قیاس دلیلِ شرعی ہے، جو قرآنِ کریم، سنتِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کے اقوال سے ثابت ہے۔“
قیاس فقہ اسلامی کا انتہائی اہم ماخذ ہے۔ زمانہ چونکہ تغیر پذیر ہے اور ہر آنے والا دن نئے مسائل اور نئے چیلنجز کے ساتھ رونما ہورہا ہے تو اس صورت میں فقہ اسلامی کا دیگر تمام مذاہب میں یہ خصوصی امتیاز ہے کہ وہ ان جدید مسائل کے حوالے سے واضح رہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔
اسلامی شریعت نے ایک ایسا خود کار نظام وضع کردیا کہ جس میں قانون اور نظام کے اساسی قواعد و اصول نیز دستور اور آئین کے اساسی تصورات سب کے لیے مشترک اور واجب التعمیل ہیں۔ تمام انسان یکساں طور پر ان اصولوں کے پابند ہیں۔ اس جامعیت اور تنوع کی وجہ اس کی دقَّتِ نظری اور آزادی رائے ہے جو ہر دور میں اس کی ترقی کے لیے ممدو معاون ثابت ہوتی آئی ہے۔
اگر ایک دور میں کسی مسئلہ پر قیاس سے کام لیتے ہوئے کوئی نتیجہ اخذ کیا گیاتھا اور آنے والے وقت نے اس کی کسی شق پر کوئی سُقم پایاتو اس دور کے فقہاء کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے قیاس سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ کا کوئی اور حل تجویز کریں جو قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہو۔ اس کی بکثرت مثالیں ہمیں فقہ اسلامی کی کتب میں ملتی ہیں۔ اس آزادی رائے نے فقہ اسلامی کی اہمیت میں بہت اضافہ کردیا ہے۔ اور یہ سب قیاس سے استفادہ کی صورت ہی میں ممکن ہوسکا ہے۔قیاس کی اسی اہمیت و افادیت کے حوالے سے قرآنِ کریم، سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کے عمل سے بہت کچھ رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
قرآنِ کریم میں قیاس کی بنیاد کے حوالے سے درج ذیل آیاتِ مبارکہ سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(۱) ﴿لِیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّیْنِ﴾(۴۱)
 ”تاکہ دین میں فہم و بصیرت حاصل کرتے۔“
(۲)﴿فَاعْتَبِرُوْا یَأُوْلِی الأَبْصَارِ ﴾(۴۲)
”پس اے دیکھنے والو! عبرت حاصل کرو۔“
یہاں”اِعْتَبَرَ“ کا مطلب ہے ”رَدَّ الشَّیْءَ الٰی نَظِیْرِہ “ کسی چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹانا۔
(۳)﴿وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ﴾(۴۳)
”اوروہ ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔“
(۴)﴿وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ الَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ﴾(۴۴)
”ہم نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اتارا تاکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے اس چیز کو بیان کردیں جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے؛ تاکہ وہ خود غوروفکر کریں۔“
(۵)﴿وَلَوْ رَدُّوْہُ الیَ الرَّسُوْلِ وَالٰی أُوْلِی الأَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہ مِنْہُمْ﴾(۴۵)
”اگر اس کو اللہ کے رسول اور اہل علم تک پہنچادیتے تو ان میں سے جو استنباط کرنے والے ہیں وہ سمجھ جاتے۔“
یہ اور اسی طرح کی دیگر بہت سی آیات ہیں جن میں قیاس اور فکر و شعور کی بنیاد پر سوچنے سمجھنے کی دعوت دی گئی ہے۔
(۱) قیاس کی دلیل نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ملتی ہے؛چنانچہ جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا گورنر بناکر بھیج رہے تھے تو پوچھا:
کَیْفَ تَقْضِيْ؟ فَقَالَ أقْضِيْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَانْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَانْ لَمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَجْتَہِدُ رَأْیِیْ قَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم․(۴۶)
”جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہوگا تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ جواب دیا جیسا کتاب اللہ میں ہے اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ پھر سوال کیا کہ اگر کتاب اللہ میں صراحت کے ساتھ ذکر نہ ہوتو پھر کیسے فیصلہ کرو گے؟ جواب دیا پھر سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فیصلہ کرو ں گا۔ پھر سوال کیا کہ اگر سنت میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر نہ ہوتو پھر کیسے فیصلہ کروگے؟ جواب دیا ایسی حالت میں اپنی رائے سے اجتہاد کرکے فیصلہ کروں گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے فرستادہ رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔“
(۲)ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوموسیٰ اشعری دونوں کو یمن کے الگ الگ علاقوں کا قاضی و گورنر بناکر بھیجاگیاتھا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر دونوں نے جواب دیاتھا کہ :
اِذَا لَمْ نَجِدِ الْحُکْمَ فِی السُّنَّةِ نَقِیْسُ الأَمْرَ بِالأَمْرِ فَمَا أقْرَبَ الیَ الْحَقِّ عَمِلْنَا بِہ فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ اَصَبْتُمَا․(۴۷)
”جب ہم سنت میں حکم نہیں پائیں گے تو ایک معاملہ کو دوسرے معاملہ پر قیاس کریں گے اور جو فیصلہ حق سے زیادہ قریب ہوگا، اسی پر عمل کریں گے۔ اس پر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تم دونوں کی رائے درست ہے۔“
(۳)اسی طرح بلی کے جھوٹے کے بارے میں دریافت کیاگیا تو فرمایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ لوگوں کے گھروں میں کثرت سے آتی جاتی ہے۔ (۴۸)
(۴)نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع فرمایاتھا؛ لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی۔ (۴۹)
(۵)حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے رشتے کے بارے میں پوچھاگیا تو فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور میرے لیے درست نہیں۔ (۵۰)چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سگی بھتیجی پر قیاس کیا یعنی حرمت کی علت بھی بتادی۔
(۶)قبیلہٴ خشعم کی ایک عورت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اورکہا میرے والد نے اسلام قبول کرلیا ہے اور وہ بہت زیادہ بوڑھے ہیں۔سواری پر بیٹھ نہیں سکتے اور حج ان پر فرض ہوگیا ہے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرسکتی ہوں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر قرض ہوتاتو وہ تم ادا کرتی یا نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، ادا کرتی، اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ان کی طرف سے حج ادا کرو۔ (۵۱)گویا بندے کے قرض پر اللہ کے قرض کو قیاس فرمایا۔
(۷)ایک بدوی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے ہاں ایک کالے رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے؛ لیکن مجھے اس میں شک ہے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا سرخ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا کہ ان میں گندمی رنگ کے بھی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کہاں سے آگئے؟ اس نے جواب دیا کہ کوئی رگ ہوتی ہے، اس کا اثر آگیا ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کے ساتھ بھی یہی صورت ہوسکتی ہے۔ (۵۲)گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوانی وجود پر انسانی وجود کو قیاس کیا۔
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے قیاس صحیح کی اجازت دی تھی اور اس پر اجر کا اعلان فرمایاتھا؛ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے:
اذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أصَابَ فَلَہ أجْرَانِ وَاذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أخْطَأَ فَلَہ أجْرٌ․(۵۳)
”حاکم جب اجتہاد سے صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کو دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر غلط فیصلہ کرتا ہے تو ایک اجر ملتا ہے۔“
