Pages

Showing posts with label DAROOD SHAREEF FAZAEL O INAMAT. Show all posts
Showing posts with label DAROOD SHAREEF FAZAEL O INAMAT. Show all posts

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ فضائل درود شریف و سلام البخاری


مولف
شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ

۱۔عَن عَبدِ الرَّحمٰنِ اَبِی لَیلٰی قَالَ لَقِیَنِی کَعبُ بنُ عُجرَةَ فقَالَ اَلاَ اَھدٰی لَکَ ھَدیَةً سَمِعتُھَا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ علَیہِ وَسَلَّمَ فَقُلتُ بَلٰی فَاھدِھَا لِی فقَالَ سلنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ علَیہِ وَسَلَّمَ فَقُلنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ کَیفَ الصَّلٰوةُ عَلَیکُم اَھلَ البَیتِ فَاِنَّ اللّٰہ قَد عَلَّمَنَا کَیفَ نُسَلِّمُ عَلَیکَ قَالَ قُولُو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیتَ عَلٰی اِبرَھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبرَھِیم اِنَّکَ حَمِید مَجِید ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبرَھِیم اِنَّکَ حَمِید مَجِید
رواہ البخاری وبسط السخاوی فی تخریجہ واختلاف الفاظہ وقَالَ ھکذا لفظ البخاری علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم فی الموضعین
حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت کعبؓ کی ملاقات ہوئی وہ فرمانے لگے کہ میں تجھے ایک ایسا ہدیہ دوں جو میں حضورﷺسے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور مرحمت فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پر درود کن الفاظ سے پڑھا جائے یہ تو اللہ تعالی نے ہمیں بتلادیا کہ آپ پر سلام کس طرح بھیجیں۔حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح درود پڑھا کرو۔(اللّٰہُمَّ صَلِّ سے اخیر تک)یعنی اے اللہ درود بھیج محمد(ﷺ) پر اور ان کی آل پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل (اولاد) پر اے اللہ بیشک آپ ستودہ صفات اور بزرگ ہیں۔اے اللہ برکت نازل فرما محمد(ﷺ) پر اور ان کی آل (اولاد) پر جیسا کہ برکت نازل فرمائی آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل(اولاد)پر بیشک آپ ستودہ صفات بزرگ ہیں۔
ف:ہدیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کے ہاں (رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) مہمانوں اور دوستوں کے لئے بجائے کھانے پینے کی چیزوں کے بہترین ہدیے حضور اقدسﷺ کا ذکر شریف، حضورﷺکے حالات تھے۔ ان چیزوں کی قدر ان حضرات کے ہاں مادّی چیزوں سے کہیں زیادہ تھی جیسا کہ ان کے حالات اسکے شاہد عدل ہیں۔اسی بنا پر حضرت کعبؓ نے اسکو ہدیہ سے تعبیر کیا۔یہ حدیث شریف بہت مشہور حدیث ہے۔اور حدیث کی سب کتابوں میں بہت کثرت سے ذکر کی گئی ہے اور بہت سے صحابہ کرامؓ سے مختصر اور مفصل الفاظ میں نقل کی گئی ہے علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے قول بدیع میں اسکے بہت طریق اور مختلف الفاظ نقل کئے ہیں وہ ایک حدیث میں حضرت حسنؓ سے مرسلا نقل کرتے ہیں کہ جب آیت شریفہ ” اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ“ نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ سلام تو ہم جانتے ہیں کہ وہ کس طرح ہوتا ہے آپ ہمیں درود شریف پڑھنے کا کس طرح حکم فرماتے ہیں تو حضور نے فرمایا کہ اَلّٰھُمَّ اجعَل صَلوٰتِکَ وَبَرَکَاتِکَ الخ پڑھا کرو۔دوسری حدیث میں ابو مسعود بدریؓ سے نقل کیا ہے کہ ہم حضرت سعد ب عبادہؓ کی مجلس میں تھے کہ وہاں حضور اقدسﷺ تشریف لائے حضرت بشیرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ جل شانہ نے ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔پس ارشاد فرمائیے کہ کس طرح آپ پر درود پڑھا کریں حضورﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ وہ شخص سوال ہی نہ کرتا۔