ایک اور جگہ یہ روایت الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ یوں وارد ہوئی ہے:
اذَا قَضَی الْقَاضِیْ فَاجْتَہَدَ فَأصَابَ فَلَہ عَشَرَةُ اُجُوْرٍ وَاذَا اجْتَہَدَ فَأخْطَأَ کَانَ لَہ أجْرٌ أوْ أجْرَانِ․(۵۴)
”قاضی جب اجتہاد سے صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کو دس گنا اجر ملتا ہے اور اگر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے دواجر ہیں۔“
صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی قیاس سے بھرپور فائدہ اٹھایا؛ چنانچہ نئے پیش آنے والے واقعات میں اجتہاد کرتے ہوئے ایک حکم کو دوسرے پر قیاس کرتے تھے۔ حضرت عمر نے قاضی شریح کو خط لکھاتھا کہ جو واقعہ تمہیں پیش آئے اور اس کا حکم قرآن و سنت میں نہ ہوتو اس پر خوب سوچو اور اس کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرو۔ پھر ایک معاملہ کو دوسرے معاملہ پر قیاس کرو۔ معاملات کو مختلف انداز سے پہچانو۔ پھر جو تمہاری رائے میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسندیدہ ہو اور حق کے قریب ہوتو اس کااعتبار کرو۔ (۵۵)
حضرت ابوبکر صدیق سے ”کلالہ“ (جس کے نہ والدین ہوں نہ اولاد) کی وراثت کے متعلق پوچھاگیاتو فرمایا:
أقُوْلُ فِیْہَا بِرَأیِیْ فَانْ یَکُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللّٰہِ وَانْ یَّکُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّیْطَانِ․(۵۶)
”میں اپنی رائے سے بات کہتا ہوں اگر وہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے سمجھو۔“      
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورت کے طلاق لینے کے اختیار کے متعلق فرمایا:
اَجْتَہِدُ فِیْہَا بِرَأیِیْ انْ اَصَبْتُ فَمِنَ اللّٰہِ وَانْ أخْطَأْتُ فمِنِّیْ وَمِنَ الشَّیْطَانِ․․․الخ(۵۷)
”میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں؛ اگر صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔“
قیاس میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بعض اوقات کسی ایک مسئلہ پر اختلاف بھی رہا ہے؛ چنانچہ اس حوالہ سے صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو قیاس کیا اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(۱) دادا کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق بھائیوں کو وراثت نہیں دلواتے تھے؛ لیکن حضرت عمر نے دادا کی موجودگی میں بھی بھائیوں کو وراثت دلوائی۔ حضرت ابوبکر نے دادا کو باپ تسلیم کیا ہے اور باپ کی موجودگی میں بہ نصِ قرآن بھائیوں کو وراثت نہیں ملتی۔ حضرت عمر نے اس کو باپ تسلیم نہیں کیا اور حضرت زید بن ثابت بھی ان کے ساتھ متفق الرائے ہیں۔ (۵۸)
(۲)جس حاملہ عورت کا شوہر مرجائے اس کی عدت حضرت عمر بن خطاب نے وضع حمل مقرر کی ہے؛ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ وضعِ حمل اور چار مہینے دس دن کی مدت میں جو زمانہ زیادہ طویل ہوگا وہی اس کی عدت کا زمانہ ہوگا۔ (۵۹)
(۳)ایک مطلقہ عورت جس نے اپنی عدت ہی میں نکاح کرلیاتھا حضرت عمر نے اس کے موجودہ شوہر کو چند کوڑوں کی سزا دے کر دونوں میں علیحدگی کرادی اور فرمایا کہ جو عورت عدت گزرنے سے پہلے نکاح کرلے اور اسی حالت میں اس سے مقاربت کرلی جاے تو اس شوہر پر وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے؛ لیکن حضرت علی کے نزدیک پہلے شوہر کی عدت گزرنے کے بعد یہ شخص اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ مصلحتِ عامہ کی بناء پرتھا؛ جب کہ حضرت علی کا فیصلہ اصولِ عامہ کی بناء پر تھا، حالات کے لحاظ سے روحِ شریعت میں دونوں کی گنجائش ہے۔(۶۰)
$$$
حوالہ جات
(۱۷) یونس، آیت ۷۱۔                                            (۱۸)                ا لبیضاوی ،ناصر الدین ابوالخیر عبداللہ بن عمر بن محمد، منہاج الاصول الی علم الاصول، ص ۲۴۔
(۱۹)  ابن امیر الحاج،التقریر والتجسیر،ج ۳،ص۸۰۔    (۲۰)               الآمدی ،علی بن محمد ، الاحکام فی اصول الاحکام، ص ۲۶۶۔               
(۲۱)  الجوزیہ، ابن قیم ،محمد بن ابی بکر ، اعلام الموقعین، ج ۱، ص ۳۰۔(۲۲)                       غازی، محموداحمد، ڈاکٹر، محاضراتِ فقہ، ص ۹۲۔
(۲۳)                        محمدحمیداللہ، ڈاکٹر،خطباتِ بہاولپور، ص ۷۵۔
(۲۴)                        سعیدالرحمن، ڈاکٹر،استحسان (بحیثیت ماخذ قانون) مقالہ پی ایچ ڈی، ص ۱۹۹۔
(۲۵)                        وہبة الزحیلی،ڈاکٹر،الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج۵،ص۵۳۵۔
(۲۶)                         القرطبی،ابو عبداللہ محمدبن احمد،الجامع لاحکام القرآن،ج۱،ص۵۰۔
(۲۷)                        وہبة الزحیلی،ڈاکٹر،الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج۶،ص۹۷۔                                         (۲۸)               ایضاً، ج ۲،ص۴۴۔
(۲۹) ابن ماجہ،محمد بن یزید ابو عبداللہ قزوینی،السنن لابن ماجہ،ج۳،۱۳۰۳۔
(۳۰)                        مالک بن انس،الموطاء،ج۳،ص۸۰۔                                         (۳۱)               امینی ،محمد تقی ، فقہ اسلامی کا تاریخی پسِ منظر، ص ۱۲۱۔۱۲۰۔
(۳۲)                        تاج الشریعہ ،عبیداللہ بن مسعود، التوضیح والتلویح مع الحاشیة التوشیح، ص ۳۴۔
(۳۳)                        امینی ،محمد تقی ،اجتہاد، ص ۱۴۱۔۱۴۰
(۳۴)                        سعید الرحمن، ڈاکٹر، استحسان ( بحیثیت ماخذ قانون) مقالہ پی۔ایچ ۔ڈی، ص ۲۰۷۔
(۳۵)                        ابن قدامہ، ابو عبداللہ ،شمس الدین ،روضة الناظر وجنة المناظر، ج ۲، ص ۲۲۷۔
(۳۶)                        العثیمٰن ،محمد بن صالح ، شرح الاصول من علم الاصول، ص ۵۰۹۔  (۳۷)              امینی ،محمد تقی ،اجتہاد، ص ۱۴۱۔
(۳۸)                        غازی، محموداحمد، ڈاکٹر، محاضرات فقہ، ص ۹۶۔                                                      (۳۹)               ایضاً، ص ۵۹۔۶۹۔
(۴۰)                        العثیمٰن ،محمد بن صالح، شرح الاصول من علم الاصول، ص ۵۱۲۔  (۴۱)                التوبہ، آیت ۳۶۔
(۴۲)                        الحشر، آیت ۲۔                       (۴۳)              الجمعة، آیت ۲۔                       (۴۴)              النحل، آیت ۴۴۔                    (۴۵)              النساء، آیت ۸۳۔
(۴۶)                        الترمذی،محمد بن عیسیٰ،السنن لترمذی،ج۳،ص۶۱۶۔                  
(۴۷)                        الرازی،محمد بن عمرالحسین،المحصول فی علم الاصول،ج۵،ص۵۲۔
(۴۸)                        سلیمان بن اشعث،السنن ابو داوَد،ج۱،ص۱۹۔
(۴۹)                         البخاری، محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحیح للبخاری، ج ۵، ص ۲۱۱۶۔
(۵۰)                        القشیری ،مسلم بن حجاج بن مسلم ، الجامع الصحیح للمسلم، ج ۴، ص ۱۶۴۔
(۵۱) احمد بن حنبل،المسند لامام احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۲۸۶۔
(۵۲)                        عبدالباقی ، محمدفواد، اللوٴلوٴ والمرجان، ج ۱، ص ۴۴۶۔
(۵۳)                        القشیری،مسلم بن حجاج بن مسلم، الجامع الصحیح للمسلم، ج ۵، ص ۱۳۳۔
(۵۴)                        البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح للبخاری، ج ۶، ص ۲۶۷۶۔
(۵۵)                        الہثیمی ،نورالدین علی بن ابی بکر،مجمع الزوائد، ج ۴، ص۳۶۲۔
(۵۶)                        الجوزیہ،ا بن قیم ،محمد بن ابی بکر ، اعلام الموقعین، ج ۱، ص۶۳۔
(۵۷)                        ملا جیون ،احمد بن سعید، نورالانوار، ص ۲۵۰۔        (۵۸)              ندوی ،عبدالسلام ، تاریخ فقہ اسلامی، ص ۱۵۵۔
(۵۹)                         ایضاً، ص ۱۵۲۔                                                                          (۶۰)               امینی ،محمد تقی ، اجتہاد، ص ۵۶۔
$ $ $


Taken with Jazakallah o khair

Fiqh%20Islami%20K%20Makhaz_MDU_11_Nov_15.htm