پھر حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ یوں کہا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ الخ یہ روای/spanAR-SAAR-SA lang=font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: ت مسلم و ابوداود وغیرہ میں ہے۔اسکا مطلب ”ہم اسکی تمنا کرنے لگے“یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو غایت محب lang=font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: quot;; color: #c00000; mso-bidi-language: FA;ت اور غایت احترام کی وجہ سے جس بات کے جواب میں نبی کریم ﷺ کا تامل ہوتا یا سکوت فرماتے تو ان کو یہ خوف ہوتا کہ یہ سوال کہیں منشاءمبارک کے خلا ف تو نہیں ہو گیا۔یا یہ کہ اسکا جواب نبی کریمﷺ کو معلوم نہیں تھا جس کی وجہ سے حضور اقدسﷺ کو تائل فرمانا پڑا۔بعض روایات سے اسکی تائید بھی ہوتی ہے۔حاف lang=quot;;font-size: 16.0pt; line-height: 150%; font-family: /pظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے طبری کی روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ حضور ۰۲mso-spacerun: yes;اقدسﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ حضورﷺپر وحی نازل ہوئی۔مسند احمد وابن حبان وغیرہ میں ایک اور روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک صحابیؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ہم لوگ مجلس میں حاضر تھے۔ ان صاحب نے سوال کیا یا رسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا جب ہم نماز پڑھا کریں تو اس میں آپ پر درود کیسے پڑھا کریں۔حضورﷺنے اتنا سکوت فرمایا کہ ہم لوگوں کی یہ خواہش ہونے لگی کہ یہ شخص سوال ہی نہ کرتا اسکے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ جب نماز پڑھا کرو تو یہ درود پڑھا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ الخ
ایک اور روایت میں عبد الرحمن بن بشیرؓ سے نقل کیا ہے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ جل شانہ نے ہمیں صلوٰة وسلام کا حکم دیا ہے سلام تو ہمیں معلوم ہو گیا۔آپ پر درود کیسے پڑھا کریں تو حضور نے فرمایا یوں پڑھا کرو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ ۔مسند احمد ترمذی بیہقی وغیرہ کی روایات میں ذکر کیا گیا ہے کہ جب آیت شریفہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ا لآیہ نازل ہوئی تو ایک صاحب نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! سلام تو ہمیں معلوم ہے آپ پر درود کیسے پڑھا کریں تو حضورﷺنے ان کو درود تلقین فرمایا۔ اور بھی بہت سی روایات میں اس قسم کے مضمون ذکر کئے گئے ہیں۔اور درودوں کے الفاظ میں اختلاف بھی ہے جو اختلاف روایات میں ہوا ہی کرتا ہے جس کی مختلف وجوہ ہاتی ہیں۔اس جگہ ظاہر یہ ہے حضور اقدس ﷺ نے مختلف صحابہ jکو مختلف الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ کوئی لفظ خاص طور سے واجب نہ بن جائے۔نفس درود شریف کا وجوب علیحدہ چیز ہے جیسا کہ فصل رابع میں آرہا ہے اور درود شریف کے کسی خاص لفظ کا وجوب علیحدہ چیز ہے کوئی خاص لفظ واجب نہیں۔یہ درود شریف جو اس فصل کے شروع میں نمبر۱ پر لکھا گیا ہے یہ بخاری شریف کی روایے ہے جو سب سے زیادہ صحیح ہے اور حنفیہ کے نزدیک نماز میں اسی کا پڑھنا اولی ہے جیسا کہ علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا ہے کہ حضورﷺ پر درود کن الفاظ سے پڑھے؟ تو انہوں نے یہی درود شریف ارشاد فرمایا جو فصل کے شروع میں لکھا گیا اور یہ درود موافق ہے اسکے جو صحیحین(بخاری و مسلم) وغیرہ میں ہے۔علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ عبارت شرح منیّة سے نقل کی ہے۔شرح منیّة کی عبارت یہ ہے کہ یہ درود موافق ہے اسکے جو صحیحین میں کعب بن عجرہؓ سے نقل کیا گیا ہے انتہیٰ۔ اور کعب بن عجرہؓ کی یہی روایت ہے جو اوپر گذری۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت کعبؓ وغیرہ کی حدیث سے ان الفاظ کی تعیین ہوتی ہے جو حضورﷺ نے اپنے صحابہؓ کو آیت شریفہ کے امتثال امر میں سکھلائے۔اور بھی بہت سے اکابر سے اس کا افضل ہونا نقل کیا گیا ہے۔ایک جگہ علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے صحابہؓ کے اس سوال پر کہ ہم لوگوں کو اللہ جل شانہ نے صلوٰة و سلام کا حکم دیا ہے تو کون سا درود پڑھیں، حضورﷺنے یہ تعلیم فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب سے افضل ہے۔امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب روضہ میں تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھا بیٹھے کہ میں سب سے افضل درود پڑھوں گا تو اس درود کے پڑھنے سے قسم پوری ہو جائے گی۔حصن حصین
تکملہ
کے حاشیہ پر حرزثمین سے نقل کیا ہے کہ وہ درود شریف سب سے زیادہ صحیح ہے اور سب سے زیادہ افضل ہے نماز میں اور بغیر نماز کے اسی کا اہتمام کرنا چاہیے۔یہاں ایک بات قابل تنبیہ یہ ہے کہ زاد السعید کے بعض نسخوں میں کاتب کی غلطی سے حرزثمین کی یہ عبارت بجائے اس درود شریف کے ایک دوسرے درود کے نمبر پر لکھ دی گئی اس کا لحاظ رہے۔اس کے بعد اس حدیث شریف میں چند فوائد قابل ذکر ہیں۔اول یہ کہ صحابہ کرامؓ کا یہ عرض کرنا کہ سلام ہم جان چکے ہیں اس سے مراد التحیات کے اندر اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِّیُ وَرَحمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ ہے۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ یعنی حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہی مطلب زیادہ ظاہر ہے۔اور اوجز میں امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے اور اس میں بھی متعدد علماءسے یہی مطلب نقل کیا گیا ہے (۲)ایک مشہور سوال کیا جاتا ہے کہ جب کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے مثلا یوں کہا جائے کہ فلاں شخص حاتم طائی جیسا سخی ہے تو سخاوت میں حاتم کا زیادہ سخی ہونا معلوم ہوتا ہے۔اس وجہ سے اس حدیث پاک میں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کے درود کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے۔اسکے بھی ”اوجز “میں کئی جواب دئیے گئے ہیں اور حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں دس جواب دئیے ہیں۔کوئی عالم ہو تو خود دیک لے غیر عالم ہو تو کسی عالم سے دل چاہے تو دریافت کر لے۔ سب سے آسان جواب یہ ہے کہ قاعدہ اکثر یہ تو وہی ہے جو اوپر گذرا لیکن بسا اوقات بعض مصالح سے اسکا الٹا ہوتا ہے جیسے قرآن پاک کے درمیان میں اللہ جل شانہ کے نور کی متعلق ارشاد ہے۔
(مَثَلُ نُورِہ کَمِشکٰوةٍ فِیھَا مِصبَاح الایة)
ترجمہ:۔ اس کے نور کی مثال اس طاق کی سی ہے جس میں چراغ ہو۔اخیر آیت تک۔
حالانکہ اللہ جل شانہ کے نور کو چراغوں کے نور کے ساتھ کیا مناسبت(۳) یہ بھی مشہور اشکال ہے کہ سارے انبیاءکرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰة والسلام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے درود کو کیوں ذکر کیا؟اسکے بھی ”اوجز“ میں کئی جواب دئیے گئے ہیں۔حضرت اقدس تھانوی نور اللہ مرقدہ نے بھی زاد السعید میں کئی جواب ارشاد فرمائے ہیں۔بندے کے نزدیک تو زیادہ پسند یہ جواب ہے کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ جل شانہ نے اپنا خلیل قرار دیا۔چنانچہ ارشاد ہے”وَاتَّخَذَ اِبرَاھِیمَ خَلِیلاً“ لہٰذا جو درود اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہو گا وہ محبت کی لائن کا ہو گا اور محبت کی لائن کی ساری چیزیں سب سے اونچی ہوتی ہیں۔لہٰذا جو درود محبت کی لائن کا ہو گا وہ یقینا سب سے زیادہ لذیذ اور اونچا ہو گا۔چنانچہ ہمارے حضور اقدس ﷺ کو اللہ جل شانہ نے اپنا حبیب قرار دیا اور حبیب اللہ بنایا اور اسی لئے دونوں کا درود ایک دوسرے کے مشابہ ہوا۔مشکوٰة میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے قصہ نقل کیا گیا ہے کہ صحابہؓ کی ایک جماعت انبیاءکرام علیہ السلام کا تذکرہ کر رہی تھی کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور حضرت موسی علیہ السلام سے کلام کیااور حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے اپنا صفی قرار دیاہے ۔اتنے میں حضور تشریف لائے۔حضورﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہاری گفتگو سنی۔بیشک ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور موسٰی علیہ السلام کلیم اللہ ہیں اور ایسے ہی عیسٰی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور آدم اللہ کے صفی ہیں لیکن بات یوں ہے غور سے سنو کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس جھنڈے کے نیچے آدم علیہ السلام اور سارے انبیائ علیہ السلام ہونگے اور اس پر فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن سب سے پہلے میں شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی وہ میں ہوں گا اور اس پر بھی میں کوئی فخر نہیں کرتا اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوانے والا میں ہوں گا اور سب سے پہلے جنت میں میں اور میری امت کے فقراءداخل ہونگے اور اس پر بھی کوئی فخر نہیں کرتا اور میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہوں اولین اور آخرین میں اور کوئی فخر نہیں کرتا۔اور بھی متعدد روایات سے حضور کا حبیب اللہ ہونا معلام ہوتا ہے۔محبت اور خلت میں جو مناسبت ہے وہ ظاہر ہے اسی لئے ایک کے درود کو دوسرے کے درود کے ساتھ تشبیہ دی اور چونکہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام حضور اقدس ﷺ کے آباءمیں ہیں اسلئے بھی مَن اشبہ اباہ فما ظلم آباءواجداد کے ساتھ مشابہت بہت ممدوح ہے۔مشکوة کے حاشیہ پر لمعات سے اس میں ایک نکتہ بھی لکھا ہے وہ یہ کہ حبیب اللہ کا لقب سب سے اونچا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ حبیب اللہ کا لفظ جامع ہے خلت کو بھی اور کلےم اللہ ہونے کو بھی اور صفی اللہ ہونے کو بھی بلکہ ان سے زائد چیزوں کو بھی جو دیگر انبیاءکے لئے ثابت نہیں اور وہ اللہ کا محبوب ہونا ہے۔ایک خاص محبت کے ساتھ میں جو حضور اقدسﷺ ہی کیساتھ مخصوص ہے۔

taken with thanks from
http://www.ownislam.com/articles/fazil-e-ammal-urdu/2036-fazail-e-durood-shareef-by-sheikh-ul-hadith-zakariyya-kandhelvi

تبلیغی جماعت فضائل اعمال فضائل درود شريف شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا



شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ

اس میں سب سے اہم اور سب سے مقدم تو خود حق تعالیٰ شانہ‘جل جلالہ‘عم نوالہ کا پاک ارشاد اور حکم ہے‘چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔
١: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلی النَّبِیِّ یَآ اَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُو صَلُّو عَلَیہِ وَسَلِّمُوا تَسلَیمًا (پ۲۲ع۳)
بیشک اللہ تعالی اور اسکے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں۔ان پیغمبرﷺ پر۔ اے ایمان والو!تم بھی آپ ﷺ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو (بیان القرآن)
ف:حق تعالیٰ شانہ‘نے قرآن پاک میں بہت سے احکامات ارشاد فرمائے، نماز، روزہ، حج،وغیرہ اور بہت سے انبیاءکرام کی توصیفیں اور تعریفیں بھی فرمائیں ان کے بہت سے اعزاز و اکرام بھی فرمائے۔حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کو پیدا فرمایا تو فرشتوں کو حکم فرمایا کہ ان کو سجدہ کیا جائے۔ليکن کسی حکم یا کسی اعزاز و اکرام میں یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں تم بھی کرو۔یہ اعزاز صرف سید الکونین فخر عالمﷺہی کےلئے ہے کہ اللہ جل شانہ‘ نے صلوٰة کی نسبت اولا اپنی طرف اسکے بعد اپنے پاک فرشتوں کی طرف کرنے کے بعد مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ اللہ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں‘اے مومنو تم بھی درود بھیجو۔اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہو گی کہ اس عمل میں اللہ اور اسکے فرشتوں کے ساتھ مومنین کی شرکت ہے۔پھر عربی داں حضرات جانتے ہیں کہ آیت شریفہ کو لفظ اِنّ کے ساتھ شروع فرمایا جو نہایت تاکید پر دلالت کرتا ہے اور صیغہ مضارع کے ساتھ ذکر فرمایا جو استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ قطعی چیز ہے کہ اللہ اور اسکے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبیﷺ پر علامہ سخاوی رحمہ اﷲلکھتے ہیں کہ آیت شریفہ مضارع کے صیغہ کے ساتھ جو دلالت کرنے والا ہے استمرار اور دوام پر دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ اللہ اور اسکے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبی اکرم ﷺپر۔صاحب روح البیان رحمہ اﷲلکھتے ہیں بعض علماءنے لکھا ہے کہ اللہ کے درود بھیجنے کا مطلب حضور اقدسﷺکو مقام محمود تک پہنچانا ہے اور وہ مقام شفاعت ہے اور ملائکہ کے درود کا مطلب ان کی دعا ہے۔حضور اقدس ﷺ کی زیادتی مرتبہ کےلئے اور حضورﷺکی امت کےلئے استغفار اور مومنین کے درود کا مطلب حضور ﷺکا اتباع اور حضور اقدسﷺ کے ساتھ محبت اور حضورﷺکے اوصاف جمیلہ کا تذکرہ اور تعریف،یہ بھی لکھا ہے کہ یہ اعزاز و اکرام جو اللہ جل شانہ نے حضورﷺکو عطا فرمایا ہے اس اعزاز سے بہت بڑھا ہوا ہے جو حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو فرشتوں سے سجدہ کراکر عطا فرمایا تھااسلئے کہ حضور اقدس ﷺ کے اس اعزازواکرام میں اللہ جل شانہ خود بھی شریک ہیں، بخلاف حضرت آدم کے اعزاز کے کہ وہاں صرف فرشتوں کو حکم فرمایا۔
عقل دور اندیش میدانہ کے تشریفے چنیں ----- ہیچ د یں
پرورندیدہ ہیچ پیغمبر نیافت
یُصَلّی عَلَیہِ اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہ ------ بِھٰذَ بَدَا لِلعَالَمِینَ کَمَا لُہ
علماءنے لکھا ہے کہ آیت شریفہ میں حضورﷺکو نبی کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا محمدﷺ کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جیسا کہ اور انبیاءکو ان کے اسماءکے ساتھ ذکر فرمایاہے
یہ حضور اقدس ﷺ کی غایت عظمت اور غایت شرافت کی وجہ سے ہے ۔اور ایک جگہ جب حضورﷺ کا ذکر حضرت ابراہیم علی بنینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ آیا تو ان کے تو نام کے ساتھ ذکر کیا اور آپﷺ کو نبی کے لفظ سے جیسا کہ:۔اِنَّ اَولَی النَّاسِ بِاِبرَاھِیمَ لَلَّذِین اتَّبَعُوہُ وَ ھٰذَا النَّبِیُّ میں ہے اور جہاں کہیں نام لیا گیا ہے وہ خصوصی مصلحت کی وجہ سے لیا گیا ہے۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہنے اس مضمون کو تفصیل سے لکھا ہے۔
یہاں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ صلوة کا لفظ جو آیت شریفہ میں وارد ہوا ہے اور اسکی نسبت اللہ جل شانہ‘ کی طرف اور اسکے فرشتوں کی طرف اور مومنین کی طرف کی گئی ہے وہ ایک مشترک لفظ ہے جو کئی معنی میں مستعمل ہوتا ہے اورکئی مقاصد اس سے حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ صاحب روح البیان کے کلام میں بھی گذر چکا۔علماءنے اس جگہ صلوٰة کے بہت سے معنی لکھے ہیں،ہر جگہ جو معنی اللہ تعالیٰ شانہ،اور فرشتوں اور مومنین کے حال کے مناسب ہوں گے وہ مراد ہونگ،بعض علماءنے لکھا ہے کہ صلوٰة علی النبی کا مطلب نبی کی ثناءتعظیم رحمت و عطوفت کے ساتھ ہے پھر جسکی طرف یہ صلوٰة منسوب ہو گی اسی کے شان و مرتبہ کے لائق ثناءو تعظیم مراد لی جائے گی،جیسا کہ کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر،بیٹا باپ،بھائی بھائی پر مہربان ہے تو ظاہر ہے کہ جس طرح کی مہربانی باپ کی بیٹے پر ہے‘اس نوع کی بیٹے کی باپ پر نہیں اور بھائی کی بھائی پر دونوں سے جدا ہے۔اسی طرح یہاں بھی اللہ جل شانہ بھی نبی کریمﷺ پر صلوٰة بھیجتا ہے،یعنی رحمت و شفقت کےساتھ آپ کی ثناءواعزاز و اکرام کرتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں،مگر ہر ایک کی صلوٰة اور رحمت وتکریم اپنی شان و مرتبے کے موافق ہو گی۔آگے مومنین کو حکم ہے کہ تم بھی صلوٰة و رحمت بھیجو ۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے درود کا مطلب اسکا آپکی تعریف کرنا ہے۔فرشتوں کے سامنے اور فرشتوں کا درود ان کا دعا کرنا ہے۔حضرت ابن عباسؓ سے یُصَلُّونَ کی تفسیر یُبَرِّکُون نقل کی گئی ہے۔یعنی برکت کی دعا کرتے ہیں۔حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ کے موافق ہے البتہ اس سے خاص ہے،حافظ رحمتہ اللہ علیہ نے دوسری جگہ صلوٰة کے کئی معنی لکھ کہ لکھا ہے کہ ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول میرے نزدیک زیادہ اولیٰ ہے کہ اللہ کی صلوٰة سے مراد اللہ کی تعریف ہے‘حضورپر اور ملائکہ وغیرہ کی صلوٰة اس کی اللہ سے طلب ہے اور طلب سے مراد زیادتی کی طلب ہے نہ کہ اصل کی طلب حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ!سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا یعنی التحیات میں جو پڑھا جاتا ہے۔
اَلسَّلَام عَلَیکَ اَیُّھَا النِّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰہ وَبَرَکَتُہ
صلوٰة کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے ُآپ نے یہ درود شریف ارشاد فرمایا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدً الخ فصل ثانی کی حدیث نمبر ۱ پر یہ درود مفصل آرہا ہے‘یعنی اللہ جل شانہ ‘نے مومنین کو حکم دیا تھا کہ تم بھی نبی پر صلوٰةبھیجو۔نبی ﷺنے اس کا طریقہ بتادیا کہ تمہارا بھیجنا یہی ہے کہ تم اللہ ہی سے درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش رحمتیں ابدا لآباد تک نبی پر نازل فرماتا رہے، کیونکہ اسکی رحمتوں کی کوئی حدونہایت نہیں۔یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ اس درخواست پر جو مزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز و ناچیز بندوں کی طرف منسوب کردی جائیں،گویا ہم نے بھیجی ہیں حالانکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہی اکیلا ہے کسی بندے کی کیا طاقت تھی کہ سید الانبیاءکی بارگاہ میں انکے رتبے کے لائق تحفہ پیش کر سکتا۔حضرت شاہ عبد القادر صاحب نور اللہ مرقدہ‘لکھتے ہیں”اللہ سے رحمت مانگنی اپنے پیغمبر پر اور ان کے ساتھ ان کے گھرانہ پر بڑی قبولیت رکھتی ہے“ ان پر ان کے لائق رحمت اترتی ہے اور ایک دفعہ مانگنے سے دس بار رحمتیں اترتی ہیں مانگنے والے پر اب جس کا جتنا بھی جی چاہے ۱ تناحاصل کرلے ا ھ مختصراً یہ حدیث جس کی طرف شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اشارہ فرمایا عنقریب نمبر۳ پر آرہی ہے،اس مضمون سے يہ بھی معلوم ہو گیا کہ بعض جاہلوں کا یہ اعتراض کہ آیت شریفہ میں مسلمانوں کو حضورپرصلوٰةبھیجنے کا حکم ہے اور اس پر مسلمانوں کا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ اے اللہ تو درود بھیج محمد ﷺپر مضحکہ خیز ہے۔یعنی جس چیز کا حکم دیا تھا اللہ نے بندوں کو وہی چیز اللہ تعالی شانہ ‘کی طرف لوٹادی بندوں نے چونکہ اول تو خود حضور اقدسﷺنے آيت شريفہ کے نازل ہونے پر جب صحابہؓ نے اس کی تعميل کی صورت دریافت کی تو یہی تعلیم فرمایا جیسا کہ اوپر گذرا۔نیز جیسا کہ فصل ثانی کی حدیث نمبر1پر مفصل آرہا ہے۔ دوسرا اس وجہ سے کہ ہماری یہ درخواست کرنا اللہ جل شانہ‘ سے کہ تو اپنی رحمت خاص نازل کر یہ اس سے بہت ہی زیادہ اونچا ہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی ہدیہ حضورﷺ کی خدمت میں بھیجیں۔ علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ قول بدیع میں تحریر فرماتے ہیں،فائدہ مہمہ امیر مصطفیٰ ترکمانی حنفی کی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ نے ہمیں درود کا حکم فرمایا ہے کہ ہم یوں کہہ کر کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ خود اللہ جل شانہ ‘سے الٹا سوال کریں کہ وہ درود بھیجے یعنی نماز میں ہم اُصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کی جگہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ پڑھیں اسکا جواب یہ ہے کہ حضور اقدسﷺ کی پاک ذات میں کوئی عیب نہیں اور ہم سراپا عیوب و نقائص ہیں پس جس شخص میں بہت عیب ہوں وہ ایسے شخص کی کیا ثناءکرے جو پاک ہے اسلئے ہم اللہ ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہی حضورﷺپر صلوٰة بھیجے تاکہ رب طاہر کی طرف سے نبیﷺطاہر پر صلوٰة ہو ۔ایسے ہی علامہ نیشاپوری رحمتہ اللہ علیہ سے بھی نقل کیا ہے کہ ان کی کتاب لطائف وحکم میں لکھا ہے کہ آدمی کو نماز میں صَلِّیتُ عَلٰی مُحَمَّدٍ نہ پڑھنا چاہئے۔ اس واسطے کہ بندہ کا مرتبہ اس سے قاصر ہے اسلئے اپنے رب ہی سے سوال کرے کہ وہ حضورﷺ پر صلوٰة بھیجے تو اس صورت میں رحمت بھیجنے والا تو حقیقت میں اللہ جل شانہ ہی ہے اور ہمارے طرف اسکی نسبت مجازاً بحیثیت دعا کے ہے،ابن ابی حجلہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی قسم کی بات فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ جل شانہ‘ نے ہمیں درود کا حکم فرمایا اور ہمارا درود حق واجب تک نہیں پہنچ سکتا تھا اسلئے ہم نے اللہ جل شانہ‘ہی سے درخواست کی کہ وہی زیادہ واقف ہے اس بات سے کہ حضورﷺکے درجہ کے موافق کیا چیز ہے۔یہ ایسا ہی ہے۔جیسا دوسری جگہ لَآ اُحصَی ثَنَآئً عَلَیکَ اَنتَ کَمَآ اثنَیتَ عَلٰ نَفسِکَ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ یا اللہ میں آپ کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں، آپ ایسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے اپنی خود ثنا فرمائی ہے۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب یہ بات معلوم ہو گئی تو جس طرح حضورﷺنے تلقین فرمایا ہے اسی طرح تیرا درود ہونا چاہئے کہ اسی سے تیرا مرتبہ بلند ہو گا اورنہایت کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہیے اور ا سکا بہت اہتمام اور اس پر مد اومت چاہیے اسلئے کہ کثرت درود محبت کی علامات میں سے ہے۔ فَمَن اَحَبَّ شَیئًا اَکثَرَ مِن ذِکرِہ جس کو کسی سے محبت ہوتی ہے اسکا ذکر بہت کثرت سے کیا کرتا ہے۔ ا ھ مختصراً علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ حضور اقدسﷺپر کثرت سے درود بھیجنا اہل سنت ہونے کی علامت ہے(یعنی سنی ہونے کی)

تبلیغی جماعت فضائل درود شريف شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا


مولف
شيخ الحديث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ

تمہید
نَحمَدُہ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الکَرِیم حَامِدًا وَّ مُصَلِّیاً وَّ مُسَلِّمًا اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی بِنِعمَتِہ تَتِمُّ الصّٰلِحٰتُ وَالصَّلوٰةُ عَلٰی سَیِّدِ المَوجُودَاتِ الَّذِی قَال اَنَا سَیِّد وُلدِاٰدَمَ وَلَا فَخرَ وَعَلٰی آلہ وَاَصحٰبِہ وَاَتبَاعِہ اِلٰی یَومِ الحَشرِ۔
اما بعد:۔ اللہ جل جلالہ ‘ عم نوالہ ‘ کے لطف وانعام اور محض اسکے فضل و احسان اور اسکے نیک بندوں کی شفقت اور توجہات سے اس ناکارہ ونابکار سیاہ کار کے قلم سے فضائل کے سلسلہ میں متعدد رسائل لکھے گئے جو نظام الدین کے تبلیغی سلسلہ کے نصاب میں بھی داخل ہیں اور احباب کے سینکڑوں خطوط سے ان کا بہت زیادہ نافع ہونا معلوم ہوتا رہا۔اس ناکارہ کا اس میں کوئی دخل نہیں اولاً محض اللہ جل شانہ کا انعام ثانیاً اس پاک رسول کے کلام کی برکت جس کے تراجم ان رسائل میں پیش کئے گئے ، ثالثا ان اللہ والوں کی برکتیں جن کے ارشادات سے یہ رسائل لکھے گئے ہیں یہ اللہ کا محض لطف و کرم ہے کہ ان ساری برکات میں اس ناپاک کی گندگی حائل نہ ہوئی۔
اللھم لک الحمد کلہ ولک الشکر کلہ اللھم لا احصی ثنآءعلیک انت کمآ اثنیت علی نفسک
اس سلسلہ کا سب سے پہلا رسالہ۸۴۳۱ھ میں فضائل قرآن کے نام سے حضرت اقدس شاہ محمد یٰسین صاحب نگینوں خلیفہ قطب عالم شیخ المشائخ حضرت گنگوہی قدس سرہ کی تعمیل حکم میں لکھا گیا تھا۔جیسا کہ اس رسالہ کے شروع میں تفصیل سے لکھا گیا ہے،حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کا وصال ۰۳ شوال ۰۶ ھ شب پنجشنبہ میں ہوا تھا۔نور اللہ مرقدہ،اعلی اللہ مراتبہ۔
حضرت شاہ صاحب کی ولادت ربیع الاول۸۵۲۱ھ ہوئی اس لحاظ سے ۵۷سال کی عمر میں وصال ہوا۔نہایت بزرگ نہایت متواضع نہایت کم گو صاحب کشف اور صاحب تصرفات بزرگ تھے۔اس ناکارہ پر بہت ہی شفقت فرماتے تھے۔حضرت ممدوح مدرسہ کے سالانہ جلسوں میں نہایت اہتمام سے تشریف لایا کرتے اور جلسہ سے فراغ پر کئی دن اس ناکارہ کے پاس قیام فرماتے بڑے اہتمام سے اس ناکارہ کے حدیث کے سبق میں بھی تشریف فرما ہوتے۔اس نابکار کی عادت اسباق میں ڈبیہ بٹوہ ساتھ لیجانے کی بھی تھی،ایک مرتبہ حضرت مرحوم نے یوں فرمایا کہ میں پان کھانے کو تو منع نہیں کرتا لیکن حدیث پاک کے سبق میں نہ کھایا کریں!اس وقت سے آج تک تقریبا ۵۳ سال ہو چکے ہیں بعض مرتبہ۵۔۶ گھنٹے مسلسل بھی سبق ہوا لیکن سبق میں کبھی پان کا خیال بھی نہیں آیا،یہ حضرت ہی کا تصرف تھا۔اس کے علاوہ اور بہت سے واقعات حضرت کی کرامتوں کے سننے میں آئے تھے،رفع اللہ درجاتہ‘۲۱۔
حضرت نے اپنے وصال کے وقت اپنے اجل خلیفہ مولانا الحاج عبد العزیز دعائ جو کے ذریعہ یہ پیام اور وصیت بھیجی کہ جس طرح فضائل قرآن لکھا گیا ہے میری خواہش ہے کہ اسی طرح فضائل درود بھی لکھ دے۔حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ‘ کے وصال کے بعد مولانا عبد العزیز صاب بار بار اس وصیت کے یاد دہانی اور تکمیل پر اصرار کرتے رہے اور یہ ناکارہ بھی اپنی نا اہلیت کے باوجود دل سے خواہش کرتا رہا کہ یہ سعادت میسر ہو جائے۔شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ‘ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات کا اصرار ہوتا رہا مگر اس ناکارہ پر سید الکونین فخر الرسلﷺ کی جلالت شان کی کچھ ایسا رعب طاری رہا کہ جب بھی اس کا ارادہ کیا یہ خوف طاری ہوا کہ مبادا کوئی چیز شان عالی کے خلاف نہ لکھی جائے۔اسی لیت و لعل میں گذشتہ سال عزیزی مولانا محمد یوسف صاحبؒ کے اصرار پر تیسری مرتبہ حجاز کی حاضری میسر ہوئی اور اللہ کے فضل سے چوتھے حج کی سعادت حاصل ہوئی‘حج سے فراغ پر جب مدینہ پاک حاضری ہوئی تو وہاں پہنچ کر بار بار دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ فضائل درود نہ لکھنے کا کیا جواب ہے۔ہر چند کہ میں اپنے اعذار سوچتا تھا لیکن بار بار اس قلبی سوال پر یہ ناکارہ پختہ ارادہ کر کے آیا تھا کہ سفر سے واپسی پر انشاءاللہ اس مبارک رسالہ کی تکمیل کی کوشش کروں گا۔مگرجواب ”خوے بداربہانہ بسیار“ یہاں واپسی پر بھی امروز وفردا ہوتا رہا ۔ اس ماہ مبارک میں اس داعیہ نے پھر عود کیا تو آج ۵۲۔رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو جمعہ کی نماز کے بعد اللہ کے نام سے ابتداءتو کر ہی دی،اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے تکمیل کی توفیق عطا فرمائے اور اس سلسلہ میں اور اس سے پہلے جتنے رسائل لکھے گئے ہیں یا عربی کی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں جو لغزشیں ہوئی ہوں محض اپنے لطف و کرم سے ان کو معاف فرمائیں۔
اس رسالہ کو چند فصول اور ایک خاتمہ پر لکھنے کا خیال ہے‘پہلی فصل میں فضائل درود شریف دوسری فصل میں خاص خاص درود شریف کے خاص فضائل۔تیسری فصل میں درود شریف نہ پڑھنے کی وعیدیں‘چوتھی فصل فوائد متفرقہ میں‘پانچویں فصل حکایات میں۔حق تعالی شانہ‘لوگوں کو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس رسالہ کے دیکھنے سے ہر شخص خود ہی محسوس کرلیگا کہ درود شریف کتنی بڑی دولت ہے اور اس میں کوتاہی کرنے والے کتنی بڑی سعادت سے محروم ہیں۔